🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-08-1444 ᴴ | 26-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
خطیب العلماء، حضرت علامہ مولانا نذیر احمد صدیقی خجندی میرٹھی مدنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا نذیر احمد خجندی ۔ لقب: خطیب العلماء۔آپ کےآباؤاجداد میں سے کچھ بزرگ ثمر قند (ترکستان) کے علاقہ "خجند" کے رہنے والے تھے ۔ اسی مناسبت کی وجہ سے مولانا نے اسی نسبت کو پسند فرمایا ۔ (جب جب تذکرہ خجندی ہوا:16) ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا نزیر احمد خجندی بن شاہ عبد الحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد دین بن قاضی صوفی حمید الدین صدیقی، علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

آپ کا سلسلہ نسب سینتیسویں پشت میں امیر المؤمنین خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (ایضاًٍ:21)۔

آپ کے آباؤ اجداد میں سے کچھ لوگ مدینۂ منورہ سےتبلیغِ دین کے سلسلے میں ریاستِ فرغانہ کے شہر "خجند" پہنچے، اور وہاں سےقاضی صوفی حمید الدین صدیقی علیہ الرحمہ، 1525ء کو بابر بادشاہ کے ہمراہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ہندوستان تشریف لائے، اور قصبہ لاوڑ، ضلع میرٹھ میں سکونت اختیار کی، جہاں اس خاندان کی آٹھ پشتیں گزریں۔حضرت صوفی صاحب ظہیر الدین محمد بابر بادشاہ کی طرف سے اعلیٰ مناصب پر فائز تھے ۔ (ایضاًٍ:14)

خطیب العلماء مولانا نذیر احمد خجندی ، مبلغ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت، سفیر اسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی کے برادر اکبر، اور قائد ملت اسلامیہ، قائد انقلاب، محسن اہل سنت، مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کے تایا ابا ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ، بوقتِ صبح صادق، 13 / ربیع الثانی 1305ھ، مطابق 28 / دسمبر 1887ء، کو میرٹھ میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ کی تعلیم وتربیت ایک علمی و روحانی ماحول میں ہوئی، آپ کے والد گرامی اور چچا ایک جید عالم دین تھے۔انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی، حسبِ دستورِ زمانہ جب آپ کی عمر چارسال، چار ماہ اور دس دن ہوئی تو رسم بسم اللہ ادا کی گئی، اور با قاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ سات برس کی عمر میں کلام اللہ شریف مکمل فرمایا ۔ دس برس کی عمر میں اردو، فارسی حد تکمیل کو پہنچائی اور گیارہویں سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ میں درسِ نظامی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، اسی میں تکمیل درس نظامی ہوئی ۔ آپ کے اساتذہ میں والد گرامی مولانا عبد الحکیم جوش اور مولانا احمد صاحب علیہما الرحمہ کا نام آتا ہے ـ (ایضاًٍ:24)

آپ ایک جید عالم دین کے ساتھ ایک خوش الحان قاری، اور مایہ ناز شاعر بھی تھے ۔ آپ ہندوستان کےصف اول کے شعراء میں شمار ہوتے تھے، آپ کو عربی، فارسی اور اردو ادب پر مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور تینوں زبانوں میں مشق ِ سخن فرماتے تھے۔اس کے علاوہ ماہر طبیب بھی تھے۔

بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت قرائن و شواہد سے اپنے والد ِگرامی حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم جوش علیہ الرحمہ یا مخدوم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہما الرحمہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی ایک سے معلوم ہوتی ہے، اور خلافت کے متعلق فقیر (حافظ رمضان تونسوی) کو جناب ندیم احمد نؔدیم نورانی صاحب نے بتایا کہ "حیاتِ مخدوم الاولیا" میں ہے کہ مولانا نذیر احمد خجندی کو شبیہِ غوث الاعظم حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے خلافت حاصل تھی ۔ بعض علماء نے آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے خلفاء میں شمار کیا ہے ۔ (عہدِ رواں کی ایک عبقری شخصیت: 13 / تخلیق پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار: 147)

سیرت و خصائص:
عالم باعمل، جامع شریعت و طریقت، صاحبِ اوصافِ حمیدہ و کثیرہ، فقیہ العصر، خطیب العلماء، مرجع الاصفیاء، خانوادۂ صدیق اکبر کے رجلِ رشید، حکیمِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا نذیر احمد خجندی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اس وقت کے جید علماء اہل سنت میں ہوتا تھا ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے ایک علمی و روحانی خاندان چلا آ رہا تھا، اور آپ اس خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل، اور رجلِ رشید تھے ۔ آپ نے اسلاف کی علمی روایات کی نہ صرف پاسداری کی بلکہ آبیاری بھی فرمائی، دین اسلام کے فروغ اور ملت اسلامیہ کی راہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہے ۔ آپ نے برما میں ایک دینی مدرسہ کھولا اور ایک سال تک درس دیا، اور اس مدرسہ سےکافی لوگوں نے آپ سے کسبِ علم کیا ۔ اسی طرح مختلف مقامات جہاں تعلیم کی ضرورت ہوتی تھی،حضرت وہاں اسکول، مدرسہ، اور مسجد کی تعمیر میں خوب حصہ لیتے تھے ۔ آپ نے بیالیس پرائمری اور دو ہائی اسکول قائم فرمائے ۔ جن سے کثیر تعداد میں لوگوں نے اکستاب علم کیا، اور ملت کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا۔
1👍1