🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Abdul Samad Hussaini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: سید جلال الدین بخاری۔کنیت: ابو عبداللہ۔لقب: جہانیاں جہاں گشت،مخدوم جہانیاں،سیاح عالم۔آپ کانام اپنےجدبزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری کےنام پر رکھاگیا۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کاسلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین تک منتہی ہوتاہے۔آپ کاتعلق ساداتِ بخارا سےہے۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707ھ مطابق 9 فروری 1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پورپنجاب میں سید احمد کبیرکےگھر پرہوئی۔آپ کی جبین مبارک سےسعادت مندی اور رشدوہدایت کےآثار واضح تھے۔حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی سےمنقول ہے کہ آپ کی پیدائش کےبعد آپ کےوالد گرامی آپ کوشیخ جمال خنداں رو کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔حضرت جمال خندہ رو نےفرمایا:’’اس فرزند کی عظمت وبزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب(شب برات )کی ہے‘‘۔(یاد گار سہروردیہ:206)
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اوچ شریف میں ہوئی۔علامہ قاضی بہاءالدین آپ کےاستادتھے۔قاضی صاحب کے انتقال کےبعدہدایہ وبزودی ختم کرنے اورمزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔شیخ موسیٰ اور مولانامجدالدین جیسے شفیق استادملے۔آپ نےہدایہ اوربزودی جلدہی ختم کی۔بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزیدتعلیم حاصل کی۔ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح کی اجازت سےمدرسے میں رہتےتھے۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔آپ کے استاد شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہر وردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والد گرامی سید احمدکبیر کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت واجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔اپنے چچا حضرت محمد غوثسےخرقہ خلافت پہنا۔والد کےوصال کےبعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔زیادہ ترآپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔حضرت نظام الدین اولیاءسےعالم خواب میں پہناجوبیدارہونےکےبعدسرپرپایا۔حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کےخلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے،حضرت قطب الدین منور سے،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے،شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے،شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے،قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے،شیخ اسحاق گازرونی سے،شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے،شیخ حمیدالدین سے،حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کےخلیفہ شیخ شرف الدین محمودشاہ سے،سیداحمدرفاعی سے،شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے،حضرت خضرسے،حضرت احدالدین حسنی سے،حضرت شیخ نورالدین سے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:117)
سیرت وخصائص:والئی اقلیمِ ولایت،حامی سنت، ماحیِ بدعت،غریق بحر ِمحبت،مقتدائے اہل مودت،شمع قصر ہدایت،سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنےوقت کےعالم ِ متبحر،صوفیِ اعظم،اور دینِ مصطفیٰﷺکےعظیم داعی تھے۔رسول اللہﷺ کےدین کوہرسو پھیلایا۔جہاں بھی تشریف لےگئے دین کی بہاریں ساتھ لےگئے۔جب واپس ہوتے توگلشنِ اسلام سرسبز وشاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔شہادت سید الشہداء کایہی فلسفہ تھا کہ مصطفیٰﷺ کےلائےدین کوآباد رکھنا ہے۔آپ کےدستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سےمشرف ہوئے۔جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کےعلاقے میں آپ کافیضان عام ہے۔ریاست کاٹھیاواڑ کےنواب کوآپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کاگہوارہ بن گئی۔اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔ (انسائیکلوپیڈیا: 127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کےعہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘کےمنصب پرفائز رہے۔آپ نےکثیر تعداد میں
نام ونسب:
اسم گرامی: سید جلال الدین بخاری۔کنیت: ابو عبداللہ۔لقب: جہانیاں جہاں گشت،مخدوم جہانیاں،سیاح عالم۔آپ کانام اپنےجدبزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری کےنام پر رکھاگیا۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کاسلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین تک منتہی ہوتاہے۔آپ کاتعلق ساداتِ بخارا سےہے۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707ھ مطابق 9 فروری 1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پورپنجاب میں سید احمد کبیرکےگھر پرہوئی۔آپ کی جبین مبارک سےسعادت مندی اور رشدوہدایت کےآثار واضح تھے۔حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی سےمنقول ہے کہ آپ کی پیدائش کےبعد آپ کےوالد گرامی آپ کوشیخ جمال خنداں رو کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔حضرت جمال خندہ رو نےفرمایا:’’اس فرزند کی عظمت وبزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب(شب برات )کی ہے‘‘۔(یاد گار سہروردیہ:206)
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اوچ شریف میں ہوئی۔علامہ قاضی بہاءالدین آپ کےاستادتھے۔قاضی صاحب کے انتقال کےبعدہدایہ وبزودی ختم کرنے اورمزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔شیخ موسیٰ اور مولانامجدالدین جیسے شفیق استادملے۔آپ نےہدایہ اوربزودی جلدہی ختم کی۔بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزیدتعلیم حاصل کی۔ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح کی اجازت سےمدرسے میں رہتےتھے۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔آپ کے استاد شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہر وردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والد گرامی سید احمدکبیر کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت واجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔اپنے چچا حضرت محمد غوثسےخرقہ خلافت پہنا۔والد کےوصال کےبعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔زیادہ ترآپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔حضرت نظام الدین اولیاءسےعالم خواب میں پہناجوبیدارہونےکےبعدسرپرپایا۔حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کےخلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے،حضرت قطب الدین منور سے،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے،شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے،شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے،قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے،شیخ اسحاق گازرونی سے،شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے،شیخ حمیدالدین سے،حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کےخلیفہ شیخ شرف الدین محمودشاہ سے،سیداحمدرفاعی سے،شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے،حضرت خضرسے،حضرت احدالدین حسنی سے،حضرت شیخ نورالدین سے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:117)
سیرت وخصائص:والئی اقلیمِ ولایت،حامی سنت، ماحیِ بدعت،غریق بحر ِمحبت،مقتدائے اہل مودت،شمع قصر ہدایت،سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنےوقت کےعالم ِ متبحر،صوفیِ اعظم،اور دینِ مصطفیٰﷺکےعظیم داعی تھے۔رسول اللہﷺ کےدین کوہرسو پھیلایا۔جہاں بھی تشریف لےگئے دین کی بہاریں ساتھ لےگئے۔جب واپس ہوتے توگلشنِ اسلام سرسبز وشاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔شہادت سید الشہداء کایہی فلسفہ تھا کہ مصطفیٰﷺ کےلائےدین کوآباد رکھنا ہے۔آپ کےدستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سےمشرف ہوئے۔جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کےعلاقے میں آپ کافیضان عام ہے۔ریاست کاٹھیاواڑ کےنواب کوآپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کاگہوارہ بن گئی۔اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔ (انسائیکلوپیڈیا: 127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کےعہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘کےمنصب پرفائز رہے۔آپ نےکثیر تعداد میں
❤1
مدارس ومساجد اور خانقاہوں کی تعمیر کرائی ۔
حضرت مخدوم جہانیاں اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن وحدیث تفسیر وفقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کادرس مشہور ِعام تھا۔
علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ وقدوری کا درس دیتے تھے۔
اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے ۔آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔ (انسائیکلو پیڈیا: ج5، ص128)
اللہ اکبر! یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔پہلے علاقہ اوچ شریف سےتحصیل علم کےلئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ پھر ساری زندگی اس علم کو جہاں بھر میں تقسیم فرمایا۔اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جوتفسیر بیضاوی وجلالین اور بخاری ومشکوٰۃ کادرس دےرہاہو۔ الا ماشاء اللہ۔ یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کرغیر مسلم اسلام قبول کرلیتے تھے۔اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہورہے ہیں۔
آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ، تہجد، اشراق، چاشت، صلوۃ الاوابین، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے، اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اورادو وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے ۔رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہانہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔
آپ نےچھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔
اورفرماتے تھےکہ فتوحات اس لیے قبول کرلیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقش ِ پاہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کاتاج سمجھتا ہوں۔ اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبرلیتے تھے۔(ہمارےمشائخِ زمانہ میں یہ آداب واخلاق مفقود ہیں)
آپ نےمکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔اس کے علاوہ یمن،عدن،دمشق، لبنان،مدائن، فارس،بصرہ،کوفہ، شیراز، تبریز، ایران، بلخ، نیشاپور، خراساں، سمرقند، گارزون، بحرین ، قطیف ، غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور، ملتان، بھکر،الور،روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔اسی بناء پر آپ کو’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سےدنیا پہچانتی ہے۔آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفرنامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘میں موجود ہے۔
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں قبولیت:
جب آپ اوچ شریف سے مدینہ منورہ حاضرہوئے، اور بارگاہِ سید العالمین ﷺ میں عرض گزار ہوئے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘ ۔ آپ کو جواب ملا۔ ’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)
آپ کے ملفوظات و تعلیمات آب زر سے
لکھنے کے قابل ہیں، ان میں چند یہ ہیں:
(1) جاہل صوفیوں سے دور رہو،کیوں کہ وہ دین کےچور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں ۔ (2) علم لدنی کےلئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو ۔ (3) ہرمسلمان پر عمل سے پہلے علم واجب ہے ۔ (4) اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کسی سے نہیں ڈرتا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 ذوالحج 785ھ بروز پیر، عیدالاضحیٰ، مطابق 2 فروری 1384ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام ۔ تذکرہ جہانیاں جہاں گشت ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد دوم ۔ یادگار سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-makhdoom-jahanian-jahangasht-bukhari
حضرت مخدوم جہانیاں اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن وحدیث تفسیر وفقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کادرس مشہور ِعام تھا۔
علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ وقدوری کا درس دیتے تھے۔
اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے ۔آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔ (انسائیکلو پیڈیا: ج5، ص128)
اللہ اکبر! یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔پہلے علاقہ اوچ شریف سےتحصیل علم کےلئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ پھر ساری زندگی اس علم کو جہاں بھر میں تقسیم فرمایا۔اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جوتفسیر بیضاوی وجلالین اور بخاری ومشکوٰۃ کادرس دےرہاہو۔ الا ماشاء اللہ۔ یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کرغیر مسلم اسلام قبول کرلیتے تھے۔اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہورہے ہیں۔
آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ، تہجد، اشراق، چاشت، صلوۃ الاوابین، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے، اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اورادو وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے ۔رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہانہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔
آپ نےچھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔
اورفرماتے تھےکہ فتوحات اس لیے قبول کرلیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقش ِ پاہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کاتاج سمجھتا ہوں۔ اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبرلیتے تھے۔(ہمارےمشائخِ زمانہ میں یہ آداب واخلاق مفقود ہیں)
آپ نےمکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔اس کے علاوہ یمن،عدن،دمشق، لبنان،مدائن، فارس،بصرہ،کوفہ، شیراز، تبریز، ایران، بلخ، نیشاپور، خراساں، سمرقند، گارزون، بحرین ، قطیف ، غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور، ملتان، بھکر،الور،روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔اسی بناء پر آپ کو’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سےدنیا پہچانتی ہے۔آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفرنامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘میں موجود ہے۔
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں قبولیت:
جب آپ اوچ شریف سے مدینہ منورہ حاضرہوئے، اور بارگاہِ سید العالمین ﷺ میں عرض گزار ہوئے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘ ۔ آپ کو جواب ملا۔ ’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)
آپ کے ملفوظات و تعلیمات آب زر سے
لکھنے کے قابل ہیں، ان میں چند یہ ہیں:
(1) جاہل صوفیوں سے دور رہو،کیوں کہ وہ دین کےچور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں ۔ (2) علم لدنی کےلئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو ۔ (3) ہرمسلمان پر عمل سے پہلے علم واجب ہے ۔ (4) اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کسی سے نہیں ڈرتا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 ذوالحج 785ھ بروز پیر، عیدالاضحیٰ، مطابق 2 فروری 1384ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام ۔ تذکرہ جہانیاں جہاں گشت ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد دوم ۔ یادگار سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-makhdoom-jahanian-jahangasht-bukhari
scholars.pk
Hazrat Syed Makhdoom Jahanian Jahangasht Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
نبیرۂ اعلیٰ حضرت ، علامہ قمر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ ہی کا ہے جو اس نےدیا اور جو اس نے لیا اور ہر شے کی اس کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے، دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن فیصلہ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت جانا ہے، ہر دن ہزاروں آتے ہیں…
نبیرۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ ڈاکٹر محمد قمر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/45972
ویب سائٹ ضیاء طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=05&month=08&year=&page=2
https://t.me/islaamic_Knowledge/45972
ویب سائٹ ضیاء طیبہ
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=05&month=08&year=&page=2
❤1
مفتی اعظم، علامہ شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی۔کنیت:ابو مسعود۔لقب:مفتیِ اعظم۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی اعظم حضرت شاہ محمد مظہراللہ دہلوی بن مولانا محمد سعید بن مولانا مفتی محمد مسعود علیہم الرحمہ۔ سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ـ
آپ کاتعلق مغلیہ دور حکومت میں عہدۂ وزارت پر فائز جناب سالار بخش بزرگ سےہے۔یہ خاندان علم وفضل میں صاحبِ کمال تھا، لیکن اس خاندان کوجوعظمت وفضیلت حضرت شاہ مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ کی ذات گرامی سے حاصل ہوئی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔شاہ محمد مظہر اللہ کےدادا حضرت مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجیدعالم دین،قطب الوقت،اور غوث زماں تھے۔(حیات پروفیسر محمد مسعود احمد:65)۔ ماہر رضویات،مجدد وقت،محسن ملت، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی علیہ الرحمہ آپ کے فرزند ارجمند ہیں۔
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 رجب المرجب 1303ھ،مطابق 21 اپریل 1886ءکودہلی میں ہوئی۔(ایضا:68)
تحصیل علم:
حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تو جد امجد مفتی محمد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ نے کفالت فرمائی دو سال بعد وہ بھی وصال فرما گئے تو عمِ محترم مولانا عبد المجید نے اپنی کفالت میں لے لیا۔ اس طرح ابتداء ہی سے مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ میں سیرت نبویﷺ کی جھلک نظر آنے لگی۔(ایضاً61:)۔آپ نے حفظ قرآن کریم کے بعد معاصرین علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل فرمائی۔ آپ کا سلسلہ ٔحدیث شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ملتا ہے۔ آپ نے ذاتی مطالعہ سے وہ کمال حاصل کیا کہ باید و شاید۔ آپ کو فقہ اصول فقہ،علم الفرائض،علم المواقیت میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ دیگر علوم مثلاً تجوید و قرات،تفسیر،عقائد و تصوف،منطق و فلسفہ،صرف و نحو،ادب و شاعری، خطاطی اور عملیات وغیرہ میں بھی آپ کو بڑی دستگاہ حاصل تھی۔ ہر مکتبۂ فکر اور ہر مسلک کے علماء آپ کے وسعت مطالعہ اور تبحر علمی کے دل سےمعترف تھے۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید صادق علی شاہ علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے، اور آپ کے جد امجد کے خلیفۂ مجاز صوفیِ با صفا حضرت شاہ محمد رکن الدین علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی اعظم نے سلسلۂ بیعت و ارشاد کا آغاز فرمایا۔ بے شمار لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے آپ کے خلفاء کی تعدادکافی ہے۔
سیرت وخصائص:
امام العلماء والفضلاء،سید الاولیاء، سندالاصفیاء، مرجع الخلائق،صاحبِ تقویٰ وفضیلت، فاضلِ اکمل،عالم متبحر، جامع علوم نقلیہ وعقلیہ، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اعظم دہلی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ پاک و ہند کےسربر آور دہ علماء و صوفیاء میں سے تھے۔ آپ دارالسلطنت دہلی کے ممتاز عالم و فقیہ حضرت شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ کے نامور پوتےاور مولانا محمد سعید علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ کے دست حق پر بے شمار غیر مسلم مشرف با سلام ہوئے سیرت مبارکہ کے اسی حسین پہلو کو دیکھ کر جناب کوثر صدیقی صاحب آپ کی مدح میں فرماتےہیں:
نگاہیں فیض کا چشمہ رخ انور ہے نورانی
برے انسان کو بھی بہتر سے بہتر کر دیا جس نے
حضرت مفتی اعظم مسجد جامع فتح پوری کے شاہی امام تھے۔ خطابت و امامت کا یہ سلسلہ حضرت کے جد امجد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ سے آپ تک پہنچا تھا تقریباً ستر 70 سال آپ اس منصب جلیلہ پر فائز رہے آپ کی ذات گرامی سے مسجد فتح پوری کی عظمت و شوکت دوبالا ہو گئی اور علوم ظاہری و باطنی کا ایک ایسا مرکز بن گئی جو اپنی نظیر آپ تھی۔
آپ کے خاندان میں شاہی مسجد کی امامت و خطابت کا یہ سلسلہ شاہان مغلیہ کے عہد سے چلا آرہا ہے۔ مسجد فتح پوری اہلیان پاک و ہند کا مرجع ِنظر و مرکزِ نگاہ تھا۔ دور دراز علاقوں سے فتوے آتے تھے اپنے اور بیگانے سب آپ کے تعمق نظر، تدبر و تحمل اور تفقہ فی الدین کے معترف تھے۔ آپ نے ساری عمر اتباع سنت نبوی کا قدم قدم پر اہتمام رکھا۔ آپ کی زندگی عشق مصطفوی کی آئینہ دار تھی۔ آپ نے ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا، عزیمت پسندی آپ کی سیرت مبارکہ کی امتیازی صفت تھی ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی۔کنیت:ابو مسعود۔لقب:مفتیِ اعظم۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مفتی اعظم حضرت شاہ محمد مظہراللہ دہلوی بن مولانا محمد سعید بن مولانا مفتی محمد مسعود علیہم الرحمہ۔ سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ـ
آپ کاتعلق مغلیہ دور حکومت میں عہدۂ وزارت پر فائز جناب سالار بخش بزرگ سےہے۔یہ خاندان علم وفضل میں صاحبِ کمال تھا، لیکن اس خاندان کوجوعظمت وفضیلت حضرت شاہ مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ کی ذات گرامی سے حاصل ہوئی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔شاہ محمد مظہر اللہ کےدادا حضرت مفتی محمد مسعود علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجیدعالم دین،قطب الوقت،اور غوث زماں تھے۔(حیات پروفیسر محمد مسعود احمد:65)۔ ماہر رضویات،مجدد وقت،محسن ملت، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی علیہ الرحمہ آپ کے فرزند ارجمند ہیں۔
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 15 رجب المرجب 1303ھ،مطابق 21 اپریل 1886ءکودہلی میں ہوئی۔(ایضا:68)
تحصیل علم:
حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تو جد امجد مفتی محمد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ نے کفالت فرمائی دو سال بعد وہ بھی وصال فرما گئے تو عمِ محترم مولانا عبد المجید نے اپنی کفالت میں لے لیا۔ اس طرح ابتداء ہی سے مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ میں سیرت نبویﷺ کی جھلک نظر آنے لگی۔(ایضاً61:)۔آپ نے حفظ قرآن کریم کے بعد معاصرین علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل فرمائی۔ آپ کا سلسلہ ٔحدیث شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ملتا ہے۔ آپ نے ذاتی مطالعہ سے وہ کمال حاصل کیا کہ باید و شاید۔ آپ کو فقہ اصول فقہ،علم الفرائض،علم المواقیت میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ دیگر علوم مثلاً تجوید و قرات،تفسیر،عقائد و تصوف،منطق و فلسفہ،صرف و نحو،ادب و شاعری، خطاطی اور عملیات وغیرہ میں بھی آپ کو بڑی دستگاہ حاصل تھی۔ ہر مکتبۂ فکر اور ہر مسلک کے علماء آپ کے وسعت مطالعہ اور تبحر علمی کے دل سےمعترف تھے۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت سید صادق علی شاہ علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے، اور آپ کے جد امجد کے خلیفۂ مجاز صوفیِ با صفا حضرت شاہ محمد رکن الدین علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔ علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی اعظم نے سلسلۂ بیعت و ارشاد کا آغاز فرمایا۔ بے شمار لوگ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے آپ کے خلفاء کی تعدادکافی ہے۔
سیرت وخصائص:
امام العلماء والفضلاء،سید الاولیاء، سندالاصفیاء، مرجع الخلائق،صاحبِ تقویٰ وفضیلت، فاضلِ اکمل،عالم متبحر، جامع علوم نقلیہ وعقلیہ، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، مفتیِ اعظم دہلی حضرت علامہ مولانا شاہ محمد شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ پاک و ہند کےسربر آور دہ علماء و صوفیاء میں سے تھے۔ آپ دارالسلطنت دہلی کے ممتاز عالم و فقیہ حضرت شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ کے نامور پوتےاور مولانا محمد سعید علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ کے دست حق پر بے شمار غیر مسلم مشرف با سلام ہوئے سیرت مبارکہ کے اسی حسین پہلو کو دیکھ کر جناب کوثر صدیقی صاحب آپ کی مدح میں فرماتےہیں:
نگاہیں فیض کا چشمہ رخ انور ہے نورانی
برے انسان کو بھی بہتر سے بہتر کر دیا جس نے
حضرت مفتی اعظم مسجد جامع فتح پوری کے شاہی امام تھے۔ خطابت و امامت کا یہ سلسلہ حضرت کے جد امجد شاہ محمد مسعود علیہ الرحمہ سے آپ تک پہنچا تھا تقریباً ستر 70 سال آپ اس منصب جلیلہ پر فائز رہے آپ کی ذات گرامی سے مسجد فتح پوری کی عظمت و شوکت دوبالا ہو گئی اور علوم ظاہری و باطنی کا ایک ایسا مرکز بن گئی جو اپنی نظیر آپ تھی۔
آپ کے خاندان میں شاہی مسجد کی امامت و خطابت کا یہ سلسلہ شاہان مغلیہ کے عہد سے چلا آرہا ہے۔ مسجد فتح پوری اہلیان پاک و ہند کا مرجع ِنظر و مرکزِ نگاہ تھا۔ دور دراز علاقوں سے فتوے آتے تھے اپنے اور بیگانے سب آپ کے تعمق نظر، تدبر و تحمل اور تفقہ فی الدین کے معترف تھے۔ آپ نے ساری عمر اتباع سنت نبوی کا قدم قدم پر اہتمام رکھا۔ آپ کی زندگی عشق مصطفوی کی آئینہ دار تھی۔ آپ نے ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا، عزیمت پسندی آپ کی سیرت مبارکہ کی امتیازی صفت تھی ۔
1947ء میں فسادات کے دوران آپ نے جس عزم و استقلال کا اظہار فرمایا وہ تاریخِ عزیمت میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ 1958ء تک مسجد فتح پوری میں غیر مسلم دشمنوں نے تقریباً چھ سات بم پھینکے لیکن کسی مرحلے پر بھی آپ کے کے پایۂ ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ سب سے کٹھن اور دشوار ستمبر 1947ء کا وہ دن تھا جب چاروں طرف سے مسجد شریف دشمنانِ دین کے نرغے میں تھی۔ ہر شخص سہما ہوا موت کا منتظر تھا۔ لیکن اس اضطراب و بے چینی کے عالم میں جب اس مرد کامل کو حجرہ شریف میں دیکھا گیاتو سکونِ قلبی کے ساتھ اپنے علمی مشاغل میں مصروف پایا۔ اسی قیامت خیز گھڑی میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لئے فوجی ٹرک مسجد شریف کے صدر دروازے پر پہنچے،جب آپ کے عقیدت مندوں نے آپ سے منتقل ہونے کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا:"آپ حضرات کو اجازت ہے جہاں چاہیں جا سکتے ہیں فقیر کو یہیں رہنے دیں کل قیامت کے دن اگر مولیٰ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اپنا گھر تیرے سپرد کیا تھا تو اس کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلایا گیا تو فقیر کیا جواب دے گا"۔ (ایضاً:71)
دینی سر گرمیاں:
آپ کی ساری زندگی تبلیغِ دین متین سے عبارت ہے، آپ دوبارپاکستان تشریف لائے۔پہلی اکتوبر 1961ء میں،دوسری بار جولائی 1964ء میں۔ ہر بار آپ کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ پاکستان میں آپ کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔
قیامِ پاکستان کے دوران آپ کراچی، حیدر آباد، لاہور، میر پور خاص، بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، شرق پور، راولپنڈی، مری وغیرہ مختلف مقامات تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے ۔(ایضاً:71) ـ
1945ء میں حج بیت اللہ شریف کے لئے حرمین شریفین حاضر ہوئے۔ عشق نبویﷺکشاں کشاں پہلے آپ کو مدینہ منورہ لے گیا،دیار حبیب میں ایک ماہ قیام فرمایا پھر مکہ معظّمہ حاضر ہوئے۔ "شاہ سعود"(بادشاہ حجاز)کی طرف سے شاہی دعوت پر مدعو کیا گیا مگر آپ نے فرمایا "جو شہنشاہ حقیقی کے دربار میں آیا ہے اس کو کسی اور دربار میں حاضری کی ضرورت نہیں"(ایضاً:72)۔
آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں سر فہرست ترجمۂ قرآن ہے جو آپ نے شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے فارسی ترجمے سے اردو میں منتقل فرمایا۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ ترجمہ مع حواشی دھلی سے شائع ہوا تھا۔ اب ضیاء القرآن پبلی کیشنز (لاہور، پاکستان) اس کو شائع کر رہا ہے۔ ترجمہ قرآن کے بعد وہ فتوے ہیں جو تقریباً ستر 70 سال تک آپ تحریر فرماتے رہے۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ نے ان کو" فتاویٰ مظہریہ" کے نام سے شائع کیاہے۔ان کےعلاوہ آپ کی تقریباً بارہ کتب مختلف موضوعات پر ہیں۔جو بہت ہی مفید ہیں۔ ادارہ مسعودیہ نے شائع کیاہے۔آپ کاسب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ملت اسلامیہ کوحضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ جیسا عظیم محقق،اور مرد ِکامل عطا فرمایا۔ جنہوں نے ظلمت وضلالت کے اندھیروں کو اپنے نور کی ضیاء پاشیوں سےدور کردیا،اور آسمان ِ علم وتحقیق میں نیر اعظم بن کر چمکے،اور جو ان کےدامن سےوابستہ ہوئے ان کوبھی چمکادیا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 شعبان المعظم 1386ھ / مطابق 28 نومبر 1966ء بروز پیر شام پانچ بج کر، بیس منٹ پر دہلی میں ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار جامع مسجد فتح پوری دہلی کےصحن کے مشرقی جانب درگاہ حضرت نوشاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد حیات، علمی اور ادبی خدمات ۔ ( پی ایچ ڈی مقالہ، ڈاکٹر محمد اعجاز انجم لطیفی صاحب)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-mazharullah-shah-delhvi
دینی سر گرمیاں:
آپ کی ساری زندگی تبلیغِ دین متین سے عبارت ہے، آپ دوبارپاکستان تشریف لائے۔پہلی اکتوبر 1961ء میں،دوسری بار جولائی 1964ء میں۔ ہر بار آپ کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ پاکستان میں آپ کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔
قیامِ پاکستان کے دوران آپ کراچی، حیدر آباد، لاہور، میر پور خاص، بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، شرق پور، راولپنڈی، مری وغیرہ مختلف مقامات تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے ۔(ایضاً:71) ـ
1945ء میں حج بیت اللہ شریف کے لئے حرمین شریفین حاضر ہوئے۔ عشق نبویﷺکشاں کشاں پہلے آپ کو مدینہ منورہ لے گیا،دیار حبیب میں ایک ماہ قیام فرمایا پھر مکہ معظّمہ حاضر ہوئے۔ "شاہ سعود"(بادشاہ حجاز)کی طرف سے شاہی دعوت پر مدعو کیا گیا مگر آپ نے فرمایا "جو شہنشاہ حقیقی کے دربار میں آیا ہے اس کو کسی اور دربار میں حاضری کی ضرورت نہیں"(ایضاً:72)۔
آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں سر فہرست ترجمۂ قرآن ہے جو آپ نے شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کے فارسی ترجمے سے اردو میں منتقل فرمایا۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ ترجمہ مع حواشی دھلی سے شائع ہوا تھا۔ اب ضیاء القرآن پبلی کیشنز (لاہور، پاکستان) اس کو شائع کر رہا ہے۔ ترجمہ قرآن کے بعد وہ فتوے ہیں جو تقریباً ستر 70 سال تک آپ تحریر فرماتے رہے۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ نے ان کو" فتاویٰ مظہریہ" کے نام سے شائع کیاہے۔ان کےعلاوہ آپ کی تقریباً بارہ کتب مختلف موضوعات پر ہیں۔جو بہت ہی مفید ہیں۔ ادارہ مسعودیہ نے شائع کیاہے۔آپ کاسب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ملت اسلامیہ کوحضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ جیسا عظیم محقق،اور مرد ِکامل عطا فرمایا۔ جنہوں نے ظلمت وضلالت کے اندھیروں کو اپنے نور کی ضیاء پاشیوں سےدور کردیا،اور آسمان ِ علم وتحقیق میں نیر اعظم بن کر چمکے،اور جو ان کےدامن سےوابستہ ہوئے ان کوبھی چمکادیا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 شعبان المعظم 1386ھ / مطابق 28 نومبر 1966ء بروز پیر شام پانچ بج کر، بیس منٹ پر دہلی میں ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار جامع مسجد فتح پوری دہلی کےصحن کے مشرقی جانب درگاہ حضرت نوشاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد حیات، علمی اور ادبی خدمات ۔ ( پی ایچ ڈی مقالہ، ڈاکٹر محمد اعجاز انجم لطیفی صاحب)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-mazharullah-shah-delhvi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Mazharullah Shah Delhvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
نام و نسب:
اسمِ گرامی: رملہ ۔ کنیت: ام حبیبہ ۔ لقب: ام المؤمنین ۔ آپ سردار مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں ۔ آپ کی ماں ""صفیہ بنت عاص"" ہیں جو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی ہیں ۔
سیرت و خصائص:
حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح پہلے عبید ﷲ بن حجش سے ہوا تھا اور میاں بیوی دونوں اسلام قبول کرکے حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تھے مگر حبشہ جا کر عبید ﷲبن حجش نصرانی ہو گیا اور عیسائیوں کی صحبت میں شراب پیتے پیتے مر گیا ۔
لیکن ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے ایمان پر قائم رہیں، اور بڑی بہادری کے ساتھ مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرتی رہیں ۔
جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان کے حال کی خبر ہوئی تو قلب نازک پر بے حد صدمہ گزرا اور آپ نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کی دلجوئی کے لئے حبشہ بھیجا اور نجاشی بادشاہ حبشہ کے نام خط بھیجا کہ تم میرے وکیل بن کر حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ میرا نکاح کر دو ـ
نجاشی بادشاہ نے اپنی لونڈی " ابرہہ " کے ذریعہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کا پیغام حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا جب حضرت بی بی ام حبیبیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہانے یہ خوشخبری کا پیغام سنا تو خوش ہو کر ابرہہ لونڈی کو انعام کے طور پر اپنا زیور اتار کر دے دیا پھر اپنے ماموں زاد بھائی حضرت خالد بن سعید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیج دیا، اور انہوں نے بہت سے مہاجرین کو جمع کرکے حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ کر دیا اور اپنے پاس سے مہر بھی ادا کر دیا ـ
اور پھر پورے اعزاز کے ساتھ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھیج دیا اور یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بیوی اور تمام مسلمانوں کی ماں بن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کے خانہ نبوت میں رہنے لگیں ۔
یہ سخاوت و شجاعت دین داری اور امانت و دیانت کے ساتھ بہت ہی قوی ایمان والی تھیں ایک مرتبہ ان کے باپ ابو سفیان جو ابھی کافر تھے مدینہ منورہ میں (بہت عرصے کے بعد) ان کے گھر آئے اور رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بستر پر بیٹھ گئے حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے ذرا بھی باپ کی پروا نہیں کی اور باپ کو بستر سے اٹھا دیا اور کہا کہ میں ہرگز یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کے اس پاک بستر پر بیٹھے ـ
اسی طرح ان کے جوش ایمانی اور جذبۂ اسلامی کے واقعات عجیب و غریب ہیں جو تاریخوں میں لکھے ہوئے ہیں بہت ہی دین دار اور پاکیزہ عورت تھیں بہت سی حدیثیں بھی یاد تھیں اور انتہائی عبادت گزار اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کی بے انتہا خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں ۔
وصال:
۴۴ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور جنت البقیع کے قبر ستان میں دوسری ازواج مطہرات کے مقبرہ میں مدفون ہوئیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-umme-habiba
نام و نسب:
اسمِ گرامی: رملہ ۔ کنیت: ام حبیبہ ۔ لقب: ام المؤمنین ۔ آپ سردار مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں ۔ آپ کی ماں ""صفیہ بنت عاص"" ہیں جو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی ہیں ۔
سیرت و خصائص:
حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح پہلے عبید ﷲ بن حجش سے ہوا تھا اور میاں بیوی دونوں اسلام قبول کرکے حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تھے مگر حبشہ جا کر عبید ﷲبن حجش نصرانی ہو گیا اور عیسائیوں کی صحبت میں شراب پیتے پیتے مر گیا ۔
لیکن ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے ایمان پر قائم رہیں، اور بڑی بہادری کے ساتھ مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرتی رہیں ۔
جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان کے حال کی خبر ہوئی تو قلب نازک پر بے حد صدمہ گزرا اور آپ نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کی دلجوئی کے لئے حبشہ بھیجا اور نجاشی بادشاہ حبشہ کے نام خط بھیجا کہ تم میرے وکیل بن کر حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ میرا نکاح کر دو ـ
نجاشی بادشاہ نے اپنی لونڈی " ابرہہ " کے ذریعہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کا پیغام حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا جب حضرت بی بی ام حبیبیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہانے یہ خوشخبری کا پیغام سنا تو خوش ہو کر ابرہہ لونڈی کو انعام کے طور پر اپنا زیور اتار کر دے دیا پھر اپنے ماموں زاد بھائی حضرت خالد بن سعید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیج دیا، اور انہوں نے بہت سے مہاجرین کو جمع کرکے حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ کر دیا اور اپنے پاس سے مہر بھی ادا کر دیا ـ
اور پھر پورے اعزاز کے ساتھ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھیج دیا اور یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بیوی اور تمام مسلمانوں کی ماں بن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کے خانہ نبوت میں رہنے لگیں ۔
یہ سخاوت و شجاعت دین داری اور امانت و دیانت کے ساتھ بہت ہی قوی ایمان والی تھیں ایک مرتبہ ان کے باپ ابو سفیان جو ابھی کافر تھے مدینہ منورہ میں (بہت عرصے کے بعد) ان کے گھر آئے اور رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بستر پر بیٹھ گئے حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے ذرا بھی باپ کی پروا نہیں کی اور باپ کو بستر سے اٹھا دیا اور کہا کہ میں ہرگز یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کے اس پاک بستر پر بیٹھے ـ
اسی طرح ان کے جوش ایمانی اور جذبۂ اسلامی کے واقعات عجیب و غریب ہیں جو تاریخوں میں لکھے ہوئے ہیں بہت ہی دین دار اور پاکیزہ عورت تھیں بہت سی حدیثیں بھی یاد تھیں اور انتہائی عبادت گزار اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم کی بے انتہا خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں ۔
وصال:
۴۴ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور جنت البقیع کے قبر ستان میں دوسری ازواج مطہرات کے مقبرہ میں مدفون ہوئیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-umme-habiba
scholars.pk
Wife of Holy Prophet Muhammad Umme Habiba
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
مختصر سوانح حیات ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن 📚 سیرت مصطفیٰ ﷺ صفحہ⁶⁴⁹ تا صفحہ⁶⁸⁴
Azwaje Mutahharaat
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8971
Azwaje Mutahharaat
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8971
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-08-1444 ᴴ | 07-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1