یوم وفات بزرگان دین | 22 मुह़र्रम
تاریخ ²² محرم | Muharram ²²
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=22&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ²² محرم | Muharram ²²
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=22&month=01&year=&user-submit=
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
🕌 اصلاح 🕌
محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمة اللہ تعالیٰ علیہ شہر ملکوال ایک جلسے پر گئے ۔
نماز کا وقت ہوا ، مسجد پہنچے ، جماعت کھڑی تھی ساتھ شامل ہوگئے ۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام صاحب کا تلفظ ٹھیک نہیں تھا ، وہ تکبیرات میں اللہ اکبر کو کھینچ کر ” اللہ اکبور “ کہتے رہے ۔ ( معاذاللہ ثم معاذاللہ )
جب سلام پھیرا توآپ نے فرمایا:
کسی کی بھی نماز نہیں ہوئی ، سارے نماز دوبارہ پڑھو ۔
چہ جائیکہ امام صاحب نماز دہراتے ، انھوں نے حضرت صاحب سے مصافحہ بھی نہ کیا اور غصے میں اٹھ کرچل دیے ۔
حافظ الحدیث سید جلال الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ نے انھیں کہا:
آپ ہمارے میزبان ہیں اور صرف ایک شرعی مسئلہ بتانے پر اس طرح بے مروتی سے پیش آرہے ہیں ۔
وہ کہنے لگے:
میری بے عزتی تھوڑی ہوئی ہے جو اس طرح نہ کروں ۔ ( جو لوگ میرے پیچھے اتنے سالوں سے نماز پڑھ رہے ہیں وہ کیا کہیں گے مجھے نماز پڑھانی نہیں آتی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🕌
صحیح مسئلے کو اپنی توہین سمجھنا اور بتانے والے کو دشمن سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے ۔
آپ امام ہیں ، عالم ہیں ، مفتی ہیں ، پیر ہیں ، جو بھی ہیں ؛ معصوم عن الخطا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
آپ سے غلطی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، آپ کی عزت یہ نہیں کہ غلطی پر اَڑے رہیں ، عزت اِس میں ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرکے اُس کی اصلاح کریں اور نشان دہی کرنے والے کا شکریہ ادا کریں ۔
آج کل بھی ائمہ اور علما کی ایک تعداد نماز ، وضو کے مسائل میں سُستی کا شکار ہے ۔
انھیں بھی چاہیے کہ بغیر جِھجکے فقیہ علما کو نماز پڑھ کر ، اور وضو کرکے دکھائیں ؛ تاکہ جو سسستی غفلت ہو وہ دور ہوجائے ۔
بہت دفعہ انسان اپنی غلطی سے بےخبر رہتا ہے ، اس کی غلطی کی اصلاح دوسرا کرتا ہے ۔
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ نے ایک دفعہ منظر اسلام کے مدرسین اور طلبہ سے کہاتھا:
سارے مولانا امجد علی صاحب کے سامنے وضو کریں اور دو رکعت نماز جہر کے ساتھ پڑھیں ، تاکہ غلطیوں کی اصلاح ہوجائے ۔
الحمد للہ میں گاہے گاہے اپنی نماز اور وضو محتاط اور نقاد علما کو چیک کرواتا رہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایمان کے بعد نماز جیسی قیمتی متاع کوئی نہیں ، اس کی جتنی حفاظت کی جائے کم ہے ۔
کہتے ہیں ایک بزرگ نے اپنے بیٹے کو علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے دس سال بعد خط لکھا:
” ابا حضور! الحمد للہ دس سال کی محنت سے میں نے نماز پڑھنا سیکھ لیا ہے “
دس سال تو دور کی بات ، کیا ہم نے نماز درست کرنے کے لیے دس دن بھی محنت کی ؟؟
✍لقمان شاہد
21/9/19 ء
محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمة اللہ تعالیٰ علیہ شہر ملکوال ایک جلسے پر گئے ۔
نماز کا وقت ہوا ، مسجد پہنچے ، جماعت کھڑی تھی ساتھ شامل ہوگئے ۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام صاحب کا تلفظ ٹھیک نہیں تھا ، وہ تکبیرات میں اللہ اکبر کو کھینچ کر ” اللہ اکبور “ کہتے رہے ۔ ( معاذاللہ ثم معاذاللہ )
جب سلام پھیرا توآپ نے فرمایا:
کسی کی بھی نماز نہیں ہوئی ، سارے نماز دوبارہ پڑھو ۔
چہ جائیکہ امام صاحب نماز دہراتے ، انھوں نے حضرت صاحب سے مصافحہ بھی نہ کیا اور غصے میں اٹھ کرچل دیے ۔
حافظ الحدیث سید جلال الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ نے انھیں کہا:
آپ ہمارے میزبان ہیں اور صرف ایک شرعی مسئلہ بتانے پر اس طرح بے مروتی سے پیش آرہے ہیں ۔
وہ کہنے لگے:
میری بے عزتی تھوڑی ہوئی ہے جو اس طرح نہ کروں ۔ ( جو لوگ میرے پیچھے اتنے سالوں سے نماز پڑھ رہے ہیں وہ کیا کہیں گے مجھے نماز پڑھانی نہیں آتی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🕌
صحیح مسئلے کو اپنی توہین سمجھنا اور بتانے والے کو دشمن سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے ۔
آپ امام ہیں ، عالم ہیں ، مفتی ہیں ، پیر ہیں ، جو بھی ہیں ؛ معصوم عن الخطا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
آپ سے غلطی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، آپ کی عزت یہ نہیں کہ غلطی پر اَڑے رہیں ، عزت اِس میں ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرکے اُس کی اصلاح کریں اور نشان دہی کرنے والے کا شکریہ ادا کریں ۔
آج کل بھی ائمہ اور علما کی ایک تعداد نماز ، وضو کے مسائل میں سُستی کا شکار ہے ۔
انھیں بھی چاہیے کہ بغیر جِھجکے فقیہ علما کو نماز پڑھ کر ، اور وضو کرکے دکھائیں ؛ تاکہ جو سسستی غفلت ہو وہ دور ہوجائے ۔
بہت دفعہ انسان اپنی غلطی سے بےخبر رہتا ہے ، اس کی غلطی کی اصلاح دوسرا کرتا ہے ۔
اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ نے ایک دفعہ منظر اسلام کے مدرسین اور طلبہ سے کہاتھا:
سارے مولانا امجد علی صاحب کے سامنے وضو کریں اور دو رکعت نماز جہر کے ساتھ پڑھیں ، تاکہ غلطیوں کی اصلاح ہوجائے ۔
الحمد للہ میں گاہے گاہے اپنی نماز اور وضو محتاط اور نقاد علما کو چیک کرواتا رہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایمان کے بعد نماز جیسی قیمتی متاع کوئی نہیں ، اس کی جتنی حفاظت کی جائے کم ہے ۔
کہتے ہیں ایک بزرگ نے اپنے بیٹے کو علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے دس سال بعد خط لکھا:
” ابا حضور! الحمد للہ دس سال کی محنت سے میں نے نماز پڑھنا سیکھ لیا ہے “
دس سال تو دور کی بات ، کیا ہم نے نماز درست کرنے کے لیے دس دن بھی محنت کی ؟؟
✍لقمان شاہد
21/9/19 ء
سید سبطین حیدر مارہروی کے دادا گرامی حضور سید العلماء قدس سرہ کا بیان
رافضیوں سے ہمیشہ
اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے
مفتی ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی
نوری دار الافتاء کاشی پور اتراکھنڈ
رافضیوں سے ہمیشہ
اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے
مفتی ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی
نوری دار الافتاء کاشی پور اتراکھنڈ
یوم وفات بزرگان دین | 23 मुह़र्रम
تاریخ ²³ محرم | Muharram ²³
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=23&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ²³ محرم | Muharram ²³
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=23&month=01&year=&user-submit=
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
چار شادیاں کرنے کا آسان طریقہ
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
آغاز میں ہی ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ (کنوارے) ہیں۔ جن کی شادی ہو چکی ہے، ان کے لیے فی الحال ہمارے پاس ایسا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جس سے وہ دوسری شادی کر سکیں البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا بنا اجازت لیے بھی ہمت دکھا سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں میں سے کسی کا مشورہ نہیں دیں گے۔
یہ بات تو پکی ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے دوسرے نکاح کی اجازت ملنا ناممکن کے قریب ہے اور اگر بنا اجازت دوسری بیوی لے آئے تو پھر کیا ہوگا، یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ معلوم ہو چکا تو اب کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے یعنی ایک تیر سے دو نشانے اور ایسا وہی کر سکتے ہیں جو کنوارے ہیں۔
کرنا یہ ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں کے سامنے کچھ شرائط (Conditions) رکھنی ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کچھ آفرز (Offers) بھی ہوں گے تاکہ ترازو کا کوئی پلڑا بھاری نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے آفرز کی فہرست دیکھ لیجیے جو آپ کو لکھ کر دینی ہے:
(ا) لڑکی والوں سے ایک روپے بھی نہیں لیا جائے گا۔
(ب) جہیز میں قیمتی سامان قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(ت) ان کے علاوہ بھی کسی قسم کی لین دین کی اجازت نہیں ہے۔
(ث) باراتیوں کی تعداد دس بیس لوگوں کے قریب ہوگی۔
(ج) گانا بجانا، ناچنا، آتش بازی وغیرہ پر دونوں طرف سے سخت پابندی ہوگی۔
ان میں آپ اپنے علاقے کے مطابق کمی بیشی کر سکتے ہیں، اصل مقصد ہے شادی کو بالکل آسان کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آفرز کوئی احسان نہیں ہے لیکن آج کل جس طرح شادیاں ہو رہی ہیں، یہ آفرز احسان عظیم سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان آفرز کے ساتھ جو شرائط رکھنی ہیں وہ یہ ہیں:
(ا) لڑکی بنیادی عقائد و مسائل کا علم رکھتی ہو۔
(ب) اگر لڑکا آگے چل کر کسی بیوہ عورت یا کسی غریب گھرانے کی لڑکی سے دوسری، تیسری بلکہ چوتھی شادی بھی کرتا ہے تو اس پر لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
بس ان دو شرطوں پر آپ کو ڈٹے رہنا ہے۔ پہلی شرط سے فائدہ یہ ہوگا کہ لڑکی آپ کی باتوں کو سمجھے گی اور دوسری شرط آپ کے لیے ایک طرح سے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کا لائسنس (License) ہے۔
ممکن ہے کہ ان شرائط کے ساتھ جلدی رشتہ طے نہ ہو لیکن ہوگا ضرور اور جب ہو جائے گا تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں سے اجازت لینے کا جو پر خطر (Risky) عمل (Process) ہے وہ راستے میں آئے گا ہی نہیں۔ اب آپ جب چاہیں دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا لیکن کافی حد تک مفید ثابت ہوگا۔ جو لوگ چار بیویوں میں انصاف کرنے کے اہل ہیں وہ ضرور اس پر عمل کریں اور غریب، بیوہ عورتوں کا گھر بسائیں، انھیں پیار دیں اور ثواب کے مستحق بنیں۔
عبد مصطفی
یوم وفات بزرگان دین | 24 मुह़र्रम
تاریخ ²⁴ محرم | Muharram ²⁴
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=24&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ²⁴ محرم | Muharram ²⁴
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=24&month=01&year=&user-submit=
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
کی کتابوں میں الحاق ہے !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
سنی یا دیوبندی ؟ صفحہ ⁴⁸⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اکبر بادشاہ کافر تھا ؟ صفحہ⁴⁸⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا تیمور لنگ شیعہ تھا ؟ صـ⁴⁸⁹
تیمور لنگ سُنِّی بادشاہ تھا 🌹
رافضی نہیں تھا ، اسی طرح شاہان مغلیہ سب کے سب سُنِّی تھے، ہمایوں کے بارے میں کچھ لوگوں نے کہا ہے کِہ یہ شیعہ تھا ۔ اسی طرح شاہان لودھی اور اس کے پہلے سلاطین غلام سب سنی تھے " واللہ تعالیٰ اعلم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ڈاکٹر اقبال کے بعض اشعار میں
کفریہ کلمات ہیں ؟ صفحہ 490
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ شارح بخاری³ صَـ⁴⁸⁸-⁴⁹¹
✍ مفتی شریف الحق امجدی
رَحۡــمَــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــلَــیۡـه
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کی کتابوں میں الحاق ہے !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
سنی یا دیوبندی ؟ صفحہ ⁴⁸⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اکبر بادشاہ کافر تھا ؟ صفحہ⁴⁸⁹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا تیمور لنگ شیعہ تھا ؟ صـ⁴⁸⁹
تیمور لنگ سُنِّی بادشاہ تھا 🌹
رافضی نہیں تھا ، اسی طرح شاہان مغلیہ سب کے سب سُنِّی تھے، ہمایوں کے بارے میں کچھ لوگوں نے کہا ہے کِہ یہ شیعہ تھا ۔ اسی طرح شاہان لودھی اور اس کے پہلے سلاطین غلام سب سنی تھے " واللہ تعالیٰ اعلم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ڈاکٹر اقبال کے بعض اشعار میں
کفریہ کلمات ہیں ؟ صفحہ 490
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ شارح بخاری³ صَـ⁴⁸⁸-⁴⁹¹
✍ مفتی شریف الحق امجدی
رَحۡــمَــةُ الــلّٰــهِ تَــعَــالیٰ عَــلَــیۡـه
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یوم وفات بزرگان دین | 25 मुह़र्रम
تاریخ ²⁵ محرم | Muharram ²⁵
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=25&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ²⁵ محرم | Muharram ²⁵
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=25&month=01&year=&user-submit=