🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
پیر محی الدین لال بادشاہ مکھڈوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: پیر سید محی الدین ۔ لقب: لال بادشاہ، راہنما تحریک پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر سید محی الدین لال بادشاہ بن پیر غلام عباس شاہ بن پیر غلام جعفر شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1326ھ مطابق 1908ء کو " مکھڈ شریف " ضلع اٹک میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم خانقاہ کے مدرسے میں ہوئی ۔ اسی مدرسے میں علومِ دینیہ کی تکمیل فرمائی ۔ حضرت لال بادشاہ انتہائی ذہین، معاملہ فہم، زیرک اور صاحبِ علم و فضل انسان تھے ۔ علم دوستی میں مشہور تھے ۔ خانقاہ کے مدرسہ غوثیہ کو ترقی ووسعت آپ کی کوششوں کی بدولت ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی سید غلام عباس شاہ صاحب علیہ الرحمہ کےدست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد ان کے مسن نشین ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
پیر طریقت، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، شیخ المشائخ، راہنماء تحریک پاکستان، حضرت پیر سید محی الدین لال بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
پیر صاحب علیہ الرحمہ نہایت شریف النفس، عبادت گزار اور صاحب ِکشف و کرامت بزرگ تھے ۔ حق گوئی و سچائی آپ کا طرہ امتیاز تھا ۔ باطل سے ٹکرانا، اور اسے نیست و نابود کرنا یہ آپ کا محبوب عمل تھا ۔ بڑے سے بڑے جاگیر دار، وڈیرے، اور بدمعاش قسم کے لوگ، پیر صاحب کو مرعوب نہ کر سکے، ساری زندگی انہیں للکارتے رہے، اور ظلم کے خلاف ایک مظبوط آواز بن کر مظلوموں کا سہارا بنے رہے ۔
انہیں سیاست سے بھی دلچسپی تھی ۔ 1936ء سے 1947ء تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ۔ 1955ء تا 1958ء ڈسٹرکٹ بورڈ اٹک کے ممبر بھی رہے ۔ بڑے اچھے مقرر اور زیرک سیاستدان تھے ۔ فروری 1946ء کے الیکشن میں پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر اٹک سے صوبائی سیٹ پر مسلم لیگ کے امید وار ایم محمد یوسف کا مقابلہ کیا اور 8342 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جب کہ لیگی امید وار نے 4203 ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح پیر صاحب یونینسٹ پارٹی ک پلیٹ فارم سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔
پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن تو جیت لیا مگر انہیں احساس ہونے گلا کہ مسلم لیگ کی مخالفت کر کے انہوں نے کوئی مستحسن قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ یہ خلش انہیں اندر رہی اندر کھائے جارہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے 17، مارچ 1946ء کو قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک اخباری بیان روز نامہ " انقلاب " لاہور ربابت 20، مارچ 1946ء کے ذریعے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا: " میں نہایت مسرت و امتہاج کے ساتھ آپ کی وساطت سے اپنی ناچیز خدمات ملت اسلامیہ کے حضور پیش کرتا ہوں ۔ میں ان تمام ذاتی یا سیاسی اختلافات کو جنہوں نے ماضی میں مجھے ایسا کرنے سے باز رکھا بر طرف کرتا ہوں ۔ مفادِ ملت کیلے میری حقیقی پیش کش کو قادرِ مطلق قبول فرمائے ۔اپنی انفرادی حیثیت سے قوم کے لئے میں جو کچھ کر سکتا تھا اس میں کوشاں رہا ہوں ۔ ایسا کرنے میں غرض مندانہ مفادوں سے مجھے ٹکرانا بھی پڑا اور اس سے مجھے نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔ موجودہ ساعت جو ملت کے لئے بڑی آزمائش کی ساعت ہے ۔ پورے و ثوق کے ساتھ میری رائے یہ ہے کہ اس وقت ہر فرد ملت کا یہ مقدس فرض ہے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائے یہ فرض ہر دوسرے فرض پر مقدم ہے ۔ اس لیے میں اپنے ذاتی اختلافات کو قطعاً بھلا کر اور مٹا کر ملت کےایک ادنی خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر بھی آپ کی اور مسلم لیگ کی تائید و حمایت کا اقرار صالح کرتا ہوں" ۔ آپ کا یہی بیان اختصار کے ساتھ روز نامہ " نوائے وقت " لاہور بابت 19/ مارچ 1946ء میں یوں چھپا: " میں ایک خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی خدمات مسلمانا ن ملت کو پیش کرتا ہوں"۔
پیر صاحب کے اس اقدام کو بہت سراہا گیا اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ اب پیر صاحب نے اپنی تمام تر مساعی مسلم لیگ کے لیے وقف کر دیں ۔ مسلم لیگ ان کے دل کی دھڑکن بن گئی ۔ یکم اگست 1946 ء کو پیر صاحب کی زیر صدارت مکھڈ شریف میں مسلم لیگ کا جلسہ منعقد ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ تمام مجاہد مسلم لیگ کے اقدام کی حمایت کریں گے ۔ جنوری 1947ء میں جب خضر حیات ٹوانہ وزیر اعظم پنجاب کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلی تو پیر صاحب نے اس تحریک کو کامیاب، بنانے کےلئے تن من دھن کی بازی لگادی ۔ گرفتار ہو کر جیل گئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ بھر بھی جنبش نہ ہوئی ۔ ان کے مریدوں عقید ت مندوں اور ساتھیوں نےا ن کی عدم موجودگی میں تحریک کو جاری و ساری رکھا۔ آپ کو گرفتار کر کے سیالکوٹ جیل میں بھیج دیا گیا تھا ۔ آپ نے جیل میں نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرح ڈالی ۔ نیز فارغ اوقات میں باداموں پر آیت کریمہ کا ورد بھی ہوتا ۔ آپ کے مرید اور عقیدت مند ملاقات کے لیے آتے تو خشک میوے، تازہ پھل اور مٹھائی ساتھ لاتے جو آپ سب رضا کاروں میں تقسیم کرا دیا کرتے تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: پیر سید محی الدین ۔ لقب: لال بادشاہ، راہنما تحریک پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر سید محی الدین لال بادشاہ بن پیر غلام عباس شاہ بن پیر غلام جعفر شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1326ھ مطابق 1908ء کو " مکھڈ شریف " ضلع اٹک میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم خانقاہ کے مدرسے میں ہوئی ۔ اسی مدرسے میں علومِ دینیہ کی تکمیل فرمائی ۔ حضرت لال بادشاہ انتہائی ذہین، معاملہ فہم، زیرک اور صاحبِ علم و فضل انسان تھے ۔ علم دوستی میں مشہور تھے ۔ خانقاہ کے مدرسہ غوثیہ کو ترقی ووسعت آپ کی کوششوں کی بدولت ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی سید غلام عباس شاہ صاحب علیہ الرحمہ کےدست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد ان کے مسن نشین ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
پیر طریقت، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، شیخ المشائخ، راہنماء تحریک پاکستان، حضرت پیر سید محی الدین لال بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
پیر صاحب علیہ الرحمہ نہایت شریف النفس، عبادت گزار اور صاحب ِکشف و کرامت بزرگ تھے ۔ حق گوئی و سچائی آپ کا طرہ امتیاز تھا ۔ باطل سے ٹکرانا، اور اسے نیست و نابود کرنا یہ آپ کا محبوب عمل تھا ۔ بڑے سے بڑے جاگیر دار، وڈیرے، اور بدمعاش قسم کے لوگ، پیر صاحب کو مرعوب نہ کر سکے، ساری زندگی انہیں للکارتے رہے، اور ظلم کے خلاف ایک مظبوط آواز بن کر مظلوموں کا سہارا بنے رہے ۔
انہیں سیاست سے بھی دلچسپی تھی ۔ 1936ء سے 1947ء تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ۔ 1955ء تا 1958ء ڈسٹرکٹ بورڈ اٹک کے ممبر بھی رہے ۔ بڑے اچھے مقرر اور زیرک سیاستدان تھے ۔ فروری 1946ء کے الیکشن میں پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر اٹک سے صوبائی سیٹ پر مسلم لیگ کے امید وار ایم محمد یوسف کا مقابلہ کیا اور 8342 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جب کہ لیگی امید وار نے 4203 ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح پیر صاحب یونینسٹ پارٹی ک پلیٹ فارم سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔
پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن تو جیت لیا مگر انہیں احساس ہونے گلا کہ مسلم لیگ کی مخالفت کر کے انہوں نے کوئی مستحسن قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ یہ خلش انہیں اندر رہی اندر کھائے جارہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے 17، مارچ 1946ء کو قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک اخباری بیان روز نامہ " انقلاب " لاہور ربابت 20، مارچ 1946ء کے ذریعے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا: " میں نہایت مسرت و امتہاج کے ساتھ آپ کی وساطت سے اپنی ناچیز خدمات ملت اسلامیہ کے حضور پیش کرتا ہوں ۔ میں ان تمام ذاتی یا سیاسی اختلافات کو جنہوں نے ماضی میں مجھے ایسا کرنے سے باز رکھا بر طرف کرتا ہوں ۔ مفادِ ملت کیلے میری حقیقی پیش کش کو قادرِ مطلق قبول فرمائے ۔اپنی انفرادی حیثیت سے قوم کے لئے میں جو کچھ کر سکتا تھا اس میں کوشاں رہا ہوں ۔ ایسا کرنے میں غرض مندانہ مفادوں سے مجھے ٹکرانا بھی پڑا اور اس سے مجھے نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔ موجودہ ساعت جو ملت کے لئے بڑی آزمائش کی ساعت ہے ۔ پورے و ثوق کے ساتھ میری رائے یہ ہے کہ اس وقت ہر فرد ملت کا یہ مقدس فرض ہے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائے یہ فرض ہر دوسرے فرض پر مقدم ہے ۔ اس لیے میں اپنے ذاتی اختلافات کو قطعاً بھلا کر اور مٹا کر ملت کےایک ادنی خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر بھی آپ کی اور مسلم لیگ کی تائید و حمایت کا اقرار صالح کرتا ہوں" ۔ آپ کا یہی بیان اختصار کے ساتھ روز نامہ " نوائے وقت " لاہور بابت 19/ مارچ 1946ء میں یوں چھپا: " میں ایک خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی خدمات مسلمانا ن ملت کو پیش کرتا ہوں"۔
پیر صاحب کے اس اقدام کو بہت سراہا گیا اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ اب پیر صاحب نے اپنی تمام تر مساعی مسلم لیگ کے لیے وقف کر دیں ۔ مسلم لیگ ان کے دل کی دھڑکن بن گئی ۔ یکم اگست 1946 ء کو پیر صاحب کی زیر صدارت مکھڈ شریف میں مسلم لیگ کا جلسہ منعقد ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ تمام مجاہد مسلم لیگ کے اقدام کی حمایت کریں گے ۔ جنوری 1947ء میں جب خضر حیات ٹوانہ وزیر اعظم پنجاب کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلی تو پیر صاحب نے اس تحریک کو کامیاب، بنانے کےلئے تن من دھن کی بازی لگادی ۔ گرفتار ہو کر جیل گئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ بھر بھی جنبش نہ ہوئی ۔ ان کے مریدوں عقید ت مندوں اور ساتھیوں نےا ن کی عدم موجودگی میں تحریک کو جاری و ساری رکھا۔ آپ کو گرفتار کر کے سیالکوٹ جیل میں بھیج دیا گیا تھا ۔ آپ نے جیل میں نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرح ڈالی ۔ نیز فارغ اوقات میں باداموں پر آیت کریمہ کا ورد بھی ہوتا ۔ آپ کے مرید اور عقیدت مند ملاقات کے لیے آتے تو خشک میوے، تازہ پھل اور مٹھائی ساتھ لاتے جو آپ سب رضا کاروں میں تقسیم کرا دیا کرتے تھے ۔
👍1
پاکستان بننے کے بعد پیر صاحب نے سیاست کی بجائے اپنی تمام تر توجہ خانقاہ ہی نظام کی طرف مبذول کرلی ۔ خلق خدا کی روحانی تربیت فرمانے لگے لیکن پھر بھی مسلم لیگ سے اپنا ناطہ نہ توڑا ۔ ساتھیوں کے پر زور اصرار پر 1955ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ اٹک کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔
پیر صاحب اور دیگر علماء ومشائخ اہل سنت نے صرف اور صرف اسلام کے لئے ساری جد و جہد فرمائی تھی، کہ اس خطے میں مسلمان آزادی کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی زندگی بسر فرمائیں، ورنہ ان کاکوئی الگ خطہ حاصل کرنا مقصود نہیں تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے بارہا باور کرایا تھا کہ ہمارامقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں، اور جب اسلامیہ کالج پشاور کے جلسے میں سوال کیا گیا کہ اس ملک کا قانون کیا ہوگا؟ تو قائد اعظم نے بر جستہ جواب دیا کہ ہمارا قانون قرآن وسنت ہوگا ۔ لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں، لاکھوں عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، عورتیں بیوہ، بچے یتیم ، اور خاندان بکھر گئے ۔ اپنی املاک سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کی تو کیاان کا یہ مقصد تھا کہ یہاں ہمارے او پر بے دین، بے ضمیر، بے غیرت، کرپٹ، راشی سیاستدان، وڈیرے، جاگیر دار، اور انگریز کے بے دام غلام حکمرانی کریں؟، ان لوگوں کو شرم آنی چاہئے جو لوگ پاکستان کو ایک " سیکولر " ریاست بنانے پرتلے ہوئے ہیں،اور آج نوجوان نسل کو گمراہ کررہےہیں۔لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں، ان کی پرخلوص جدوجہد،اور صعوبتیں برداشت کرناصرف اور صرف نظام مصطفیٰ ﷺ کے لئے تھا ۔ اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوگی کہ اس وقت ہر پیر و جوان کی زباں پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااللہ" ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔ 14/اگست 1990ء کو ایک پر وقار تقریب میں " مجاہدین و کارکنانِ تحریک پاکستان " کی خدمات کا اعتراف میں " گولڈ میڈل " تقسیم کےگئے ۔ چنانچہ حضرت سید غلام محی الدین لال بادشاہ علیہ الرحمہ کو بھی تحریک پاکستان میں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان لاہور میں " گولڈ میڈل " کا اعزاز دیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 / شعبان المعظم 1383ھ، مطابق 26 / دسمبر 1963ء بروز جمعرات کو ہوا ۔ مکھڈ شریف کی خانقاہ میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تحریک پاکستان اور مشائخِ عظام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-mohiuddin-lal-badshah
پیر صاحب اور دیگر علماء ومشائخ اہل سنت نے صرف اور صرف اسلام کے لئے ساری جد و جہد فرمائی تھی، کہ اس خطے میں مسلمان آزادی کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی زندگی بسر فرمائیں، ورنہ ان کاکوئی الگ خطہ حاصل کرنا مقصود نہیں تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے بارہا باور کرایا تھا کہ ہمارامقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں، اور جب اسلامیہ کالج پشاور کے جلسے میں سوال کیا گیا کہ اس ملک کا قانون کیا ہوگا؟ تو قائد اعظم نے بر جستہ جواب دیا کہ ہمارا قانون قرآن وسنت ہوگا ۔ لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں، لاکھوں عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، عورتیں بیوہ، بچے یتیم ، اور خاندان بکھر گئے ۔ اپنی املاک سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کی تو کیاان کا یہ مقصد تھا کہ یہاں ہمارے او پر بے دین، بے ضمیر، بے غیرت، کرپٹ، راشی سیاستدان، وڈیرے، جاگیر دار، اور انگریز کے بے دام غلام حکمرانی کریں؟، ان لوگوں کو شرم آنی چاہئے جو لوگ پاکستان کو ایک " سیکولر " ریاست بنانے پرتلے ہوئے ہیں،اور آج نوجوان نسل کو گمراہ کررہےہیں۔لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں، ان کی پرخلوص جدوجہد،اور صعوبتیں برداشت کرناصرف اور صرف نظام مصطفیٰ ﷺ کے لئے تھا ۔ اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوگی کہ اس وقت ہر پیر و جوان کی زباں پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااللہ" ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔ 14/اگست 1990ء کو ایک پر وقار تقریب میں " مجاہدین و کارکنانِ تحریک پاکستان " کی خدمات کا اعتراف میں " گولڈ میڈل " تقسیم کےگئے ۔ چنانچہ حضرت سید غلام محی الدین لال بادشاہ علیہ الرحمہ کو بھی تحریک پاکستان میں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان لاہور میں " گولڈ میڈل " کا اعزاز دیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9 / شعبان المعظم 1383ھ، مطابق 26 / دسمبر 1963ء بروز جمعرات کو ہوا ۔ مکھڈ شریف کی خانقاہ میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تحریک پاکستان اور مشائخِ عظام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-mohiuddin-lal-badshah
scholars.pk
Hazrat Peer Mohiuddin Lal Badshah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-08-1444 ᴴ | 02-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1