🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Abdul Samad Hussaini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: سید جلال الدین بخاری۔کنیت: ابو عبداللہ۔لقب: جہانیاں جہاں گشت،مخدوم جہانیاں،سیاح عالم۔آپ کانام اپنےجدبزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری کےنام پر رکھاگیا۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کاسلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین تک منتہی ہوتاہے۔آپ کاتعلق ساداتِ بخارا سےہے۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707ھ مطابق 9 فروری 1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پورپنجاب میں سید احمد کبیرکےگھر پرہوئی۔آپ کی جبین مبارک سےسعادت مندی اور رشدوہدایت کےآثار واضح تھے۔حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی سےمنقول ہے کہ آپ کی پیدائش کےبعد آپ کےوالد گرامی آپ کوشیخ جمال خنداں رو کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔حضرت جمال خندہ رو نےفرمایا:’’اس فرزند کی عظمت وبزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب(شب برات )کی ہے‘‘۔(یاد گار سہروردیہ:206)
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اوچ شریف میں ہوئی۔علامہ قاضی بہاءالدین آپ کےاستادتھے۔قاضی صاحب کے انتقال کےبعدہدایہ وبزودی ختم کرنے اورمزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔شیخ موسیٰ اور مولانامجدالدین جیسے شفیق استادملے۔آپ نےہدایہ اوربزودی جلدہی ختم کی۔بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزیدتعلیم حاصل کی۔ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح کی اجازت سےمدرسے میں رہتےتھے۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔آپ کے استاد شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہر وردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والد گرامی سید احمدکبیر کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت واجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔اپنے چچا حضرت محمد غوثسےخرقہ خلافت پہنا۔والد کےوصال کےبعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔زیادہ ترآپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔حضرت نظام الدین اولیاءسےعالم خواب میں پہناجوبیدارہونےکےبعدسرپرپایا۔حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کےخلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے،حضرت قطب الدین منور سے،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے،شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے،شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے،قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے،شیخ اسحاق گازرونی سے،شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے،شیخ حمیدالدین سے،حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کےخلیفہ شیخ شرف الدین محمودشاہ سے،سیداحمدرفاعی سے،شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے،حضرت خضرسے،حضرت احدالدین حسنی سے،حضرت شیخ نورالدین سے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:117)
سیرت وخصائص:والئی اقلیمِ ولایت،حامی سنت، ماحیِ بدعت،غریق بحر ِمحبت،مقتدائے اہل مودت،شمع قصر ہدایت،سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنےوقت کےعالم ِ متبحر،صوفیِ اعظم،اور دینِ مصطفیٰﷺکےعظیم داعی تھے۔رسول اللہﷺ کےدین کوہرسو پھیلایا۔جہاں بھی تشریف لےگئے دین کی بہاریں ساتھ لےگئے۔جب واپس ہوتے توگلشنِ اسلام سرسبز وشاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔شہادت سید الشہداء کایہی فلسفہ تھا کہ مصطفیٰﷺ کےلائےدین کوآباد رکھنا ہے۔آپ کےدستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سےمشرف ہوئے۔جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کےعلاقے میں آپ کافیضان عام ہے۔ریاست کاٹھیاواڑ کےنواب کوآپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کاگہوارہ بن گئی۔اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔ (انسائیکلوپیڈیا: 127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کےعہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘کےمنصب پرفائز رہے۔آپ نےکثیر تعداد میں
نام ونسب:
اسم گرامی: سید جلال الدین بخاری۔کنیت: ابو عبداللہ۔لقب: جہانیاں جہاں گشت،مخدوم جہانیاں،سیاح عالم۔آپ کانام اپنےجدبزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری کےنام پر رکھاگیا۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کاسلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین تک منتہی ہوتاہے۔آپ کاتعلق ساداتِ بخارا سےہے۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707ھ مطابق 9 فروری 1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پورپنجاب میں سید احمد کبیرکےگھر پرہوئی۔آپ کی جبین مبارک سےسعادت مندی اور رشدوہدایت کےآثار واضح تھے۔حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی سےمنقول ہے کہ آپ کی پیدائش کےبعد آپ کےوالد گرامی آپ کوشیخ جمال خنداں رو کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔حضرت جمال خندہ رو نےفرمایا:’’اس فرزند کی عظمت وبزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب(شب برات )کی ہے‘‘۔(یاد گار سہروردیہ:206)
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اوچ شریف میں ہوئی۔علامہ قاضی بہاءالدین آپ کےاستادتھے۔قاضی صاحب کے انتقال کےبعدہدایہ وبزودی ختم کرنے اورمزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔شیخ موسیٰ اور مولانامجدالدین جیسے شفیق استادملے۔آپ نےہدایہ اوربزودی جلدہی ختم کی۔بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزیدتعلیم حاصل کی۔ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح کی اجازت سےمدرسے میں رہتےتھے۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔آپ کے استاد شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہر وردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)
بیعت وخلافت:
آپ اپنے والد گرامی سید احمدکبیر کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت واجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔اپنے چچا حضرت محمد غوثسےخرقہ خلافت پہنا۔والد کےوصال کےبعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔زیادہ ترآپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔حضرت نظام الدین اولیاءسےعالم خواب میں پہناجوبیدارہونےکےبعدسرپرپایا۔حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کےخلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے،حضرت قطب الدین منور سے،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے،شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے،شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے،قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے،شیخ اسحاق گازرونی سے،شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے،شیخ حمیدالدین سے،حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کےخلیفہ شیخ شرف الدین محمودشاہ سے،سیداحمدرفاعی سے،شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے،حضرت خضرسے،حضرت احدالدین حسنی سے،حضرت شیخ نورالدین سے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:117)
سیرت وخصائص:والئی اقلیمِ ولایت،حامی سنت، ماحیِ بدعت،غریق بحر ِمحبت،مقتدائے اہل مودت،شمع قصر ہدایت،سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنےوقت کےعالم ِ متبحر،صوفیِ اعظم،اور دینِ مصطفیٰﷺکےعظیم داعی تھے۔رسول اللہﷺ کےدین کوہرسو پھیلایا۔جہاں بھی تشریف لےگئے دین کی بہاریں ساتھ لےگئے۔جب واپس ہوتے توگلشنِ اسلام سرسبز وشاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔شہادت سید الشہداء کایہی فلسفہ تھا کہ مصطفیٰﷺ کےلائےدین کوآباد رکھنا ہے۔آپ کےدستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سےمشرف ہوئے۔جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کےعلاقے میں آپ کافیضان عام ہے۔ریاست کاٹھیاواڑ کےنواب کوآپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کاگہوارہ بن گئی۔اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔ (انسائیکلوپیڈیا: 127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کےعہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘کےمنصب پرفائز رہے۔آپ نےکثیر تعداد میں
❤1