🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام اعظم کی سیرت اور تصنیفات
https://t.me/islaamic_Knowledge/45781
👍21
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
Forwarded from ✰شان محمدالمصباحی القادری✰
الجواب۔یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔
سب ناجائز کے مرتکب توبہ کریں بعد توبہ امامت جائز۔واللہ تعالٰی اعلم

الجواب۔حافظ صاحب کو اجرت دے کر تراویح پڑھوانا ناجائز ہے لہذا ناجائز کام کے لئے چندہ کرنا بھی ناجائز ہے ہاں مسجد والے حافظ صاحب کو اپنے کام کاج کے لئے نوکر رکھیں پھر ان سے تراویح پڑھانے کا کام لیں اب طرفین جس مقدار پر راضی ہوجائیں وہ حافظ صاحب کی مہینہ بھر کی تنخواہ ہوگی جس کی ادائگی مسجد والوں پر لازم ہوگی
اب اس ادائگی کے لئے چندہ کرنا جائز ہوگا
رمضان کا چند مختلف مقامات پر مختلف طریقہ پر ہوتا ہے اگر آپ کے یہاں حافظ صاحب امام صاحب مؤزن صاحب اور مسجد کے لئے جدا جدا چندہ ہوتا ہے تو پھر جس کے نام سے چندہ جمع کیا گیا وہ دوسرے کو دینا ہرگز جائز نہ ہوگا اور اگر آپ کے یہاں تمام مصارف بشمول مسجد کا چندہ یکجا ہوتا ہے تو باقی روپیہ مسجد میں لگانا جائز ہے
فتاوی رضویہ میں جائز امور کے لئے چندہ کرنے اور اس کے مصرف کے بارے میں ہے"یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی.  (١٣٤/١٦) اور ایسا ہی فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.
واللہ تعالی اعلم
28/5/19
💯21👍1
مسئلہ ۲۰:  آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ (یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے) ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے؟
اگر یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے تو ایسے حافظِ قرآن، کمیٹی کے لوگ، امام صاحب اور جو جو لوگ حافظ صاحب کے لئے چندہ کرکے اُجرت دینے میں شریک رہتے ہیں ـ ان سب پر شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نیز لینے والے اور دینے والے یا دِلانے والوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا
مکمل جواب اِس فوٹو کے اوپر ہے↶

https://t.me/islaamic_Knowledge/45849
👍4👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👌1