حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، جامع المنقول والمعقول ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ انوار الحق بن مولانا احمد عبدالحق بن مولانا محمد سعید بن ملک العلماء مولانا قطب الدین سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
مقام ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مولانا شاہ احمد عبدالحق کےگھر فرنگی محل لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا، جہاں ہر طرف قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں ۔ اس نورانی ماحول میں پروان چڑھے، بچپن سے ہی سعادت کے آثار چہرے سے عیاں تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی امام العلماء ماہر علومِ دینیہ حضرت مولانا شاہ احمد عبد الحق صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔ درسی کتب مولانا احمد حسین اور مولانا محمد حسن سے پڑھیں ۔ اور علوم ظاہرہ کی تکمیل بحر العلوم مولانا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ آپ کا شمار اس وقت کے علماء راسخین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سترہ سال کی عمر میں اپنے والد گرامی مولانا شاہ احمد عبد الحق کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، جامع المنقول والمعقول، امام ِ شریعت، شیخ طریقت، صاحب تقویٰ و فضیلت، حضرت علامہ مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ سے شرف تلمذ ونسبت پر فخر کیا جاتا تھا ۔ آپ سے سندِ علم عظمت کی دلیل، اور شرفِ بیعت تقویٰ کی دلیل تھا ۔ آپ کی بزرگی اہل ہند میں مسلم تھی ۔ آپ معقولات کے امام تھے، لیکن اس میں رغبت نہیں تھی ۔ آپ منقولات میں زیادہ رغبت رکھتے،اور اکثر اسی کادرس دیتے تھے ۔ آپ کے اکثر اوقات درس و تدریس ، وعظ و نصیحت، تزکیہ نفس، ذکر و اذکار میں صرف ہوتے تھے ۔ کثرت کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے ۔ بلکہ آپ کا ایک لمحہ بھی بغیر ذکر خدا وندی صرف نہیں ہوتا تھا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمن کے پر دادا مولانا حافظ کاظم علی خاں علیہ الرحمہ آپ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ رئیس العلماء زبدۃ المشائخ حضرت مولانا نور الحق آپ کے بلند اقبال، صاحبِ عرفان و مقام صاحبزادے تھے، جن کے شاگرد حضرت شاہ آل رسول مارہروی (پیر و مرشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان) اور سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی اور مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 / شعبان المعظم 1236ھ، مطابق8 / مئی 1821ء بروز منگل ہوا۔آپ کا مزار پُر انوار آپ کے باغ "باغ مولانا انوار" لکھنؤ (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-anwar-ul-haq-farangi-mahalli
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، جامع المنقول والمعقول ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ انوار الحق بن مولانا احمد عبدالحق بن مولانا محمد سعید بن ملک العلماء مولانا قطب الدین سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
مقام ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مولانا شاہ احمد عبدالحق کےگھر فرنگی محل لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا، جہاں ہر طرف قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں ۔ اس نورانی ماحول میں پروان چڑھے، بچپن سے ہی سعادت کے آثار چہرے سے عیاں تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی امام العلماء ماہر علومِ دینیہ حضرت مولانا شاہ احمد عبد الحق صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔ درسی کتب مولانا احمد حسین اور مولانا محمد حسن سے پڑھیں ۔ اور علوم ظاہرہ کی تکمیل بحر العلوم مولانا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ آپ کا شمار اس وقت کے علماء راسخین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سترہ سال کی عمر میں اپنے والد گرامی مولانا شاہ احمد عبد الحق کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، جامع المنقول والمعقول، امام ِ شریعت، شیخ طریقت، صاحب تقویٰ و فضیلت، حضرت علامہ مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ سے شرف تلمذ ونسبت پر فخر کیا جاتا تھا ۔ آپ سے سندِ علم عظمت کی دلیل، اور شرفِ بیعت تقویٰ کی دلیل تھا ۔ آپ کی بزرگی اہل ہند میں مسلم تھی ۔ آپ معقولات کے امام تھے، لیکن اس میں رغبت نہیں تھی ۔ آپ منقولات میں زیادہ رغبت رکھتے،اور اکثر اسی کادرس دیتے تھے ۔ آپ کے اکثر اوقات درس و تدریس ، وعظ و نصیحت، تزکیہ نفس، ذکر و اذکار میں صرف ہوتے تھے ۔ کثرت کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے ۔ بلکہ آپ کا ایک لمحہ بھی بغیر ذکر خدا وندی صرف نہیں ہوتا تھا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمن کے پر دادا مولانا حافظ کاظم علی خاں علیہ الرحمہ آپ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ رئیس العلماء زبدۃ المشائخ حضرت مولانا نور الحق آپ کے بلند اقبال، صاحبِ عرفان و مقام صاحبزادے تھے، جن کے شاگرد حضرت شاہ آل رسول مارہروی (پیر و مرشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان) اور سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی اور مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 / شعبان المعظم 1236ھ، مطابق8 / مئی 1821ء بروز منگل ہوا۔آپ کا مزار پُر انوار آپ کے باغ "باغ مولانا انوار" لکھنؤ (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-anwar-ul-haq-farangi-mahalli
scholars.pk
Hazrat Shah Anwar-ul-Haq Farangi Mahalli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1