🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-08-1444 ᴴ | 03-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-08-1444 ᴴ | 03-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت شیخ محمد بن عبدالرحمٰن علامہ ابنِ صائغ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
محمد بن عبد الرحمٰن بن علی المعروف بہ شمس الدین ابن [1] الصائغ: عالم ماہر، فاضل متجر، جامع علوم، ضابط فنون، کثیر الاستخصار، فقیہ محدث، بارع، لغوی، نحوی، حسن النظم والنشر جس الاخلاق اور روساء کے لیے کثیر المعاثرہ تھے۔
ولادت:
آپ ۷۱۰ھ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
فقہ وغیرہ شہاب بن مرحل اور ابی حیان اور فخر زیلعی سے پڑھی اور حدیث کو شام مصر میں دبوسی اور ابی الفتح یعمیر سے سُنااور روایت کیا اور آپ سے علامہ عزالدین محمد بن ابی بکر بن جماعہ نے پڑھا اور جمال بن ظہیرہ اور عبداللہ بن عمر بن عبد العزیز بن جماعہ نے روایت کی ۔
مدت تک جامع طولونی وگیرہ کے مدرس اور دار العدل کے مفتی رہے پھر قضاء عسکر کی آپ کے سپرد کی گئی ۔
تصنیفات:
شرح مشارق الانوار، شرح الفیہ، التعلیقہ فی مسائل الدقیقہ، مجمع الفوائد (سترہ جلد میں) المبانی فی المعانی، منہج القویم فی فوائد متعلق بالقرآن العظیم، نتائج الافکار والرقیم شرح بردہ، الوضع الباہر فی رفع افعل والظاہر، اختراع الفہوم لاجتماع العلوم، روض الافہام فی افہام الاستقہام، الجمع، الاختصار، التذکرہ (نحو میں) حاشیہ معنی ابن حسام وغیرہ تصنیف کیں ـ
وفات:
اور ۱۱؍ماہِ شعبان۷۷۶ھ یا ۷۷۷ھ میں وفات پائی ۔ ’’ میر کشور ‘‘ اور ’’ آرائش دارین ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ زمر ذی ’’ دستور الاعلام ‘‘ (مرتب)
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-abdur-rehman-allama-ibne-saigh
محمد بن عبد الرحمٰن بن علی المعروف بہ شمس الدین ابن [1] الصائغ: عالم ماہر، فاضل متجر، جامع علوم، ضابط فنون، کثیر الاستخصار، فقیہ محدث، بارع، لغوی، نحوی، حسن النظم والنشر جس الاخلاق اور روساء کے لیے کثیر المعاثرہ تھے۔
ولادت:
آپ ۷۱۰ھ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
فقہ وغیرہ شہاب بن مرحل اور ابی حیان اور فخر زیلعی سے پڑھی اور حدیث کو شام مصر میں دبوسی اور ابی الفتح یعمیر سے سُنااور روایت کیا اور آپ سے علامہ عزالدین محمد بن ابی بکر بن جماعہ نے پڑھا اور جمال بن ظہیرہ اور عبداللہ بن عمر بن عبد العزیز بن جماعہ نے روایت کی ۔
مدت تک جامع طولونی وگیرہ کے مدرس اور دار العدل کے مفتی رہے پھر قضاء عسکر کی آپ کے سپرد کی گئی ۔
تصنیفات:
شرح مشارق الانوار، شرح الفیہ، التعلیقہ فی مسائل الدقیقہ، مجمع الفوائد (سترہ جلد میں) المبانی فی المعانی، منہج القویم فی فوائد متعلق بالقرآن العظیم، نتائج الافکار والرقیم شرح بردہ، الوضع الباہر فی رفع افعل والظاہر، اختراع الفہوم لاجتماع العلوم، روض الافہام فی افہام الاستقہام، الجمع، الاختصار، التذکرہ (نحو میں) حاشیہ معنی ابن حسام وغیرہ تصنیف کیں ـ
وفات:
اور ۱۱؍ماہِ شعبان۷۷۶ھ یا ۷۷۷ھ میں وفات پائی ۔ ’’ میر کشور ‘‘ اور ’’ آرائش دارین ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ زمر ذی ’’ دستور الاعلام ‘‘ (مرتب)
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-abdur-rehman-allama-ibne-saigh
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Bin Abdur Rehman Allama Ibne Saigh
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍2
حضرت ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: رئیس الاصفیاء، سند الفقہاء ۔ بلخ کی نسبت سے " بلخی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابراہیم بن یوسف بن میمون بن قدامہ بلخی ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ کا خاندان صوفیاء و صلحاء کا خاندان تھا ۔ جس میں بڑے شیوخ و علماء پیدا ہوئے ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً دوسری صدی ہجری کے آخر میں "بلخ" ایران میں ہوئی۔
تحصیل علم:
ابتدائی اپنے علاقے میں حاصل کی ۔ پھر اعلی تعلیم کے لئے عراق کا سفر کیا کیونکہ اس وقت عراق کے بہت سے شہر علوم کے بہت بڑے مراکز تھے ۔بغداد، کوفہ، بصرہ میں بڑے آئمہ علم کے جام لٹا رہے تھے۔
آپ ایک مدت تک تلمیذ امام اعظم، فقیہ اعظم، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ انہیں کی صحبت و شاگردی کی نسبت سےاصحاب امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتےتھے۔علم دین میں لگن اور محنت کی بدولت اپنے معاصرین سےسبقت لےگئے۔
آپ کاشمار جید فقہاء وعلماء، اورصوفیاء میں ہوتا تھا۔حضرت امام مالک علیہ الرحمہ سےشرف تلمذ حاصل ہے۔صرف ایک حدیث ان سے سماعت کرسکے:" عن مالک عن نافع عن بن عمر رضی اللہ عنہم کل مسکر خمرو کل مسکر حرام"۔ سبب یہ ہو اکہ جب آپ امام مالک کے پاس حدیث سننے کےلیے آئے تو وہاں قتیبہ بن سعید موجود تھے جنہوں نے امام مالک سے کہہ دیا کہ یہ شخص ارجاء (یعنی فرقہ مرجیہ سے اسکا تعلق ہےغلط نسبت ظاہر کردی،بہتان لگادیا، حالانکہ آپ فقیہ، محدث، صوفی تھے۔) ظاہر کرتا ہے۔ پس انہوں نے آپ کواپنی مجلس سے اٹھا دیا جس سے آپ ان سے صرف یہی ایک حدیث سماعت کر سکے ۔اسی طرح آپ نے سفیان بن عیینہ ،امام وکیع،امام اسمعیل بن علیہ اور حماد بن زید سےعلم حدیث حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، رئیس الفقہاء، سند الاتقیاء، فقیہ، محدث، متکلم، صوفی، ادیب، اپنے وقت کے شیخ اجل امام اکمل محدث ثقہ صدوق حضرت شیخ ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے اصحاب میں آپ کو بڑی عزت و حرمت حاصل تھی،مدت تک امام ابو یوسف کی صحبت میں رہے،ان کی صحبت نے آپ کو نیر تاباں بنادیا۔ آپ نہایت متقی صوفی ِ باصفا تھے۔آپ کا دستو ر تھاکہ روزانہ بعد نماز فجر بلخ کے آس پاس گشت کرتے اور جو قبر گِری ہوئی دیکھتے اس کی اپنے ہاتھ سے مرمت کرتے اور راستوں اور پلوں کو صاف و درست کرتے ۔ویرانہ میں ایک مسجد تھی وہاں آپ ہمیشہ ظہر کے وقت جاکر آذان کہتے اور شہر کے فقہاء، قضاۃ، اور عابدو ہاں جمع ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ آپ ہمہ وقت مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف رہتےتھے۔انسان توانسان جانور اور پرندوں تک کاخیال رکھتےتھے۔ کسی امیر، وزیر، بادشاہ، خلیفہ سے نہ ملاقات کرتے اور نہ ہی ان کی دعوت قبول کرتے۔جس نےآپ سے ملاقات کرنا ہوتی، یامسئلہ معلوم کرنا ہوتا، یادعا وغیرہ تو آپ اس کو ویرانے کی مسجد میں بوقت نمازِ ظہر مسجد شریف میں مل سکتے تھے۔ امامت خود کرواتے تھے۔
ایک دفعہ بلخ کے امیر نے فقہاء سے کہا کہ میں تمہارے شیخ سے چند امور دریافت کر نا چاہتا ہوں مگر کیاکروں کہ وہ میرے پاس آتے ہی نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تمھارے پاس کیا بلکہ کسی کے پاس بھی نہیں جاتے ۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے پاس خود جاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ یوں تو وہ تجھ سے بات بھی نہیں کرینگے ، اگر تم ظہر کے وقت اس ویران مسجد میں آؤ او رنماز کےبعد ان سے یرحمک اللہ کہ کر بات کرو تو امید ہے کہ شاید تمھاری طرف متوجہ ہو جائیں۔
اس نے ایسا ہی کیا اور اپنی مشکلا ت عرض کی اور حضرت شیخ نے اس کی مشکل حل فرمادی۔ پھر وہ گویا ہواکہ میں بلخ کا حاکم ہوں اگر آپ کی کچھ حاجت ہو تو آپ بلا تامل ارشاد فرمائیں ۔شیخ یہ سن کر روپڑے اور کہا میرا اندر کا تمام خون پانی ہو گیا ہے کہ میں نے تیرے ایک سپاہی کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنے باز کو ایک کبوتر پر چھوڑا ، جس کے چنگل کے صدمے سے وہ بےچارہ خاک میں لوٹ رہا تھا اور تڑپ رہا تھا۔ لیکن اس سپاہی کو رحم نہیں آیا۔ حاکم نے یہ سن کر اسی وقت حکم عام جاری کردیا کہ آئندہ کوئی شخص باز یا کتا وغیرہ شکاری جانور اپنے پاس نہ رکھے ،اور نہ ہی جانوروں پرندوں پر کوئی ظلم کرے۔منقول ہے کہ جب آپ نماز کے لئے باہر تشریف لاتے تو کاغذ وقلم بھی ساتھ ہوتا تھا، کہ راستے اگر کوئی مسئلہ معلوم کرے توفوراً اس کو لکھ کردیدوں، تاکہ اس کو انتظار نہ کرنا پڑے۔امام نسائی اپنی تصنیف لطیف"سنن نسائی"میں آپ سے روایت کیا ہے اورثقہ، صدوق، صاحب التقویٰ کے شاندارالفاظ سےآپ کی توثیق اور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11/شعبان المکرم 241ھ، ماہ دسمبر 855ء کو ہوا۔"قلزم دین"آپ کی تاریخ وفات ہے۔
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-balkhi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: رئیس الاصفیاء، سند الفقہاء ۔ بلخ کی نسبت سے " بلخی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابراہیم بن یوسف بن میمون بن قدامہ بلخی ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ کا خاندان صوفیاء و صلحاء کا خاندان تھا ۔ جس میں بڑے شیوخ و علماء پیدا ہوئے ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً دوسری صدی ہجری کے آخر میں "بلخ" ایران میں ہوئی۔
تحصیل علم:
ابتدائی اپنے علاقے میں حاصل کی ۔ پھر اعلی تعلیم کے لئے عراق کا سفر کیا کیونکہ اس وقت عراق کے بہت سے شہر علوم کے بہت بڑے مراکز تھے ۔بغداد، کوفہ، بصرہ میں بڑے آئمہ علم کے جام لٹا رہے تھے۔
آپ ایک مدت تک تلمیذ امام اعظم، فقیہ اعظم، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ انہیں کی صحبت و شاگردی کی نسبت سےاصحاب امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتےتھے۔علم دین میں لگن اور محنت کی بدولت اپنے معاصرین سےسبقت لےگئے۔
آپ کاشمار جید فقہاء وعلماء، اورصوفیاء میں ہوتا تھا۔حضرت امام مالک علیہ الرحمہ سےشرف تلمذ حاصل ہے۔صرف ایک حدیث ان سے سماعت کرسکے:" عن مالک عن نافع عن بن عمر رضی اللہ عنہم کل مسکر خمرو کل مسکر حرام"۔ سبب یہ ہو اکہ جب آپ امام مالک کے پاس حدیث سننے کےلیے آئے تو وہاں قتیبہ بن سعید موجود تھے جنہوں نے امام مالک سے کہہ دیا کہ یہ شخص ارجاء (یعنی فرقہ مرجیہ سے اسکا تعلق ہےغلط نسبت ظاہر کردی،بہتان لگادیا، حالانکہ آپ فقیہ، محدث، صوفی تھے۔) ظاہر کرتا ہے۔ پس انہوں نے آپ کواپنی مجلس سے اٹھا دیا جس سے آپ ان سے صرف یہی ایک حدیث سماعت کر سکے ۔اسی طرح آپ نے سفیان بن عیینہ ،امام وکیع،امام اسمعیل بن علیہ اور حماد بن زید سےعلم حدیث حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، رئیس الفقہاء، سند الاتقیاء، فقیہ، محدث، متکلم، صوفی، ادیب، اپنے وقت کے شیخ اجل امام اکمل محدث ثقہ صدوق حضرت شیخ ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے اصحاب میں آپ کو بڑی عزت و حرمت حاصل تھی،مدت تک امام ابو یوسف کی صحبت میں رہے،ان کی صحبت نے آپ کو نیر تاباں بنادیا۔ آپ نہایت متقی صوفی ِ باصفا تھے۔آپ کا دستو ر تھاکہ روزانہ بعد نماز فجر بلخ کے آس پاس گشت کرتے اور جو قبر گِری ہوئی دیکھتے اس کی اپنے ہاتھ سے مرمت کرتے اور راستوں اور پلوں کو صاف و درست کرتے ۔ویرانہ میں ایک مسجد تھی وہاں آپ ہمیشہ ظہر کے وقت جاکر آذان کہتے اور شہر کے فقہاء، قضاۃ، اور عابدو ہاں جمع ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ آپ ہمہ وقت مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف رہتےتھے۔انسان توانسان جانور اور پرندوں تک کاخیال رکھتےتھے۔ کسی امیر، وزیر، بادشاہ، خلیفہ سے نہ ملاقات کرتے اور نہ ہی ان کی دعوت قبول کرتے۔جس نےآپ سے ملاقات کرنا ہوتی، یامسئلہ معلوم کرنا ہوتا، یادعا وغیرہ تو آپ اس کو ویرانے کی مسجد میں بوقت نمازِ ظہر مسجد شریف میں مل سکتے تھے۔ امامت خود کرواتے تھے۔
ایک دفعہ بلخ کے امیر نے فقہاء سے کہا کہ میں تمہارے شیخ سے چند امور دریافت کر نا چاہتا ہوں مگر کیاکروں کہ وہ میرے پاس آتے ہی نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تمھارے پاس کیا بلکہ کسی کے پاس بھی نہیں جاتے ۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے پاس خود جاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ یوں تو وہ تجھ سے بات بھی نہیں کرینگے ، اگر تم ظہر کے وقت اس ویران مسجد میں آؤ او رنماز کےبعد ان سے یرحمک اللہ کہ کر بات کرو تو امید ہے کہ شاید تمھاری طرف متوجہ ہو جائیں۔
اس نے ایسا ہی کیا اور اپنی مشکلا ت عرض کی اور حضرت شیخ نے اس کی مشکل حل فرمادی۔ پھر وہ گویا ہواکہ میں بلخ کا حاکم ہوں اگر آپ کی کچھ حاجت ہو تو آپ بلا تامل ارشاد فرمائیں ۔شیخ یہ سن کر روپڑے اور کہا میرا اندر کا تمام خون پانی ہو گیا ہے کہ میں نے تیرے ایک سپاہی کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنے باز کو ایک کبوتر پر چھوڑا ، جس کے چنگل کے صدمے سے وہ بےچارہ خاک میں لوٹ رہا تھا اور تڑپ رہا تھا۔ لیکن اس سپاہی کو رحم نہیں آیا۔ حاکم نے یہ سن کر اسی وقت حکم عام جاری کردیا کہ آئندہ کوئی شخص باز یا کتا وغیرہ شکاری جانور اپنے پاس نہ رکھے ،اور نہ ہی جانوروں پرندوں پر کوئی ظلم کرے۔منقول ہے کہ جب آپ نماز کے لئے باہر تشریف لاتے تو کاغذ وقلم بھی ساتھ ہوتا تھا، کہ راستے اگر کوئی مسئلہ معلوم کرے توفوراً اس کو لکھ کردیدوں، تاکہ اس کو انتظار نہ کرنا پڑے۔امام نسائی اپنی تصنیف لطیف"سنن نسائی"میں آپ سے روایت کیا ہے اورثقہ، صدوق، صاحب التقویٰ کے شاندارالفاظ سےآپ کی توثیق اور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11/شعبان المکرم 241ھ، ماہ دسمبر 855ء کو ہوا۔"قلزم دین"آپ کی تاریخ وفات ہے۔
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ibrahim-balkhi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Ibrahim Balkhi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1