🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.89K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.8K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from ✰شان محمدالمصباحی القادری✰
الجواب۔یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔
سب ناجائز کے مرتکب توبہ کریں بعد توبہ امامت جائز۔واللہ تعالٰی اعلم

الجواب۔حافظ صاحب کو اجرت دے کر تراویح پڑھوانا ناجائز ہے لہذا ناجائز کام کے لئے چندہ کرنا بھی ناجائز ہے ہاں مسجد والے حافظ صاحب کو اپنے کام کاج کے لئے نوکر رکھیں پھر ان سے تراویح پڑھانے کا کام لیں اب طرفین جس مقدار پر راضی ہوجائیں وہ حافظ صاحب کی مہینہ بھر کی تنخواہ ہوگی جس کی ادائگی مسجد والوں پر لازم ہوگی
اب اس ادائگی کے لئے چندہ کرنا جائز ہوگا
رمضان کا چند مختلف مقامات پر مختلف طریقہ پر ہوتا ہے اگر آپ کے یہاں حافظ صاحب امام صاحب مؤزن صاحب اور مسجد کے لئے جدا جدا چندہ ہوتا ہے تو پھر جس کے نام سے چندہ جمع کیا گیا وہ دوسرے کو دینا ہرگز جائز نہ ہوگا اور اگر آپ کے یہاں تمام مصارف بشمول مسجد کا چندہ یکجا ہوتا ہے تو باقی روپیہ مسجد میں لگانا جائز ہے
فتاوی رضویہ میں جائز امور کے لئے چندہ کرنے اور اس کے مصرف کے بارے میں ہے"یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی.  (١٣٤/١٦) اور ایسا ہی فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.
واللہ تعالی اعلم
28/5/19
💯21👍1
مسئلہ ۲۰:  آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ (یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے) ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے؟
اگر یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے تو ایسے حافظِ قرآن، کمیٹی کے لوگ، امام صاحب اور جو جو لوگ حافظ صاحب کے لئے چندہ کرکے اُجرت دینے میں شریک رہتے ہیں ـ ان سب پر شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نیز لینے والے اور دینے والے یا دِلانے والوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا
مکمل جواب اِس فوٹو کے اوپر ہے↶

https://t.me/islaamic_Knowledge/45849
👍4👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👌1
حضرت ابو الفرح طرطوسی علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
کنیت: ابو الفرح ۔ اسم گرامی: شیخ محمد یوسف ۔ لقب: راحت المسلمین ۔ والد کا اسم گرامی: شیخ عبد الله طرطوسی ۔ شام کے خوب صورت شہر ’’ طرطوس ‘‘ کی نسبت سے ’’طرطوسی‘‘ کہلاتے ہیں ۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ مروجہ علوم اسلامی کے ماہر کامل اور فاضل متبحر تھے۔علم الاخلاق اور تصوف میں امام تھے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و سلوک کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔آپ حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی کے اجل اور اعظم خلفاء میں سے ہیں ۔

سیرت و خصائص:
قدوۂ اولیاء، سیدِ زمان ، زبدۂ مشائخ جہاں حضرت شیخ ابو الفرح محمد یوسف طرطوسی ۔

آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے چودہویں (14) امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ ولی کامل اور عالم و فاضل جمیع علوم ظاہری و باطنی ہیں ۔ آپ بہت بڑے صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ اور صبر و توکل میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔ زمانے کے علماء و مشائخ نے آپ کو منفرد وقت جانا اور مانا ہے، آپ عظیم خوبیوں کے مالک تھے، اور اپنے پیر و مرشد کے نقش قدم پر رہ کر خلق خدا کی ہدایت کا عظیم فرض انجام دیا اور دین متین کی وہ خدمات انجام دیں کہ آج بھی آپ کا نقش قدم فیض روحانی کا سر چشمہ ہے، تجرید و تفرید میں یگانۂ وقت تھے ۔شہر طرطوس ملک شام کے عمدہ ترین شہروں میں سےایک بہترین شہر تھا ۔

آپ نے اس شہر کو اپنے قیام کے لئے منتخب فرمایا اور اسی شہر میں بود و باش اختیار فرمائی اس لئے آپ طرطوسی کہے جانے لگے ۔ اس شہر میں آپ نے قیام فرما کر صفحاتِ سِیر پر اس کے نام کو بلند فرما دیا اور اس کے مجہول نام کو اوج ثریا پر پہنچا دیا ۔ سچ ہے کہ جو زمین کسی مردِ خدا کو مقتدا نہ طور پر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے تو وہ زمین باعثِ تعظیم و لائق تقدیس ہو جاتی ہے ۔ اس کے نظائر ہمیں بہت سے شہروں اور مقامات میں نظر آتی ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے گمنام قصبے دنیا میں ان نفوس قدسیہ کی بدولت مشہور و مقبول ہو جاتے ہیں ۔ میرے سامنے اس کی ایک نظیر پاکستان کا ایک دور دراز اور پسماندہ علاقہ ’’ تونسہ شریف ‘‘ بھی ہے، جو اکیسویں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے، لیکن اس کا نام پیر پٹھان حضرت شاہ محمد سلیمان تونسوی کی بدولت پوری دنیا میں روشن ہے ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں دنیا میں موجود ہیں ۔

تاریخ وصال:
آپ کاوصال 3 شعبان المعظم بروز ہفتہ 443 ھ / مطابق 27 اکتوبر 1055ء کو خلیفہ القائم بامر اللہ عباسی کے عہد میں طرطوس میں ہوا ۔

خلفاء:
آپ کے صرف ایک خلیفہ کا نام کتبِ سِیر میں ملتا ہے جو حضرت شیخ ابو الحسن علی ہکّاری ہیں ۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار مقدس شام کے شہر طرطوس میں مرجع خلائق ہے ۔

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
بُو الْفَرَح کا صدقہ کر غم کو فَرَح دے حُسن و سَعد
بُو الْحَسَن اور بُو سَعیدِ سَعْد زا کے واسِطے

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-farah-tartusi
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ

آپ کی کنیت ابو عبد اللہ اور والد کا نام سعید تھا ۔ کوفی الاصل تھے ۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔

مسجد کے اندر بایاں قدم:
ان کی توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لا پروائی سے بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو ۔ یہ بات سنتے ہی بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منھ پر طمانچہ مارتے اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا نام انسانوں میں کیسے رکھا جا سکتا ہے ۔

ایک دن خلیفہ وقت نماز کی جماعت کرا رہا تھا ۔ مگر دورانِ نماز خلیفہ نے بے خیالی سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز نہیں ۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منھ پر مارا جائے گا ۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ حق سے باز رہوں تو میرا پیشاب خون بن جائےگا ۔

خلیفہ نے یہ بات بری جانی ۔ دوسرے دن حکم دیا کہ سولی نصب کی جائے اور سفیان ثوری کو تختہ وار پر کھینچا جائے ۔ تاکہ دوسرے گستاخوں کو عبرت ہو ۔ حضرت سفیان نے سنا تو رونے لگے ۔ اور کہا: اے اللہ ان ظالموں کو سزا دے ۔ خلیفہ وقت اس وقت تخت پر بیٹھا تھا ۔ اور اس کے وزراء اور امراء بھی حلقہ بنائے کھڑے تھے ۔ اچانک چھت گری ۔ اور خلیفہ اور اُس کے وزراء چھت کے نیچے آکر ہلاک ہو گئے ۔

آپ مخلوقِ خدا سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پنجرے میں پرندہ فریاد کر رہا تھا ۔ آپ نے اسے خرید لیا اور آزاد کر دیا ۔ یہ پرندہ ہر روز حضرت سفیان کے گھر آتا آپ کو دیکھتا سر اور بازوؤں پر بیٹھتا ۔ حضرت سفیان فوت ہوئے تو یہ پرندہ آپ کے جنازے پر اڑتا دکھائی دیا اس کی فریاد سے جنازے میں شریک لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو وہ پرندہ آپ کی قبر پر تڑپ تڑپ کر مر گیا ۔ حضرت سفیان کی قبر سے آواز آئی کہ ہم نے سفیان کو خلق خدا کی محبت کے بدلے بخش دیا ہے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۱۶۱ھ میں ہوئی ـ بعض تذکرہ نگاروں نے تاریخ سالِ وفات ۱۵۵ھ لکھا ہے ۔

حضرت سفیان ثوری شیخ دیں
ہر دو سال وصل آں والا جناب
نیز با اقوال بعضے از عوام

مقتدائے پیشوائے دو جہاں
کعبۂ دین ہائے و عالم بداں
والی حق سال ترحیلش بداں

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا حکیم عبد الماجد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری و موعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے ـ

آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے ـ

ولادت:
4؍ شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی، تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی ـ

تعلیم:
حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بدایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بدایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی 1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی ـ

تقاریر و مناظرہ:
دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے ـ

دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی و حیدر آباد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بدایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کر دیا گیا ـ

افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آ گیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہو گئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت و عمدگی تعلیم ہند و پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی ۔

مولانا کی ملکی و قومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائےگی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بدایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون و ہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔

1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا،

پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت و کانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا ـ

کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولوی تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرما تھے ـ

دس 10 بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دو زانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دو چار ہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عبا کے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آ رہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بار تھا، کسی طرف سے آہ و بکا کا شور تھا، مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جا رہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرا بور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کے اصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی
1👍1
ـ1931ء میں بمقام لکھنؤ مسلم کانفرنس کا جلسہ تھا، اس میں شرکت کے لیے لکھنؤ گئے، راجہ صاحب سلیم پور کے مہمان ہوئے، نو 9 بجے شب رخصت ہوتے ہوئے مولانا حسرت موہانی مرحوم سے فرمایا ‘‘خدا حافظ’’

پھر اپنے ایک مُرید مولوی محمد نذیر صاحب کے یہاں جو صدر میں رہتے تھے اُن کے یہاں گئے، گیارہ بجے نماز عشاء پڑھی، اور دیر تک تلاوت قرآن پاک کی، اور اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے فرمایا، تم تنہا ہو گھبرانا نہیں، یہ کہہ کر سینے سے لگایاا ور فرمایا، آج روح بے چین ہے، دست و قے بار بار ہو رہا ہے، تازہ وضو کرا دو، نقاہت و ناتوانی بے حد فزوں تھی، مولانا عبد الواحد صاحب کے کاندھے پر سر رکھ دیا اور یا غفور یا رحمان کہتے ہوئے ـ

تاریخِ وصال:
دو شنبہ کی رات میں 3 بجے 3؍ شعبان المعظم 1350ھ موافق 14؍دسمبر 1931ء کو واصل بحق ہوئے ـ

اور اس طرح عمر بھر کی بیقراری کو قرار آگیا، نو 9 بجے دن میں نعش بذریعہ موٹر روانہ ہو کر 5 بجے شام بدایونی پہنچی 9؍ بجے شب میں اسی جگہ پر غسل دیا گیا جہاں آپ کے مرشدان عظام کا غسل میت ہوتا تھا، ایک بجے شب میں مولانا قطب الدین عبد الوالی فرنگی محلی کے اصرار پر آخری زیارت کرائی ، صبح کے وقت جنازہ نانخانہ میں پہنچایا گیا توچند قطرے خون کے ناک سے جاری ہوئے، درگاہ قادری کی حاضری کے وقت تک بوقت رونمائی ناک سے تازہ خون اُپھن اُپھن کر بہہ رہا تھا، یہ مولانا کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ اپنے والد ماجد کی طرح شہادت کی محافل میں شہید ہونے کے لیے مانگا کرتے تھے ۔

نمازِ جنازہ:
دس بجے دن میں عید گاہ شمسی میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ عبد القدیر بد ایونی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا ہوئی،

مدفن:
درگاہ قادری میں اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر قدس سرہٗ کے پائیں دفن کیے گئے، شکیل بد ایونی مرحوم کے والد ماجد مولانا جمیل احمد سوختہ مرحوم نے قطعۂ تاریخ وفات کہا ؎

شیخ کل حضرت عبد الماجد
مقتدر عالم دیں، نیک مزاج

یک بیک ہوگئے واصل بخدا
ہوگئی علم کی دنیا تاراج

رہبر دین، شہ دیں تھے حضور
آپ تھے ملت حق کے سرتاج

کہیئے یہ آپ کی تاریخ جمیل
’’ گل ہوا ہائے چراغ دین ‘‘ آج

(حیات طیّبہ، اکمل التاریخ، معارف، صدق جدید)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-08-1444 ᴴ | 24-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1