🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-08-1444 ᴴ | 03-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-08-1444 ᴴ | 04-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
شیخ الاسلام حضرت عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔
آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔
علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔
آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)
آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔
وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبداللہ ۔ کنیت: ابو اسماعیل ۔ لقب: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396ھ، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔
آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔
علامہ جامی کا فرمان:
مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔
آپ ہی فرماتے ہیں:
جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔ (اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟)
آپ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔
وصال:
آپ کا وصال 9 ربیع الثانی 481ھ، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-abdullah-ansari
❤1👍1