🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1444 ᴴ | 01-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
پیر محی الدین لال بادشاہ مکھڈوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: پیر سید محی الدین ۔ لقب: لال بادشاہ، راہنما تحریک پاکستان ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پیر سید محی الدین لال بادشاہ بن پیر غلام عباس شاہ بن پیر غلام جعفر شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1326ھ مطابق 1908ء کو " مکھڈ شریف " ضلع اٹک میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم خانقاہ کے مدرسے میں ہوئی ۔ اسی مدرسے میں علومِ دینیہ کی تکمیل فرمائی ۔ حضرت لال بادشاہ انتہائی ذہین، معاملہ فہم، زیرک اور صاحبِ علم و فضل انسان تھے ۔ علم دوستی میں مشہور تھے ۔ خانقاہ کے مدرسہ غوثیہ کو ترقی ووسعت آپ کی کوششوں کی بدولت ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والد گرامی سید غلام عباس شاہ صاحب علیہ الرحمہ کےدست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد ان کے مسن نشین ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
پیر طریقت، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، شیخ المشائخ، راہنماء تحریک پاکستان، حضرت پیر سید محی الدین لال بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔

پیر صاحب علیہ الرحمہ نہایت شریف النفس، عبادت گزار اور صاحب ِکشف و کرامت بزرگ تھے ۔ حق گوئی و سچائی آپ کا طرہ امتیاز تھا ۔ باطل سے ٹکرانا، اور اسے نیست و نابود کرنا یہ آپ کا محبوب عمل تھا ۔ بڑے سے بڑے جاگیر دار، وڈیرے، اور بدمعاش قسم کے لوگ، پیر صاحب کو مرعوب نہ کر سکے، ساری زندگی انہیں للکارتے رہے، اور ظلم کے خلاف ایک مظبوط آواز بن کر مظلوموں کا سہارا بنے رہے ۔

انہیں سیاست سے بھی دلچسپی تھی ۔ 1936ء سے 1947ء تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ۔ 1955ء تا 1958ء ڈسٹرکٹ بورڈ اٹک کے ممبر بھی رہے ۔ بڑے اچھے مقرر اور زیرک سیاستدان تھے ۔ فروری 1946ء کے الیکشن میں پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر اٹک سے صوبائی سیٹ پر مسلم لیگ کے امید وار ایم محمد یوسف کا مقابلہ کیا اور 8342 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جب کہ لیگی امید وار نے 4203 ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح پیر صاحب یونینسٹ پارٹی ک پلیٹ فارم سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔

پیر صاحب نے یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن تو جیت لیا مگر انہیں احساس ہونے گلا کہ مسلم لیگ کی مخالفت کر کے انہوں نے کوئی مستحسن قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ یہ خلش انہیں اندر رہی اندر کھائے جارہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے 17، مارچ 1946ء کو قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک اخباری بیان روز نامہ " انقلاب " لاہور ربابت 20، مارچ 1946ء کے ذریعے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا: " میں نہایت مسرت و امتہاج کے ساتھ آپ کی وساطت سے اپنی ناچیز خدمات ملت اسلامیہ کے حضور پیش کرتا ہوں ۔ میں ان تمام ذاتی یا سیاسی اختلافات کو جنہوں نے ماضی میں مجھے ایسا کرنے سے باز رکھا بر طرف کرتا ہوں ۔ مفادِ ملت کیلے میری حقیقی پیش کش کو قادرِ مطلق قبول فرمائے ۔اپنی انفرادی حیثیت سے قوم کے لئے میں جو کچھ کر سکتا تھا اس میں کوشاں رہا ہوں ۔ ایسا کرنے میں غرض مندانہ مفادوں سے مجھے ٹکرانا بھی پڑا اور اس سے مجھے نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔ موجودہ ساعت جو ملت کے لئے بڑی آزمائش کی ساعت ہے ۔ پورے و ثوق کے ساتھ میری رائے یہ ہے کہ اس وقت ہر فرد ملت کا یہ مقدس فرض ہے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائے یہ فرض ہر دوسرے فرض پر مقدم ہے ۔ اس لیے میں اپنے ذاتی اختلافات کو قطعاً بھلا کر اور مٹا کر ملت کےایک ادنی خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر بھی آپ کی اور مسلم لیگ کی تائید و حمایت کا اقرار صالح کرتا ہوں" ۔ آپ کا یہی بیان اختصار کے ساتھ روز نامہ " نوائے وقت " لاہور بابت 19/ مارچ 1946ء میں یوں چھپا: " میں ایک خادم کی حیثیت سے اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی خدمات مسلمانا ن ملت کو پیش کرتا ہوں"۔

پیر صاحب کے اس اقدام کو بہت سراہا گیا اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ اب پیر صاحب نے اپنی تمام تر مساعی مسلم لیگ کے لیے وقف کر دیں ۔ مسلم لیگ ان کے دل کی دھڑکن بن گئی ۔ یکم اگست 1946 ء کو پیر صاحب کی زیر صدارت مکھڈ شریف میں مسلم لیگ کا جلسہ منعقد ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ تمام مجاہد مسلم لیگ کے اقدام کی حمایت کریں گے ۔ جنوری 1947ء میں جب خضر حیات ٹوانہ وزیر اعظم پنجاب کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلی تو پیر صاحب نے اس تحریک کو کامیاب، بنانے کےلئے تن من دھن کی بازی لگادی ۔ گرفتار ہو کر جیل گئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ بھر بھی جنبش نہ ہوئی ۔ ان کے مریدوں عقید ت مندوں اور ساتھیوں نےا ن کی عدم موجودگی میں تحریک کو جاری و ساری رکھا۔ آپ کو گرفتار کر کے سیالکوٹ جیل میں بھیج دیا گیا تھا ۔ آپ نے جیل میں نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرح ڈالی ۔ نیز فارغ اوقات میں باداموں پر آیت کریمہ کا ورد بھی ہوتا ۔ آپ کے مرید اور عقیدت مند ملاقات کے لیے آتے تو خشک میوے، تازہ پھل اور مٹھائی ساتھ لاتے جو آپ سب رضا کاروں میں تقسیم کرا دیا کرتے تھے ۔
👍1