🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ابن علیم المصبور الرضوى العینی ✩)
💫 رضویات پر ایک سوال 💫
(مسئلہ) مولانا عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری اپنی کتاب ”اعلی حضرت کی تاریخ گوئی“ ص ٢٩ پر لکھتے ہیں: مولانا مفتی شفیع احمد خاں قادری برکاتی رضوی بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ١٣٢٨ ہجری میں وصال ہوا، آپ رضوی دارالافتاء کے امین اور بریلی شریف کے منظر اسلام میں مدرس تھے۔ اعلی حضرت نے یہ تاریخ وصال کہی: تاریخ لکھی رضا نے فورا - یا رب تیرا شفیع احمد؛ سطور بالا میں کمپوزنگ کی غلطی سے ١٣٢٨ درج ہے کیونکہ مفتی محمد شفیع احمد بیسل پوری نے ١٣٣٨ ہجری کو وصال فرمایا مزار مبارک بیسل پور میں ہے۔ (مجلس العلماء، ص: ٢٧؛ تذکرہ محدث سورتی، ص: ٢٢٨) اب پوچھنا یہ کہ مصرع ثانی کے اعداد تو ١٣٣٨ بنتے ہیں، اس کا حل ارشاد فرمائیں۔
💫💫💫💫
(جواب) شفیع احمد خاں بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تاریخ وصال یہی صحیح ہے جو آپ نے نقل کی۔ اور یہ شعر حدائق بخشش کی جلد سوم کا ہے، اس میں اسی طرح لکھا ہے، نقل کرنے والوں نے اس سے بلا تحقیق نقل کر دیا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اس کی طباعت صحیح طور سے نہیں ہوئی، اس میں تحاریف ہیں۔ محبوب علی خان لکھنوی اس کا اقرار کرتے ہیں تو ہمارے لیے اس میں موجود اشعار کو بلا تحقیق امام اہل سنت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہے یہ اس لیے کہ وہ مجدد ہیں اور مجدد کی طرف چھوٹی سے چھوٹی نسبت بھی بہت معانی رکھتی ہے۔ بندہ کے فہم کے مطابق اصل شعر اس طرح ہوگا: تاریخ لکھی رضا نے فورا - یار اب تیرا شفیع احمد (یعنی اے دوست! اب تیری شفاعت کرنے والے احمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔) اس طرح مصرع ثانی کے اعداد ١٣٣٨ ہوں گے۔ والله تعالی اعلم
💫💫💫💫
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) مولانا عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری اپنی کتاب ”اعلی حضرت کی تاریخ گوئی“ ص ٢٩ پر لکھتے ہیں: مولانا مفتی شفیع احمد خاں قادری برکاتی رضوی بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ١٣٢٨ ہجری میں وصال ہوا، آپ رضوی دارالافتاء کے امین اور بریلی شریف کے منظر اسلام میں مدرس تھے۔ اعلی حضرت نے یہ تاریخ وصال کہی: تاریخ لکھی رضا نے فورا - یا رب تیرا شفیع احمد؛ سطور بالا میں کمپوزنگ کی غلطی سے ١٣٢٨ درج ہے کیونکہ مفتی محمد شفیع احمد بیسل پوری نے ١٣٣٨ ہجری کو وصال فرمایا مزار مبارک بیسل پور میں ہے۔ (مجلس العلماء، ص: ٢٧؛ تذکرہ محدث سورتی، ص: ٢٢٨) اب پوچھنا یہ کہ مصرع ثانی کے اعداد تو ١٣٣٨ بنتے ہیں، اس کا حل ارشاد فرمائیں۔
💫💫💫💫
(جواب) شفیع احمد خاں بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تاریخ وصال یہی صحیح ہے جو آپ نے نقل کی۔ اور یہ شعر حدائق بخشش کی جلد سوم کا ہے، اس میں اسی طرح لکھا ہے، نقل کرنے والوں نے اس سے بلا تحقیق نقل کر دیا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اس کی طباعت صحیح طور سے نہیں ہوئی، اس میں تحاریف ہیں۔ محبوب علی خان لکھنوی اس کا اقرار کرتے ہیں تو ہمارے لیے اس میں موجود اشعار کو بلا تحقیق امام اہل سنت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہے یہ اس لیے کہ وہ مجدد ہیں اور مجدد کی طرف چھوٹی سے چھوٹی نسبت بھی بہت معانی رکھتی ہے۔ بندہ کے فہم کے مطابق اصل شعر اس طرح ہوگا: تاریخ لکھی رضا نے فورا - یار اب تیرا شفیع احمد (یعنی اے دوست! اب تیری شفاعت کرنے والے احمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔) اس طرح مصرع ثانی کے اعداد ١٣٣٨ ہوں گے۔ والله تعالی اعلم
💫💫💫💫
کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
❤1👍1
حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ مٹیاروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ مٹیاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی اہلسنت، مترجم قرآن، متعلوی، مٹیاروی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی عزیز اللہ بن قاضی محمد ذاکر بن قاضی حافظ محمد صوف "دیتھا" قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد ٹھٹھہ کے باسی تھے اور بعد میں مٹیاری آکر مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کا خاندان دین کے علماء پر مشتمل تھا اس لئے دینی مدارس میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے، اس لئے آپ کے خاندان کو "آخوند" بھی کہا جاتا تھا اور علم میں ناموری، فقہ میں مہارت کے سبب سندھ کے حکمرانوں کی طرف سے آپ کے خاندان کو قضاء کا عُہدہ بھی دیا ہوا تھا جس کے سبب "قاضی" کہلائے ۔ آج بھی مٹیاری میں آپ کا محلہ "قاضی آخونداں" کے نام سے مشہور ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:433)
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1193ھ، مطابق 1779ء کو محلہ قاضی آخونداں، مٹیاری سندھ پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم قرآن مجید، فارسی اور مروجہ سندھی اپنے والد قاضی محمد ذاکر سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قاضی صاحب اس دور کے مشہور عالم دین مولانا مخدوم محمد عثمان مٹیاروی (متوفی 1219ھ) کے پاس تعلیم مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ مولانا محمد عثمان کے صاحبزادے مولانا عبدالکریم مٹیاروی 1216ھ) قاضی صاحب کے ہم عصر اور ہم درس تھے ۔ آپ کاشمار سندھ کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، معقولات و منقولات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد نقشبندیہ سلسلہ کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ محمد حسن صدیقی مدنی قدس سرہٗ (۱۲۹۸ھ) درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) کے دست پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر مرشد کی خدمت میں زندگی بسر کی ۔
سیرت و خصائص:
عالم ربانی، امام العلماء، رئیس الصلحاء، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، راسخ فی العلوم القرآنیہ، مترجم قرآن فی اللغۃ السندیہ، عاشق خیر الوریٰ، محب غوث الاعظم حضرت علامہ مولانا قاضی عزیز اللہ مٹیاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین، اور شیخ القرآن تھے ۔ قاضی صاحب علیہ الرحمہ کےعلمی کارناموں سے اسلاف کی خوشبو آتی تھی ۔ ساری زندگی تدریس و تالیف اور وعظ ونصیحت میں مصروف رہے ۔ اپنے وقت کی قدر کرتے ہوئے ایک ایک لمحہ اشاعت اسلام میں صرف کیا ۔
درس و تدریس:
درگاہ لواری شریف میں قیام کے دوران درس و تدریس ، فتاویٰ نویسی اور تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ اس کے علاوہ مرشد کے حضور میں روزانہ بعد نماز ظہر تا نماز عصر تک روحانی محفل ہوا کرتی تھی جس میں قاضی صاحب شیخ اکبر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی صوفیانہ کتب کا درس دیا کرتے تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی علمی ادبی اور روحانی خدمات کا سلسلہ طویل ہے ۔ مختصر جھلک درج ذیل ہے ۔ ۱۔ قاضی صاحب کا زندگی کا عظیم کار نامہ سندھی زبان میں قرآن مجید کا نثری ترجمہ ہے۔ یہ سندھی نثر کا ابتدائی دور تھا اور قرآن مجید کاپہلا سندھی ترجمہ تھا جس سے متاثر ہو کر بعد کے علماء نے سندھی نثر میں قرآن مجید کے ترجمے کئے اور دیگر لٹریچر تیار کیا۔۲۔تفسیر عزیزی۔ قاضی صاحب نے قرآن مجید کو عربی زبان میں"تفسیر عزیزی "لکھی جو کہ غالباً مکمل نہ ہو سکی اور ہو سکتا ہے کہ شہر علم و ادب سندھ جامشورو میں محفوظ ہو۔ ۳۔حضرت امام مالک رضی اللہ عنہٗ کی حدیث شریف کی مشہور کتاب "موطا امام مالک"پر حواشی لکھی۔ ۴۔غوث اعظم پیران پیر دستگیر رضی اللہ عنہٗ کے مشہور زمانہ "قصیدہ غوثیہ" کی عربی زبان میں شرح لکھی جو کہ آپ کا لازوال کارنامہ اور تصوف کا عظیم سرمایہ ہے۔ ۵ ۔ تفسیر جلالین عربی 18 پارہ تا والناس ترجمہ کیا۔ ۶۔ آپ کو اپنے مرشد کریم سے بے حد محبت تھی اور اسی محبت کا نتیجہ کہ آپ نے پوری زندگی مرشد کے قدموں میں گزار دی آپ نے "مشائخ نقشبندیہ کا منظوم شجرہ" بھی رقم فرمایا تھا ۔ (ایضاً:434)
عظیم کارنامہ:
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اور تاریخی کام قرآن کریم کا"سندھی ترجمہ" ہے۔سندھی نثر کی تاریخ میں جو پہلا تحریری نثر ملا وہ ٹالپرکے دور میں قرآن مجید کا سندھی ترجمہ ہے جو کہ قاضی عزیاز اللہ مٹیاروی علیہ الرحمۃ کا عظیم کارنامہ ہے۔ سندھ کی سرزمین کا یہ پہلا خوش نصیب عالم دین ہے جس نے قدیم عربی رسم الخط میں قرآن مجید کا سندھی نثر میں ترجمہ مکمل کرنے کا شرف حاصل کیا۔اوروہ بھی اس زمانے میں جب کہ سندھی زبان کی کوئی گرائمر مدون نہیں ہوئی تھی۔حتی ٰ کہ سندھی زبان لکھی نہیں جاتی تھی ایسے وقت میں تحریری طور پر سب سے پہلا سندھی زبان میں ترجمہ کرنا یہ آپ ہی کاتاریخی کارنامہ ہے۔اس ترجمہ کی یہ بھی خصوصیت کہ مترجم کی طرف سےاس کےحاشیہ پر مختصر سی تفسیر بھی ہے،جس سےقرآن کی روح تک پہنچنے میں اور آسانی ہو جاتی ہے۔(سندھ کے صوفیائے نقشبند ص:295)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ مٹیاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی اہلسنت، مترجم قرآن، متعلوی، مٹیاروی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی عزیز اللہ بن قاضی محمد ذاکر بن قاضی حافظ محمد صوف "دیتھا" قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد ٹھٹھہ کے باسی تھے اور بعد میں مٹیاری آکر مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کا خاندان دین کے علماء پر مشتمل تھا اس لئے دینی مدارس میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے، اس لئے آپ کے خاندان کو "آخوند" بھی کہا جاتا تھا اور علم میں ناموری، فقہ میں مہارت کے سبب سندھ کے حکمرانوں کی طرف سے آپ کے خاندان کو قضاء کا عُہدہ بھی دیا ہوا تھا جس کے سبب "قاضی" کہلائے ۔ آج بھی مٹیاری میں آپ کا محلہ "قاضی آخونداں" کے نام سے مشہور ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ ص:433)
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1193ھ، مطابق 1779ء کو محلہ قاضی آخونداں، مٹیاری سندھ پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم قرآن مجید، فارسی اور مروجہ سندھی اپنے والد قاضی محمد ذاکر سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قاضی صاحب اس دور کے مشہور عالم دین مولانا مخدوم محمد عثمان مٹیاروی (متوفی 1219ھ) کے پاس تعلیم مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ مولانا محمد عثمان کے صاحبزادے مولانا عبدالکریم مٹیاروی 1216ھ) قاضی صاحب کے ہم عصر اور ہم درس تھے ۔ آپ کاشمار سندھ کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، معقولات و منقولات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد نقشبندیہ سلسلہ کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ محمد حسن صدیقی مدنی قدس سرہٗ (۱۲۹۸ھ) درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) کے دست پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر مرشد کی خدمت میں زندگی بسر کی ۔
سیرت و خصائص:
عالم ربانی، امام العلماء، رئیس الصلحاء، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، راسخ فی العلوم القرآنیہ، مترجم قرآن فی اللغۃ السندیہ، عاشق خیر الوریٰ، محب غوث الاعظم حضرت علامہ مولانا قاضی عزیز اللہ مٹیاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم دین، اور شیخ القرآن تھے ۔ قاضی صاحب علیہ الرحمہ کےعلمی کارناموں سے اسلاف کی خوشبو آتی تھی ۔ ساری زندگی تدریس و تالیف اور وعظ ونصیحت میں مصروف رہے ۔ اپنے وقت کی قدر کرتے ہوئے ایک ایک لمحہ اشاعت اسلام میں صرف کیا ۔
درس و تدریس:
درگاہ لواری شریف میں قیام کے دوران درس و تدریس ، فتاویٰ نویسی اور تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ اس کے علاوہ مرشد کے حضور میں روزانہ بعد نماز ظہر تا نماز عصر تک روحانی محفل ہوا کرتی تھی جس میں قاضی صاحب شیخ اکبر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی صوفیانہ کتب کا درس دیا کرتے تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی علمی ادبی اور روحانی خدمات کا سلسلہ طویل ہے ۔ مختصر جھلک درج ذیل ہے ۔ ۱۔ قاضی صاحب کا زندگی کا عظیم کار نامہ سندھی زبان میں قرآن مجید کا نثری ترجمہ ہے۔ یہ سندھی نثر کا ابتدائی دور تھا اور قرآن مجید کاپہلا سندھی ترجمہ تھا جس سے متاثر ہو کر بعد کے علماء نے سندھی نثر میں قرآن مجید کے ترجمے کئے اور دیگر لٹریچر تیار کیا۔۲۔تفسیر عزیزی۔ قاضی صاحب نے قرآن مجید کو عربی زبان میں"تفسیر عزیزی "لکھی جو کہ غالباً مکمل نہ ہو سکی اور ہو سکتا ہے کہ شہر علم و ادب سندھ جامشورو میں محفوظ ہو۔ ۳۔حضرت امام مالک رضی اللہ عنہٗ کی حدیث شریف کی مشہور کتاب "موطا امام مالک"پر حواشی لکھی۔ ۴۔غوث اعظم پیران پیر دستگیر رضی اللہ عنہٗ کے مشہور زمانہ "قصیدہ غوثیہ" کی عربی زبان میں شرح لکھی جو کہ آپ کا لازوال کارنامہ اور تصوف کا عظیم سرمایہ ہے۔ ۵ ۔ تفسیر جلالین عربی 18 پارہ تا والناس ترجمہ کیا۔ ۶۔ آپ کو اپنے مرشد کریم سے بے حد محبت تھی اور اسی محبت کا نتیجہ کہ آپ نے پوری زندگی مرشد کے قدموں میں گزار دی آپ نے "مشائخ نقشبندیہ کا منظوم شجرہ" بھی رقم فرمایا تھا ۔ (ایضاً:434)
عظیم کارنامہ:
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اور تاریخی کام قرآن کریم کا"سندھی ترجمہ" ہے۔سندھی نثر کی تاریخ میں جو پہلا تحریری نثر ملا وہ ٹالپرکے دور میں قرآن مجید کا سندھی ترجمہ ہے جو کہ قاضی عزیاز اللہ مٹیاروی علیہ الرحمۃ کا عظیم کارنامہ ہے۔ سندھ کی سرزمین کا یہ پہلا خوش نصیب عالم دین ہے جس نے قدیم عربی رسم الخط میں قرآن مجید کا سندھی نثر میں ترجمہ مکمل کرنے کا شرف حاصل کیا۔اوروہ بھی اس زمانے میں جب کہ سندھی زبان کی کوئی گرائمر مدون نہیں ہوئی تھی۔حتی ٰ کہ سندھی زبان لکھی نہیں جاتی تھی ایسے وقت میں تحریری طور پر سب سے پہلا سندھی زبان میں ترجمہ کرنا یہ آپ ہی کاتاریخی کارنامہ ہے۔اس ترجمہ کی یہ بھی خصوصیت کہ مترجم کی طرف سےاس کےحاشیہ پر مختصر سی تفسیر بھی ہے،جس سےقرآن کی روح تک پہنچنے میں اور آسانی ہو جاتی ہے۔(سندھ کے صوفیائے نقشبند ص:295)
❤1👍1
صد افسوس:
بلند پایہ عالم دین و صوفی قاضی عزیز اللہ کے فتاویٰ کا خزانہ محفوظ نہ ہوسکا اور اپنوں کی لاپرواہی سے اکثر قیمتی تحریری سرمایہ ضائع ہو گیا ۔ فی زمانہ ہمارے اکابرین کے جو مخطوطات بد مذہبوں کے ہاتھ لگ رہے ہیں، وہ ان کو اپنے مولویوں کے نام سے شائع کر رہے ہیں ۔ ہمدردان اہل سنت کی خدمت میں التجا ہے کہ اس طرف توجہ دیں، اور بزرگوں سے حقیقی عقیدت یہ ہوگی کہ ان کے علمی کار ناموں کو دنیا میں روشناس کرایا جائے ۔ دورانِ تذکرہ میں ( فقیر تونسوی غفرلہ) نے "وکیپیڈیا" پر "سندھی تراجم" کی فہرست دیکھی تو اس میں حضرت قاضی عزیز اللہ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی شامل نہیں تھا۔بہت افسوس ہوا، کہ اتنے بڑے محسن اہل سنت کے عظیم کار ناموں کو کیسے فراموش کر دیا گیا ۔ وہ حضرات جو اس نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں انہیں "علمی دیانت" کا ثبوت دیتے ہوئے حق بات تحریر کرنی چاہئے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 / شعبان المعظم 1273ھ، مطابق 30 مارچ 1857ء، بروز پیر صبح چاشت کے وقت ہوا ۔ خانقاہ لواری شریف کے صلحاء کے زیر سایہ آرام فرماہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ آمین ۔
ماخذ و مروجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-azizullah-matiarvi
بلند پایہ عالم دین و صوفی قاضی عزیز اللہ کے فتاویٰ کا خزانہ محفوظ نہ ہوسکا اور اپنوں کی لاپرواہی سے اکثر قیمتی تحریری سرمایہ ضائع ہو گیا ۔ فی زمانہ ہمارے اکابرین کے جو مخطوطات بد مذہبوں کے ہاتھ لگ رہے ہیں، وہ ان کو اپنے مولویوں کے نام سے شائع کر رہے ہیں ۔ ہمدردان اہل سنت کی خدمت میں التجا ہے کہ اس طرف توجہ دیں، اور بزرگوں سے حقیقی عقیدت یہ ہوگی کہ ان کے علمی کار ناموں کو دنیا میں روشناس کرایا جائے ۔ دورانِ تذکرہ میں ( فقیر تونسوی غفرلہ) نے "وکیپیڈیا" پر "سندھی تراجم" کی فہرست دیکھی تو اس میں حضرت قاضی عزیز اللہ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی شامل نہیں تھا۔بہت افسوس ہوا، کہ اتنے بڑے محسن اہل سنت کے عظیم کار ناموں کو کیسے فراموش کر دیا گیا ۔ وہ حضرات جو اس نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں انہیں "علمی دیانت" کا ثبوت دیتے ہوئے حق بات تحریر کرنی چاہئے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 7 / شعبان المعظم 1273ھ، مطابق 30 مارچ 1857ء، بروز پیر صبح چاشت کے وقت ہوا ۔ خانقاہ لواری شریف کے صلحاء کے زیر سایہ آرام فرماہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ آمین ۔
ماخذ و مروجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-azizullah-matiarvi
scholars.pk
Hazrat Qazi Azizullah Matiarvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1