🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.89K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.8K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
رض ملاحظہ و مطالعہ نقل کرتا ہے:

’’واخرج ابو نعیم فی الحلیۃ من طریق عطاء والضحاک عن ابن عباس فی قولہ (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) قال اجتمع المشرکون علی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم منھم الولید بن المغیرۃ وابوجھل بن ہشام والعاص بن وائل والعاص بن ہشام والاسود بن عبد یغوث والاسود بن المطلب وزمعۃ بن الاسود والنضر بن الحرث، فقالوا للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ ٖ وسلم : ان کنت صادقاً فشق لنا القمر فرقتین نصفاً علی ابی قبیس ونصفاً علی قعیقعان، فقال لھم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: (ان فعلت تؤمنوا قالو: نعم، وکانت لیلۃ بدر فسأل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ربہ ان یعطیہ ما سألوا فأمسی القمر قد مثل نصفاً علی ابی قبیس ونصفاً علی قعیقعان، ورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ینادی یا ابا سلمۃ بن عبد الاسد والارقم بن ابی الارقم اشھدوا‘‘

(ترجمہ) امام ابو نعیم اصفہانی﷫ نے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ میں حضرت عطاء والضحاک (ر﷠) کے طریق سے حضرت ابن عباس﷠ سے مروی (سورۃ القمر کی آیت مقدسہ ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘) ہے، رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بعض مشرکین ولید بن مغیرہ، ابو جھل بن ہشام، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد یغوث، اسود بن المطلب، زمعۃ بن اسود اور النضر بن الحرث نے جمع ہوکر سوال کیا: آپ اگر سچے نبی ہیں، تو ہمارے لیے بطور نشانی چاند کو اس طرح شق فرمادیں، کہ اس کا ایک ٹکڑا ابو قبیس پہاڑ پر جبکہ دوسرا ٹکڑا قعیقعان پہاڑ پر آجائے۔ ان سے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا: اگر میں ایسا کردوں تو کیا تم ایمان لاؤ گے؟ انھوں نے کہا: ہم ایمان لائیں گے۔ یہ چاند کی چودھویں شب تھی۔ رسول اللہﷺ نے اپنے رب کی بارگاہ میں سوال کیا کہ مشرکین کے مطالبہ کو پورا کرنے کے لیے مجھے عطا فرما، اس پر چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس کا ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور دوسرا ٹکڑا جبل قعیقعان پر نظر آ رہا تھا جبکہ رسول اللہﷺ پکار پکار کر فرما رہے تھے اے ابوسلمہ بن عبدالاسد! اور اے ارقم بن ابی الارقم گواہ ہوجاؤ۔

اس عظیم ’’معجزہ شق القمر‘‘ کے بارے میں، حضرت علامہ اسمٰعیل حقی﷫ کی ایک تجزیاتی و موازناتی تحریر کا ایک جملہ نہایت خوبصورت ہے، ’’حضرت موسیٰ کلیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے سمندر کا شق ہونا، متعجب نہیں کیونکہ سمندر مرکوب اور ملموس ہے یعنی انسان اس پر سواری کرتا ہے، نیز اپنے ہاتھ سے چھو بھی سکتا ہے، جبکہ ’’چاند‘‘ تو دستِ انسان سے بعید ہے۱۔

دو مرتبہ وقوع شق القمر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں:

’’حدثنا قتادۃ عن انس ان اھل مکۃ سابوا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اَنْ یُّرِیْھِمْ اٰیَۃً فَاَرَاھُمْ اِنْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَیْنِ‘‘.۲

(ترجمہ) حضرت انس﷜ حضرت قتادہ﷜ سے سماعت کرکے فرماتے ہیں، اہل مکہ کے سوال پر رسول اکرمﷺ نے ان لوگوں کو چاند کے دو ٹکڑے کرکے دو مرتبہ دکھادیا۔

جبکہ اس روایت کی تحقیق میں فقیہ الہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی﷫ (متوفی1421ھ/ 2000ء) روایات میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’مسلم میں یہ ہے کہ انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کو دو مرتبہ دکھایا اور یہی مصنف عبدالرزاق میں بھی ہے۔ لیکن بخاری و مسلم دونوں کی روایتیں اس پر متفق ہیں کہ فرقتین (یعنی دو ٹکڑے) فرمایا تھا اور ایک روایت میں فلقتین (یعنی دو ٹکڑے)۔ اس لیے دونوں روایتوں میں تطبیق کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’مرتین‘‘ سے مراد ’’فرقتین‘‘ ہے۔ اس لیے علماءِ حدیث میں سے کسی نے بھی اس واقعہ کے دوبارہ ہونے کا قول نہیں کیا ہے‘‘۔۳

علامہ ابی الفضل شہاب الدین محمود الآلوسی البغدادی (المتوفی1270ھ/ 1853ء) ’’فَاَراھُمْ انشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَیْنِ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فانشق القمر نصفین نصفاً علی الصفا ونصفاً عَلَی الْمَرْوَۃ فنظروا ثم قالوا بابصارھم فمسحوھا ثم اعاد والنظر فنظروا ثم مسحوا أعینھم ثم نظروا فقالوا ما ھٰذا الا سحر فَاَنزل اللہ تعالٰی (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) فلو قال احد ھٰولاءِ رأیت القمر منشقًا ثلاث مرات علی معنی تعداد الرؤیۃ صح بلا غبار ولم یقتض تعدد الانشقاق فلیخرج کلام ابن مسعود علی ھذا الطرز لیجمع بین الروایات۔۱

(ترجمہ) پس چاند دو ٹکڑے ہوگیا، نصف صفا پر اور نصف مروہ پر تھا، جب یہ منظر دیکھا تو پھر کہنے لگے: ان کی آنکھوں کو دھوکہ ہوا ہے، پس انھوں نے آنکھوں کو مسل کر دیکھا اور بار بار آنکھوں کو مسلا، اگر کوئی ایک یہ بھی کہتا کہ میں نے تین مرتبہ شق ہوتے دیکھا، جب بھی صحیح ہوتا، اس کا مطلب یہ نہ ہوتا کہ واقعی چاند تین بار دو ٹکڑے ہوگیا ہے۔ پس اسی انداز پر حضرت ابن مسعود﷜ کے کلام کو سمجھا جائے، تاکہ روایات کے درمیان تناقض نہ ہو۔

بعض علماء اسلام مثلاً حافظ ابوالفضل زین الدین عراقی﷫ (متوفی806ھ/ 1404ء) معجزۂ ’’شق القمر‘‘ کے دو مرتبہ وقوع و منعقد ہونے پر اصرار کرتے ہیں، ممکن ہے کہ دیگر علماءِ
👍21
اسلام رحمہم اللہ اجمعین مثلاً امام مسلم (متوفی 261ھ/ 875ء) امام بیہقی (متوفی 458ھ/ 1066ء)، امام حاکم (متوفی 405ھ/ 1015ء) اور حضرت شیخ محمد اسمٰعیل نبہانی﷫ یوسف بن (متوفی 1350ھ/ 1931ء) کی طرح ’’شق القمر‘‘ کے دو مرتبہ وقوع کی محض روایت نقل کرتے ہوں، حافظ عراقی کی طرح اصرار نہیں کرتے ہوں۔ حافظ زین الدین عراقی﷫، دو مرتبہ۱ وقوع پر اصرار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مشرکین کے سوال (طلب معجزہ) پر ’’شق القمر‘‘ ہوا، دوسری مرتبہ یہودیوں۲ کے سوال کو پورا کرنے کے لیے معجزہ ظاہر ہوا۔ پہلی مرتبہ کے ظہور میں جبل نور (یعنی حرا) کے دونوں جانب، چاند کے نصف، نصف ٹکڑے نظر آ رہے تھے۔ دوسری مرتبہ جب شق القمر کا معجزہ وقوع پذیر ہوا، تو جبل ابی قبیس کی جانب نصف چاند اور جبل قعیقعان کی جانب دوسرا نصف ٹکڑا چلا گیا تھا، جبکہ یہودیوں کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ اسی انداز میں معجزہ ظاہر ہو۔ اگر روایت کے الفاظ مختلفہ پر غور کیا جائے، تو پھر بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ ظہور شق القمر کے وقت نصف چاند مشرق اور نصف چاند مغرب میں چلا گیا۔ اس روایت کو بیان کرنے میں ایک معمر صحابی ’’بابا رتن الھندی‘‘۱ کے علاوہ ’’راجہ بھوجپال‘‘ (حاکم ریاست مالوہ)۲۔ راجہ چیرومان مالا بار۱ (حاکم ریاست پلاوا) اور راجہ سری لنکا (حاکم ریاست سراندیپ)۲ بھی شامل ہیں۔

متذکرہ موافقین کے علاوہ معاندین بھی ہیں جن کا مختصر تعارف سطور ذیل میں کیا جاتا ہے۔

منکرین ’’شق القمر‘‘:

اس فہرست میں نیچری فرقہ کے ’’سر سید احمد خان‘‘، فرقہ منکرین احادیث کے ’’پرویز‘‘، غیر مقلدین، وہابیوں اور دیوبندیوں کے پیشوا ’’شاہ ولی اللہ دہلوی‘‘، ندوۃ العلماء کے بانی ’’شبلی نعمانی‘‘، انہی کے رفیق خاص ’’الطاف حسین حالی‘‘، فرقہ جماعت اسلامی کے بانی ’’ابوالاعلیٰ مودودی‘‘، اخوان المسلمون کے ’’سیّد قطب مصری (قتیل)‘‘ ’’احمد مصطفےٰ مراغی‘‘، ’’جاوید غامدی‘‘، ’’ذاکر نائیک‘‘، ’’ابوالجلال ندوی‘‘، وغیرہ..... اور بعض ایسے بھی ہیں جو ’’شق القمر‘‘ کے وقوع کو تو مانتے ہیں، لیکن اسے رسول اکرمﷺ کا معجزہ نہیں مانتے، مثلاً امین احسن اصلاحی، حمید الدین فراہی، ڈاکٹر اسرار(یعنی پُراسرار) اور مولوی غلام اللہ خان وغیرہ۔ یہ ماننا بھی ان کی مجبوری ہے کہ ’’نص قطعی‘‘ یعنی قرآن مجید سے ثابت ہے، وگرنہ کلام الٰہی کا انکار دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا ہے۔۱

رسول اکرمﷺ کے منیٰ میں تشریف رکھنے کا قول زیادہ اہم ہے اور جمہور علماء کا بھی یہی مؤقف ہے، حضرت سیّدنا عبداللہ ابن مسعود﷜ نے بھی روایت کرتے ہوئے یہی کہا کہ ’’ہم حضور اقدسﷺ کے ہمراہ منیٰ میں تھے‘‘۔ امام محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء) نے سورۃ القمر کی تفسیر میں خوبصورت قول لکھا ہے، ’’اگر کوئی ’’معجزہ شق القمر‘‘ اور ’’نزول سورۃ القمر‘‘ کی ترتیب میں تقدیم و تاخیر کی بحث کرے، تو اس پر واضح ہو کہ حضرت انس﷜ کی روایت میں ہے کہ پہلے معجزہ ظاہر ہوا، ازاں بعد سورۃ القمر کا نزول ہوا، اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ قیامت کے قریب آنے کی نشانی ’’شق القمر‘‘ ہے۔ لہٰذا پہلے خبر ظاہر اور وقوع ہوگی، پھر قیامت آئے گی۔ اس اصول سے معجزہ پہلے وقوع پذیر ہوا پھر سورۃ القمر نازل ہوئی۔۱

شق القمر کی تاریخ:

امام محمد طاہر بن عاشور(المتوفی1393ھ/ 1973ء) فرماتے ہیں، ماہ ذی الحجہ کی چودھویں شب تھی، لوگ منیٰ میں جمع تھے، یوم النفر کی رات تھی۔ ہجرت سے پانچ سال قبل یعنی اعلان نبوت کے آٹھویں سال یہ واقعہ پیش آیا تھا۔۲

شمسی تقویم کے اعتبار سے 617ء کا سال تھا۔ ائمہ اہلبیت میں درجۂ اجتہاد پر فائز حضرت سیّدنا امام جعفر صادق﷜ فرماتے ہیں، ’’معجزۂ شق القمر ذی الحجہ کے مہینے میں چودھویں شب میں پیش آیا‘‘۔ کسی قدیم مندر میں سنسکرت زبان میں ایک کتاب قیام پاکستان سے قبل دستیاب ہوئی تھی، جس میں ’’شق القمر‘‘ کا واقعہ لکھا ہوا ہے۔۱

جدید تائیدات و تحقیقات شق القمر:

اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں ہے، ’’معتزلہ اس معجزہ سے انکار کرتے ہیں لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں جب امریکی خلا باز چاند پر اُترے تو واپسی پر انھوں نے چاند پر قیام کے بارے میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا: کہ انہوں نے چاند پر ایک ایسی دراڑ دیکھی جو نگاہ کی حد سے بھی آگے چلی جاتی ہے۔ معجزۂ شق القمر کے تیرہ سو سال بعد ایک غیر مسلم خلا باز کا یہ تائیدی بیان اس روایت کو نہ ماننے والوں کے لیے لمحۂ فکر پیدا کرتا ہے‘‘۔۲

ممتاز نعت گو اور مزاح نگار خالد عرفان کہتے ہیں:

انگشت کے نشاں نمایاں ہیں چاند پر

دیکھے ہیں آدمی نے جو منظر ثبوت ہیں

شق القمر سے ٹکڑے ہوئی سطح ماہتاب

آرہے ہیں چاند سے جو پتھر ثبوت ہیں۳

قارئین محترم!

فقیر راقم الحروف نے اگست1998ء میں امریکہ کے دورہ پر دیکھا تھا کہ نیویارک میں واقع U.N.O ہیڈ کوارٹر میں موجود ایک جار میں ’’رو پہلی مٹی‘‘ (یعنی چاند سے لائی گئی مٹی) کا ڈھیلہ عام نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جس سے متعلق یہ دعویٰ ہے، کہ 1969ء میں
1👍1
’’اپولو۔اا‘‘ (Appolo:11) میں جانے والے خلانورد۱ اُس دراڑ سے مٹی کے ڈھیلے اُٹھا کر لائے تھے۔ جسے ’’عرب دراڑ‘‘ کہتے ہیں۔

جنوبی ہند میں متبرک مقام او رمبلغ اسلام:

راقم الحروف کے ممدوحِ محترم، مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں﷫ کے تبلیغی اسفار کی پانچ اہم خصوصیات ہیں۔

اول:

یہ کہ آپ﷫ اصلاح و تبلیغ کے درس کے لیے جہاں بھی تشریف لے گئے، اس کی تاریخی اہمیت کا علم ضرور حاصل کرتے۔

دوم:

یہ کہ مقدس مقامات کی زیارات کے لیے اور اولیاء کرام کے مزارات پر ضرور حاضری دیا کرتے۔

سوم:

یہ کہ مطلوبہ شہر/ گاؤں، جدید سہولیات سے محروم ہے۔ یہ امر آپ کے سفر میں مانع نہیں ہوتا۔

چہارم:

یہ کہ آج کے متمدن دور میں، مبلّغ/ خطیب اور واعظ کے سفری ذرائع ہوائی جہاز/ بحری جہاز/ ٹرین/ بس/ کار/ موٹر سائیکل/ تانگہ.... جی ہاں....جی ہاں.... اس سے کم پر کوئی راضی نہیں ہوتا، مگر بریلی کے بوریہ نشین مجدد اعظم رضا کا قمر رضا، اس پر بھی راضی ہے کہ خدمت دین اور عشق مصطفےٰﷺ کی تعلیم کے لیے، ’’مجھے پیدل لے چلو.... سائیکل پر لے چلو.... بیل گاڑی پر لے چلو.... میں تیار ہوں۔

پنجم:

یہ کہ ایک سفر کے بعد یہ نہیں کہنا کہ پچھلے سال یا چھ ماہ پہلے بھی، ’’میں گیا تھا اب وہاں نہیں جانا، بھئی بڑی مشقت اُٹھائی تھی‘‘۔ کٹھن سے کٹھن سفر کے بعد بھی سفر کا اعادہ کرنا، آپ﷫ کا طرّۂ امتیاز تھا۔ اور یہی سادگی آپ کا حسن اور پہچان ہے۔

مبلغ اسلام، جنوبی ہند کے سفر میں اُن اہم مقدس و متبرک مقامات پر بھی حاضر ہوئے ہیں، جن کا تذکرہ ابھی گذشتہ صفحات میں گزرا ہے۔

صوبہ آندھرا پردیش:

صوبہ ’’آندھرا پردیش‘‘ کے اضلاع میں صدر مقام ’’حیدرآباد‘‘ کے علاوہ ’’سکندرآباد‘‘، ’’نظام آباد‘‘، ’’آصف آباد‘‘، ’’کریم نگر‘‘، ’’چتوڑ‘‘، ’’محبوب نگر‘‘، ’’آننت پور‘‘، ’’ورنگل‘‘، ’’کوٹاگوڈیم‘‘ (Kottagudem)، ’’کرنول‘‘ (Kurnool)، ’’نانڈیال‘‘ (Nandyal)۔ وغیرہ میں متعدد بار تشریف لائے۔

صوبہ کرناٹکہ:

اس صوبہ میں ماشاء اللہ مسلم آبادی 35فیصد سے زائد ہے۔ یہاں مسلمانوں کی لٹریری شرح 100 فیصد ہے۔ یہاں کے مقدس مقام اور دریائے کاویری بہت مشہور ہیں۔

منگلور اور اس کے قریب ’’کاسرگوڈ‘‘ (یہاں برصغیر کی سب سے پہلی مسجد ’’چیرامان پیرومل‘‘ نامی 5ھجری یا 8ھجری/ 629ء میں قائم ہوئی اور یہیں قریب ہی حضرت مالک بن دینار﷜ کی درگاہ شریف اور مسجد بھی واقع ہے)۔ حضرت قمر رضا﷫ اس تاریخی مقام پر بھی حاضر ہوئے اور صوبہ ’’کرناٹکہ‘‘ (Karnataka) کے صدر مقام ’’بنگلور‘‘ کے علاوہ ’’بیدر‘‘، ’’گلبرگہ‘‘، ’’بیجا پور‘‘، ’’میسور‘‘، ’’منڈیا‘‘، ’’سکالیشپورہ‘‘، ’’شیموگا‘‘، ’’ٹمکر‘‘، ’’ننجان گڑھ‘‘، ’’رائیچور‘‘، ’’چنچھولی‘‘، ’’چکوٹھی‘‘، ’’بیلگام‘‘، ’’بیلاری‘‘، ’’کولار‘‘، ’’ملاول‘‘، ’’کوشالنگر‘‘، ’’بھٹکل‘‘، ’’کونڈاپور‘‘، ’’منگلور‘‘، ’’ چکماگلور‘‘،’’ چنّٹپنہ‘‘، ’’جام کھنڈی‘‘۔ وغیرہ۔

صوبہ کیرالہ:

’’ کالی کٹ‘‘، ’’منجیری‘‘، ’’تریچھوڑ‘‘۔ وغیرہ۔

صوبہ تامل ناڈو:

اس صوبے کی نیلگری پہاڑیاں بہت مشہور ہیں جس کی سطح مرتفع سمندری سطح سے ایک ہزار تا تین ہزار فٹ بلند ہے۔ ان پہاڑیوں کے دونوں طرف مشرقی اور مغربی گھاٹ واقع ہیں۔

اس کے صدر مقام ’’مدراس‘‘(Chennai) کے علاوہ ’’کانچی پورم‘‘، ’’ویلور‘‘، ’’کڈالور‘‘ (Cuddalore)، ’’ڈنڈیگل‘‘ (Dindigul)، ’’کرشناگری‘‘، ’’نیٹم‘‘، ’’سیوا گنگا‘‘، ’’میڈورائے‘‘، ’’میلاپلوام‘‘، ’’تھنجاور‘‘، ’’پونڈیچرے‘‘۔ وغیرہ۔

درج بالا صوبوں کے متذکرہ شہروں میں حضرت قمر رضا﷫ تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں درج ذیل اولیاء کرام کے مزارات پر بھی عقیدت و احترام سے حاضری دیتے رہے ہیں۔

حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی﷫،۱

حضرت خواجہ محبوب علی شاہ چشتی المعروف خواجہ لالو بھائی قیصر چشتی۔ (خواجۂ بنگلور)﷫ قطب بنگلور سید السادات حضرت سیّد احمد شاہ چشتی عرف پاچا میاں بابا اور حضرت خواجہ کثیر چشتی عرف عبدل بھائی﷫، حضرت نذر علی شاہ چشتی مدراسی﷫، حضرت صادق علی شاہ حسینی بیہا پیر بابا﷫ (میسور)۔

ہندوستان کے انتہائی مشرق کے شمالی جغرافیہ میں ’’سوشلسٹ جمہوریہ چین‘‘ سے متصل صوبے ’’اروناچل پردیش‘‘ (Arunachal Pardesh)، ’’سِکِّم‘‘ (Sikkim) اور ’’آسام‘‘ (Assam) کے مختلف علاقوں ’’پاسی گھاٹ‘‘، ’’نارتھ لکھیم پور‘‘ ’’ڈبروگڑھ‘‘، دریائے برہما پترا سے متصل ’’تنسوکیا‘‘، ’’ایٹانگر‘‘، ’’جُرھاٹ‘‘، ’’گولاچھٹ‘‘، ’’منگلڈے‘‘، ’’ناگاؤں‘‘، ’’لمڈنگ‘‘، ’’لنگٹنگ‘‘، ’’کالپنگ‘‘، ’’شیلیگڑھی‘‘، ’’گنگٹک‘‘ ’’جلپیگڑھی‘‘۔ وغیرہ میں بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا۔

تبلیغ دین کے لیے مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش جانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ’’سرینگر‘‘، ’’جموں‘‘، ’’بارہ مولا‘‘، ’’اننت ناگ‘‘، ’’باندی پورہ‘‘۔ وغیرہ میں مسلک امام احمد رضا کا خوب پرچار کیا۔ یہاں ’’درگاہ حضرت بل‘‘ بھی حاضری دی۔ ہماچل پردیش کے شہروں ’’پالم پور‘‘، ’’چمبا‘‘، ’’نورپور‘‘، ’’کنگرا‘‘، ’’
1👍1
بیلاسپور‘‘، ’’نارکنڈہ‘‘، ’’شملہ‘‘، ’’سولان‘‘، ’’کالپا‘‘، ’’کولو‘‘، ’’منڈی‘‘۔ وغیرہ میں بھی متعدد سفر بلاتکان کیے۔

مانی پور اور میگھالیا:

ہندوستان کے مشرق میں برما (Myanmar)، شمال میں بھوٹان (Bhutan) اور جنوب مشرق میں بنگلہ دیش (Bangladesh) کے درمیان صوبہ ’’مانی پور‘‘ (Manipur) اور صوبہ ’’میگھالیا‘‘ (Meghalaya) (میگھالیا، دریائے برہما پترا سے متصل ہے) کے بعض شہروں مثلاً: ’’اِمپھال‘‘، ’’ننگبا‘‘، ’’کرونگ‘‘، ..... ’’شیلونگ‘‘، ’’چیراپونچی‘‘، ’’جُوائی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغ دین کے لیے تشریف لے گئے تھے۔

ہریانہ اور پنجاب:

صوبہ ہریانہ (Haryana) اور ’’پنجاب‘‘ کے شہروں، ’’دہلی‘‘، ’’گڑگاؤں‘‘، ’’بھیوانی‘‘، ’’روہتک‘‘، ’’پانی پت‘‘، ’’ہانسی‘‘، ’’کیتھل‘‘، ’’تھانیسر‘‘۔ وغیرہ..... پنجاب میں ’’پٹیالہ‘‘، ’’انبالہ‘‘، ’’چمکور‘‘، ’’چندی گڑھ‘‘، ’’لدھیانہ‘‘، ’’جالندھر‘‘، ’’امرتسر‘‘، ’’ہشیارپور‘‘ اور ’’بٹالہ‘‘۔ وغیرہ میں بھی دین متین کا بے لوث ابلاغ فرمایا۔

حضرت قمر رضا اور بیرونی ممالک:

حضرت قمر ملت ’’سری لنکا‘‘ اور ’’نیپال‘‘ بھی تشریف لے گئے تھے۔ سری لنکا میں جہاں جہاں مسلم آبادی ہے، بحمدہٖ تعالیٰ اہلسنت و جماعت سے وابستہ ہیں۔ دارالحکومت ’’کولمبو‘‘ میں مسلک اعلیٰ حضرت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، حضرت شیخ عثمان﷫ کا مزار پُرانوار مرجع خلائق ہے۔

پیٹا (PETTA) میمن مسجد میں مرکزی سطح پر اہلسنت و جماعت کے معمولات کا انعقاد ہوتا ہے۔ مثلاً محرم الحرام میں امام حسین﷜ اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تقریب ہوتی ہے۔ صفرالمظفر کے مہینے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی﷫ کا عرس مقدس منعقد ہوتا ہے۔ ’’ربیع الاول شریف‘‘ میں جشن عید میلاد النبیﷺ، ربیع الثانی میں گیارہویں شریف کا انعقاد، یوم سیّدنا صدّیق اکبر﷜، جشن معراج النبیﷺ، شب براءت، رمضان المبارک میں مختلف مذھبی ایام، معتکفین کی تربیت کا اہتمام، عازمین حج کی تربیت کے لیے تقریبات وغیرہ میں حضرت مبلغ اسلام محمد قمر رضا خان﷫ تشریف لے جاتے رہے ہیں۔

سری لنکا میں کولمبو سے تقریباً تیس کلومیٹر فاصلہ پر ’’بیورولہ‘‘ بحر ہند کے کنارے ایک مقام ہے، جہاں ہندوآبادی زیادہ ہے۔ بحر ہند کے اس ساحلی مقام پر ایک مزار شریف کا جغرافیہ کچھ اس طرح ہے کہ صرف ایک خشکی کا راستہ جانے اور آنے کے لیے مثل کوریڈور بنا ہوا ہے، جبکہ تین اطراف سے مزار شریف مکمل پانی میں ہے۔ ساتویں یا آٹھویں صدی ہجری کے ایک ولی حضرت شیخ محمد اشرف المعروف سلطان الاولیاء کا یہاں دربار گہربار واقع ہے۔ اس مزار شریف کا یہ فیض، مشاہدہ کیا گیا کہ ساحل سمندر سے دور کی آبادیاں ’’سونامی‘‘ (2004ء) میں تباہ ہوگئیں، لیکن مزار شریف اور اس سے متصل آبادی (جو کہ ساحل پر ہی موجود ہے) کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔

سری لنکا میں ’’نور ایلیا‘‘ کے مقام پر حضرت آدم﷤ کا نقش قدم واقع ہے۔ مبلّغ اسلام حضرت محمد قمر رضا خاں﷫ نے سری لنکا کا دو مرتبہ دورہ کیا۔

سری لنکا میں مسلم آبادی میں زیادہ تر کُتیانہ میمن کے افراد اکثریت میں ہیں۔ ان کی تنظیم نے حضرت قمر رضا﷫ کے تبلیغی سفر کا اہتمام اور وعظ و ارشاد کی محافل کا انعقاد کیا تھا۔ جن میں حاجی الیاس ضیائی، حاجی اسمٰعیل، حاجی ادریس پٹیل، حاجی یٰسین نگریہ، حاجی ذکر چنا مرحوم وغیرہ پیش پیش تھے۔

بنگلہ دیش کے متعدد شہروں میں مسلک اعلیٰ حضرت کا پرچار کیا۔ بنگلہ دیش میں اہلسنت و جماعت کے متعدد مدارس قائم ہیں، جہاں حضرت مولانا محمد قمر رضا﷫ تشریف لے گئے تھے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ ڈھاکہ میں عید میلادالنبیﷺ کا جلوس تاریخی اور دیدنی ہوتا ہے کہ بلا مبالغہ اس جلوس میں ایک کروڑ سے زائد عاشقان رسول شریک ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حضرت شاہ جلال بابا﷫ کا مزار پُرانوار سلہٹ میں واقع ہے اور مرجع خلائق ہے۔ حضرت قمر رضا﷫ نے بنگلہ دیش میں اس مزار شریف کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ پر بھی حاضری دی۔ علاوہ ازیں ’’راجشاہی‘‘، ’’رنگپور‘‘، ’’دیناجپور‘‘، ’’سیدپور‘‘، کشن گنج‘‘، ’’بوگرہ‘‘، ’’شیرپور‘‘، ’’کومیلہ‘‘، ’’سراج گنج‘‘، ’’نواب گنج‘‘، ’’بالوگھاٹ‘‘، ’’کھُلنا‘‘، ’’جیسور‘‘، ’’فریدپور‘‘، ’’جمالپور‘‘، چٹاگانگ میں ’’بردربن‘‘، ’’نواکھلی‘‘، ’’رنگامتی‘‘۔ وغیرہ میں بھی تبلیغی دورے فرمائے۔

سفرِ مقدس برائے حج و عمرہ:

قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خاں صاحب﷫ نے فریضۂ حج ادا کرلینے کے بعد دو نفلی حج کے لیے حرمین طیبین کا سفر اختیار کیا۔ علاوہ ازیں عمرہ کرنے کے لیے بھی حجاز مقدس کا مبارک سفر بار بار کیا۔ حضرت قمر رضا﷫ کی عادت شریفہ تھی کہ قیام مکۃ المکرمہ میں حضرت ام ہانی﷞ کے گھر کی باقیات کے نشانات (جہاں سے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج شریف پر روانہ ہوئے تھے اور جہاں حضرت جبرئیل﷤ براق لے کر حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے) سے برکت لینے کے لیے، بعد عشاء تین یا چار گھنٹے یہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ فقیر راقم الحروف نے دیکھا کہ
1👍1
یہاں سے گزرنے والا کوئی بھی ہو، خواہ مصری ہو یا مغربی، افریقی ہو یا نجدی سعودی۔ ایک بار زیارت کرلینے کے بعد بار بار دیکھتا ہے، گزرتے گزرتے بھی، آگے بڑھ جانے کے بعد پلٹ پلٹ کر بھی زیارت کرتا ہے۔ ایشیائی باشندے تو قریب آکر پوچھتے تھے، کہ حضرت کا تعارف کیا ہے؟ دراصل حضرت کی شخصیت کی جاذبیت لوگوں کو اپنی طرف ملتفت کرتی تھی۔ مدینۃ المنورہ میں حضرت اکثر مسجد نبوی شریف کے اندر واقع ترکوں کے بنائے ہوئے اور کھلے صحن میں تشریف رکھتے تھے، جہاں سے ’’گنبد خضریٰ‘‘ خوب واضح اور نور برساتا محسوس ہوتا ہے۔ اسی مقام کو T.T.S. یعنی ٹناٹن سُنّی ’’قادری چوک‘‘ کہتے ہیں۔

پاکستان میں جب چمکا بریلی کا چاند:

1985ء میں جب پاکستان آنے کا قصد فرمایا تو پہلے حضرت علامہ تحسین رضا صاحب﷫ سے اجازت طلب فرمائی اورازاں بعد برادر اکبر حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری کثر اللہ مجدہ و دام اقبالہ سے بھی سفر پاکستان کی اجازت لی، جو کہ دونوں بزرگوں نے بخوشی اجازت مرحمت فرمائی۔

مونس اہلسنّت، قمر ملت، حضرت محمد قمر رضا خاں﷫ تقریباً 25 سال قبل پاکستان تشریف لائے تھے۔ کراچی میں آپ کا قیام اپنی ہمشیرہ اور برادر نسبتی محترم شوکت حسن خان کے یہاں تھا۔ آپ سے ملاقات کے لیے علماء و مشائخ بڑی تعداد میں حاضر ہوتے تھے، وابستگان اہلسنّت و معتقدین و متبعین امام احمد رضا﷫ محمد قمر رضا﷫ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کثیر تعداد میں حاضر ہوتے رہے۔ حضرت صاحب﷫ اپنی ملاقات کا شرف عطا فرماتے وقت منکسرانہ انداز رکھتے ۔ ملاقات کے لیے وقت کا تعین بھی نہ فرماتے، یعنی جو بھی اور جب بھی آجائے اس سے ملاقات فرماتے، نہایت محبت اور شفقت سے ملاقات فرماتے۔ فاضل جلیل اور عالم نبیل کے باوصف عالمانہ وقار اور نسبی وجاہت پر مشفقانہ رویہ غالب رہتا۔ کراچی میں چند مقامات پر میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے، ان جلسوں سے حضرت صاحب﷫ نے خطاب فرمایا ۔ دوران خطاب قرآن و احادیث اور اقوال آئمہ سے دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے جبکہ عقلی دلائل بھی پیش فرماتے۔

حضور تاج الشریعۃ مدظلہ العالی سے شباہت کے باوصف اکثر افراد یہی سمجھتے کہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد اختر رضا الازھری صاحب تشریف لائے ہیں۔ اس ضمن میں ایک واقعہ درج ذیل ہے۔

حاجی محمد حنیف طیب کو مغالطہ:

قمر ملت حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا﷫ اپنے ماموں زاد بھائی محترم سیّد عبدالرشید صاحب۱ کے یہاں ایک محفل میلادمیں تشریف فرماتھے، لب سڑک واقع مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے، دریں اثنا سڑک پر سے نظام مصطفی گروپ کے پارلیمانی قائد حاجی محمد حنیف طیب صاحب ( جو کہ اس وقت وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت و اورسیز تھے) کی نظر اتفاقیہ حضرت صاحب پر پڑ گئی، تو ٹھہر گئے وفاقی وزیر ہونے کے باوصف سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس موبائلز اور دیگر وی آئی پی شخصیات کی قیمتی کاروں کا ایک کاروان ساتھ تھا، منسٹر صاحب کے رکتے ہی سب رُک گئے۔ حاجی محمد حنیف طیب صاحب، محض شباہت کی وجہ سے قمر رضا خاں صاحب کی ذات پر حضور تاج الشریعہ ازہری میاں مدظلہ العالی کو قیاس کرکے محفل میں شریک ہو کر یہ گمان کر رہے تھے کہ حضور تاج الشریعہ جب تشریف لاتے ہیں تو پولیس ہیڈ آفس سے آمد و روانگی (Exit & Entry) کے لیے پاسپورٹ اپنے بہنوئی جناب شوکت حسن خاں زید مجدہٗ کے ذریعے مجھے بھجواتے ہیں، اب کیا ہوا؟ کہ حضرت نے اپنی تشریف آوری کی کوئی اطلاع نہیں دی، کیا حضرت مجھ سے ناراض ہیں؟

ازاں بعد معلوم ہو اکہ یہ بھی بریلی سے تشریف لائے ہیں اور حضرت مفتی محمد اختر رضا خاں الازھری مد فیوضہم کے برادر اصغرہیں، لیکن قامت، جسامت اور وجاہت میں یکساں ہیں۔ اس یکسانیت و مساوات سے بالا علمی وقار اور کمال حضور فیض گنجور، تاج شریعت، کثیر البرکت حضرت عالی مرتبت علامہ و فہامہ مفتی اعظم کل عالم محمد اختر رضا خاں الازھری دامت اقبالھم و کثر برکاتہم میں فی زمانہ سب سے زیادہ، نمایاں اور تاباں ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر رضا﷫ سے حاجی محمد حنیف طیب صاحب کی پہلی ملاقات اس انداز میں ہوئی۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہی۔

وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات:

وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت محترم حاجی محمد حنیف طیب نے ایک دن حضرت شوکت حسن خان کے گھر حاضر ہوکر حضرت قمر رضا صاحب سے ملاقات کی، او رانھیں عرض کیا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو آپ سے ملاقات کے مشتاق ہیں، آپ حکم فرمائیں تو یہاں حاضر ہوجائیں لیکن سیکوریٹی کے باعث آپ کے لیے اور شوکت حسن خان کے لیے کچھ پرابلمز ہوں گی، لہٰذا ناگوار خاطر نہ ہو تو آپ میرے ساتھ چلیں۔ حضرت کی سادگی کا یہ عالم تھا، کہ فرمایا: چلو بھئی ہم اُن سے ضرور ملیں گے۔

چنانچہ اس وقت کے وزیر اعظم محترم محمد خان جونیجو (مرحوم و مغفور) کی کراچی میں موجودگی کے وقت دعا کے لیے حضرت قمر ملت﷫ کو حنیف بھائی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ اس طرح وزیر اعظم پاکستان سے حضرت ڈاکٹر محمد قمر رضا﷫ کی
1👍1
ملاقات ہوئی ۔ حضرت قمر ملت﷫ کی اعلیٰ حضرت قدس السرہ سے نسبی تعلق کے باعث، وزیر اعظم محمد خان جونیجو نہایت عقیدتمندی و نیاز مندی سے ملے۔

پاکستان میں حضرت کا کارنامہ:

کراچی ڈالمیا کی اسٹریٹ سے متصل پاکستان نیوی کا طویل رقبہ و احاطہ ہے جس میں اسٹاف کالج، لائبیری، مساجد، افسران کی قیام گاہیں، سپاہیوں کی رہائشی بیرکس، اسٹاف کالج کے اسٹوڈنٹس کے لیے ہاسٹلز، میرینز میوزیم، تاریخی قبرستان، شہریوں کے لیے انٹرٹینمنٹ کے انتظامات کے علاوہ حساس نوعیت کی تنصیبات بھی ہیں۔ ڈالمیا کی سڑک کے ایک جانب نصف حصہ تک عوامی آبادی ہے اور یہیں محترم سیّد عبدالرشید صاحب کی رہائش ہے۔ عوامی آبادی کے سامنے نیوی تنصیبات کے احاطے کے اندر ایک مسجد ابو بکر صدیق رجسٹرڈ ٹرسٹ اہلسنت و جماعت واقع ہے۔ پاکستان نیوی کے ایڈمرل اکبر حسین جو شیعہ تھے نیز نہایت متکبر اور رعونت کے حامل شخص تھے۔ انہوں نے مسلکی تعصب کی بنا پر مسجد کو بند کرادیا، تالے ڈلوادیئے۔ پاکستان نیوی کے احاطہ میں مسجد واقع تھی، نیوی کی زمین کے اطراف کی چہار دیواری (Baundry Wall)کے اند رمسجد تک جانے کا باہر سے راستہ تھا، تاکہ باہر سے آنے والے با ٓسانی مسجد تک نماز کی ادائیگی کے لیے حاضر ہو سکیں۔ جب ایڈمرل اکبر حسین (شیعہ) نے جامع مسجد ابو بکر صدیق کو تالے ڈلوادیئے، تو نیوی کے ملازمین بھی نمازوں کی ادائیگی کے لیے پریشان ہوئے۔ جبکہ اہل علاقہ بھی متاثر ہوئے۔ اثر و رسوخ رکھنے والے متعدد افراد نے کوشش کی، کہ مسجد کا تالہ کھلوایا جاسکے۔ لیکن کامیابی نہیں ہو ئی اسی اثناء میں جمعۃ المبارک کا دن آگیا۔ مسجد میں جمعۃ المبارک کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ آتے تھے، مصلیان مسجد تمام انتہائی مضطرب تھے۔ محترم المقام سیّد عبدالرشید صاحب نے ایمانی جرأت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مین روڈ پر نماز جمعہ کے اہتمام کے لیے اعلان کردیا۔ نیز اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ بریلی شریف سے تشریف لائے ہوئے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی﷜ کے نبیرۂ محترم محمد قمر رضا خان مدظلہ العالی اجتماع جمعہ سے خطاب بھی فرمائیں گے، نیز نماز جمعہ کی امامت بھی فرمائیں گے۔ اعلان کے مطابق دریاں، چٹائیاں صفیں بچھا دی گئیں، مین روڈ بند کردیا گیا۔ سڑک پر نماز ادا کرنے کے نتیجہ میں جمعۃ المبارک کا اجتماع بہت بڑا ہوگیا۔ نماز کے لیے راستے سے گزرنے والے حضرات کہیں دوسری جگہ جانے کی بجائے یہیں رک گئے۔ اس زمانہ میں نماز جمعہ کے لیے باقاعدہ حکومتی سطح پر تعطیل ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ تعطیل پہلے اتوار کے لیے مختص تھی، لیکن یکم جولائی 1977ء بروز جمعہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے چند اسلامی اصلاحات کے نفاذ کے موقع پر’’جمعہ‘‘ کے دن ہفتہ وار تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس تعطیل سے یہ فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اکثر لوگ تعطیل کی وجہ سے صبح گیارہ بجے اٹھ کر غسل وغیرہ کرکے پاکیزہ لباس زیب تن کرکے اپنے بچوں کو ساتھ لے کر نماز جمعہ کے لیے گھر سے نکلتے تھے۔ ایسے حضرات ڈالمیا کی سڑک پر نماز جمعہ کا انعقاد دیکھ کر اس میں شامل ہوگئے۔ قمر ملت حضرت محمد قمر رضا خان نور اللہ مرقدہٗ نے اجتماع جمعہ میں خطاب بھی فرمایا اور خطبۂ جمعہ ارشاد فرماکر نماز جمعہ کی امامت فرمائی۔ نماز کے بعد جامع مسجد صدیق اکبر کی بحالی و برقراری کے لیے اور ایڈمرل اکبر حسین کے خائب و خاسر رہنے کے لیے دعا فرمائی۔ نماز جمعہ کے اس اجتماع کے نتیجہ میں ایڈمرل صاحب کی ایسی مذمت ہوئی، کہ اربابِ اختیار تک یہ معاملہ پہنچا اور بحمدہٖ تعالیٰ اسی دن سے مسجد کو کھول دیا گیا اور آج بھی مسجد قائم ہے۔

شائقین ملاقات کا ہجوم:

سطور بالا میں مرقومہ واقعہ کی شہرت ہوئی لہٰذا، اکثر لوگ عقیدت سے آئے اور آپ کے حلقہ ارادتمند وں میں شامل ہوگئے۔ نماز جمعہ کے بعد اسی سڑک پر کئی افراد مرید ہوئے۔ پاکستان نیوی کے ایک کمانڈر ظفر جٹ صاحب نے آپ سے بیعت کی اور حضرت نے مطالعہ کے لیے چند کتب اعلیٰ حضرت پیش کیں۔ جو ظفر صاحب نے کمپیوٹر کتابت کرواکر ہزاروں کی تعداد میں شائع کروائیں، اور مفت تقسیم کا اہتمام کیا، اس زمانہ میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی متعارف نہیں ہوئی تھی، اسی لیے کمپیوٹر سے کتابت کا رجحان نہ تھا، حکومتی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کے عسکری اداروں میں کمپیوٹر کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔ کمانڈر ظفر جٹ صاحب اکثر آتے اور اپنے ہمراہ احباب کو بھی لاتے۔ مشکلات میں حاجت روائی کے لیے طالب دعا ہوتے۔ حضرت صاحب﷫ ہمیشہ شفقت فرماتے۔ حضرت کی دعاؤں سے ظفر جٹ صاحب کی ترقی بھی ہوئی اور حضرت نے جٹ صاحب کے اصرار پر انہیں ’’اسم اعظم‘‘ بھی تعلیم فرمایا۔ حضرت قمر رضا صاحب نور اللہ مرقدہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران کراچی میں اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خاں مدظلہ العالی کے یہاں مقیم رہے۔ تاہم اپنے والد محترم (مفسر اعظم حضرت علامہ ابراہیم رضا جیلانی میاں قدس سرہٗ) اور والدۂ محترمہ دونوں کے پھوپھی زاد بھائیوں یعنی محترم شہید اللہ خان صاحب۱ طول اللہ عمرہ
1👍1
اور سعید اللہ خان صاحب دام برکاتہم سے ملاقات کے لیے ملیر اور شاہ فیصل کالونی تشریف لے جاتے تھے۔

علاوہ ازیں دارالعلوم امجدیہ، میمن مسجد کھوڑی گارڈن، دارالعلوم نعیمیہ، شمس العلوم جامعہ رضویہ کے علاوہ دیگر اداروں میں علماء و عوام سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ بعض مقامات پر بڑے بڑے جلسۂ عام سے خطاب فرمایا۔ مخدوم اہلسنّت حضرت علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری مدفیوضہم وبرکاتہم کی درخواست پر میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں بھی خطاب فرمایا۔

برادر طریقت محترم ڈاکٹر معین نوری﷫ کے یہاں شاہراہ فیصل پر بہت بڑا جلسۂ عام منعقد ہوا تھا، اس سے حضرت قمر رضا﷫ نے والہانہ خطاب فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں میمن مسجد بولٹن مارکیٹ، جامع مسجد گلزار حبیب سولجر بازار(حضرت مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی صاحب) کے یہاں بھی حضرت اجتماع جمعہ میں تشریف لے گئے تھے۔ خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع صاحب اوکاڑوی﷫ کے مزار پر انوار کی حاضری اور جمعۃ المبارک کے اجتماع میں تقریر دلپذیر فرمائی۔ نیز نماز جمعہ کی امامت بھی آپ نے فرمائی، مگر لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں فرمایا۔ فراغت نماز اور صلوٰۃو سلام کے بعد رخصت ہوتے وقت مولانا کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا چاہا، تو حضرت علامہ قمر رضا خان﷫ نے قبول نہیں فرمایا۔ کراچی میں چند مزارات اولیاء اللہ مثلاً حضرت عبداللہ شاہ غازی بابا، حضرت سیّد یوسف المعروف قطب عالم شاہ بخاری﷫ کے دربار میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔

دارالعلوم قادریہ سبحانیہ شاہ فیصل کالونی میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں طلباء کی دستار بندی کی تقریب بھی ترتیب دی گئی تھی۔ دارالعلوم کے مہتمم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مفتی عبدالسبحان قادری﷫ اور نائب مہتمم حضرت علامہ مفتی عبدالعلیم قادری صاحب مدظلہ العالی نے حضرت علامہ قمر رضا صاحب کا زبردست خیر مقدم کیا اور حضرت صاحب﷫ نے عشق رسول ﷺ اور اعلیٰ حضرت قدس السرہ پر نہایت جذباتی تقریر فرمائی۔

درالعلوم میں بھی اکثر طلباء حلقۂ ارادتمندی میں داخل ہوئے، جبکہ بعض اساتذہ کرام، آپ سے طالب ہوئے۔ بعض علماء آپ کے ذریعے اعلیٰ حضرت قدس السرہ سے نسبت استوار کرنے کے لیے حصول خلافت کے لیے خواستگار ہوئے تو آپ نے منع نہیں فرمایا لیکن جسے اہل سمجھا اسے خلافت عطا کی۔ مفتی عبدالسبحان قادری﷫ نے چند ملبوسات تیار کروارکر نذر کیے۔ ایک بڑی کمپنی جو کمبل بناتی تھی، اس کے مالک نے بھی آپ سے بیعت کی۔ آپ﷫ سے خاصی بڑی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ پاکستان میں مرید ہوئے۔ یہ وقت رشد وہدایت کے آغاز کا تھا کیونکہ 1984ء میں تحسین العلماء استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت تحسین رضا خان﷫۱ نے سلسلہ رضویہ برکاتیہ کے فروغ کے لیے اسی انداز میں خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، جیسا کہ خانوادہ اعلیٰ حضرت قدس السرہ کی روایت رہی ہے۔ حضرت قمررضا﷫ نے علامہ تحسین رضا قدس السرہ العزیز سے نقش مربع و مثلث لکھنے و بھرنے کے طریقے سیکھے علاوہ ازیں خانوادۂ اعلیٰ حضرت﷫ میں مروّجہ و مجرب نقوش و تعویزات لکھنے کی خصوصی تعلیم حاصل کی۔

قیام پاکستان کے دوران آپ کی سادگی اور بھولپن کا عالم یہ تھا، کہ ہمشیرہ۱ محترمہ یعنی اپنے برادر نسبتی حضرت شوکت حسن خان کے دولت خانہ واقع فیڈرل بی ایریا بلاک ۱۲ میں قیام فرما تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت، آپ ہی کی وجہ سے بڑھی ہوئی تھی، چائے وغیرہ کی تیاری میں دودھ جلد ہی ختم ہو جاتا تھا آپ اپنے برادر نسبتی کو دودھ لانے کی زحمت نہ دیتے بلکہ آپ خود بھینس کے باڑے پر جاکر دودھ لے آیا کرتے تھے۔

آپ اپنی پرمزاح گفتگو اور بذلہ سنجی کے حوالہ سے بھی معروف تھے۔ یوں آپ کی شخصیت کے گوناگوں پہلو پر اُسے قلم اُٹھانا چاہیے جو قیام میں اور سفر میں آپ کے ساتھ رہا ہو۔ کیا ہی اچھا ہو ؟ کہ حضرت مولانا محمد عمر رضا صاحب سلمہٗ و زید مجدہٗ، اپنے والد گرامی مرحوم پر جامع انداز میں سوانح عمری ترتیب دیں۔ فقیر راقم الحروف نے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کے باوصف جو لکھا ہے، اسے پذیرائی حاصل ہو تو، فقیر کے لیے صلۂ عظیم ہوگا۔

شہر خموشاں کے مسافر

وہ چمکتا دمکتا رضا کا قمر

یعنی حضرت ریحان ملت اور حضرت تاج الشریعہ کے برادر صغیر حضور صاحب سجادہ کے عم محترم

افق رضویت کے قمر منیر ، شہزادۂ مفسر اعظم ہند

از : حضرت مفتی محمد سلیم بریلوی مدظلہ العالی۱

استاذ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف

مجدد اعظم ، امام اہلسنّت، سیدی سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ جیسے عاشق صادق اور صاحب کشف و کرامت بزرگ نے نہ جانے کون سی مقبولیّت کی گھڑی میں فرمایا تھا کہ

، حامد منی انا من حامد حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں

کیونکہ اس شعر کے ہر ہر لفظ کی معنویت و واقعیت کو آج ہم خانوادۂ رضویہ اور نسل حجۃ الالسلام کے ہر ہر فرد کے اند رمحسوس پیکر میں دیکھ رہے ہیں اس وقت افق رضویت پر اسلام و سنّیت کے حجت قاہرہ بن کر چمکنے والے سارے ماہ و نجوم کا تعلق شہزا
👍21
دۂ حجۃ الاسلام حضرت مفسر اعظم ہند علامہ محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں﷫ کی ذات والا تبار سے ہے۔

موجودہ دور میں سرکار اعلیٰ حضرت کی جو نسل مبارک پائی جاتی ہے وہ حضور مفسر اعظم ہند کی اولاد ہی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ سرکار مفسر اعظم ہند﷫ کی سب سے عظیم کرامت اور سب سے بڑی خاصیّت یہی ہے کہ آپ نے اپنی اولاد اور اپنے تمام فرزندان کی علمی و روحانی ایسی مثالی تربیت فرمائی کہ ان کا ہر فرزند سرکار اعلیٰ حضرت کے مشن ’’مشن تحفظِ ناموس رسالت‘‘ اور سرکار اعلیٰ حضرت کی تحریک ’’تحریک تحفظ عظمت اولیاء‘‘ کا عظیم علم بردار اور بہادر نڈر جرنیل بن کر مذہب اہلسنّت اور مسلک اعلیٰ حضرت کا محافظ و پاسبان بن کر ’’حامد منی انا من حامد‘‘ کی عملی تفسیر بن گیا۔ چنانچہ کسی نے اسلام اہلسنّت کا مسحور کن ’’ریحان ‘‘ بن کر جماعت اہلسنت کے مشام جاں کو معطر کیا تو کوئی ’’اختر‘‘ بن کر آج اہلسنّت کے ہر عام و خاص پر اپنی علمی و روحانی چمک دمک کے ساتھ سایہ فگن ہے، کسی نے افق رضویت کا درخشاں ’’قمر‘‘ بن کر ضلالت و گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں میں ’’مصباح راہب‘‘ اور مینارۂ نور کی صورت میں رشد و ہدایت کا عظیم کارنامہ انجام دیا تو کوئی ’’منان‘‘ بن کر بریلی و دہلی میں علوم و فنون کی قندیلوں کو روشن کر رہا ہے۔

سرکار اعلیٰ حضرت کے اسی مشن تحفظ ناموس رسالت کے ایک عظیم قائد کا نام تھا شہزادہ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا محمد قمر رضا خاں جو جماعت اہلسنّت کو روتا، بلکتا چھوڑ کر مورخہ ۵ شعبان المعظم ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۶ جون ۲۰۱۲ء بروز منگل بوقت تقریباً ۵ بجے صبح اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔

اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ

۱آپ حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی اولاد نرینہ میں چوتھے نمبر کے فرزندہیں، حضور مفسراعظم جیلانی میاں﷫ کے فرزند اکبر ریحان ملت حضرت محمد ریحان رضا خاں﷫ (المعروف رحمانی میاں) منجھلے فرزند حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں (المعروف ازہری میاں مدظلہ العالی ) تیسرے نمبر پر حضور قمر ملت ڈاکٹر محمد قمر رضا خاں چوتھے نمبر پر مولانا منان رضا خاں (المعروف منانی میاں)۔

آپ حضور تاج الشریعہ سے عمر میں چھ برس چھوٹے تھے،آپ تاج الشریعہ کی طرح نجیب الطرفین (یعنی باپ اور ماں دونوں کی طرف سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے نسب ) ہیں۔۱۲

۲ آپ کی ولادت 10ربیع الآخر 1325ھ /1907ء میں رضا نگر محلہ سوداگراں بریلی شریف میں ہوئی، حضرت حجۃ الاسلام کے گھر میں یہ پہلی ولادت ہوئی ،اس لیے خاندان کے ہر فرد کو بےحد خوشی ہوئی، ابتدائی تعلیم کا آغاز دارلعلوم منظر اسلام کی آغوش میں کیا، آپ کو بیعت و خلافت اعلیٰ حضرت سے حاصل ہے۔ آپ کا وصال بعمر 60 سال صبح 11 صفر المظفر 1385ھ/12جون 1965ء کو ہوا۔

۳ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا 1292ھ/ 1892ء بریلی میں پیدا ہوئے، آپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد اعلیٰ حضرت﷜ سے حاصل کیے۔ 1323ھ/ 1905ء میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ زیارت حرمین شریفین اور حج کی سعادت سے مشرف ہوئے اور شیخ محمد سعید بالبصیل اور شیخ محمد برزنجی کے حلقہ درس میں شریک ہوئے اور اسناد سے نوازے گئے۔ حضرت علامہ خلیل خربوطی نے سند فقہ حنفی عطا فرمائی جو علامہ سید طحطاوی سے انھیں صرف دو واسطوں سے حاصل تھی۔

دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث کا منصب سنبھالا۔ بیعت و خلافت حضرت سیّدنا ابوالحسین احمد نوری قدس سرہٗ سے حاصل ہے۔ درجنوں کتابیں آپ کی یادگار ہیں۔ 17 جمادی الاولیٰ1362ھ/ 1943ء دوران نماز آپ کا وصال ہوا۔ روضۂ اعلیٰ حضرت﷜ کے مغربی جانب گنبد رضا میں مدفون ہوئے۔

معروف محقق عبدالحق انصاری لکھتے ہیں:

اعلیٰ حضرت﷜ ہندوستان کے شہر بریلی میں 1272ھ/ 1856ء میں پیدا ہوئے۔ اور 1340ھ/ 1921ء کو وہیں وفات پائی۔ فقیہ حنفی، مسند، نعت گو شاعر، قادری مرشد، کثیر التصانیف تھے۔

آپ کے پانچ اوصاف و خدمات قابل ذکر ہیں:

پہلی:

قرآن مجید کا اردو ترجمہ کیا جسے مقبولیت ملی اور کسی حکومت کی مالی معاونت و سرپرستی کے بغیر وسیع اشاعت ہوئی۔

دوسری:

اپنے دور کی اسلامی دنیا میں عالی الاسناد شخصیت تھے۔

تیسری:

اردو کی نعتیہ شاعری میں گراں قدر اور بے مثل اضافہ کیا۔

چوتھی:

فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار کے محشی دمشق کے علامہ سیّد محمد امین بن عمر ابن عابدین﷫ (وفات1252ھ/ 1836ء) کے بعد آج تک کی اسلامی دنیا میں ان کے درجہ کا کوئی فقیہ حنفی ہمارے علم میں نہیں۔

پانچویں:

بارہویں صدی ہجری میں جنم لینے والی وہابی تحریک کے تعاقب میں فعال پوری اسلامی دنیا کی اہم و نمایاں شخصیت میں سے تھے۔

آپ کے حالات اردو وغیرہ زبانوں میں بآسانی دستیاب ہیں، علاوہ ازیں فتاویٰ رضویہ 33ضخیم مجلدات میں فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا بھی آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔

رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کی ولادت مسلح جمادی الآخر یا غرہ رجب 1246ھ مطابق 1830ء کو بریلی کے محلہ ذخیرہ میں ہوئی،آپ
👍21
نے جملہ علوم و فنون کی تعلیم اپنے والد ماجد امام العلماء مولانا رضا علی خان سے حاصل کی ، آپ ایام طفلی سے ہی پرہیزگار ، متقی اور علم وعمل کے بحر ذخار تھے ، آپ کی ذات مرجع خلائق وعلماء تھی، کثیر علوم میں تصانیف مطبوعہ وغیر مطبوعہ آپ کے علم و فضل کی شاہد ہیں،آپ نے سیّدنا شاہ آلِ رسول قادری برکاتی مارہروی سے شرف بیعت و خلافت حاصل کی۔آپ نے 1297ھ تک فتویٰ نویسی کا گراں قدر فریضہ انجام دیا،آپ کا خونی اسہال کے عارضہ میں ذیقعدہ 1297ھ /1880ء کو وصال ہواجسے علماء نے شہادت سے تعبیر کیا۔

امام العلماء مولانا رضا علی خان 1224ھ میں بریلی میں پیدا ہوئے ، آپ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل 1347ھ میں مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری سے حاصل کی ،آپ مولانا فضل الرحمٰن گنج مرآبادی سے بیعت تھے اور اجازت و خلافت مولانا خلیل الرحمن ولایتی رامپوری سے تھی ، فقہہ میں آپ کو دسترس خاص حاصل تھا ، 1816ءمیں آپ نے مسند افتاء کو رونق بخشی اور 1246ھ/ 1831ءمیں سرزمین بریلی پر مسند افتاء کی بنیاد رکھی اور چونتیس سال تک فتویٰ نویسی کا کام بحسن خوبی انجام دیا، آپ نہایت منکسر المزاج تھے، آپ کی تقریر انتہائی موثر ہوتی ، بڑے تقویٰ شعار،زہد وقناعت اور تجرید جیسے اوصاف حمیدہ میں بھی آپ ممتاز تھے، آپ کا وصال بعمر باسٹھ سال 6 جمادی الاول 1286ھ میں ہوا ، اوربریلی میں قبرستان بہاری پور سول لائن آپ کی آخری آرامگاہ ہے۔

حضرت قمر رضا صاحب﷫ کے متعلق ڈاکٹریٹ اور PHD کی ڈگری منسوب کی گئی ہے جو غلط فہمی کی وجہ سے شہرت پاگئی۔ لہٰذا یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔

مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفے رضا خان بریلوی 22ذی الحجہ 1310ھ/7 جولائی 1893ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے، 25 جمادی الثانی 1311ھ چھ 6ماہ تین یوم کی عمر میں حضرت شاہ سید ابوالحسن نوری قدس سرہٗ نے داخل سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، آپ نے 1328ھ/1910ء میں بعمر 18 سال جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے دارالعلوم منظر اسلام سے تکمیل و فراغت پائی ، اور فتویٰ نویسی کی مسند کو رونق بخشی، آپ 92سال کی عمر میں 14 محرم 1402/12نومبر 1981ء رات 1بجکر 40منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

صدرالعلماء علامہ تحسین رضاخان بریلوی 4شعبان 1930ء میں پیدا ہوئے،آپ اعلیٰ حضرت کے برادر اصغر مولانا حسن رضا خان متوفی 1326ھ/1908ء کے پوتے ہیں، آپ شعبان 1375ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس آئے۔ 1949ء میں مولوی ، 1950ء میں عالم ، 1951ءمیں منشی ، 1952ء میں فاضل ادب1954ء میں کامل کے امتحانات دیئے،آپ 1943ء میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور 1980ھ میں حضور مفتی اعظم نے اجازت و خلافت سے نوازا،آپ کا وصال 1427ھ/ 2007ءمیں ہوا۔

ملازمت:

ابتداء سوداگران سے متصل ایک پرائمری اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر تقرر عمل میں آیا، اس کے بعد بھیم تال نینی تال میں تعلیم دی،پھر اہلسنّت کی کتابوں کو طبع کرنے کیلئے آفسیٹ پریس لگائی۔

بحوالہ :

ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012ء، رمضان 1433ھ، صفحہ 58۔ ۱۲منہ

رہائش:

آپ کی رہائش حضور مفسر اعظم جیلانی میاں کی رہائش گاہ میں محلہ خواجہ قطب میں رہی اور یہیں پر پہلے حضور تاج الشریعہ بھی رہے، یہ محلہ سوداگران محلہ سے قریب ہی تقریباً ایک کلو میٹر(دس منٹ) کی مسافت پر ہے۔۱۲

آپ نے اپنی زندگی میں تین حج ادا فرمائے اور متعدد مرتبہ عمرہ کی بھی سعادت حاصل کی، بلکہ اس سال (1433ھ) ماہ رمضان میں بھی جانے والے تھے۔

سب سے پہلی مرتبہ 1990ء میں عمرہ کے لئے حاضر ہوئے، عمرہ کی دائیگی کے بعد عراق کا سفر کیا جس میں بغداد شریف اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف ملا، پہلا حج 1993ء میں ادا کیا، دوسرا حج 2001ء اور تیسرا حج 2002ء میں ادا کیا۔بروایت مولانا عمر رضا: ہندوستان کا کوئی ایسا صوبہ نہیں جہاں ابّا جی قبلہ نے تبلیغی سفر نہ کیا ہو۔۱۲

حضور قمر ملت نے متعدد بار جمعہ مبارک و عیدین ’’رضا مسجد‘‘ بریلی شریف میں پڑھایا۔۱۲

اعلیٰ حضرت نے اپنے شہزدۂ اکبر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں کی پیدائش پر نام حامد رضا زبر بینہ کے تحت 1362ھ نکالا اور یہی آپ کا سن وصال ٹھہرا۔۱۲

بروایت جانشین و شہزادہ ٔ اکبر حضور قمر ملت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:

وصال سے چند ہی ماہ قبل کرناٹک میں حافظ قلندر صاحب گلشن رضوی رائے پور کی دعوت پر حضرت تشریف لائے ، میزبان کو اللہ عزوجل نے اولاد نرینہ عطا فرمائی سو حضرت کی علم الاعداد اور تاریخ گوئی کے فن پر مہارت کو مد نظر رکھتے ہوئے میزبان نے بچے کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی جس پر حضرت نے مختصر غور کے برجستہ فرمایا کہ میرا ہی نام محمد قمر رضا 1433ھ سال پر ہے۔ سبحان اللہ۔۱۲

بروایت جانشین و شہزادۂ اکبر حضور قمر مل
👍21
ت ، مولاناعمر رضا خاں صاحب مدظلہٗ:

ایک بار ’’بلیا‘‘گاؤں مظفر پور ضلع بہار سے حضرت کا گزر ہوا جہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جس کا رخ مسلمانوں کے علاقے کی طرف تھا ، حضرت نے اپنی چھڑی مبارکہ سے اس دریا کی طرف اشارہ کیا اور زیر لب کچھ پڑھا جس پر دریا کا رخ تبدیل ہو کر غیر مسلموں کے علاقے کی طرف ہوگیا جو کہ اب تک اسی طرح موجود ہے، حضرت کی اس زندہ کرامت کو دیکھ کر بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔۱۲

قریب تین سال سے سینے میں پانی بھی بھر گیا تھا ،ان تمام بیماریوں کے باوجود زندگی کا اکثر حصہ سفر فرمایااور وصال سے قبل بھی سفر ہی میں تھے کہ طبیعت خراب ہوئی اور بریلی شریف تشریف لے آئے۔۱۲

لہٰذا جس ڈاکٹر کے آپ زیر علاج تھے اس کے مطب میں لے جاکر دکھایا گیا۔۱۲

حضور تاج الشریعہ کی عادت مبارک کہ موبائل فون رات میں بند رکھتے اور بعد فجر بھی مگر اس دن فجر کے فوری بعد اپنا فون آن کرلیا اور فرمانے لگے کہ طبیعت کچھ بے چین سی ہورہی ہے اتنے میں فون پر اطلاع موصول ہوئی ۔۱۲

۱ سجادہ نشین درگاہ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی سبحان رضا خان سبحانی میاں۔

ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست2012 ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۶۰۔

نماز جنازہ میں اجتماع کثیر تھا ، ایسا معلوم ہوتا جیسا کہ عرس اعلیٰ حضرت پر لوگوں کا ہجوم ہو ، دُور دَراز سے لوگ جنازے میں شریک ہوئے یہاں تک کہ بہار سے بریلی تک ٹرین کا سفر 18 گھنٹے ہے، لوگ موٹر سائیکل پر چلے آئے۔۱۲

جنازہ کے بعد تاج الشریعہ بڑے افسردہ تھے اور لیٹ گئے اور اپنے بھائی کی جدائی کا گہرا اثر آپ پر ہوا، حضور قمرِ ملّت ، حضور تاج الشریعہ کا خوب ادب فرماتے یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی خوب تاکید فرماتے۔۱۲

آپ کے شہزادگان کی گزارش پر حضور صاحب سجادہ نے آپ کی تدفین کے لئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہ یقیناً ایک فرزند کیلئے بے حد خوش نصیبی اور خوش بختی کی بات ہے کہ آپ کی آرام گاہ والد اور والدہ کے بالکل درمیان اور وسط میں ہے، داہنی اور مغربی جانب حضور مفسر اعظم ہند کی تُربت ہے اور بائیں اور مشرقی جانب آپ کی والدہ کی تُربت ہے۔

۱۲ بحوالہ : ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433، صفحہ ۵۹۔

[1]۔ ماہنامہ رضائے مصطفی ، گوجرانوالہ، شوال المکرم1433ھ، اگست 2012ء

۱ حیات مفسر اعظم ہند:۱۳، مفتی عبدالواجد قادری بحوالہ: حضرت مولانا محمد ابراہم خوشتر صدیقی﷫، تذکرۂ جمیل صفحہ ۲۰۶۔

المرجع السابق۔ ۱ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، (ایٹمی سائنسدان) ’’سحر ہونے تک‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں شائع ہونے والے کالم کا حوالہ۔

۱ شمائل الرسول صفحہ۱۴۴، بحوالہ ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلد:۵، صفحہ ۷۱۰۔

پارہ:۲۷، القمر: ۱ تا ۳۔

کنزالایمان۔

رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین، جلد:۱۰، صفحہ:۴۹۳۔

امام ابن جریر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن، جلد یاز دھم:۵۴۴ تا ۵۴۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت 1426ھ/ 2005ء۔

تفسیر روح البیان، جلد۹: ۳۱۳، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت۔

مسلم شریف جلد دوم:۳۷۳، ترمذی، دوم: ۶۳۶۔

علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی﷫، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد ہفتم، صفحہ۷۷۔

تفسیر روح المعانی، ۲۷: ۷۵۔

۱ ابی محمدحسین الفرأ البغوی﷫ (متوفی516ھ/ 1122ء) تفسیر معالم التنزیل، جلد:۶، صفحہ: ۲۲۶۔

حضرت صوفی علاء الدین علی بن محمد بغدادی المعروف خازن﷫ (متوفی 725ھ/ 1325ء) تفسیر لباب التأویل فی معانی التنزیل جلد:۶، صفحہ ۲۲۶۔

حضرت شاہ رؤف احمد رافت مجددی﷫ آل مجدد الف ثانی (متوفی 1249ھ/ 1833ء)

تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹۔

۲ تفسیر رؤفی جلد دوم صفحہ ۳۱۹ میں ہے کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز ایک عبارت میں علمی نکتہ یہ ہے کہ ’’جب خوب سب نے دیکھ لیا تو پھر سرکار علیہ السلام نے جب تک دوبارہ انگشت شہادت کا اشارہ نہیں دیا، اس وقت تک شگافتہ قمر کامل نہیں ہوا‘‘۔

۱ حضرت علامہ علی بن برہان الدین الحلبی شافعی﷫ (متوفی 1044ھ/ 1634ء) انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون، اول: ۳۰۷۔ اس کتاب کو ’’سیرۃ حلبی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی کتاب میں ہے کہ، بابا رتن الھندی کے لیے بعض علماء کہتے ہیں: ’’یہ شخص طویل العمر یعنی 600 سال کے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا، کہ میں نے رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت بھی کی تھی اور آپﷺ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام بھی ہوا تھا‘‘۔ اگرچہ امام ذھبی، امام عسقلانی نے اپنی کتب اسماء الرجال بالترتیب، ’’میزان الاعتدال‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ میں متذکرہ شخص کے لیے کذاب کا قول بیان کیا ہے۔

۲ راجہ بھوجپال یا بھوج پانڈے اپنے محل کی چھت پر تھا، جب اُس نے چودھویں شب میں ’’معجزہ شق القمر‘‘ دیکھا تھا، یہ راجہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نے اپنے بیٹے کو عرب بھیجا تھا، جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اپنے باپ کی جانب سے تحائف پیش
1👍1
کیے۔ اس کا اسلامی نام حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے محی الدین یا کمال الدین رکھا اور بطور معلم حضرت عبداللہ کو بھیجا تھا۔ ان سب کے مزارات دھار /دحار میں ہے، جو مراٹھی راجاؤں (Marhathia Princely State) کا دارالخلافہ تھا اور دریائے چنبل کے کنارے آباد تھا۔ یہیں حضرت عبداللہ چنگال﷜ اور شیخ کمال الدین مالوی﷫ کے مزارات ہیں۔ حوالہ کے لیے: ’’تاریخ فرشتہ‘‘ بک ٹاک، چہارم:۱۳۹۔ وکی پیڈیا عنوان راجہ بھوج۔ دحار۔ صفحہ ۳، ۴۔ نواب شاہجہاں بیگم شیریں: تاج الاقبال، تاریخ ریاست بھوپال بحوالہ: اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، جلد:۵، صفحہ ۳۴۴۔ یہ حوالہ محض بیگم بھوپال کی لکھی ہوئی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے جس کی نشاندہی ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے مضمون شائع شدہ جنگ کراچی میں کی تھی۔

سوانح الحرمین کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ جلد دہم صفحہ۴۹۶ اور ’’سوانح الحرمین‘‘ ہی کے حوالہ سے حضرت علامہ عبدالحلیم حنفی لکھنوی﷫ (متوفی1285ھ/ 1868ء) نے ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے صفحہ ۶۹ پر مدھیہ پردیش یعنی وسط ہندوستان میں مالوہ کی ریاست (بھوپال) کے راجہ کے اسلام لانےا ور اسلامی نام عبداللہ رکھنے کا ذکر کیا ہے۔

جنوبی ہند کی ریاست پلاوا (مالا بار) کے راجہ چیرومان پیرومل نے چودھویں شب 617ء بمطابق 8 نبوی، ’’معجزہ شق القمر‘‘ اپنے محل کے اندر تالاب میں نہاتے ہوئے تالاب کے پانی میں دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہندو مت اور بدھ مت میں چودھویں شب (بدر کامل کی رات) ’’پویاڈے‘‘ مناتے ہیں۔ یہ فقیر نسیم صدیقی کی تحقیق اور مشاہدہ بھی ہے۔ اس ضمن میں کولمبو، کیرالہ اور مدراس کے اہل علم نے راہنمائی کی۔

کیرالہ کے حضرت علامہ محمد فاضل قادری مدظلہ العالی نے خصوصاً راہنمائی فرمائی۔ راجہ چیرومان پیرومل کا اسلامی نام رسول اکرمﷺ نے عبدالرحمٰن رکھا تھا۔ انھوں نے کرناٹکہ کے صدر مقام منگلور کے قریب ’’کڈنگلور‘‘ اور ’’کاسرگوڈ‘‘ پر (بیرون عرب) دنیا کی پہلی مسجد 629ء/ 8ھجری میں قائم کی۔ پھر اس کے بعد اسی مقام کے قریب ہند کی دوسری مسجد ’’مالک بن دینار‘‘ قائم ہوئی۔

یہ راجہ چیرومان پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی بارگاہ عظمت پناہ میں حاضر ہوئے تھے، صحابیت کا شرف حاصل ہوا۔ اپنی ریاست واپسی کے لیے آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے ہندوستان آ رہے تھے کہ اثنائے راہ ’’یمن‘‘ کی بندرگاہ (اب ’’عمّان‘‘ کی بندرگاہ) ’’ظفار یا ضفار‘‘ کے مقام پر وصال بہ کمال فرمایا اور یہیں تدفین عمل میں آئی، اب بھی راجہ عبدالرحمان کا مزار پر انوار ’’ظفار/ ضفار‘‘ میں موجود اور مرجع خلائق بھی ہے۔ مالابار (جنوبی ہند کے پلاوا شاہی خاندان) کے تمام حکمران اپنے راجہ (چیرومان) کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے انتظار میں ’’راجہ عبدالرحمٰن‘‘ کے نائب السلطنت کے منصب کا حلف 1947ء تقسیم ہند تک اُٹھاتے رہے ہیں۔ اور یہ اقرار لازمی کرتے تھے کہ ہم راجہ عبدالرحمٰن کے نائب ہیں، راجہ صاحب کے عرب سے واپس آتے ہی ہم حکمرانی ان کے سپرد کردیں گے۔ رانا سرور خاں صاحب نے ’’مذاہب عالم‘‘ کے حوالہ سے ’’سیرت سرور کونین‘‘ کی جلد دہم صفحہ ۴۹۳ پر لکھا ہے۔ مزید ’’کیرالہ میگزین 1948ء‘‘ اور ’’تاریخ ازبکستان‘‘ مؤلف سیّد کمال الدین احمد سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

۲ محمد قاسم فرشتہ مؤرخ، تاریخ فرشتہ مترجم عبدالحئی خواجہ، ڈاکٹر عبدالرحمٰن دوست ایسوسی ایٹس پبلشرز فقیر راقم الحروف کے زیر استعمال ’’ضیائی ریسرچ لائبریری‘‘ میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دو نسخے موجود ہیں، ایک نسخہ دو جلدوں میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا شائع کردہ ہے جبکہ دوسرا نسخہ بک ٹاک لاہور نے چار جلدوں میں شائع کیا ہوا ہے۔ دونوں نسخوں میں اجمالاً واقعہ کا ذکر ہے۔ قیاس ہے کہ جدید نسخوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ہم نے جو تفصیل رقم کی ہے وہ محترم فاضل جلیل حضرت حامد علی علیمی زید مجدہٗ نے اپنے تحقیقی و علمی مواد میں پیش کی ہے، یہ تفصیل، علامہ عبدالحلیم بن امین اللہ لکھنوی﷫ کی تصنیف ’’نظم الدرر فی سلک شق القمر‘‘ کے ترجمہ و تخریج و حواشی کے تحت درج کی ہے۔ البتہ تاریخ فرشتہ جلد چہارم (بک ٹاک) کے صفحہ ۵۶۲ پر راجہ سراندیپ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذکر ہے۔

۱ واضح رہے کہ ہم کسی شخصیت کو نامزد کرکے تکفیر نہیں کر رہے بلکہ اجماع اُمت بیان کر رہے ہیں کہ نص قرآنی کا انکار کرنے والا ’’ کافر‘‘ ہوتا ہے۔

۱ امام شیخ محمد طاہر بن عاشور (المتوفی1393ھ/ 1973ء)، تفسیر التحریر والتنویر، جز۲۷: ۱۶۸/ ۱۷۰، مطبوعہ تیونس۔

۲ المرجع السابق۔

نابغۂ فلسطین علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی﷫، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّد المرسلین ص۶۵۵۔

۱ سلیمان ندوی، خطبات مدراس۔

سیّد محمد قاسم محمود، اسلامی انسائیکلوپیڈیا جلد دوم صفحہ۱۰۶۸، مطبوعہ لاہور۔

خالد عرفان، نعتیہ مجموعہ ’’الہام‘‘۔

جس میں ’’نیل آرمسٹرانگ‘‘ بھی شامل تھا۔ جو قاہرہ، مصر میں مسلمان ہوگیا
1👍1
تھا، کہ اُس نے چاند پر ایک آواز سنی تھی ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً الرَّسُوْلَ اللہِ‘‘... اور ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ اور جب یہی آواز قاہرہ میں مسجد سے ہونے والی اذان میں سنی، تو وہ مسلمان ہوگیا۔

حضرت سیّدنامحمد شریف المدنی﷫ مدینۃ المنورہ کے مشائخ میں تھے، ۴۰۰ سال قبل رسول اکرمﷺ نے خواب میں حکم فرمایا کہ جنوبی ہند جاؤ، حضرت سیّدنا محمد شریف المدنی﷫ سمندر کے قریب آئے اور اپنا ’’مصلی‘‘ پانی میں ڈال کر بیٹھ گئے، اور پھر منگلور انڈیا پہنچ گئے۔ حضرت کے فیوضات و کرامات کا چرچا زبان زدِ عام ہے۔ آپ کے عرس میں دس لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں، اجمیر شریف کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ منگلور کے قریب ’’اُللّال شریف‘‘ (Ullal)، میں حضرت شریف المدنی﷫ کا مزار پُر انوار ہے۔ بحر عرب کے کنارے جنوبی ہند کے مشرقی گھاٹ (Eastern Ghots) مزار شریف سے متصل پانی کا کنواں ہے، جس کا پانی شفاف اور میٹھا ہے، بلکہ مختلف امراض میں باعث شفا بھی ہے، گونگے اور بہرے آتے ہیں شفایاب ہوکر واپس لوٹتے ہیں۔ دور دراز سے معتقدین بکریاں (دیگر حلال مویشی) لنگر شریف کے لیے کسی محافظ و راہبر کے بغیر بھیجتے ہیں، اور چوری اور نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے بکرے، بکریاں، مزار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ راقم الحروف کے کرم فرما دوست فاضل جلیل حضرت علامہ محمد فاضل اختری مدظلہ العالی (جو کیرالہ میں مقیم ہیں) نے فرمایا، کہ حضرت محمد قمر رضا﷫ یہاں عرس کے اجتماع میں حاضر ہوئے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ حضرت محمد شریف المدنی﷫ کا عرس مبارک پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔

۱ یہ بزرگ، اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی خواہر نسبتی کے نبیرہ ہیں۔

محترم شہید اللہ خان صاحب مدظلہ العالی، برادر طریقت حضرت نعیم اللہ نوری مدظلہ العالی کے والد محترم ہیں۔ شہید اللہ صاحب اور سعید اللہ صاحب دونوں برادران، ڈاکٹر قمر رضا﷫ کے چچا (والد کی جانب سے) اور ماموں (والدہ کی جانب سے) ہوتے ہیں۔

حضرت تحسین رضا﷫ بن حضرت مولاناحسنین رضا بن استاذ زمن مولانا حسن رضا بن مولانا نقی علی خاں (والد گرامی اعلیٰ حضرت) جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف میں محدث کے منصب پر فائز تھے۔ علامہ تحسین رضا﷫ کی ولادت 14 شعبان 1349ھ/ 5 جنوری 1930ء یکشنبہ ہوئی، وصال بعمر 78سال 1427ھ/ 2007ء میں ہوا۔ آپ علمی حلقوں میں سیّد الاتقیا اور صدر العلماء سے معروف تھے۔

عفت مآب، نہایت صالحہ، زاہدہ و عابدہ خاتون تھی۔ امام المجاہدین و امیر المہاجرین سیّد السادات، منبع البرکات حضرت سیّدنا عبداللہ شاہ غازی بابا (جن کی شہادت 89ھ میں ہوئی) کے مزار پر انوار کے سایۂ بابرکت و احاطہ رحمت میں زوجہ حضرت شوکت حسن خان ابدی نیند آرام فرما رہی ہیں۔

۱ بشکریہ :ماہنامہ اعلیٰ حضرت، شمارہ 8، جلد 52، اگست 2012ء ، رمضان 1433ھ، صفحہ ۵۷۔

(تجلیاتِ قمر،انجمن ضیاء طیبہ)
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شہزادۂ خواجہ غریب نواز ، حضرت خواجہ فخر الدین ابو الخیر چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خاندانی حالات:
والد ماجد کی طرف سے آپ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی اولاد میں سے ہیں، پس آپ حسینی ہیں۔

والد ماجد:
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے آپ بڑے صاحب زادے ہیں۔

والدہ ماجدہ:
آپ بی بی امتہ اللہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔

۱؎ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت591ھ میں ہوئی۔

بھائی:
آپ کے دو بھائی تھے ۔ ایک حقیقی اور دوسرے سوتیلے، حقیقی بھائی کانام خواجہ حسام الدین ابو صالح ہے، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید آپ کے سوتیلے بھائی ہیں۔

بہن:
بی بی حافظہ جمال آپ کی حقیقی بہن ہیں۔

تعلیم وتربیت:
آپ نے اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں تعلیم و تربیت پائی۔

ذریعۂ معاش:
آپ موضع مانڈل میں کاشت کرتے تھے، ایک مرتبہ حاکم وقت نے کچھ مزاحمت کرناچاہی ۔ ۲؎ آپ نے اپنے والد خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے عرض کیا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز ایک کسان کی سفارش کے لئے دہلی تشریف لے جا رہے تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کے دہلی پہنچنے پر موضوع ماندن (ماندل) کی معافی کا فرمان آپ (حضرت خواجہ فخرالدین) کے حق مل گیا ہے ۔ ۳؎

وفات شریف:
آپ 5 شعبان661ھ کو رحمت حق میں پیوست ہوئے،بوقت وفات آپ کی عمر (70) ستر سال کی تھی، یہ بھی کہا جاتا ہےکہ آپ کا وصال حضرت خواجہ غریب نواز کی وفات کے بیس سال بعد ہوا ۔ ۴؎ مزار پر انوار سردار میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے، آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام سے ہر سال ہوتا ہے۔

سیرت پاک:
آپ صاحب نسبت اور صاحب عظمت بزرگ ہیں ۔ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی سے آراستہ تھے، آپ دنیا سے بے نیاز تھے، عشق الٰہی میں سرشار تھے۔

حواشی:
۱؎ " معین الہند " از ڈاکڑ ظہور الحسن شارب ص۱۹۱،۱۱۱

۲؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۱۰۵

۳؎سیرالاولیاءص۵۳،جامع الکلام ص۲۰۷

۴؎اخبارالاخیار(اُردوترجمہ)ص۱۰۵

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-abul-khair-chishti
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سید الشہدا، نواسۂ رسول، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک، ریحانۃ الرسول ﷺ، سبط الرسول ﷺ ۔ شہید، سید، التابع المرضات اللہ ۔

سلسلہ نسب:
امام حسین بن امیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالیٰ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت پانچ شعبان المعظم /5 ھ، بمطابق 8/جنوری 626ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

سیرتِ مبارکہ:
علم و عمل، زہدو تقوٰے، جود و سخا، شجاعت و قوت، اخلاق و مروّت، صبر و شکر، حلم و حیا وغیرہ صفات کمال میں بوجہ اکمل اور مہمان نوازی، غرباء پروری اعانتِ مظلوم، صلۂ رحم، محبتِ فقراء و مساکین میں شہرہ آفاق تھے ۔ پچیس حج پا پیادہ کیے، دن رات میں تین ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے، اور کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے ۔

آپ اتنے با جمال تھے کہ جب تاریکی میں بیٹھتے تو آپ کی پیشانی اور رخساروں کی روشنی سے راستے منور ہو جاتے تھے۔ آپ سینہ سے لے کر پاؤں تک مشابہ بہ جسم رسول پاک ﷺ تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء ص:73)

فضائل و مناقب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "حسین منی وانا من الحسین احب اللہ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط" ۔ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص کو محبوب رکھتا ہے، جو حسین سے محبت رکھے، حسین (میری) اولاد میں سے ایک فرزند ارجمند ہے ۔ (جامع ترمذی:3774)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہم انی احبہ فاحبہ یعنی الحسین"۔اے اللہ میں اس حسین سے محبت کرتا ہوں، تو بھی حسین سے محبت فرما ۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج:5:105)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "من احب الحسین فقداحبنی" جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔(مسند امام احمد بن حنبل)

کون حسین:
سیدالشہداء، راکب دوشِ مصطفٰی ﷺ، شہسوارِ کرب و بلا، شہزادہ گلگوں قبا، نواسہ امام الانبیاء ، نورِ جانِ خیر النساء۔پر تو ِشجاعت مرتضیٰ برادرحسنِ مجتبٰی امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ۔

آپ بلا شبہ سرخیل عابداں ہیں، اور ایسے عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے ۔ جو انتہائی بے کسی کے عالم میں بھی شبِ عاشورہ اپنے خیمہ میں خدائے لا یزال کی عبادت میں اس طرح گزاردی کہ دل میں خیال سو دو زیاں نہ تھا۔

حسین ۔۔۔ وہ عابد باکمال ہے
جو اپنے جسم پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے ان گنت زخم کھانے کے باوجود بارگاہِ ایزدی میں تپتی ہوئی ریت پر اپنی جبین کو سجدے میں رکھ کر نہایت پر سکوں دکھائی دے رہا تھا۔

ابن زہراء ۔۔۔ وہ محسن اسلام و انسانیت ہے جو بے سر و سامانی کے عالم میں کئی دن کی بھوک اور پیاس کے باوجود ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں تن تنہا ڈٹ گیا ۔ اور تیروں کی بارش، تلواروں کے طوفانی وار اور نیزوں کی چمکتی ہوئی ہزاروں نوکیں، جس کے پائے استقامت میں لغزش نہ لا سکیں ۔ نواسۂ رسول ﷺ، وہ قاری قرآن ہے، جس نے کوفے کے ستم کیش بازاروں میں ، جفا کاروں کے جھر مٹ میں، اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و وقار کا علم بلند کرتے ہوئے، جاں نثاروں کی طمانیت کی خاطر قرآن کی بڑائی اور آبرو کے لیے خون سے وضو کئے ہوئے، قرآن مجید کی اس طرح تلاوت فرمائی کہ مذہب کے چہرے پر نکھار آ گیا، شیطانوں کے دل بجھ گئے، بے ایمانوں کی دنیا اجڑ گئی، دنیاوی سلطانوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ۔۔۔۔

سرترا نیزے پہ، جاری لب پہ قرآں واہ حسین
رو پڑے نوری یہ اندازِ تلاوت دیکھ کر
1👍1
حسینیت و یزیدیت:
حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جد و جہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کر لیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے ۔

یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں ۔ وہ بھی اسلام کا نام لیتا تھا ۔

یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کرے۔ نام اسلام کا لے اور عمل کافروں والا ہو ۔ اسلام اور مسلمانوں سے دھوکہ و فریب یزیدیت کا نام ہے ۔ یزید ہر دور میں  میں ہوتا ہے۔صرف چہرے بدلتے ہیں، کردار ایک ہی ہوتا ہے۔

حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

پہلے حسینی کردار کی تجلی اپنے اندر پیدا کرو، سیرت حسین کو اپنے سینے پہ سجا لو، پھر اس قوت حسینی سے یزیدی کردار کی مخالفت اور اس کا مقابلہ کرو ۔ یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کر دو ۔ اس کے لیے اگرچہ تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد کی قربانی ہی کیوں دینا پڑے ۔  یزیدیت کا مقدر شکست ہے، اس کے لئے  صرف جذبۂ صادق چاہیے ۔

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخِ شہادت:
بروز جمعۃ المبارکہ 10 محرم الحرام 60ھ / بمطابق اکتوبر 679ء کو مقامِ کربلا پر سجدے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا ۔ آپ کا مزار پُر انوار "کربلا" عراق میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ الخلفاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ آل رسول ﷺ ۔ مسندِ امام احمد ۔ جامع ترمذی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1