🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد الصمد ۔ لقب: علاقہ سہسوان کی نسبت "سہوانی" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید غالب حسین حسینی علیہ الرحمہ ۔ خاندانی نسبت و تعلق حضرت قطب المشائخ خواجہ ابو یوسف مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعۃ المبارک14/ شعبان المعظم 1269ھ، مطابق 20 مئی/ 1853ء کو اپنے آبائی مکان محلہ محی الدین پور، شہر سہسوان صوبہ یوپی انڈیامیں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نےاپنے خالہ زاد بھائی حضرت مولانا حکیم سخاوت حسین انصاری سے تعلیم شروع کی، سات برس کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی، گیارہ برس کی عمر میں صرف ونحو اور علوم شرعیہ کی تعلیم متوسطات تک پانے کے بعد حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر قدس سرہٗ کے حقلۂ درس میں شریک ہوئے،اور علوم و فنون کی تکمیل کی، حضرت سیف اللہ المسلول اور حضرت مولانا شاہ نور احمد قدس سرہما سے بھی استفادہ کیا، فراغت کے بعد تدریس کا آغاز بھی مدرسہ قادریہ میں کیا۔اسی طرح مکۃ المکرمہ میں شیخ سیدمبارک مکی علیہ الرحمہ کوبخاری ومسلم سنائی اور ان سےتصوف واخلاق کی تعلیم حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی (خلیفہ حضرت خواجہ تونسوی واستاذعلامہ فضلِ حق خیرآبادی) کے جانشینِ صادق حضرت خواجہ محمد اسلم خیرآبادی سےبیعت ہوئے،اورخلافت سےنوازے گئے۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں حضرت سیدمبارک مکی نے خلافت عطاء فرمائی۔ علیہم الرحمہ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،جامعِ شریعت وطریقت، حامیِ اہلسنت، دافعِ اہل بدعت، فقیہ، فاضل، ادیبِ کامل حضرت علامہ مولانا سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ نہایت متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے۔ ساری زندگی نور اسلام سےلوگوں کےطقلوب کوطمنور کرتے رہے۔آپ صاحبِ علم و فضل تھے۔ حافظہ بہت قوی تھا۔ صحیح بخاری شریف مع مکمل روایت حفظ تھی، اسی طرح حصنِ حصین بھی زبانی یاد تھی۔ آپ کی روحانی قوت کااندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ رمضان المبارک میں صرف ڈھائی گھنٹے میں پورا قرآن مجیدختم فرماتےتھے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت: ص130)
درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت محبوب مشغلہ تھا۔ساری زندگی درس وتدریس سےوابستہ رہے۔احقاقِ حق اورابطالِ باطل کافریضہ پوری طاقت وقوت کےساتھ کیا۔تقریباً 1285ھ کوایک مشہورغیرمقلدمولوی امیرحسن سہسوانی طبقۂ ارض کے ہر حصہ میں سرور کائناتﷺ کے مثیل کا فتنہ پیدا کیا، اور امکان کذب اور امکان کذب کی صحت وجواز میں "افاداتِ ترابیہ"لکھ کر شائع کی۔ آپ نےاس کے جواب ورد میں مدلل کتاب "افادات صمدیہ" لکھی، جو 1285ھ میں چھپ کر شائع ہوئی، اور 1286ھ میں عید کے دن "افادات صمدیہ" کے مندرجات پر آپ نے مولوی امیر حسن سے مباحثہ کیا اور ہزار ہا افراد کےمجمع میں مولوی امیر حسن کو ذلت آمیزشکست دی، اس وقت حضرت مولانا شاہ عبد الصمد کی عمر 17برس تھی۔
اسی طرح ایک بارگونڈہ کےعلاقےمیں تشریف لے گئے، یہیں پر میر فاروق علی پھپھوندوی سے ملاقات ہوئی، میر صاحب آپ کے تورع وتقویٰ سے متأثر ہوکر مرید ہوگئے اور انہیں کی درخواست پر اُن کے وطن پھپھوند تشریف لےگئے، میر فاروق صاحب محلہ سید واڑہ میں رہتے تھے، جس کی اکثر آبادی شاہان اودھ کےزیر اثر شیعہ ہوچکی تھی ۔آپ نےیہاں اپنی تقریروں میں رد شیعت کی طرف خاص توجہ فرماتے جس سے شیعیت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا، اور لوگ ان کے فاسد عقائد سے آگاہ ہونے لگے۔مولوی عمارعلی شیعی کوسامنے آنےکی جرأت تونہ ہوئی البتہ اس نےایک کتاب "اثبات المتعہ"لکھی۔ آپ نےاس کےجواب میں دلائلِ قاہرہ کےساتھ حرمتِ متعہ میں ایک ضخیم کتاب"ارغام الشیاطین فی تردیدمتعۃ الشیعین" تحریرفرمائی۔یہ کتاب اگرچہ بظاہر حرمتِ متعہ پرہے،مگرضمنی طورپراصول مسائل شیعہ کی تردیدمیں ایک شاہکارتصنیف ہے۔
اس علاقے میں آپ کی برکت سےمسلکِ اہل سنت کوبڑافروغ حاصل ہوا۔ مجلس "ندوۃ العلماء"کی اصلاح کےلئے علمائے اہل سنت کی طرف سےبمستقل صدرتھے۔لیکن جب اصلاح کی کوئی صورت نظرنہ آئی تواس کو خیرآبادکہ کرعوام اہل سنت کے سامنےان کی بطلان پرزبردست بیان فرمائے۔علوم وفنون، فقہ،مناظرہ،اصول اورعلم الاخلاق میں مہارت کےساتھ اللہ جل شانہ نےسحربیانی کی لطافت سے نواز اتھا۔ وعظ میں ایک خاص اثرتھا۔دورانِ وعظ کئی حضرات متأثر ہوکر گناہوں سےتائب ہوجاتے تھے۔ اندازبیان واستدلال حضرت مولاناتاج الفحول کی طرح تھا۔بعض مرتبہ اجنبی دھوکا کھا جاتےتھےبکہ حضرت تاج الفحول بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کا حلقۂ ارادت بہت وسیع تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز ہفتہ 17 جمادی الثانی 1323ھ / مطابق 19 اگست 1905ء کو 11 بجے شب واصل بحق ہوئے ۔ 18 کو تدفین ہوئی ۔ آپ کا مزار پھپھوند شریف میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-abdul-samad-hussaini
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Abdul Samad Hussaini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1