🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-08-1444 ᴴ | 03-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-08-1444 ᴴ | 04-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
شیخ الاسلام حضرت عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔

آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔

علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔

حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔

آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔

آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)

آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔

وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
حضرت خواجہ نور محمد چوراہی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ نور محمد چوراہی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: بابا جیو

آپ کا سلسلۂ نسب:
آپ کا شجرۂ نسب 35 واسطوں سے خلیفہ دوم امیر المونین سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اِس طرح ملتا ہے: حضرت خواجہ نور محمد چوراہی بن خواجہ محمد فیض اللہ بن خان محمد بن علی محمد بن شیخ سلیمان بن سلطان شیخ الاسلام بن عبد الرسول بن عبد الحئی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ امام رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبدللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ کابلی بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبداللہ (الواعظ الاصغر) بن شیخ عبد اللہ (الواعظ الاکبر) بن شیخ ابو الفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبداللہ بن سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند: 456 / از علامہ قصوری)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1179ھ مطابق 1766ء کو" موضع تیزئی شریف" مضافاتِ وادیِ تیراہ (افغانستان) میں ہُوئی ۔ آپ حضرت خواجہ محمد فیض اللہ قدس سرّہ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علومِ دینیہ کی اکثر کتابیں حضرت مولانا محمد امین رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں اور انہیں سے یہ تکمیل کی ۔ اپنی والدہ ماجدہ سے بھی ابتدائی کتب وکتب فقہ پڑھیں ۔ حضرت مولانا محمد امین آپ کے والد گرامی حضرت خواجہ محمد فیض اللہ قدس سرہ کے خلیفۂ مجاز بھی تھے ۔ لہٰذا آپ نے تصوّف میں بھی ان سے استفادہ کیا ۔ پھر والد گرامی قدر سے سلوک کی منزلیں طے کیں ۔ چونکہ علومِ ظاہری وباطنی مین مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی لہٰذا لوگ اپنی الجھنیں لے کر حاضر ہوتے اور آپ اُن کی آن میں تمام گتھیاں سلجھا دیتے اسی دوران آپ نے اپنے قلم سے قرآن مجید کا ایک نسخہ مکمل کیا جو آج بھی دربار ِ عالیہ چورہ شریف میں موجود ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ رقم ہیں۔ " قرآن مجید بدست خواجہ نورمحمد رحمۃ اللہ علیہ 2 / ربیع لثانی 1227ھ از شاگرد آں میاں نصر اللہ نور اللہ مرقدہ ٗساکن کھودوپور" ۔ (ایضاً:464)

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ اپنے والد گرامی حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی رحمۃ اللہ علیہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلسلہ تعلیم و سلوک کی منازل طے کرنے کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف کے گئے ۔

سیرت و خصائص:
صاحبِ تقویٰ و عزیمت، شیخِ شریعت و طریقت، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے نیر تاباں، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، حضرت خواجہ نور محمد چوراہی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ مادر زاد ولی تھے ۔ جب آپ کی ولادت ہوئی تو والد بزرگوار نے نور محمد نام رکھا اور فرمایا کہ یہ لڑکا امامِ ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا متبع ہوگا اور اس سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوگا۔ آپ کا فیض اتنا عام ہوا کہ لوگ گروہ در گروہ داخل سلسلہ ہونے کے لیے آتے تھے اور ان کو فرصت نہ ملتی تھی۔

حضرت خواجہ نور محمد تقریباً اَسّی سال تیزئی شریف میں فروکش رہے اور ہزاروں تشنہ لوگوں کو فیض و کرم، رُشدو ہدایت اور عشق و محبت کے چشموں سے سیراب کیا ۔ آج بھی ان کے فیض کا ڈنکا بج رہا ہے ۔ جب آپ کے روحانی کمالات کا شہرہ عام ہو اتو بعض لوگ حسد و بغض کی آگ میں جل کر درپے آزار ہو گئے ۔ آپ تمام باتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے مگر حاسدین کی معاندانہ سرگرمیاں بڑھتی گئیں ۔ چپری نامی گاؤں کا ایک حاسد مولوی ولی خاں بغض وعناد کی آتش کا شکار ہوکر جگہ جگہ لوگوں کو آپ کے خلاف ورغلاتا اور بہکاتا پھر تا تھا کہ "آپ کی خدمت میں کوئی نہ جائے کیونکہ آپ کا طریقہ (سلسلہ نقشبندیہ) اچھا نہیں ہے ۔

ولی خاں کی اِن خرافات سے ناواقف و سادہ لوح افغان مشتعل ہو کر آپ کی مخالفت میں کمر بستہ ہوگئے ۔ اور پنجاب سے آنے والے آپ کے عقیدت مندوں کو پریشان کرنے اور لوٹنے لگے۔ جب صورتِ حال انتہائی بگڑ گئی تو آپ نے ولی خاں کو بُلا کر ارشاد فرمایا کہ "اگر میرے عقیدہ عمل اور قول و فعل میں کوئی شرعی سقم ہے تو مجھے آگاہ کرو ورنہ اس فضول اور بلاوجہ مخالفت سے باز آجاؤ"۔ ولی خاں تو محض حسد کا مارا ہوا تھا، عقیدے اور قول و فعل کی خرابی کیا بیان کرتا ۔ بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کے مریدوں کو تنگ کرنے لگا۔ آخر کار احباب و اعزہ کی تکالیف برداشت کرنا مشکل ہوگیا تو آپ موضع دراوڑ (تیزئی شریف سے ۱۵ میل دُور) تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے 1284ھ میں چورہ شریف ضِلع اٹک (پنجاب) میں قدومِ میمنت لزوم فرما کر مستقل رہائش اختیار کرلی اور یہیں وصال ہوا ۔
1👍1
فضل و کمال:
آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے فروغ کے لئے بڑا کام کیا ۔ اسی طرح سینکڑوں غیر مسلم آپ کی برکت سے دولت اسلام سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح کئی فاسق و فاجر آپ کی صحبت کی بدولت صاحبِ تقویٰ و فضیلت بن گئے ۔ ایک مرتبہ آپ دریائے سندھ کو عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے ۔ اتفاق سے اس کشتی میں سولہ سکھ سپاہی بھی موجود تھے ۔ سکھ سپاہیوں میں سے ایک سپاہی بڑی گستاخی سے کہنے لگا: کہ حضرت! "آپ تختہ کے نیچے کھڑے رہیں تاکہ ہمارے کھانے کی چیزیں آپ سے نہ چُھو جائیں"۔

آپ نے ارشاد فرمایا:
کہ اللہ تعالیٰ اُن کو چھو جانے کی تکلیف سے بچائے ۔ دریں اثنا کشتی روانہ ہوئی تو دورانِ سفر چند مسائل پر گفتگو ہوئی ۔ آپ نے اپنے خاص اندازِ محبت سے سکھوں کو مسائل سمجھائے، ابھی آپ کی کشتی کنارہ پر نہ پہنچی تھی کہ آپ کی کرامت سے تمام سکھ مشرف با اسلام ہو گئے ۔ دریا کے کنارے سے موضع "خوشحال گڑھ" میں پہنچ کر سب نے حجامت بنوا کر نماز ظہر ادا کی ۔

عارفِ کامل حضرت میاں محمد فرماتے ہیں:

؏:مرد ملے تے درد نہ چھوٹے اوگن دے گُن کردا ۔۔۔۔ کامل لوک محمد بخشا لعل بناون پھتردا ۔

آپ کے فرمودات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

آپ فرماتےہیں:
فقیر کے ’’ف‘‘ سے مراد ’’فاقہ‘‘، ’’ق‘‘ سے مراد ’’قناعت‘‘، ’’ر‘‘سے مراد ’’ریاضت‘‘ اور ’’ی‘‘ سے مراد ’’یادِ الٰہی‘‘ ہے۔

اگر کوئی شخص یہ اُمور بجا لاوے تو ’’ف‘‘ سے ’’فضلِ الٰہی‘‘، ’’ق‘‘ سے ’’قُرب الٰہی‘‘، ’’ی‘‘ سے ’’یارئ خدا‘‘ اور ’’ر‘‘ سے ’’رحمت الٰہی‘‘ مراد ہے، حاصل ہو ۔

ورنہ ’’ف‘‘ سے ’’فضیحت‘‘، ’’ق‘‘ سے ’’قہر الٰہی‘‘، ’’ی‘‘ سے ’’یاس‘‘ اور ’’ر‘‘ سے ’’رسوائی‘‘ ملے ۔

2۔ طالبِ ذوق و شوق اور کشف و کرامت طالب خدا نہیں ہو سکتا ۔

3۔ جس طرح طلبِ حلال مومنوں پر فرض ہے اسی طرح ترکِ حلال عارفوں پر فرض ہے ۔ کیونکہ درویشوں کی فاقہ کی رات معراج کی رات ہے ۔

4۔ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ شریعت پر استقامت رکھے ۔

5۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے دنیا طلب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے آخرت سے محروم رکھتا ہے کیونکہ دوستانِ الٰہی کے لیے دنیا راحت کی جگہ نہیں، راحت کی جگہ تو آخرت ہے ۔

6۔ ترکِ دنیا دل سے ہوتی ہے (دل میں دنیا کی محبت نہ ہو) نہ کہ اسباب سے ۔

7۔ فقیر دل کی مراد سے خالی ہونے کو کہتے ہیں (جس دل میں معرفت خدا نہ ہو) نہ کہ ہاتھ خالی ہونے کو ۔

8۔ لوگوں کے عیبوں کو نیکی کی طرف تاویل کرو اور اپنی اچھی باتوں کو عیب کی طرف تاویل کرو ۔

9۔ خواہ دوست ہو یا دشمن سب سے اخلاق سے پیش آنا چاہئے ۔ حضرت خواجہ صاحب اپنے دشمنوں سے انتقام نہیں لیتے تھے ۔ آپ نے افغانستان سے ہجرت کرنا برداشت کیا لیکن معاندین و حاسدین سے انتقام نہ لیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 شعبان المعظم 1286ھ، مطابق 17 نومبر 1869ء بروز بدھ ہوا۔آپ کا مزار پر انوار" چورہ شریف" ضلع اٹک میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخ نقشبند ۔ از علامہ مولانا محمد صادق قصوری ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-noor-muhammad-chorahi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1