Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
خطیب العلماء، حضرت علامہ مولانا نذیر احمد صدیقی خجندی میرٹھی مدنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا نذیر احمد خجندی ۔ لقب: خطیب العلماء۔آپ کےآباؤاجداد میں سے کچھ بزرگ ثمر قند (ترکستان) کے علاقہ "خجند" کے رہنے والے تھے ۔ اسی مناسبت کی وجہ سے مولانا نے اسی نسبت کو پسند فرمایا ۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:16) ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا نزیر احمد خجندی بن شاہ عبد الحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد دین بن قاضی صوفی حمید الدین صدیقی، علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا سلسلہ نسب سینتیسویں پشت میں امیر المؤمنین خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (ایضاًٍ:21)۔
آپ کے آباؤ اجداد میں سے کچھ لوگ مدینۂ منورہ سےتبلیغِ دین کے سلسلے میں ریاستِ فرغانہ کے شہر "خجند" پہنچے، اور وہاں سےقاضی صوفی حمید الدین صدیقی علیہ الرحمہ، 1525ء کو بابر بادشاہ کے ہمراہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ہندوستان تشریف لائے، اور قصبہ لاوڑ، ضلع میرٹھ میں سکونت اختیار کی، جہاں اس خاندان کی آٹھ پشتیں گزریں۔حضرت صوفی صاحب ظہیر الدین محمد بابر بادشاہ کی طرف سے اعلیٰ مناصب پر فائز تھے ۔ (ایضاًٍ:14)
خطیب العلماء مولانا نذیر احمد خجندی ، مبلغ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت، سفیر اسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کے برادر اکبر، اور قائد ملت اسلامیہ، قائد انقلاب، محسن اہل سنت، مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کے تایا ابا ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ، بوقتِ صبح صادق، 13 / ربیع الثانی 1305ھ، مطابق 28 / دسمبر 1887ء، کو میرٹھ میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم وتربیت ایک علمی و روحانی ماحول میں ہوئی، آپ کے والد گرامی اور چچا ایک جید عالم دین تھے۔انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی، حسبِ دستورِ زمانہ جب آپ کی عمر چارسال، چار ماہ اور دس دن ہوئی تو رسم بسم اللہ ادا کی گئی، اور با قاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ سات برس کی عمر میں کلام اللہ شریف مکمل فرمایا ۔ دس برس کی عمر میں اردو، فارسی حد تکمیل کو پہنچائی اور گیارہویں سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ میں درسِ نظامی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، اسی میں تکمیل درس نظامی ہوئی ۔ آپ کے اساتذہ میں والد گرامی مولانا عبد الحکیم جوش اور مولانا احمد صاحب علیہما الرحمہ کا نام آتا ہے ـ (ایضاًٍ:24)
آپ ایک جید عالم دین کے ساتھ ایک خوش الحان قاری، اور مایہ ناز شاعر بھی تھے ۔ آپ ہندوستان کےصف اول کے شعراء میں شمار ہوتے تھے، آپ کو عربی، فارسی اور اردو ادب پر مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور تینوں زبانوں میں مشق ِ سخن فرماتے تھے۔اس کے علاوہ ماہر طبیب بھی تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت قرائن و شواہد سے اپنے والد ِگرامی حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم جوش علیہ الرحمہ یا مخدوم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہما الرحمہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی ایک سے معلوم ہوتی ہے، اور خلافت کے متعلق فقیر (حافظ رمضان تونسوی) کو جناب ندیم احمد نؔدیم نورانی صاحب نے بتایا کہ "حیاتِ مخدوم الاولیا" میں ہے کہ مولانا نذیر احمد خجندی کو شبیہِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے خلافت حاصل تھی ۔ بعض علماء نے آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے خلفاء میں شمار کیا ہے ۔ (عہدِ رواں کی ایک عبقری شخصیت: 13 / تخلیق پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار: 147)
سیرت و خصائص:
عالم باعمل، جامع شریعت و طریقت، صاحبِ اوصافِ حمیدہ و کثیرہ، فقیہ العصر، خطیب العلماء، مرجع الاصفیاء، خانوادۂ صدیق اکبر کے رجلِ رشید، حکیمِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا نذیر احمد خجندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اس وقت کے جید علماء اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے ایک علمی و روحانی خاندان چلا آ رہا تھا، اور آپ اس خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل، اور رجلِ رشید تھے ۔ آپ نے اسلاف کی علمی روایات کی نہ صرف پاسداری کی بلکہ آبیاری بھی فرمائی، دین اسلام کے فروغ اور ملت اسلامیہ کی راہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہے ۔ آپ نے برما میں ایک دینی مدرسہ کھولا اور ایک سال تک درس دیا، اور اس مدرسہ سےکافی لوگوں نے آپ سے کسبِ علم کیا ۔ اسی طرح مختلف مقامات جہاں تعلیم کی ضرورت ہوتی تھی،حضرت وہاں اسکول، مدرسہ، اور مسجد کی تعمیر میں خوب حصہ لیتے تھے ۔ آپ نے بیالیس پرائمری اور دو ہائی اسکول قائم فرمائے ۔ جن سے کثیر تعداد میں لوگوں نے اکستاب علم کیا، اور ملت کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا نذیر احمد خجندی ۔ لقب: خطیب العلماء۔آپ کےآباؤاجداد میں سے کچھ بزرگ ثمر قند (ترکستان) کے علاقہ "خجند" کے رہنے والے تھے ۔ اسی مناسبت کی وجہ سے مولانا نے اسی نسبت کو پسند فرمایا ۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:16) ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا نزیر احمد خجندی بن شاہ عبد الحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد دین بن قاضی صوفی حمید الدین صدیقی، علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ کا سلسلہ نسب سینتیسویں پشت میں امیر المؤمنین خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (ایضاًٍ:21)۔
آپ کے آباؤ اجداد میں سے کچھ لوگ مدینۂ منورہ سےتبلیغِ دین کے سلسلے میں ریاستِ فرغانہ کے شہر "خجند" پہنچے، اور وہاں سےقاضی صوفی حمید الدین صدیقی علیہ الرحمہ، 1525ء کو بابر بادشاہ کے ہمراہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ہندوستان تشریف لائے، اور قصبہ لاوڑ، ضلع میرٹھ میں سکونت اختیار کی، جہاں اس خاندان کی آٹھ پشتیں گزریں۔حضرت صوفی صاحب ظہیر الدین محمد بابر بادشاہ کی طرف سے اعلیٰ مناصب پر فائز تھے ۔ (ایضاًٍ:14)
خطیب العلماء مولانا نذیر احمد خجندی ، مبلغ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت، سفیر اسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کے برادر اکبر، اور قائد ملت اسلامیہ، قائد انقلاب، محسن اہل سنت، مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کے تایا ابا ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ، بوقتِ صبح صادق، 13 / ربیع الثانی 1305ھ، مطابق 28 / دسمبر 1887ء، کو میرٹھ میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کی تعلیم وتربیت ایک علمی و روحانی ماحول میں ہوئی، آپ کے والد گرامی اور چچا ایک جید عالم دین تھے۔انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی، حسبِ دستورِ زمانہ جب آپ کی عمر چارسال، چار ماہ اور دس دن ہوئی تو رسم بسم اللہ ادا کی گئی، اور با قاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ سات برس کی عمر میں کلام اللہ شریف مکمل فرمایا ۔ دس برس کی عمر میں اردو، فارسی حد تکمیل کو پہنچائی اور گیارہویں سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ میں درسِ نظامی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، اسی میں تکمیل درس نظامی ہوئی ۔ آپ کے اساتذہ میں والد گرامی مولانا عبد الحکیم جوش اور مولانا احمد صاحب علیہما الرحمہ کا نام آتا ہے ـ (ایضاًٍ:24)
آپ ایک جید عالم دین کے ساتھ ایک خوش الحان قاری، اور مایہ ناز شاعر بھی تھے ۔ آپ ہندوستان کےصف اول کے شعراء میں شمار ہوتے تھے، آپ کو عربی، فارسی اور اردو ادب پر مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور تینوں زبانوں میں مشق ِ سخن فرماتے تھے۔اس کے علاوہ ماہر طبیب بھی تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت قرائن و شواہد سے اپنے والد ِگرامی حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم جوش علیہ الرحمہ یا مخدوم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہما الرحمہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی ایک سے معلوم ہوتی ہے، اور خلافت کے متعلق فقیر (حافظ رمضان تونسوی) کو جناب ندیم احمد نؔدیم نورانی صاحب نے بتایا کہ "حیاتِ مخدوم الاولیا" میں ہے کہ مولانا نذیر احمد خجندی کو شبیہِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے خلافت حاصل تھی ۔ بعض علماء نے آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے خلفاء میں شمار کیا ہے ۔ (عہدِ رواں کی ایک عبقری شخصیت: 13 / تخلیق پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار: 147)
سیرت و خصائص:
عالم باعمل، جامع شریعت و طریقت، صاحبِ اوصافِ حمیدہ و کثیرہ، فقیہ العصر، خطیب العلماء، مرجع الاصفیاء، خانوادۂ صدیق اکبر کے رجلِ رشید، حکیمِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا نذیر احمد خجندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اس وقت کے جید علماء اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے ایک علمی و روحانی خاندان چلا آ رہا تھا، اور آپ اس خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل، اور رجلِ رشید تھے ۔ آپ نے اسلاف کی علمی روایات کی نہ صرف پاسداری کی بلکہ آبیاری بھی فرمائی، دین اسلام کے فروغ اور ملت اسلامیہ کی راہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہے ۔ آپ نے برما میں ایک دینی مدرسہ کھولا اور ایک سال تک درس دیا، اور اس مدرسہ سےکافی لوگوں نے آپ سے کسبِ علم کیا ۔ اسی طرح مختلف مقامات جہاں تعلیم کی ضرورت ہوتی تھی،حضرت وہاں اسکول، مدرسہ، اور مسجد کی تعمیر میں خوب حصہ لیتے تھے ۔ آپ نے بیالیس پرائمری اور دو ہائی اسکول قائم فرمائے ۔ جن سے کثیر تعداد میں لوگوں نے اکستاب علم کیا، اور ملت کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا۔
❤1👍1
حضرت مولانا خجندی علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے وسعتِ علمی کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں بے شمار صلاحیتیں عطاء فرمائی تھیں ۔
آپ کا ہر کام حسنِ انتظام کا اعلیٰ شاہکار ہوتا تھا ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے گئے اپنی ایمانی فراست اور انتظامی صلاحیت کی بدولت اہل ایمان کی نگاہوں اور عقیدتوں کا مرکز بنے رہے ۔
ممبئی میں عیدین کا اجتماع ایک مثالی اجتماع ہوتا تھا، جس میں کثیر مجمع، اور لاؤڈ اسپیکر کا انتظام اور پھر ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کی ذہن سازی، اور ان کے مستقبل لئے لائحہ عمل اور مسلم قائدین و زعماء کی شرکت اور ان کا خطاب، جس میں علی برادران اور قائد اعظم محمد علی جناح کا خطاب بھی ہوتا تھا ۔ یہ سب حضرت کی اقتداء میں عیدین اور جمعہ ادا کرتے تھے،
آپ کے زہد و تقویٰ اور ملت اسلامیہ کی ہمدردی، اور اسلام سے محبت، اور آپ کے پر اثر خطابات سے بہت متائثر تھے ۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ کا مثالی جلوس، جس کے حسن انتظام کی تعریف غیر مسلم بھی کرتھے تھے ۔ اسی طرح تحریکِ خلافت میں آپ اور آپ کے برادر اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدیقی اور برادر اصغر مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کا کردار سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ اس کے لئے آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اسی طرح مسلم لیگ کی تنظیم ِنو اور ترقی میں آپ کا اہم کردار ہے ۔ جب "آل انڈیا مسلم لیگ "قائم ہوئی تو آپ اس کے اولین ارکان میں شامل ہوئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1930ء کوالہ آباد میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زیر صدارت ہوا، جو بالآخر قیام پاکستان کا سنگ میل ثابت ہوا ۔ اس کے پیچھے ہمارے اکابرین کی شب وروز کی محنتیں، اور ان کا خلوص شامل تھا۔اس کے بعد جمعیت العلماء قائم ہوئی تو اس میں بڑےبڑے زعمائے ملت شریک ہوئے، اس کی صدارت و قیادت کے لئے بالاتفاق حضرت قبلہ ہی کی ذاتِ گرامی منتخب ہوئی۔
مولانا نذیر احمد خجندی علیہ الرحمہ کی جہاں تعلیمی، قومی، ملی، سیاسی خدمات باعث افتخار ہیں، وہیں آپ کی قلمی نگارشات لائق صد تحسین ہیں، صحافت میں آپ کی بڑی خدمات ہیں، آپ نے اس میں مذہبی اورقومی مضامین لکھے، جس میں تحریک خلافت، تحریک پاکستان کی علمی و ادبی حلقوں میں راہ ہموار کی، اسی طرح شعار اہلسنت کا بھرپور دفاع کیا، اور ایام کی مناسبت سے مفید مضامین تحریر فرمائے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو عربی و فارسی اور اردو میں نظم اور نثر دونوں میں مہارت عطاء فرمائی تھی۔آپ کاشمار اس وقت کےصف اول کےشعراء میں ہوتاتھا۔آپ ذوق لطیف کےمالک تھے۔اس کےلئے بڑےمشاعروں کااہتمام فرماتےتھے، جس میں ملک بھر سےشعراءمشق سخن فرماتےتھے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سےتعلقات: بانی پاکستان قاٖئد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ سےحضرت مولانا خجندی کےبڑےگہرے مراسم وتعلقات تھے۔قائد اعظم ممبئی میں آپ کےپیچھے عیدین اور جمعےکی نماز اداکرتےتھے،اورعید کےموقع پر آپ کی خدمت میں ایک قیمتی شال پیش کرتےتھے۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:95)۔
قیام پاکستان کےتین دن بعد بھی بانیِ پاکستان نے پہلی نمازِ عید امام اہلسنت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی اقتداء میں ادا فرمائی ۔ (ایضاً:93)
قائد اعظم محمد علی جناح کا نکاح: قائد اعظم محمد علی جناح کی اہلیہ نے 18/اپریل 1918ء کو آپ کےدستِ اقدس پراسلام قبول کیا،آپ نےاس کانام "مریم بائی"رکھا(لیکن رشتہ ازدواج میں منسلک ہونےکےبعد"رتی جناح/رتن بائی"کےنام سےشہرت پائی)اور اہل سنت وجماعت کے طریقے پر آپ نے ان کانکاح پڑھایا۔(ایضاً:96)
تذکرہ علماء اہل سنت میں ہے:
فراغت کے بعد صحافت کی راہ کو اپنایا، میرٹھ سے تاجر اخبار جاری کیا اور آپ کی زندگی کا زیادہ حصہ ممبئی میں گذرا، حضرت مولانا شاہ خیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر کی ہوئی مسجد خیر الدین کے آپ امام وخطیب اور ناظم تھے، آزاد پارک میں عیدین کے امام آپ ہی تھے، بمبئی کی قدیم جمعیۃ علماء کے ناظم بھی رہے، تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا، اور اسی سلسلہ میں جیل گئے،آپ جادوبیان مقرر،اور فن مناظرہ میں آپ کامل دستگاہ تھی،دیوبندیوں، وہابیوں اور آریوں سے مناظرے کیے اور مذکورہ فرقۂ باطلہ کو ذلتیں دیں۔ آپ نے اشاعت اسلام کے لیے کافی کوشش کی،تبلیغ اسلام کےلیے برما وغیرہ کا سفر کیا، انتقال سے ڈیڑھ برس پہلے آپ مدینہ منورہ چلے گئے تھے، بڑے ذوق وشوق سے پنج وقتہ نماز مسجد نبوی میں ادا کرتے تھے اور صلوٰۃ وسلام کا نذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال محقق مولانا ندیم احمد ندیم نورانی زیدمجدہ وعلمہ کی تحقیق کےمطابق 6/شعبان المعظم 1368ھ،مطابق جون/1949ء
کومدینۃ المنورہ میں ہوا،اورجنت البقیع میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کےقدموں میں آسودہ خاک ہوئے۔
ماخذومراجع:
جب جب تذکرہ خجندی ہوا۔تذکرہ علماء اہل سنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-nazeer-ahmad-siddiqi-khujandi
آپ کا ہر کام حسنِ انتظام کا اعلیٰ شاہکار ہوتا تھا ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے گئے اپنی ایمانی فراست اور انتظامی صلاحیت کی بدولت اہل ایمان کی نگاہوں اور عقیدتوں کا مرکز بنے رہے ۔
ممبئی میں عیدین کا اجتماع ایک مثالی اجتماع ہوتا تھا، جس میں کثیر مجمع، اور لاؤڈ اسپیکر کا انتظام اور پھر ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کی ذہن سازی، اور ان کے مستقبل لئے لائحہ عمل اور مسلم قائدین و زعماء کی شرکت اور ان کا خطاب، جس میں علی برادران اور قائد اعظم محمد علی جناح کا خطاب بھی ہوتا تھا ۔ یہ سب حضرت کی اقتداء میں عیدین اور جمعہ ادا کرتے تھے،
آپ کے زہد و تقویٰ اور ملت اسلامیہ کی ہمدردی، اور اسلام سے محبت، اور آپ کے پر اثر خطابات سے بہت متائثر تھے ۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ کا مثالی جلوس، جس کے حسن انتظام کی تعریف غیر مسلم بھی کرتھے تھے ۔ اسی طرح تحریکِ خلافت میں آپ اور آپ کے برادر اکبر حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدیقی اور برادر اصغر مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کا کردار سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔ اس کے لئے آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اسی طرح مسلم لیگ کی تنظیم ِنو اور ترقی میں آپ کا اہم کردار ہے ۔ جب "آل انڈیا مسلم لیگ "قائم ہوئی تو آپ اس کے اولین ارکان میں شامل ہوئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1930ء کوالہ آباد میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی زیر صدارت ہوا، جو بالآخر قیام پاکستان کا سنگ میل ثابت ہوا ۔ اس کے پیچھے ہمارے اکابرین کی شب وروز کی محنتیں، اور ان کا خلوص شامل تھا۔اس کے بعد جمعیت العلماء قائم ہوئی تو اس میں بڑےبڑے زعمائے ملت شریک ہوئے، اس کی صدارت و قیادت کے لئے بالاتفاق حضرت قبلہ ہی کی ذاتِ گرامی منتخب ہوئی۔
مولانا نذیر احمد خجندی علیہ الرحمہ کی جہاں تعلیمی، قومی، ملی، سیاسی خدمات باعث افتخار ہیں، وہیں آپ کی قلمی نگارشات لائق صد تحسین ہیں، صحافت میں آپ کی بڑی خدمات ہیں، آپ نے اس میں مذہبی اورقومی مضامین لکھے، جس میں تحریک خلافت، تحریک پاکستان کی علمی و ادبی حلقوں میں راہ ہموار کی، اسی طرح شعار اہلسنت کا بھرپور دفاع کیا، اور ایام کی مناسبت سے مفید مضامین تحریر فرمائے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو عربی و فارسی اور اردو میں نظم اور نثر دونوں میں مہارت عطاء فرمائی تھی۔آپ کاشمار اس وقت کےصف اول کےشعراء میں ہوتاتھا۔آپ ذوق لطیف کےمالک تھے۔اس کےلئے بڑےمشاعروں کااہتمام فرماتےتھے، جس میں ملک بھر سےشعراءمشق سخن فرماتےتھے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سےتعلقات: بانی پاکستان قاٖئد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ سےحضرت مولانا خجندی کےبڑےگہرے مراسم وتعلقات تھے۔قائد اعظم ممبئی میں آپ کےپیچھے عیدین اور جمعےکی نماز اداکرتےتھے،اورعید کےموقع پر آپ کی خدمت میں ایک قیمتی شال پیش کرتےتھے۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:95)۔
قیام پاکستان کےتین دن بعد بھی بانیِ پاکستان نے پہلی نمازِ عید امام اہلسنت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی اقتداء میں ادا فرمائی ۔ (ایضاً:93)
قائد اعظم محمد علی جناح کا نکاح: قائد اعظم محمد علی جناح کی اہلیہ نے 18/اپریل 1918ء کو آپ کےدستِ اقدس پراسلام قبول کیا،آپ نےاس کانام "مریم بائی"رکھا(لیکن رشتہ ازدواج میں منسلک ہونےکےبعد"رتی جناح/رتن بائی"کےنام سےشہرت پائی)اور اہل سنت وجماعت کے طریقے پر آپ نے ان کانکاح پڑھایا۔(ایضاً:96)
تذکرہ علماء اہل سنت میں ہے:
فراغت کے بعد صحافت کی راہ کو اپنایا، میرٹھ سے تاجر اخبار جاری کیا اور آپ کی زندگی کا زیادہ حصہ ممبئی میں گذرا، حضرت مولانا شاہ خیر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیر کی ہوئی مسجد خیر الدین کے آپ امام وخطیب اور ناظم تھے، آزاد پارک میں عیدین کے امام آپ ہی تھے، بمبئی کی قدیم جمعیۃ علماء کے ناظم بھی رہے، تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا، اور اسی سلسلہ میں جیل گئے،آپ جادوبیان مقرر،اور فن مناظرہ میں آپ کامل دستگاہ تھی،دیوبندیوں، وہابیوں اور آریوں سے مناظرے کیے اور مذکورہ فرقۂ باطلہ کو ذلتیں دیں۔ آپ نے اشاعت اسلام کے لیے کافی کوشش کی،تبلیغ اسلام کےلیے برما وغیرہ کا سفر کیا، انتقال سے ڈیڑھ برس پہلے آپ مدینہ منورہ چلے گئے تھے، بڑے ذوق وشوق سے پنج وقتہ نماز مسجد نبوی میں ادا کرتے تھے اور صلوٰۃ وسلام کا نذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال محقق مولانا ندیم احمد ندیم نورانی زیدمجدہ وعلمہ کی تحقیق کےمطابق 6/شعبان المعظم 1368ھ،مطابق جون/1949ء
کومدینۃ المنورہ میں ہوا،اورجنت البقیع میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کےقدموں میں آسودہ خاک ہوئے۔
ماخذومراجع:
جب جب تذکرہ خجندی ہوا۔تذکرہ علماء اہل سنت۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-nazeer-ahmad-siddiqi-khujandi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Nazeer Ahmad Siddiqi Khujandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، جامع المنقول والمعقول ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ انوار الحق بن مولانا احمد عبدالحق بن مولانا محمد سعید بن ملک العلماء مولانا قطب الدین سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
مقام ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مولانا شاہ احمد عبدالحق کےگھر فرنگی محل لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا، جہاں ہر طرف قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں ۔ اس نورانی ماحول میں پروان چڑھے، بچپن سے ہی سعادت کے آثار چہرے سے عیاں تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی امام العلماء ماہر علومِ دینیہ حضرت مولانا شاہ احمد عبد الحق صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔ درسی کتب مولانا احمد حسین اور مولانا محمد حسن سے پڑھیں ۔ اور علوم ظاہرہ کی تکمیل بحر العلوم مولانا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ آپ کا شمار اس وقت کے علماء راسخین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سترہ سال کی عمر میں اپنے والد گرامی مولانا شاہ احمد عبد الحق کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، جامع المنقول والمعقول، امام ِ شریعت، شیخ طریقت، صاحب تقویٰ و فضیلت، حضرت علامہ مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ سے شرف تلمذ ونسبت پر فخر کیا جاتا تھا ۔ آپ سے سندِ علم عظمت کی دلیل، اور شرفِ بیعت تقویٰ کی دلیل تھا ۔ آپ کی بزرگی اہل ہند میں مسلم تھی ۔ آپ معقولات کے امام تھے، لیکن اس میں رغبت نہیں تھی ۔ آپ منقولات میں زیادہ رغبت رکھتے،اور اکثر اسی کادرس دیتے تھے ۔ آپ کے اکثر اوقات درس و تدریس ، وعظ و نصیحت، تزکیہ نفس، ذکر و اذکار میں صرف ہوتے تھے ۔ کثرت کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے ۔ بلکہ آپ کا ایک لمحہ بھی بغیر ذکر خدا وندی صرف نہیں ہوتا تھا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمن کے پر دادا مولانا حافظ کاظم علی خاں علیہ الرحمہ آپ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ رئیس العلماء زبدۃ المشائخ حضرت مولانا نور الحق آپ کے بلند اقبال، صاحبِ عرفان و مقام صاحبزادے تھے، جن کے شاگرد حضرت شاہ آل رسول مارہروی (پیر و مرشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان) اور سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی اور مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 / شعبان المعظم 1236ھ، مطابق8 / مئی 1821ء بروز منگل ہوا۔آپ کا مزار پُر انوار آپ کے باغ "باغ مولانا انوار" لکھنؤ (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-anwar-ul-haq-farangi-mahalli
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، فرنگی محلی، جامع المنقول والمعقول ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ انوار الحق بن مولانا احمد عبدالحق بن مولانا محمد سعید بن ملک العلماء مولانا قطب الدین سہالوی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
مقام ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مولانا شاہ احمد عبدالحق کےگھر فرنگی محل لکھنؤ (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا، جہاں ہر طرف قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں ۔ اس نورانی ماحول میں پروان چڑھے، بچپن سے ہی سعادت کے آثار چہرے سے عیاں تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی امام العلماء ماہر علومِ دینیہ حضرت مولانا شاہ احمد عبد الحق صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔ درسی کتب مولانا احمد حسین اور مولانا محمد حسن سے پڑھیں ۔ اور علوم ظاہرہ کی تکمیل بحر العلوم مولانا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ آپ کا شمار اس وقت کے علماء راسخین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سترہ سال کی عمر میں اپنے والد گرامی مولانا شاہ احمد عبد الحق کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، جامع المنقول والمعقول، امام ِ شریعت، شیخ طریقت، صاحب تقویٰ و فضیلت، حضرت علامہ مولانا شاہ انوار الحق فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ سے شرف تلمذ ونسبت پر فخر کیا جاتا تھا ۔ آپ سے سندِ علم عظمت کی دلیل، اور شرفِ بیعت تقویٰ کی دلیل تھا ۔ آپ کی بزرگی اہل ہند میں مسلم تھی ۔ آپ معقولات کے امام تھے، لیکن اس میں رغبت نہیں تھی ۔ آپ منقولات میں زیادہ رغبت رکھتے،اور اکثر اسی کادرس دیتے تھے ۔ آپ کے اکثر اوقات درس و تدریس ، وعظ و نصیحت، تزکیہ نفس، ذکر و اذکار میں صرف ہوتے تھے ۔ کثرت کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے ۔ بلکہ آپ کا ایک لمحہ بھی بغیر ذکر خدا وندی صرف نہیں ہوتا تھا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمن کے پر دادا مولانا حافظ کاظم علی خاں علیہ الرحمہ آپ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ رئیس العلماء زبدۃ المشائخ حضرت مولانا نور الحق آپ کے بلند اقبال، صاحبِ عرفان و مقام صاحبزادے تھے، جن کے شاگرد حضرت شاہ آل رسول مارہروی (پیر و مرشد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان) اور سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی اور مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی تھے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 / شعبان المعظم 1236ھ، مطابق8 / مئی 1821ء بروز منگل ہوا۔آپ کا مزار پُر انوار آپ کے باغ "باغ مولانا انوار" لکھنؤ (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-anwar-ul-haq-farangi-mahalli
scholars.pk
Hazrat Shah Anwar-ul-Haq Farangi Mahalli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1444 ᴴ | 27-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1