🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-08-1444 ᴴ | 05-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-08-1444 ᴴ | 05-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
سلطان الواعظین مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الاحد ۔ لقب: سلطان الواعظین ۔ والد کا اسمِ گرامی: استاذ المحدثین مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی بن مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہر علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی 1298ھ بمطابق 1883ء کو پیلی بھیت میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا عبد اللطیف سورتی سے حاصل کی اور بعد میں اپنے والدِ گرامی سے تمام علوم و فنون کی تکمیل کی ۔
اور تیرہ برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی خدمت میں پہنچے ۔ جہاں آپ نے باقاعدہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے دورۂ حدیث کیا، اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے دست مبارک سے آپ کی دستار بندی فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی اور اجازت و خلافت سے ممتاز ہوئے ۔ اپنے والدِ گرامی کی طرف سے حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ کے سلسلہ میں بھی بیعت کرنے کے مجاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
عالمِ علمِ ھدیٰ ، مایۂ لطف و عطاء، پیکرِ صدق و صفا، نازشِ اہلِ بصیرت ، افتخارِ دین و ملت، نائبِ اعلیٰ حضرت ، پرتوِ استاذ المحدثین، سلطان الواعظین حضرت علامہ مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کو جملہ علوم و فنون پر کامل دسترس حاصل تھی ۔ خلوص کے ساتھ ساری زندگی دینِ متین کے فروغ کے لئے کوشاں رہے، دورِ ابتلاء میں ملت کی راہنمائی کا حق ادا کر دیا ۔ سلطان الواعظین علیہ الرحمۃ کے رگ و پے میں جذبۂ حریت موجزن تھا ۔ آپ آزادیٔ وطن کے دلدادہ اور انگریزوں کی فریب کارانہ چالوں کے شدید مخالف تھے ۔ بر صغیر میں پروان چڑھنے والی تحریکوں میں حتی المقدور حصہ لیتے تھے ۔ ندوۃ العلماء کے مفاسد کو عوام پر واضح کرنے کے لئے مختلف شہروں کے دورے کئے، اور مسلمانوں کو اس ادارہ کی تائید و تعاون سے باز رکھا ۔ آپ نے مسلم ہندو اتحاد کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں کے نزدیک کافر ہیں ۔ اور کس طرح ممکن ہے کہ ایک دشمن کو سینے سے لگایا جائے اور دوسرے دشمن کا مقاطعہ کیا جائے ۔ کانگریسی مولویوں کے ذریعے جو ہندو مسلم اتحاد کی فضا پیدا ہوئی جو یقیناً نہ صرف غیر شرعی صورت حال تھی بلکہ اس سے آزادی وطن کی جد و جہد میں بھی شدید رخنہ پڑنے کا اندیشہ تھا چنانچہ آپ نے اس نازک وقت میں اہلِ اسلام کی صحیح راہنمائی فرمائی اور فکرِ رضا کو عام کیا ۔ اسی طرح حجازِ مقدس پر برطانیہ کی پشت پناہی میں وہابیوں کے قبضہ اور مزاراتِ صحابہ و اہلِ بیت کی بے حرمتی و مسماری کے خلاف مذمت کی ۔
آپ کو فنِ خطابت پر ید طولیٰ حاصل تھا ۔ آواز نہایت پاٹ دار اور ایسی تھی کہ گھنٹوں ماحول میں اس کی گونج برقرار رہتی تھی ۔ تقریر کے دوران رقت طاری ہو جاتی اور وجد کے عالم میں درود و سلام پڑھنے لگتے تھے اور عوام پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ نو عمری ہی میں آپ کے مواعظ حسنہ کی پورے بر صغیر میں شہرت ہو گئی تھی ۔ آپ کے وعظ کی اثر پذیری سے متاثر ہو کر اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے بریلی میں ایک خصوصی تقریب کے دوران آپ کو ‘‘ سلطان الواعظین ’’ کا خطاب عطا فرمایا ۔ اعلیٰ حضرت آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔ 1323ھ میں آپ نے اعلیٰ حضرت کے ہمراہی میں حج و زیارت کا شرف حاصل کیا اور آپ کو مجددِ وقت کی خدمت کا عظیم موقع قدرت نے عطا فرمایا ۔
امام اہلِ سنت نے آپ کو ان الفاظ میں یاد فرمایا :
؎ اک اک وعظ عبدالاحد پر
کیسے نتھنے پھلاتے یہ ہیں ۔
وصال:
13، شعبان 1352ھ بمطابق یکم دسمبر 1933ء بروز جمعۃ المبارک عصر اور مغرب کے درمیان داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔ زبان آخری کلام "محمد رسول اللہ ﷺ " تھا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-ahad-muhaddith-pilibhiti
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الاحد ۔ لقب: سلطان الواعظین ۔ والد کا اسمِ گرامی: استاذ المحدثین مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی بن مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہر علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی 1298ھ بمطابق 1883ء کو پیلی بھیت میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا عبد اللطیف سورتی سے حاصل کی اور بعد میں اپنے والدِ گرامی سے تمام علوم و فنون کی تکمیل کی ۔
اور تیرہ برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی خدمت میں پہنچے ۔ جہاں آپ نے باقاعدہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے دورۂ حدیث کیا، اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے دست مبارک سے آپ کی دستار بندی فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی اور اجازت و خلافت سے ممتاز ہوئے ۔ اپنے والدِ گرامی کی طرف سے حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ کے سلسلہ میں بھی بیعت کرنے کے مجاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
عالمِ علمِ ھدیٰ ، مایۂ لطف و عطاء، پیکرِ صدق و صفا، نازشِ اہلِ بصیرت ، افتخارِ دین و ملت، نائبِ اعلیٰ حضرت ، پرتوِ استاذ المحدثین، سلطان الواعظین حضرت علامہ مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کو جملہ علوم و فنون پر کامل دسترس حاصل تھی ۔ خلوص کے ساتھ ساری زندگی دینِ متین کے فروغ کے لئے کوشاں رہے، دورِ ابتلاء میں ملت کی راہنمائی کا حق ادا کر دیا ۔ سلطان الواعظین علیہ الرحمۃ کے رگ و پے میں جذبۂ حریت موجزن تھا ۔ آپ آزادیٔ وطن کے دلدادہ اور انگریزوں کی فریب کارانہ چالوں کے شدید مخالف تھے ۔ بر صغیر میں پروان چڑھنے والی تحریکوں میں حتی المقدور حصہ لیتے تھے ۔ ندوۃ العلماء کے مفاسد کو عوام پر واضح کرنے کے لئے مختلف شہروں کے دورے کئے، اور مسلمانوں کو اس ادارہ کی تائید و تعاون سے باز رکھا ۔ آپ نے مسلم ہندو اتحاد کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ انگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں کے نزدیک کافر ہیں ۔ اور کس طرح ممکن ہے کہ ایک دشمن کو سینے سے لگایا جائے اور دوسرے دشمن کا مقاطعہ کیا جائے ۔ کانگریسی مولویوں کے ذریعے جو ہندو مسلم اتحاد کی فضا پیدا ہوئی جو یقیناً نہ صرف غیر شرعی صورت حال تھی بلکہ اس سے آزادی وطن کی جد و جہد میں بھی شدید رخنہ پڑنے کا اندیشہ تھا چنانچہ آپ نے اس نازک وقت میں اہلِ اسلام کی صحیح راہنمائی فرمائی اور فکرِ رضا کو عام کیا ۔ اسی طرح حجازِ مقدس پر برطانیہ کی پشت پناہی میں وہابیوں کے قبضہ اور مزاراتِ صحابہ و اہلِ بیت کی بے حرمتی و مسماری کے خلاف مذمت کی ۔
آپ کو فنِ خطابت پر ید طولیٰ حاصل تھا ۔ آواز نہایت پاٹ دار اور ایسی تھی کہ گھنٹوں ماحول میں اس کی گونج برقرار رہتی تھی ۔ تقریر کے دوران رقت طاری ہو جاتی اور وجد کے عالم میں درود و سلام پڑھنے لگتے تھے اور عوام پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ نو عمری ہی میں آپ کے مواعظ حسنہ کی پورے بر صغیر میں شہرت ہو گئی تھی ۔ آپ کے وعظ کی اثر پذیری سے متاثر ہو کر اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے بریلی میں ایک خصوصی تقریب کے دوران آپ کو ‘‘ سلطان الواعظین ’’ کا خطاب عطا فرمایا ۔ اعلیٰ حضرت آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔ 1323ھ میں آپ نے اعلیٰ حضرت کے ہمراہی میں حج و زیارت کا شرف حاصل کیا اور آپ کو مجددِ وقت کی خدمت کا عظیم موقع قدرت نے عطا فرمایا ۔
امام اہلِ سنت نے آپ کو ان الفاظ میں یاد فرمایا :
؎ اک اک وعظ عبدالاحد پر
کیسے نتھنے پھلاتے یہ ہیں ۔
وصال:
13، شعبان 1352ھ بمطابق یکم دسمبر 1933ء بروز جمعۃ المبارک عصر اور مغرب کے درمیان داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔ زبان آخری کلام "محمد رسول اللہ ﷺ " تھا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-ahad-muhaddith-pilibhiti
scholars.pk
Hazrat Allama Abdul Ahad Muhaddith Pilibhiti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: عبد العزیز ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: شمس الائمہ حلوائی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی بن احمد نصر بن صالح حلوائی بخاری ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (الاعلام، للزرکلی:13)
حلوائی نسبت:
آپ مٹھائی و حلوہ کا کاروبار کرتے تھے ۔اس لئے حلوائی کہلاتے ہیں ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کا تعلق قصبۂ "حلوان" سے تھا ۔ اس لئے علاقے کی نسبت سے حلوائی یا حلوانی کہلاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء کو تجارت کرنا چاہئے، اور خود دار ہو کر یکسوئی کے ساتھ دین متین اور ملک و ملت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہو کر کردار ادا کرنا چاہئے ۔(ایضاً:13)
تحصیل علم:
ابن کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے ۔ فقہ آپ نے حسین ابی علی نسفی شاگرد ابی بکر محمد بن فضل تلمیذ عبد اللہ مونیس سے حاصل کی اور حدیث کو ابی شعیب صالح بن محمد بن صالح بن شعیب اور ابی سہل احمد بن محمد بن مکی الانماطی اور ابو اسحٰق رازی اور اسمٰعیل بن محمد زاہد اور عبد اللہ بن محمد کلا باذی اور عبد اللہ بن حسین کتاب اور حافظ محمد بن احمد غنجار وغیرہ سے سنا اور روایت کیا اور امام طحطاوی کی شرح معانی الآثار ابی بکر محمد بن عمر بن حمدان سے روایت کیا ۔ علم میں ذوق شوق اور محنت کی بدولت امام الاحناف ، اور عظیم فقیہ بن گئے ۔ (حدائق الحنفیہ: 221 / سیر اعلام النبلاء، ذکر شمس الائمہ)
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ، امام الحنفیہ، فقیہ، محدث، متکلم، مدرس، صاحبِ تصانیف مفیدہ، امام الکبیر ، فاضلِ جلیل، حضرت شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ پانچویں صدی ہجری کے فقہاء حنفیہ کے سرتاج ہیں ۔ ابنِ کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے ۔ بخارا میں اپنے وقت کے امام الاحناف تھے ۔
ان کے والد بہت مفلس اور تنگدست تھے اور مٹھائی بنا کر بیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر و بیشتر فقہاء کرام کو مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اور ان سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کے لئے دعا فرمایا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو علم دین کی دولت عطا کرے ۔ ان کی سخاوت، حسنِ عقید ت اور گریہ و زاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے شمس الائمہ نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اور وہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے جو شمس الائمہ حلوائی، اور امام الاحناف کہلائے ۔ ان کے شاگردوں میں شمس الائمہ سرخسی، فخر الاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدر الاسلام کا نام آتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ:221) ۔
(اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یہ تمنا رکھتا ہو کہ اس کا بیٹا عالم دین بنے تو اسے چاہئے کہ اہل علم حضرات کی قدر کرے ۔ ان کی برکت سے اللہ جل شانہ علم کی دولت عطاء فرمائے گا) ۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں المبسوط، نوادر فی الفروع، فتاویٰ فی الفروع، اور شرح ادب القاضی، امام ابو یوسف مشہور ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ اخیر عمر میں بخارا سے شہر کش تشریف لےگئے، اور وہیں 13 / شعبان المعظم 448ھ، مطابق ماہ اکتوبر / 1056ء کو ہوا ۔ آپ کی نعش کو وہاں سے بخارا میں منتقل کیا اور یہیں دفن ہوئے ۔ آپ کی قبر بخارا میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
الاعلام ۔ حدائق الحنفیہ ۔ سیر اعلام النبلاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-aima-abdul-aziz-halwai-bukhari
نام و نسب:
اسم گرامی: عبد العزیز ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: شمس الائمہ حلوائی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی بن احمد نصر بن صالح حلوائی بخاری ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (الاعلام، للزرکلی:13)
حلوائی نسبت:
آپ مٹھائی و حلوہ کا کاروبار کرتے تھے ۔اس لئے حلوائی کہلاتے ہیں ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کا تعلق قصبۂ "حلوان" سے تھا ۔ اس لئے علاقے کی نسبت سے حلوائی یا حلوانی کہلاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء کو تجارت کرنا چاہئے، اور خود دار ہو کر یکسوئی کے ساتھ دین متین اور ملک و ملت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہو کر کردار ادا کرنا چاہئے ۔(ایضاً:13)
تحصیل علم:
ابن کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے ۔ فقہ آپ نے حسین ابی علی نسفی شاگرد ابی بکر محمد بن فضل تلمیذ عبد اللہ مونیس سے حاصل کی اور حدیث کو ابی شعیب صالح بن محمد بن صالح بن شعیب اور ابی سہل احمد بن محمد بن مکی الانماطی اور ابو اسحٰق رازی اور اسمٰعیل بن محمد زاہد اور عبد اللہ بن محمد کلا باذی اور عبد اللہ بن حسین کتاب اور حافظ محمد بن احمد غنجار وغیرہ سے سنا اور روایت کیا اور امام طحطاوی کی شرح معانی الآثار ابی بکر محمد بن عمر بن حمدان سے روایت کیا ۔ علم میں ذوق شوق اور محنت کی بدولت امام الاحناف ، اور عظیم فقیہ بن گئے ۔ (حدائق الحنفیہ: 221 / سیر اعلام النبلاء، ذکر شمس الائمہ)
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ، امام الحنفیہ، فقیہ، محدث، متکلم، مدرس، صاحبِ تصانیف مفیدہ، امام الکبیر ، فاضلِ جلیل، حضرت شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ پانچویں صدی ہجری کے فقہاء حنفیہ کے سرتاج ہیں ۔ ابنِ کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے ۔ بخارا میں اپنے وقت کے امام الاحناف تھے ۔
ان کے والد بہت مفلس اور تنگدست تھے اور مٹھائی بنا کر بیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر و بیشتر فقہاء کرام کو مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اور ان سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کے لئے دعا فرمایا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو علم دین کی دولت عطا کرے ۔ ان کی سخاوت، حسنِ عقید ت اور گریہ و زاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے شمس الائمہ نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اور وہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے جو شمس الائمہ حلوائی، اور امام الاحناف کہلائے ۔ ان کے شاگردوں میں شمس الائمہ سرخسی، فخر الاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدر الاسلام کا نام آتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ:221) ۔
(اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یہ تمنا رکھتا ہو کہ اس کا بیٹا عالم دین بنے تو اسے چاہئے کہ اہل علم حضرات کی قدر کرے ۔ ان کی برکت سے اللہ جل شانہ علم کی دولت عطاء فرمائے گا) ۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں المبسوط، نوادر فی الفروع، فتاویٰ فی الفروع، اور شرح ادب القاضی، امام ابو یوسف مشہور ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ اخیر عمر میں بخارا سے شہر کش تشریف لےگئے، اور وہیں 13 / شعبان المعظم 448ھ، مطابق ماہ اکتوبر / 1056ء کو ہوا ۔ آپ کی نعش کو وہاں سے بخارا میں منتقل کیا اور یہیں دفن ہوئے ۔ آپ کی قبر بخارا میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
الاعلام ۔ حدائق الحنفیہ ۔ سیر اعلام النبلاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-aima-abdul-aziz-halwai-bukhari
scholars.pk
Hazrat Shams-ul-Aima Abdul Aziz Halwai Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-08-1444 ᴴ | 05-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-08-1444 ᴴ | 06-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1