🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.89K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.8K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-08-1444 ᴴ | 25-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-08-1444 ᴴ | 25-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
👍1
حضرت عمدۃ المدرسین مولانا محمد فرید رضوی گوجرانوالہ علیہ الرحمۃ

فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔

آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا انتخاب کیا۔

حضرت مولانا محمد فرید رضوی مدظلہ نے ابتدائی تعلیم بعض مساجد میں حاصل کی۔پھر والد ماجد کی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزی دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمود سے عِلمی استفادہ شروع کیا۔ اوّل الذکر حضرت علامہ قاضی عبدالسبحان کھلابٹی رحمہ اللہ کے داماد اور آخر الذکر آپ کے صاحبزادہ ہیں۔ جب حضرت قاضی رحمہ اللہ دار العلوم میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے تو ان سے بھی علمی اکتساب کیا۔ ایک نہایت ہی محنتی اور مشفق استاد مولانا حافظ محمد یوسف سے بھی ابتدائی اسباق پڑھے۔ چار سال بعد جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ دو سال بعد حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ حج پر تشریف لے گئے تو مولانا محمد فرید رضوی جامعہ نعیمیہ لاہور آگئے۔ یہاں آپ نے تقریباً سات سال کے عرصہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے زیرِ سایہ درسِ نظامی کی آخری کتب میر زاہد، ملّا جلال، حمد اللہ، قاضی، شمس بازغہ وغیرہ حضرت مولانا حسین امام، مولانا قاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی عزیز الرحمٰن مردانوی سے پڑھیں۔ ہدایہ حضرت فقیہ العصر مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ سے پڑھا۔ بخاری شریف کا درس مولانا مفتی محمد حسین نعیمی سے لیا ان کے علاوہ کچھ اسباق حضرت مولانا مفتی عزیز احمد بدایونی سے بھی پڑھے۔

۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں حضرت غزالی زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے علمِ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہ ادارہ حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رحمہ اللہ کی سر پرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسّط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجر انوالہ میں اور دو سال دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔

۱۹۶۶ء میں حضرت غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہ کے ارشاد پر مدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے بندۂ نا چیز (محمد صدیق ہزاروی) نے ایک سال ہری پور اور دو سال خانیوال میں آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ نہایت مشفق اور مہربان استاد ہیں طالب علم کی علمی ضرورت ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جس شفقت اور ہمدردی سے آپ نے بندہ کی تربیّت فرمائی، وہ نا قابلِ فراموش احسان ہے۔

دو سال (۷۲۔۱۹۷۱ء) جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اور اب عرصہ چھ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطورِ صدر مدّرس علومِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ دو دفعہ دورۂ حدیث بھی پڑھا چکے ہیں۔

دار العلوم کی مسجد، جامع مسجد فاروقیہ میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل شاہد رہ موڑ (لاہور) واہگہ موڑ، گوجرا نوالہ شہر، نوشہرہ درکاں، ہری پور ہزارہ، خانیوال، جہانیاں (ضلع ملتان) اور جامع عمر ڈسکہ میں خطیب رہ چکے ہیں۔

آپ کی سیاسی وابستگی، سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان سے ہے۔ تحریکِ جمہوریت ۱۹۶۹ء میں آپ نے خانیوال میں بڑے برے جلوس کی قیادت کی، حالانکہ آپ جس دار العلوم سے متعلق تھے، وہ محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام ایک مسجد میں قائم تھا، لیکن آپ نے خطرات کی پروا کیے بغیر تحریک میں حصہ لیا۔

تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھر پور حصہ لیا۔ گوجرانوالہ میں متعدّد جلسوں میں لوگوں کو فتنۂ مرزائیت سے آگاہ کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء میں آپ کی کار کردگی پر گوجرانوالہ کی تاریخ شاہد ہے ایک دو کے علاوہ ہر جلوس کی قیادت میں شریک رہے اور بعض جلوسوں کی قیادت تو بلا شرکتِ غیرے کی۔

جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے مولانا الحاج ابوداؤد محمد صادق مدظلہ اور مولانا عبد العزیز چشتی کے ہمراہ گرفتاری پیش کی د
1👍1
و دن اور راتیں صدر تھا نہ گوجرانوالہ میں رہے اور اس کے بعد رہائی ہوئی۔

خانیوال میں قیام کے دوران ’’انجمن اصلاح المسلمین‘‘سے وابستگی رہی اور انجمن کے زیرِ اہتمام بڑی سر گرمی سے تبلیغی واصلاحی کام کیے۔

خانیوال اور گوجر انوالہ میں متعدد بار بد عقیدہ لوگوں سے مناطرے ہوئے اور بفضلہٖ تعالیٰ کامیابی حاصل ہوئی۔ مولوی غلام اللہ (راولپنڈی) سے بحث ہوئی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے نور الحسن شاہ بخاری کو میدانِ مناظرہ سے بھگایا۔ خانیوال کے ایک مناظرہ میں دیو بندی عالم بے شمار کتابیں لے کر آئے، جبکہ حضرت استاذِ محترم کے پاس صرف قصیدہ بُردہ شریف تھا، لیکن آپ نے ابتدائی گفتگو میں ہی مخالفین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

فیّاضِ مطلق نے آپ کو تدریسی اور تقریری خوبیوں کے علاوہ جوہر قلم سے سر فراز فرمایا ہے؟ چنانچہ آپ نے گونا گوں مصروفیات کے باوجود درجِ ذیل کتب تصنیف فرمائیں۔

۱۔ صداقتِ میلاد بجواب حقیقتِ میلاد مطبوعہ

۲۔ ’’حاضر و ناظر اور علم غیب‘‘ ملّا علی قاری کی نظر میں مطبوعہ

۳۔ اثبات الدعا بعد الجنازہ بجواب دعا بعد الجنازہ غیر مطبوعہ

۴۔ رسالہ علمِ غیب غیر مطبوعہ

۵۔ ملّا علی قاری اور سر فراز گکھڑوی

حضرت غزالیٔ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلّمذ آپ کو پہلے ہی تھا۔ ۱۹۶۶ء میں آپ نے جامعہ اسلامیہ بہاول پور حاضر ہوکر سلسلۂ چشت میں شرف بیعت بھی حاصل کیا اور حضرت کی جانب سے بیعت کی اجازت (خلافت بھی مرحمت ہوئی)

۱۳۹۶ھ /۱۹۷۶ء میں آپ کو جناب والد ماجد کی معیّت میں حج بیت اللہ شریف اور گنبدِ خضریٰ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

کثیر التعداد طلباء نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا سیّد بشیر حسین شاہ، گوجرانوالہ

۲۔ مولانا خالد حسن مجدّدی، گوجر انوالہ

۳۔ مولانا سعید احمد مجددی، گوجر انوالہ

۴۔ مولانا گل احمد عتیقی، فیصل آباد

۵۔ مولانا صداقت علی

۶۔ مولانا قاضی محمد یوسف

۷۔ مولانا حافظ محمد علی

۸۔ مولانا قاری عبد الرزاق

۹۔ مولانا محمد حنیف اختر، خانیوال

۱۰۔ محمد صدیق ہزاروی، لاہور (مرتب)

روحانی اولاد کے علاوہ آپ کی چار صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ مسمّی محمد ریاض الرحمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صالح اور پابندِ شریعت بنائے اور علم دین سے بہرہ ور فرمائے۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت استاذ محترم مولانا محمد غلام فرید رضوی، بنام مرتب مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-farid-rizvi
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
نبیرۂ اعلیٰ حضرت ، علامہ قمر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اللہ ہی کا ہے جو اس نےدیا اور جو اس نے لیا اور ہر شے کی اس کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے، دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن فیصلہ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت جانا ہے، ہر دن ہزاروں آتے ہیں اور ہزاروں جاتے ہیں نہ ان کا آنا کوئی بڑی خوشی کی بات ،

نہ ان کا جانا کوئی بڑا صدمہ شمار، پر بندگانِ خُدا میں سے کوئی فرد ایسا ہوتا ہے کہ جس کے آنے سے اَن گنت لوگوں کو خوشی ہوتی ہے اور جانے پر بےشمار آنکھیں اشکبار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی اور اپنے محبوب منزہ عن العیوب علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کی الفت و محبت نقش فرمادیتا ہے، اور ان کا انتخاب دینِ مبین کی خدمت کے لئے فرماتا ہے، اب خواہ وہ خدمتِ دین بصورتِ خدمتِ خلق ہو جیسا کہ ابدالِ کرام انجام دیتے ہیں یا وہ خدمتِ دین بصورتِ استنباط مسائل شرعیہ ، تدریس و تصنیفات کتب دینیہ یا تقاریر بعنوان اصلاح عقائد و اعمال کے ہوں جیسے کہ فقہائے کرام و علماء اکرام انجام دیتے ہیں، مذکورہ ہر دو طریق پر خدمت اصلاً خدمت دین ہی ہے۔

انہی منتخب اور خوش بخت لوگوں میں سے ایک نبیرۂ اعلیٰ حضرت و حجۃ الاسلام ، نواسۂ حضور مفتی اعظم عالم اسلام، شہزادۂ مفسر اعظم ہند یعنی حضور قمر ملّت علامہ ڈاکٹر قمر رضا خاں صاحب﷫ کی ذات مسعود ہے، جن کے داغِ فراق نے جو زخم دیا ہے اس کا اندمال جلد ممکن نہیں۔

مقصد تحریر اینکہ چند سطور بطور مضمون حضور قمر ملت﷫ کے حوالے سے پیش کروں، یوں تو خانوادۂ اعلیٰ حضرت کا ہر فرد بذاتِ خود متعارف ہے اور پھر موصوف کے تو کیا کہنے؟… کیا بتاؤں کہ وہ کون تھے؟… کیا تھے؟… کیسے تھے؟ … بس شرافت نفس کا اعلیٰ کردار تھے… تواضع وانکسار کا مہکتا گلزار تھے… قرابت داروں کا مونس و غمخوار تھے…بس ایک مصرعے میں تو وہ ایسے تھے کہ

جو کچھ کہا تیرا حسن ہو گیا محدود

ان کی شخصیت کا مکمل تعارف تو اس مصرعے سے ہوگیا پر تقاضائے مضمون ہیں کچھ اور بھی… جس کے پیش نظر یہ حقیر مزید پر مجبور بھی۔

مولد و مسکن:
حضرت محلہ سوداگران رضا نگر سے متصل محلہ خواجہ قطب بریلی شریف میں بتاریخ 14جولائی 1946ء اور ہجری کے اعتبار سے 14 شعبان 1365ھ پیدا ہوئے۔

نام و نسب شریف:
محمد قمر رضا بن محمد ابراہیم رضا ۲ بن محمد حامد رضا ۳ بن امام احمد رضا خاں۱ بن علامہ نقی علی خان۲ بن علامہ رضا علی خان۱ علیہم الرحمۃ الرضوان۔

تعلیم و تربیت:
خاندانی دستور کے مطابق چار سال چار ماہ چار دن کی عمر مبارک میں حضرت کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی، اس کے بعد ابتدائی تعلیم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ المنان سے ہی حاصل کی، بعد ازیں عربی فارسی اور دینیات کی تعلیم یاد گار اعلیٰ حضرت جامعہ رضویہ منظر اسلام سے حاصل کی۔

علی گڑھ روانگی:
دینی تعلیم کے بعد تقریباً 1966ءمیں عصری تعلیم کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لےگئے۔۲

بیعت و خلافت:
شعور کی منزل پر پہنچ کر تقریباً 1960ء میں سرکار مفتیٔ اعظم عالم اسلام علیہ الرحمۃ الرضوانسے بیعت ہوئے، 1984ء میں اہلِ سلسلہ حضرات کے پُرزَور اصرار پر بیعت و ارشاد کی طرف مائل ہوئے اور حضرت صدر العلماء بدر العرفاء نے سلسلہ رضویہ کے فروغ کیلئے خلافت و اجازت سے نوازا اور تعویذات کی مشق بھی کرائی، علاوہ ازیں علوم دینیات کی تکمیل بھی ان سے ہی کی۔

عقد نکاح:
حضور قمر ملت اعلیٰ حضرت سے نسباً نجیب الطرفین ہیں، ایک تو خود عالم دین بھی ہوئے اور اعلیٰ حضرت سے ایسی قربت، ان دو فضیلتوں کا اجتماع اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت کا ہمسفر اور ہم راز بھی اسی شان کا مالک ہو، چنانچہ یہ تقاضہ بھی پورا ہوا اور حضرت کا نکاح 12 جنوری 1975ءمیں نواسئ حضور مفتی اعظم عالم اسلام سے ہوا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی حضرت کے ساتھ نہایت ذمہ داری اور پاسداری سے گزاردی، خود حضرت بھی اس کا اظہار اکثر فرمایا کرتے تھے اس طور پر کہ کوئی بھی کام مثلاً بچوں کی تعلیم و تربیت ، شادی بیاہ اور جملہ خانگی معاملات جو حسن انجام کو پہنچتے اور اس پر کوئی انہیں مبارکباد پیش کرتا تو بطور چاہت و محبت یوں فرماتے کہ ’’یہ سب میری بیوی کی کرامت ہے‘‘، اور کیوں نہ فرماتے کہ یہ وہی نواسی ہیں کہ جنہیں ایک دفعہ حضور مفتی اعظم ہند نے گود میں اٹھا کر فرمایا ’’یہ بہت خوش نصیب بچی ہے‘‘، سونے پہ سہاگہ یہ رہا کہ یہ نکاح خود حضور مفتی اعظم ہند نے پڑھایا۔

اولاد و امجاد:
حضرت کے تین شہزادے اور ایک شہزادی ہے چاروں ہی شادی شدہ ہیں۔

شہزادۂ اکبر:
حضرت مولانا عمر رضا خاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، اردو ادب اور انگلش میں ڈبل MAہیں، حال ہی میں B.Edبھی کیا ہے، علم ریاضی میں ملکہ انہیں موروثی ہے، اس حقیر نے ان سے اس فن کو پڑھا ہے اگر مستقل پڑھتا تو یقینا ماہر ہوجاتا پر عدم معیت کی وجہ عدم مہارت بنی، علاوہ ازیں مُروّجہ درسِ نظامی میں آپ نے مشکوٰۃ المصابیح تک پڑھا ہے جو مدارس میں چھٹے
1👍1
درجے میں پڑھائی جاتی ہے، بقیہ تعلیم وبوجہ علالت رہ گئی لیکن مولانا اسے تکمیل کے مراحل میں لانے کا عزم رکھتے ہیں، دعا ہے کہ مولا تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی عطا فرمائے، آپ کے دو شہزادے بنام محمد انور رضا، محمد رضا اور ایک شہزادی بنام رداء فاطمہ ہے۔

شہزادہ متوسط و اصغر:
مولانا عامر رضا خان صاحب اور جناب مولاناعاصم رضا خان صاحب یہ دونوں صاحبزادگان کمپیوٹر فیلڈ میں خاص مہارت رکھتے ہیں، عامر رضا خان صاحب خوش گلو ثناء خواں ہیں آپ کا ایک شہزادہ بنام محمد مصطفی رضا ہے، اور عاصم رضا خان صاحب

قرأت بہت اچھی کرتے ہیں آپ کا نکاح ہو چکا ہے رخصتی عمل میں نہیں آئی ہے۔

دختر نیک اختر:
حضرت کی ایک شہزادی ہے جو چندر پور مہاراشٹر میں سید حمیر حسن صاحب سے منسوب ہے آپ کی دوسری شہزادی بنام صوفیہ ہے۔

رشد و ہدایت و تبلیغی اسفار:
مذہب مہذب اہلسنت و جماعت کی ترویج اور نشر و اشاعت کیلئے آپ نے ملک و بیرون ملک کے سفر 1984ءسے تادم زیست فرمائے، جن میں قابل ذکر عراق، عرب، پاکستان، یوپی، سری لنکا کے علاوہ بہار، بنگال، جھارکھنڈ، آسام، گجرات، راجھستان، مہاراشٹر، ایم پی آندھرا پردیش اور کشمیر وغیرہ صوبائی اور ملکی سطح پر آپ نے بیشمار سفر کرکے سلسلہ رضویہ کو بے پناہ فروغ بخشا۔ آپ اکثر دَورے دیہاتوں اور نواحی بستیوں میں فرماتے تھے، چنانچہ آج آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔۲

فضائل و کمالات:
حضرت نہایت ذہین تھے، ذکاوت تو انہیں اپنے جَدِّ اعلیٰ امام اہلسنت﷜ سے ورثے میں ملی تھی، عربی، فارسی، اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں کے علاوہ آپ کوسائنس، ریاضی ، علم الاعداد اور تاریخ گوئی وغیرہ علوم پر یدطولی حاصل تھا، حتیٰ کہ حضور تاج الشریعہ سے بھی اگر کسی نے کہا کہ حضور کسی کتاب کا یا ادارے کا تاریخی نام تجویز فرمائیں تو حضرت بھی یہی فرماتے کہ یہ کام قمر میاں سے لو، شمسی تاریخ سے قمری تاریخ بلا تردد نکال دیا کرتے تھے۔۱

اپنے آپ میں ایک فعال اور متحرک تنظیم کی حیثیت رکھتے تھے، ہزاروں غیر مسلم آپ کے نورانی چہرے کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے،۲

ایک موقع پر آپ کسی انجان بستی یا گاؤں سے گزر رہے تھے اسی اثناء میں آپ نے گاڑی رکوائی اور فرمایا کہ یہاں کوئی تکلیف زدہ ہے، اور اتر کر خود ہی بغیر کسی رہنمائی کے اس گھر کو پہنچ گئے، اس گھر کے رہائشی بد مذہب تھے ان کا اکلوتا بچہ جو بسببِ عَلالت حالت مرگ کو جا پہنچا تھا، حضرت نے اس پر دم فرمایا وہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، یہ کرامت دیکھ کر سب اسی وقت سُنّی صحیح العقیدہ مسلمان ہوگئے اور حضرت سے بیعت بھی ہوگئے، آپ مُستجابُ الدعوات تھے اور آپ کی دعا نہایت سَریعُ الاثر ہوا کرتی تھی، جس بیمار پر بھی آپ دم فرماتے اگر مشیتِ ایزدی میں اس کی زندگی بصحت و عافیت ہے تو اسی وقت ٹھیک ہوجاتا ، خود اس حقیر کے والدمحترم جو بلڈ پریشر کے شکار تھے ایک دفعہ حضرت نے بذریعہ ٹیلی فون کان میں دعا پڑھی تب سے اب تک بفضلہ تعالیٰ و بحمدہٖ تعالی و بعونہ تعالیٰ بلڈ پریشر کی شکایت نہیں ہوئی، الحمد للہ! خود اس حقیر کے کئی کام انہی کی دعا سے بنے ایسے کام جو بظاہر نا ممکن نظر آتے تھے حضرت کا یہ فرمانا ہوتا تھا کہ ’’ہوجائے گا‘‘ ہو کر ہی رہتا تھا، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک سائل حاضرِ خدمت ہوا اور کہنا ہی چاہتا تھا کہ حضرت نے فوراً فرمایا تیرا یہ مسئلہ ہے اور اس کا حل یہ ہے، اس واقعہ کا یہ حقیر عینی شاہد ہے۔

وصال کی پیشن گوئی:
آپ اپنے وصال کی خبر یں بھی کئی بار دے چکے تھے، مثلاً جب ڈھائی تین سال قبل ہم بریلی شریف میں تھے تو واپسی پر حضرت ہمیں دہلی تک چھوڑنے آئے یہ کہہ کر کہ میں تم لوگوں کو آخری بار چھوڑ آؤں، اور پاکستان میں جب فون پر بات ہوتی تھی تو عاصم رضا خان صاحب کی شادی کے حوالے سے فرماتے تھے کہ اس کی شادی تو تم لوگ کرو گے میں تو نہیں ہونگا، ہم کبھی ان کی بات سمجھ ہی نہ سکے، ایک حافظ صاحب نے حضرت سے مُصَلّیٰ سنانے کے لئے مسجد میں جگہ مانگی حضرت نے انہیں اپنا موبائل نمبر دے دیا اور فرمایا تم بریلی آجانا میرے بچے تمہارا کام کرادیں گے میرے پاس اب وقت نہیں ہے، قبل از وصال جہاں دَور ے پرسے آئے تھے وہاں اپنے مریدین ، معتقدین اور متوسلین کو بھی اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

آپ نہایت شفیق اور مہربان تھے، اپنے مریدین پر بھی اتنے شفیق تھے جیسے کوئی باپ اپنے حقیقی بچوں پر ہوتا ہے، کئی لوگوں کی شادیاں آپ نے اپنے خرچے پر کرائیں، خدمت خلق کو اپنی حیات کا نصب العین بنا لیا تھا، آپ ایک دارالعلوم بھی اپنی جیب خاص سے چلا رہے تھے، آپ نہایت منکسر المزاج اور شہرت سے دور رہنے والے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے ان معاملا ت کا علم آپ کے اہل خانہ کو بعد از وصال ہوا، المختصر آپ گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے جن کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں، چند الفاظ میں آپ ’’اشد اء علی الکفار رحماء بینھم‘‘ اور ’’الحب فی اللہ والبغض فی الله“
1👍1
کی جیتی جاگتی تفسیر تھے یہی وجہ ہے کہ آپ اس شان سے گئے کہ ایک نے خواب میں دیکھا کہ حضور غوث اعظم کا جنازہ جا رہا ہے اور حضرت تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ قمر میاں کو اعلیٰ حضرت لینے آئے ہیں۔

وصالِ پُر ملال:
بروایت شہزادۂ اکبر مولانا عمر رضا خان صاحب آپ کافی وقت سے ’’شوگر‘‘ اور ’’ہارٹ ‘‘ کے مریض تھے۱

اس کے باوجود آپ تبلیغی اسفار برابر فرمارہے تھے، 24جون کو رات میں آپ کی طبیعت معمول کے مطابق کچھ ناساز تھی اور شوگر بڑھی ہوئی تھی۲

لہٰذا ڈاکٹر نے دوا دے کر آرام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔ دوسرے دن 25جون، 2012ء بمطابق 5 شعبان 1433ھ کو معمول کے مطابق شوگر بڑھ گئی ایک بجے رات کا کھانا کھایا اور پھر ڈیڑھ بجے رات خلف اکبر مولانا عمر رضا خان صاحب نے دوا کھلا کر ان کے کمرے میں لٹا دیا، صبح کو جب نماز فجر کو بیدار نہ ہوئے تو خادم کو تشویش ہوئی اس نے آپ کو جگانا چاہا اس عمل سے پتہ چلا کہ آپ ابدی نیند سوگئے،۳

اہل خانہ کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی، آناً فاناً میں اس حادثہ جانکاہ کی خبر وحشت اثر موبائل فون، ایس ایم ایس، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ملک و بیرون ملک جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی، حضور صاحب سجادہ نشین۱مدظلہٗ العالی نے اس خبر کو سن کر فوراً کلمات ترجیع پڑھ کر نمناک اور گلوگیر آواز میں جامعہ منظر اسلام کی دو روزہ تعطیل اور قرآن خوانی برائے ایصال ثواب کا حکم صادر فرمایا،

کراچی دار العلوم امجدیہ میں بھی ایصال ثواب کی محفل منعقد کی گئی، قمرِ ملّت کا پردہ فرمانا نہ صرف خانوادۂ اعلیٰ حضرت کا نقصان بلکہ پوری سُنِّیت کا نقصان ہے، قمرِ ملّت اب ہم میں نہیں رہے، یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ جس کی تلخی نے نہ جانے کتنے دلوں کو غم و حزن میں ڈبو دیا ہے۔

نماز جنازہ و تدفین:
27جون بروز بدھ بعد نماز عصر اسلامیہ انٹر کالج میدان میں نماز جنازہ کا اعلان کیا گیا تھا، لہٰذا اعلان کے مطابق حضور صاحب سجادہ اور خاندان کے دیگر بزرگوں کی موجودگی میں انتہائی شان و شوکت کے ساتھ جلوسِ جنازہ، کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود کے مقدس و باعظمت نغموں کے سائے میں خواجہ قطب سے بی بی جی مسجد اور بہاری پور ہوتا ہوا اسلامیہ میدان میں پہنچا ،جہاں ہر طرف عشاق کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، ٹوپی و عمامہ اور سفید و پاکیزہ لباس میں ملبوس ایک روحانی و نورانی منظر پیش کر رہا تھا۲

قمرِ ملّت کی وصیّت کے مطابق حضرت کی نماز جنازہ حضرت کے برادر اکبر حضور تاج الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری مدظلہ النورانی نے پڑھائی،۱

مغرب کے وقت قبہ رضویہ کے اندر تدفین عمل میں آئی۲

اور رات گئے مٹی دینے کا سلسلہ جاری رہا۔

قبلہ قمر رضا خاں صاحب نے اپنے پسماندگان میں اپنی اہلیہ ، ایک شہزادی اور تین شہزادوں کوچھوڑا ہے، مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے کہ موصوف کے شہزادگان کو ان کا صحیح جانشین بنائے اور ان کے لواحقین، معتقدین ، مریدین، متوسلین کو صبرِ جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سیّد الامین والمرسلین

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

آہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ ڈاکٹر محمد قمر رضا بریلوی ـ از: حضرت علامہ مولانا محمد حسن علی الرضوی میلسی [1]

یہ خبر اندوہ اثر نہایت رنج و ملال کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت یعنی سیّدنا حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خان صاحب بریلوی﷫ کے پوتے شیخ الشیوخ العالم مفتی اعظم علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا خان صاحب نوری بریلوی قدس سرہٗ کے نواسے ریحان ملت علامہ مفتی ریحان رضا خان صاحب اور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری میاں قادری رضوی کے برادر عزیزی، مفسر اعظم مولانا شاہ علامہ محمد ابراہیم رضا خان جیلانی میاں﷫ کے فرزند دلبند گذشتہ ماہ دیار علم فضل شہر عشق و محبت مرکز اہلسنّت بریلی شریف میں وصال فرما گئے ۔ انا للہ ونا الیہ راجعون ۔

تاج الشریعہ ، فقیہ الہند جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان صاحب قادری ازہری مد ظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔

مدینہ طیبہ سے جناب محب محترم محب مسلک اعلیٰ حضرت الحاج محمد عبدالرزاق راجہ بھائی قادری رضوی زید مجدہٗ کی اطلاع کے مطابق حضرت صاحبزادہ محمد قمر رضا علیہ الرحمۃ کو خانقاۂِ عالیہ رضویہ میں اپنے عظیم المرتبت والد گرامی مفسر اعظم جیلانی میاں اور سیّدنا حضور مفتی اعظم کے مقدس مزاروں کے درمیان میں دفن کیا گیا جو بڑی نعمت و بڑی سعادت اور خوش بختی ہے۔ علامہ محمد قمر رضا﷫ اپنے جد امجد سیدنا حجۃ الاسلام کے خدا داد حسن و جمال کے مظہر اور حضرت تاج الشریعہ کے ہم شبیہہ ہم شکل تھے۔

آپ کا تاریخی نام قمر رضا بحساب ابجد 1433ھ جو سن وفات پر دال ہے جو آپ کے جدّ امجد کی کرامت فراست و بصیرت کا مظہر و عکاس ہے۔ آپ متبع سنت و شریعت بحساب ابجد فن تاریخ گوئی میں کمال اور ید طولیٰ
1👍1
رکھتے تھے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت﷜ کی اولاد و امجاد پر یہ سرکار رسالت و سرکار غوثیت کا کرم اور فیضانِ اتم ہے کہ آج آٹھ پشتو ں سے فاضل ابن فاضل ابن فاضل محقق ابن محقق محقق ابن محقق اور متبع سنت و شریعت چلے آرہے ہیں۔علامہ مفتی محمد ریحان رضا خاں ریحانی﷫ کی اولاد میں الحاج علامہ سبحان رضا سبحانی میاں مہتمم منظر اسلام سجادہ نشین اور عالمی مبلغِ اسلام خطیبِ ایشیا و یورپ علامہ توصیف رضا خاں بریلوی اور پھر علامہ مفتی محمد اختر رضا ازہری میاں مدظلہ کے خلف گرامی مولانا علامہ امجد رضا خان بریلوی اور الحاج مولانا علامہ سبحان رضا سبحانی میاں مدظلہ کے صاحبزادہ والا جاہ مولانا احسن رضا نوری رضوی بھی مستند فاضل و عالم دین ہیں۔ اس طرح نو دس پشتوں تک عالم و فاضل ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ مولیٰ عزوجل آستانہ رضویہ کو سدا بہار رکھے ۔ آمین

الفقیر: محمد حسن علی الرضوی غفرلہ

میلسی، پنجاب

قمر ملت، مشکبار شخصیت

علامہ نسیم احمد صدیقی نوری مدظلہ

اللہ سبحانہ تعالیٰ عزوجل نے عالمین تخلیق فرمائے، اور تمام عوالم میں مختلف النوع مخلوق تخلیق فرمائیں، عالمین میں واضح طور پر دو قسمیں ہیں،

اول....... کائنات (غیر مادّی)

دوم....... کائنات (مادّی)

اول: غیر مادّی کائنات میں بغیر سبب اور بلا تعین وقت تخلیقی عمل ہوتا رہتا ہے، نیز عمل تخلیق___ اکملیت کا سفر بھی بغیر جاری رہتا ہے۔

دوم: ہماری مادّی کائنات میں ہر عمل سبب سے اور وقت سے ظہور پذیر ہوتا ہے،نیز کمال درجات کے حصول کا سفر ارتقاء کے انداز میں بتدریج طے ہوتا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل اور وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ غیر مادّی کائنات کی مخلوق میں تقویم و توقیت اثر انداز نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں قوت نمو پائی جاتی ہے۔ جبکہ ہماری مادّی کائنات میں اعمال و اشغال کا مدارگردش لیل و نہار پر ہے۔ مخلوق میں نشونما کی قوت کارفرما ہوتی ہے، اسی باعث قدیم و جدید کا نظریہ رائج ہے۔ نباتات، حیوانات، اور انسان و جنات سب میں پیدائش اور اموات کا نظام قائم ہے، بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا، ان ادوار سے سب کو گزرنا پڑتا ہے۔ راقم کا موضوعِ سخن ’’انسان‘‘ہے لہٰذا صرف انسان کی خصوصیات زیر بحث ہیں ۔ انسانی زندگی مختلف ادوار سے گزرتی ہے۔ مقدار حیات میں تفاوت کے باعث بعض اجسام آغوش لحد سے قریب اور بعض بعید اور اکثر آسودۂ خاک ہوگئے ہیں۔

انسانی تاریخ میں نیکی و بدی، عدل و ظلم، ایثار و خود غرضی اور ملنساری و بے کیفی کا امتزاج لیے افراد،معاشرہ میں موجود رہے ہیں، موجود ہیں اور رہیں گے، ہاں البتہ ہر دو صفات (مثبت و منفی) سے متصف افراد کے مابین پیمانۂ توازن میں مد و جزر کا رجحان رہتا ہے۔

قارئین محترم!

اگر ظلم و نا انصافی اور خود غرضی و انانیت کے عفریت کے مقابل انسان دوست کے مسکراتے اور غموں کے بانٹتے چہرے نہ ہوتے تو ہماری آج کی دنیا خوں آشام ڈائنوسار ہی کی آماجگاہ ہوتی۔ انسانی خرد مندی کا یہ تقاضا بھی تھا کہ انسان اپنے خالق کی عطا کردہ قوت مدرکہ کی بنیاد پر اچھائی اور برائی میں امتیاز کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔

مختلف اوصاف و خصائل کے باعث انسانوں اور جنات میں درجہ بندی ہے۔ انسیت و مؤدّت ایسے فطری اوصاف ہیں، جو انسانی جبلّت کا حصہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق میں یہ عنصر شامل رکھا ہے۔ اسی باعث بعض انسان اس مرتبہ کے حامل ہوتے ہیں جو کسی آسمانی خبر کے بغیر فطری طور پر رنگ فطرت اور تخلیقی جبلّت سے آراستہ ہوتے ہیں، ایسے انسان اپنی زندگی کو دنیا میں دوسروں سے بے نیاز ہوکر گزاردیتے ہیں۔ جبکہ بعض اہل دنیا کے لیے ا پنی زندگی کو پاکیزہ اور مثالی بنالیتے ہیں ___ لیکن فقیر بندۂ بے توقیر اپنے قارئین کو ایسے عظیم اور قابل رشک انسانوں میں سے ایک ایسے مونس، محسن، انسان کی خوبصورت زندگی کے مختلف گوشوں سے متعارف کرانے کی سعادت عظمیٰ حاصل کر رہا ہے، جو ابدی و دائمی کامیابی کے لیے دنیا کو، امتحان گاہ اور آخرت کی کھیتی سمجھتے ہیں۔ ترک آسائش اور جملہ آزمائش کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ مبتلائے ظلمت کے لیے خورشید و قمر__بے اماں کے لیے سایہ دار شجر__ مصطفائی ملت کا فرید دہر__ پُر فتن زمانہ کا وحید عصر__ پر نور بشرہ، متبسم چہرہ__ خوش مزاج__ آشنائے سماج__ عالم علوم قدیمہ و جدیدہ__مرشد و داعئ طالبین مجاہدہ__وسیع الجہت__عظیم المرتبت__ عالی منزلت__ کثیر البرکت__ سادہ طبیعت__ نیک طینت__ یہ ہیں قمر ملت__ حضرت محمد قمر رضا﷫ کے بارے میں متذکرہ تمہیدی کلمات جو رقم کیے گئے ہیں، درحقیقت موصوف کے محاسن اس سے بھی سوا ہیں۔

قارئین محترم!

حضرت قمر ملت محمد قمر رضا خان﷫ کی شخصیت ہمہ صفت تھی، خوش خلق اور خوش خُلق تھے، عمدہ خصائص سے معمور، عیوب و نقائص سے دور تھے۔ حضرت قمر رضا﷫ کی مبارک زندگی کے شب و روز کا مشاہدہ کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ مرحوم کے ترتیب دیئے گئے نظام الاوقات میں بہت برکت تھی، اور اس امر
1👍1
کی دلیل یہ ہے کہ ہجوم مشتاقاں سے ملاقات کی کثرت، دور دراز کے اسفار کی کثرت، تبلیغی مشاغل کی کثرت، جس انداز و اعتبار سے آپ کی ذات سے ہویدا تھی، خانوادۂ اعلیٰ حضرت میں یہ شان حضور مفتی اعظم قدس السرہ کے بعد آپ﷫ کا ہی طرۂ امتیاز رہی ہے۔

اس مضمون کا مقصد بھی محض سوانح عمری ترتیب دینا نہیں، بلکہ مومنانہ و عالمانہ صفات سے متصف ہوکر زندگی کے شب و روز کا ایک ایک لمحہ دین مصطفےٰﷺ کی خدمت میں مصروف ہوکر جس انداز میں گزارا ہے اور دین کے ابلاغ کے لیے کٹھن سے کٹھن اور دشوار سے دشوار جو سفر کیے ہیں، اُن اسفار کو زینت قرطاس بنایا ہے۔

حضرت قمر ملت﷫ اپنی شکل و صورت اور وجاہت و قامت میں اپنے برادر اکبر شیخ الاسلام و المسلمین، زین العلماء والدین، تاج الشریعہ، بدر الطریقہ، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں الازہری مدظلہ العالی کے مثل و عکس تھے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی﷫ کی اولاد و امجاد میں شہزادگان:

حجۃ الاسلام حضرت العلام مولانا حامد رضا خاں، مفتی اعظم عالم اسلام حضرت العلام محمد مصطفیٰ رضا خاں فقیہہ بریلوی علیہما الرحمۃ اولاد ذکور کے علاوہ اولاد اناث تمام متبع سنت ہی رہے ہیں۔ تاہم سماج کی ناقدانہ نگاہوں میں جملہ اخلاف ذکور ہی کے معمولات ہوتے ہیں، اس اعتبار سے یہ امر لائق صد تحسین ہے کہ دور حاضرہ میں فواحشات منکرہ اور خواہشات باطلہ کے باجود میرے عالی مرتبت اعلیٰ حضرت﷫ کے پوتے، پڑ پوتے، نواسے، پڑنواسے وغیرہ سب کا شمار، مدنی تاجدارﷺ کے عاشقوں اور مطیعوں میں ہوتا ہے، نیز اپنی استعداد و قابلیت اور روحانیت کے موافق ابلاغ دین میں اور وابستگان سلسلہ (رضویہ، نوریہ و برکاتیہ) کو فیضیاب کرنے میں ہمہ تن مصروف و مشغول ہیں۔ اعلیٰ حضرت کے کنبہ کے افراد مختلف جہات میں اپنے جد کریم کے مظہر ہیں۔ راقم السطور، زیر نظر مضمون میں چمن اعلیٰ حضرت میں سے فی الوقت عدیم الفرصتی کے باعث صرف ایک مہکتے پھول کو چُن کر اُس کی مہکار کو گلدستہ بناکر وابستگان سلسلۂ رضویہ اور تمام اہلسنت و جماعت کے ابراجِ عقیدت کی زینت بنانا چاہتا ہے۔ یعنی صرف حضرت قمر ملت محمد قمر رضا خاں﷫ کا مبارک ذکر کرنا چاہتا ہے۔ آسمان اعلیٰ حضرت کی علمی کہکشاں پر مرقومہ مضمون کی طرح اعلیٰ حضرت﷫ کی نسبی کہکشاں کا تعارف انشاء اللہ تعالیٰ باقاعدہ تحقیقی کتاب میں پیش کیا جائے گا۔

قارئین محترم!

انوار العلوم کی توانائی کا سورج ’’اعلیٰ حضرت‘‘ ہیں، اور سنی رضوی بریلوی سولر سسٹم کا چاند،’’قمر رضا‘‘ ہیں۔فقیر حقیر بندۂ بے توقیر کے ممدوح محترم متذکرہ سطور میں رقم کردہ جملہ کی مناسبت سے اس طور اعلیٰ حضرت کے مظہر ہیں کہ لاکھوں مسلمانوں کے ہاتھوں کوپکڑ کر انہیں اعلیٰ حضرت کے وسیلہ سے،سرکار ولیوں کے سردار حضور غوث الاعظم کے دامن سے وابستہ کردیا ۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ اعلیٰ حضرت کی عمر شریف ہی کی طرح حضرت قمر رضا کی عمر بھی ۶۸ برس ہی ہوئی۔ 1365ھ کے شعبان کی 14تاریخ تا 1433ھ شعبان کی 5تاریخ تک 68 سالہ دورانیہ میں خورشید اعلیٰ حضرت کا__’’قمر‘‘ مختلف جغرافیائے عالم کے مطلع پر طلوع ہوتا رہا ۔ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے ایک مطلع کے مصداق ۔۔

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے، سارا جہاں ہمارا

1405ھ تا 1433ھ یعنی 28 سال کے طویل عرصہ پر محیط تبلیغی اسفار فرمائے حتیٰ کہ اپنے وصال بہ کمال تک سفر میں مصروف عمل رہے۔

ولادت کے موقع پر اقوام عالم اور برصغیر کا ماحول:

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب متحدہ ہندستان کے دینی، سیاسی، معاشی، تعلیمی اور تمدنی حالات نہایت دگرگوں تھے، سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا، پے درپے جغرافیائے عرب کے تھوڑے تھوڑے رقبوں پر مشتمل نئی نئی اسلامی ریاستیں، برطانوی سامراج کے اشاروں پر تشکیل پا رہی تھیں۔ 1365ھ کی ربیع الاول شریف بمطابق فروری 1946ء کے مہینے میں ’’لبنان‘‘ نے اور جمادی الاول بمطابق اپریل 1946ء میں’’شام‘‘ نے آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔ 1947ء میں ’’فلسطین‘‘ پر یہودیوں نے قبضہ کیا۔ تشکیلِ پاکستان کا عمل مکمل ہوا۔ سلطنتِ خداداد ’’حیدرآباد دکن‘‘ پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا۔ 27 دسمبر 1949ء میں ’’انڈونیشیا‘‘ آزاد ہوا۔ جب کہ ’’لیبیا‘‘ 1951ء میں فرانسیسی تسلّط سے آزاد ہوا۔

برطانوی سامراج نے یہ سازش تیار کی تھی کہ عربوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرکے بعض ریاستوں میں وہابیت اور بعض میں اہل تشیع کا غلبہ قائم کیاجائے۔ انگریزوں ہی نے ’’مصر‘‘ کے شاہ فاروق کو جلا وطن کردیا، اور یہاں بھی اصلاح کے نام پر وہابیت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

حصول پاکستان کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ 24 تا 27جمادی الاول 1365ھ بمطابق 27تا 30 اپریل 1946ء آل انڈیا سنی کانفرنس نہایت تزک و احتشام سے بنارس میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں فکر امام احمد رضا بریلوی قدس السرہٗ کی متابعت و پیروی کرنے والے غیر منقسم ہندوستان کے اطراف و اکناف (قریب و دور) سے کثیر تع
1👍1
داد میں علماء و عوام اہلسنت شریک ہوئے۔ محتاط انداز سے مشاہدہ کرنے اور روایت بیان کرنے والوں کے مطابق ائمہ و خطباء مساجد اور علماء و اساتذہ کے علاوہ مشائخ کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ تھی، اس کانفرنس میں یہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی کہ ’’قائد مسلم لیگ جناح صاحب اگر کبھی مطالبۂ پاکستان سے دستبردار ہو بھی گئے تاہم اہلسنت و جماعت پاکستان حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔ ‘‘یہ تاریخی قرار داد امیر ملت سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری﷫ کی تجویز و تائید سے محدث اعظم ہند علامہ سیّد محمد محدث اعظم کچھوچھوی﷫ نے پیش کی تھی۔

آل انڈیا سنی کانفرنس کے مرکزی اجلاس بنارس کے بعد اضلاع کی سطح پر بھی منعقد ہونے والی سنی کانفرنسوں کے تسلسل میں مکمل جغرافیائے ہند کے بیس کروڑ سنی مسلمانوں نے حصول پاکستان کو اپنا مقصد اور نصب العین قرار دیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کو بھی مسترد کردیا۔ اس کے منشور یعنی ہندو مسلم اتحاد یا بھائی چارگی کے غیر فطری اور غیر منطقی نظریات اور نعروں کو قطعی مسترد کر دیا گیا۔

اس غیر فطری و غیر منطقی اتحاد کے داعیان، ابو الکلام آزاد، حسین احمد ٹانڈوی، محمود الحسن دیوبندی، کفایت اللہ دہلوی، عطاء اللہ بخاری، حفظ الرحمن سیوھاروی، عبید اللہ سندھی، تاج محمود امروٹی، مفتی محمود، عبدالحق اکوڑہ خٹک، حبیب الرحمٰن اعظمی، شمس الحق افغانی، احمد سعیدناظم جمعیۃ علماء ہند، حبیب الرحمن لدھیانوی، وغیرہ دیوبندی، وہابی راہنماؤں کی دریدہ ذہنیوں اورریشہ دوانیوں سے اسلامیان بر صغیر آگاہ ہوئے۔ ان کے نعرے ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ یعنی اقوام اوطان سے پہچانی جاتی ہیں۔ ان نعروں کی زبردست مذمت کی گئی۔ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال نے اسی موقع پر یہ تاریخی قطعہ ارشاد فرمایا تھا :

حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم

زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است

سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است

چہ بے خبرز مقام محمد عربی است

بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ھمہ اوست

اگر باو نر سیدی تمام بولہبی است

مندرجہ تاریخی قطعہ کا مصرعہ اولیٰ کے متبادل دوسرا مصرعہ مندرجہ ذیل زیادہ معروف ہے۔

’’عجم ھنوز نداند رموزدیں ورنہ‘‘

شاعر مشرق، مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال﷫ نے اپنے اشعار کے ذریعے برصغیر میں بعض موقع پرستوں اور ابن الوقت افراد کے مکروہ افکار و خیالات کی مزید یوں عکاسی کی ہے۔

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے

ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے

اقوام میں مخلوق خدا بنتی ہے اس سے

قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

متذکرہ اشعار او راس کے علاوہ مزید کئی نظمیں علامہ اقبال﷫ نے کانگریسی ملاؤں (یعنی دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ) کی مذمت میں کہے ہیں کہ جنہوں نے گاندھی اور نہرو کو اپنا رہنما اور رسول السلام مانا ہے۔

قارئین محترم!

فقیر راقم الحروف نے اِس اعتبار سے اُس دور کا اجمالی تعارف پیش کیا، تاکہ برصغیر میں پیش آمدہ مسائل اور ماحولیات کے سمندر میں کتنے ھشت پہل آکٹوپس، مہیب جوار بھاٹے اور مدو جزر پیدا ہورہے تھے۔ ایسے ہی ماحول میں سُنّی کانفرنس بنارس کے ٹھیک ڈھائی ماہ بعد ’’حضرت محمدقمر رضا﷫‘‘ کی ولادت بریلی شریف میں ہوئی۔ قمری تقویم کے اعتبار سے 14، شعبان 1365ھ اور شمسی تقویم کے اعتبار سے 14 جولائی 1946ء یکشنبہ (اتوار) کے دن ہوئی۔

حضرت محمد قمر رضا﷫ جب اس دنیائے فانی میں تشریف لائے تو آپ کے والد محترم حضور مفسر اعظم﷫ کی عمر شریف انتالیس (39) سال کی ہوگئی تھی۔ برادر اکبر حضرت ریحان ملت ریحان رضا صاحب﷫ سے تیرہ(13) سال چھوٹے اور منجھلے بھائی حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی محمد اختر رضا الازہری دام فیضہ القوی سے تین(3) سال چھوٹے تھے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد منّان رضا صاحب مدظلہ العالی سے چند سال بڑے تھے۔ حضرت منان رضا عرف منّانی میاں نہایت منکسر المزاج شخصیت کے حامل ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی پیراگراف میں فقیر راقم الحروف دونوں بڑے برادران کی تاریخ ولادت قمری ہجری کلینڈر اور شمسی تقویم کے مطابق نقل کردے،تاکہ متحقق ہوجائے تاہم کوئی سقم یا استدراک ہو تو فقیر کی اصلاح بھی ہو جائے۔

حضرت ریحان ملت، کنز البرکت علامہ محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں نور اللہ مرقدہٗ کی تاریخ ولادت 18؍ ذی الحجہ 1352ھ / 4 اپریل 1934ء بروز منگل ہے جبکہ حضرت﷫ کا وصال پر ملال18 رمضان المبارک 1405ھ/ 7 جون 1985ء بروز جمعۃ المبارک ہوا۔

شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الشریعۃ جبل الاستقامۃ مفتیٔ اسلام محترم المقام حضرت محمد اختررضا خاں الازہری دام فیضہ القوی 24؍ذی القعدہ 1362ھ/ 22؍ نومبر 1943ء بروز پیر منصۂ شہود پر ظاہر ہوئے۔

علوم دینیہ سے آراستگی:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس السرہٗ القوی کی رسم بسم اللہ خوانی سے متعلق یہ روایت معروف ہے کہ ’’جد کریم، محتشم و فہیم حضرت علامہ محمد رضا علی خاں﷜نے فرمایا! ہمارے خاندان می
2👍1
ں بزرگوں سے اخذ کردہ طریقہ رائج ہے کہ جب بچہ یا بچی 4سال 4ماہ اور 4 دن کے ہوجاتے ہیں تو باقاعدہ درس دینے کے لیے وحی الٰہی کے حروف سکھائے جاتے ہیں۔‘‘ چنانچہ اسی انداز میں ہمارے ممدوح محترم قمر ملت﷫ کی عمر شریف جب چار سال، چار ماہ اور چار دن ہوئی تو اسلاف کے طریقے کے مطابق رسم بسم اللہ خوانی کا آغاز گھر ہی میں ہوا۔ گھر کا ماحول خالص دینی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر استوار تھا، آغوش مادر بھی پاکیزہ، شفقت پدری بھی پاکیزہ، نسبی شرافت اور خاندانی نجابت کے سرایت یا فتہ اثرات نے عہد طفولیت ہی میں ’’تعمیر شخصیت کی جہات‘‘ پُراَزشوق دیدار ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔

خاندانی روایت کے مطابق یہ رسم بسم اللہ خوانی، یوم الاحد (اتوار) 18 ذی الحج 1369ھ/ یکم اکتوبر1950ء میں منعقد ہوئی، یوم الاحد یعنی یکشنبہ ہی حضرت کی ولادت باسعادت کا یوم ہے۔ حضور مفسر اعظم ابراہیم رضا جیلانی میاں﷜ وعنّابہٖ نے بسم اللہ شریف پڑھائی اور حروف عربیہ کی پہچان کرائی۔

قارئین محترم کے علم میں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ حضور مفسر اعظم﷫ (والد محترم قمر رضا خاں) کی بسم اللہ خوانی کی رسم، مقتدر علماء و اکابرین اہلسنت کی موجودگی میں ہوئی تھی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس السرہٗ العزیز نے نہ صرف ’’بسم اللہ خوانی‘‘ فرمائی بلکہ بیعت لے کر داخل سلسلہ بھی فرمایا۔ نیز خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرمایاتھا۔۱

یہ واقعہ 14؍ شعبان المعظم بروز بدھ/10؍ اگست 1911ء کا ہے۔ اسی موقع پر فرمایا تھا ’’میرا پوتا میری زبان ہوگا‘‘۔۲

دینی ماحول کے فیوضات،خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے تجلیات اور مفسر اعظم﷫ کی تعلیمات میں بہ سرعت و عجلت، قلیل مدت میں زیور تعلیم و تریبت سے آراستہ ہوگئے۔ والد محترم مفسر اعظم﷫ کے علاوہ برادر اکبر حضرت ریحان ملت﷫ سے بھی علوم دینیہ کا اکتساب کیا۔

عربی و فارسی کی کتب پڑھنے ہی کے دوران اکیڈمی کلاس میں بھی داخلہ لے کر علوم جدیدہ کی تحصیل پر مکمل توجہ فرمائی ۔اٹھارہ (18) سال کی عمر تک مبادیات شرعیہ (علوم تفسیر و احادیث اور فقہ) کے علاوہ عقائد اہلسنت پر عقلی دلائل اور مناظرانہ علوم کا فہم اپنے والد محترم سے حاصل کیا۔

قارئین کرام!

آپ اس اہم امر سے یقینا مطلع و آگاہ ہیں، کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس السرہ القوی نے اپنے نبیرہ محترم حضرت ابراہیم رضا جیلانی میاں﷫ کو اپنی زبان قرار دیا تھا۔

اس قول مبارکہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور فرمائیں کہ جس کسی نے (بڑا ہو یا بچہ عالم ہو یا سَقّہ) بھی اعلیٰ حضرت کی محافل وعظ و ارشاد میں محض ایک یا دو مرتبہ شریک ہوگیا تو وہ باقاعدہ سند یافتہ عالم نہ ہوتے ہوئے بھی علوم دینیہ سے بہرہ مند ہو جاتا تھا۔

تو غور فرمائیں جو خانوادۂ اعلیٰ حضرت ہی سے متعلق ہو، نبیرۂ محترم کا جگر گوشہ ہو تو کیا فقیر راقم الحروف یہ نہیں لکھ سکتا، کہ گویا قمر رضا صاحب نے اپنے والد﷫ کے سامنے زانوئے ادب طے نہیں کیے، بلکہ مذکور الصدر السطور اصول کے مطابق اعلیٰ حضرت ہی سے براہ راست شرف تلمذ حاصل کرلیا۔ اسی اعزاز سے سرفراز ہونے کے باعث حضرت قمر ملت، عقائد اہلسنت کے حق ہونے پر قرآن و احادیث سے اور فقہاء کے اقوال سے دلائل کے انبار لگادیتے تھے۔

جامعہ رضویہ منظر اسلام سے بھی علوم دینیہ کا اکتساب کیا۔ اس دوران ایف اے تک تعلیم اپنے شہر (بریلی شریف) کے اسکول اور کالج سے حاصل کر چکے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیوسٹی جانے کا ارادہ جب ظاہر کیا تو والد محترم حضرت مفسر اعظم جیلانی میاں﷫ نے منع فرمایا، یا یہ فرمایا: ’’میرے وصال کے بعد چلے جانا‘‘۔

چنانچہ ترجمان اعلیٰ حضرت ہم زبان اعلیٰ حضرت،مفسر اعظم جیلانی میاں﷫ نے 12 صفر 1385ھ/ 13 جون 1965ء کو وصال باکمال فرمایا ۔ والد گرامی کی وفات حسرت آیات کے بعد انہی کی وصیت کے مطابق حضرت قمر ملت﷫ 1966ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ تشریف لے گئے اس وقت حضرت کی عمر شریف اکیس (21) سال تھی۔ اس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے علوم جدیدہ و مروجہ سے بھی آراستہ ہو گئے۔

سلاسل تصوف و طریقت سے وابستگی:

حضرت قمر رضا﷫نے اپنے والد گرامی حضور مفسر اعظم کی ہدایت کے بموجب نیز اپنی قلبی خواہش کے پیش نظر سن بلوغت کی منزل خطا و صواب پر پہنچتے ہی مفتی اعظم، فقیہہ عالم، مرشد کامل و محتشم، سند الفقہاء، زینت الاصفیاء، حضرت ولی نعمت، عظیم المرتبت، ابو البرکات آل رحمن محی الدین محمد مصطفی رضا خاں فقیہہ بریلوی قدس السرہ القوی سے بیعت ارادت کی نسبت حاصل کر لی تھی۔

اس وقت حضرت قمر رضا﷫ کی عمر شریف پندرہ(۱۵) برس تھی اور قمری تقویم کے اعتبار سے 1380ھ جبکہ شمسی تقویم کے اعتبار سے 1960ء کا سال تھا۔

حضور مفتی اعظم فقیہہ عالم رضی اللہ المنعم سے محض بیعت تبرک کے فیض سے متعلق مقتدر علماء و مشائخ کہتے ہیں کہ ایسے کامل و اکمل فیوضات و برکات کا تجربہ و مشاہدہ رہا ہے، کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تو فقیر راقم السطور کے مخاطب

محترم ق
1👍1
ارئین!

آپ پر کیسے واضح ہو سکتا ہے؟ کہ بیعت ارادت کے تجلیات و ثمرات کا لفظوں میں احاطہ ممکن نہیں__ پھر قمر ملت کا شرف__ فضل__ سعادت__ میں صدہا صد، ہزار ہا ہزار اور لکھوں لکھا چند اضافہ ہوا، جب خانوادۂ رضا کے جدّ کریم حضرت قدوۃ الواصلین استاذ العلماء والفاضلین حضرت علامہ مفتیٔ اعظم روہیل کھنڈ محمد رضا علی خاں﷫ کے اولاد و امجاد میں دوسری شاخ، استاذ زمن حضرت مولانا حسن رضا﷫ کے نبیرۂ محترم اور حضرت علامہ حسنین رضا﷫ کے منجھلے فرزند، صدر العلماء، سیّد الاتقیاء، ولی نعمت، فیض درجات حضرت علامہ و مولانا شیخ الحدیث و التفسیر تحسین رضا خاں قادری رضوی﷫ نے سند خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت ﷜ کے سالانہ عرس مقدس کے موقع پر 1405ھ میں اپنا خلیفہ بنا کر سر پر عمامہ شریف باندھا۔ اس اعتبار سے اعلیٰ حضرت قدس السرہٗ کے فیض رضا کے ساتھ ساتھ برادر اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان﷫ کے فیوضات کا سلسلہ بھی جاری ہوا۔ اور قمر ملت علیہ الرحمت گویا’’مرج البحرین یلتقیٰن‘‘ کا مظہر ہوگئے۔

حضرت سیّد الاتقیا و صدر العلماء کی باطنی توجہات و التفات کے زیر اثر بہت جلد علوم طریقت میں کامل ہوگئے تھے اور حضرت تحسین رضا صاحب کے اصرار پر ڈاکٹر قمر رضا صاحب نے خواہشمندوں اور معتقدوں کو داخل سلسلہ کرنا شروع کیا۔

فقیر راقم الحروف یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ متذکرہ بزرگوں نے اپنے اکابر و اسلاف کے انداز میں یقیناً تاکید فرمائی ہوگی، کہ خواستگاران بیعت کو مایوس نہ کرنا بلکہ فوراً داخل سلسلہ فرمانا۔ اسی لیے حضرت قمر ملت﷫ نے شائقین و طالبین کو کبھی منع نہیں فرمایا، بلکہ بیعت فرما کر نہایت مشفقانہ طرز عمل سے وابستگان سلسلہ کو اپنے بچوں کی طرح سرپرستی سے متمتع فرماتے تھے۔ اپنے مریدین سے نذر قبول فرمانے میں تردد و احتراز کا عنصر شامل رکھتے۔ پیران طریقت کے عام سماجی رویوں کے برعکس حضرت قمر رضا مریدین کی کسمپرسی اور بے سروسامانی کا مشاہدہ فرماتے یا محض مطلع ہوتے، تو ان کے لیے اور ان کے خاندان کے لیے راشن وغیرہ کا اہتمام اپنی جیب خاص سے کرتے تھے۔ خواہ وہ بریلی یو پی کا رہنے والا ہو یا بہار شریف کا یا مہاراشٹر کا۔

قمر ملت کی خدادد ذہانت و قابلیت:

اعلیٰ حضرت﷫ کے انداز میں علم الاعداد اور تاریخ تخریج کرنے کی مہارت تامہ حاصل کی۔بچوں کے تاریخی نام رکھنے کے لیے والدین اکثر،حضرت قمر رضا سے رجوع کرتے تھے، جبکہ اداروں اور درسگاہوں کے سال تاسیس کی مناسبت سے تاریخی نام تجویز فرما دیتے تھے۔ اگر حضور تاج الشریعہ سے کوئی اس امر میں رجوع کرتا، تو حضرت مفتئ اسلام شیخ الاسلام مدظلہ بھی یہ ہدایت فرماتے کہ قمر میاں سے ملو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ کے فضل و کرم سے امام العلماء حضرت علامہ مولانا رضاعلی خاں﷜ کی اولاد و امجاد میں ذہانت وفطانت اور دینی خدمات کے جذبات اعلیٰ درجے پر ودیعت ہوئے ہیں، اور یہ صدقہ ہے اس غیرت ایمانی اور فیوضات وجدانی کا کہ جو عشق رسولﷺ کے دریائے رحمت میں غوطہ زن ہوئے بغیرحاصل و میسر نہیں ہوتا۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت﷫ میں سلف تا خلف یعنی گذشتہ اور آئندہ پاکیزہ اور حلال و طیب رزق سے روح و جسم کو قوت نمو حاصل ہوتی رہی ہے۔ اسی کے زیر اثر بصیرت، فراست، ذہانت، ادراک و شعور، طبعی میلان اور وہبی وجدان، توانا درتوانا ہوئے ہیں۔ اسی باعث توالد و تناسل کی مختلف منازل میں کبھی اعلیٰ حضرت کی صورت، تو کبھی استاذ زمن مولانا حسن رضا، کبھی مولانارضا علی خان﷫ تو کبھی مولانا نقی علی خاں﷫ اور کبھی مفتی اعظم قدس السرہٗ کے عکوس، مختلف نفوس میں یہ علائق خصوصی، خلائق نسبتی محسوس کرتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت، قمر ملت حضرت محمد قمر رضا﷫ کی ذات میں، جدّ کریم مولانا رضا علی خاں﷜ کا انداز وعظ و نصیحت اور اعلیٰ حضرت﷜ کی ذہانت خصوصاً تاریخ گوئی پر عبور و مہارت کی دولت وراثت ہی میں منتقل ہوئی تھیں۔

مسلک اعلیٰ حضرت کی بیباک ترجمانی:

مسلک حقہ کے ابلاغ کے لیے اپنی مبارک زندگی کے 28 سال وقف کردیئے، آرام ترک کردیا۔ اللہ اکبر...اللہ اکبر... سفر کے تسلسل کا یہ عالم رہا کہ ابھی ابھی بہار شریف سے بریلی شریف پہنچے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ دو چار دن آرام کرلیں، اہلیہ اور بچوں کی ضرورت معلوم کرلیں، اور ان کی ضروریات کو پورا کریں___ نہیں___ نہیں___ بس___خاندان کے بزرگوں کی بارگاہ میں حاضری___ اعلیٰ حضرت کے مزار پر انوار پر حاضری___ تبلیغی اسفار کے دوران کسی شہر سے دی جانے والی امانتیں

(یعنی دارالعلوم منظر اسلام یا مظہر اسلام کے عطیات/ یا بزرگوں کے نذرانے و تحائف یا سلام و پیغام) حقداروں تک پہنچا کر، اگلے ہی روز یا صبح پہنچے تو بوقت دوپہر یا شام پھر تبلیغی سفر پر روانہ ہوگئے۔

ہندوستان کے طول و عرض میں حضرت قمر رضا﷫ کے سادہ و دلنشین خطابات کی دھوم تھی۔ دور دراز و غیر متمدن گاؤں دیہات میں بھی آپ وعظ و ارشاد کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے حتیٰ کہ ان شہروں میں بھی جہاں مسلم آبادی کا شرح
1👍1