امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرمایا کرتے تھے: جو آدمی فقہ ماہر ہونا چاہیے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہوگا یہ بھی فرمایا کہ میں ابو حنیفہ سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں جانتا اور لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال ہیں، جس نےامام ابوحنیفہ کی کتابیں نہیں دیکھیں وہ علم میں ماہر نہیں ہوسکتا اور نہ فقیہ ہوسکتا ہے۔(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ لنعمان)
روضۂ اقدس سے سلام کا جواب:
جب امام صاحب رضی اللہ عنہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا:السلام علیک یا رسول اللہ ۔۔تو جواب ملا:علیک السلام یا امام المسلمین۔(خزینۃ الاصفیاء:91) حضرت یحییٰ بن معاذ رازی فرمایا کرتے تھے: کہ میں نے پیغمبرِ خدا ﷺکو خواب میں دیکھا تو عرض کیا:یارسول اللہﷺ!میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: علم ابوحنیفہ کے پاس ۔ خواجہ محمد پارسا نے فصولِ ستہ میں لکھا ہے: کہ امام اعظم کا وجود حضورﷺکے معجزات میں سے ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اس مذہب پر گامزن ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک اسی دین پر حکم چلایا کریں گے۔ قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر اپنی کتاب راحت القلوب میں لکھتے ہیں: کہ جناب امام ابوحنیفہ جب آخری مرتبہ حج بیت اللہ کوتشریف لے گئے تو رات کے وقت کعبۃ اللہ کا دروازہ پکڑ کر ایک پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف قرآن ختم کردیا، پھر دوسرے پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف دوسرا ختم کیا۔ پھر کہا:ما عرفناک حق معرفتک وما عبدناک حق عبادتک۔ غیب سےآوازآئی:ابوحنیفہ تم نے پہچان لیا، جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور میری تم نے عبادت کردی جیسا کہ حق ہوتا ہے، ہم تمہیں اور تیرے مقلدین کو بخش دیں گے۔(ایضاً:91)
زہد و تقویٰ:
حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ علم و فضل کی بے اندازہ دولت کے ساتھ عمل صالح اور اخلاق حسنہ کا مثالی پیکر تھے ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباع سنت میں گزرتا ، شریعت اسلامی کی نزاکتوں کا پورا خیال رکھتے۔ خدا ترسی اور ورع و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے، ترہیب کی آیتوں پربے اختیار آنسو جاری ہوجاتے۔ ایک بار " والساعۃ ادھیٰ وامر"پر پہنچے تو اسی کو رات بھر دہراتے اور روتے رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت سے غیر معمولی شغف تھا۔ امام صاحب جس جگہ سے گرفتار کر کے بغداد بھیجے گئے اس جگہ سات ہزار مرتبہ قرآن شریف ختم کیا۔مشہور محدث حفص بن عبدالرحمان فرماتے ہیں: کہ امام ابو حنیفہ نے تیس سال تک ایک رات میں پورا قرآن پڑھ کر قیام لیل فرمایا تیس سال برابر روزے رکھے۔قاضی ِبغداد حسن بن عمارہ نے وفات کے بعد آپ کو غسل دیا اور فرمایا تم پر اللہ رحم فرمائے، تین سال سے افطار نہیں کیا اور چالیس سال سے رات کو کروٹ نہ لی ہم میں تم سب سے زیادہ فقیہ تھے اور سب سے زیادہ عبادت گذار تھے اور ہم میں سب سے زیادہ بھلائی کی خصلتوں کو جمع کرنے والے تھے اور جب دفن ہوئے تو بھلائی اور سنت کے ساتھ دفن ہوئے۔(حیاتِ محدثین:25) ۔ حضرت امام عبدالعزیز بن ابی رواد فرماتےہیں: آپ سے محبت اہل سنت کی علامت ، اورآپ سے بغض اہل بدعت کی علامت ہے۔(سیر اعلام النبلاء:ج6،ص536)
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کے تمام انواع و اقسام پر اجتہادی نوعیت سے کام کیا ہے۔بصیرت افروز راہنما اصول قائم کیے ہیں اور محض روایتی انداز سے سماع حدیث کرنے والوں کو عقل و آگہی کی روشنی دی ہے، ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر نہ جانے کتنے افراد دنیائے علم و فضل میں اَمر ہوگئے۔ان کے تلامذۃ کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ذروں کو اٹھایا تو رشک ماہتاب بنادیا، یہ حنفی سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو احادیث رسول سے قرناً فقرناً ائمہ و مشائخ کے سینوں کو منور کرتی چلی گئیں۔سلام ہو اس امام پر جس نے جھلملاتے چراغون کو سورج کی توانائیاں بخشیں،آفرین ہو اس کی فکرِ صائب پر جس نے اسلامی علوم کو رعنائیاں دیں،آج دینی علوم کے تمام شعبوں میں انہیں کے فیض کے دھارے بہہ رہے ہیں ۔جب تک علم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔جب تک درس گاہوں میں فقہ و حدیث کا چرچا رہے گازمانہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتا رہے گا۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2/شعبان المعظم 150ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار " اعظمیہ " عراق میں منبعِ فیوض وبرکات ہے ۔ (سیرت امام اعظم: 93 / علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرۃ المحدثین ۔ حیات المحدثین ـ خزینۃ الاصفیاء ۔ امام اعظم کا محدثانہ مقام ۔ وفیات الاعیان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-e-azam-abu-hanifa
روضۂ اقدس سے سلام کا جواب:
جب امام صاحب رضی اللہ عنہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا:السلام علیک یا رسول اللہ ۔۔تو جواب ملا:علیک السلام یا امام المسلمین۔(خزینۃ الاصفیاء:91) حضرت یحییٰ بن معاذ رازی فرمایا کرتے تھے: کہ میں نے پیغمبرِ خدا ﷺکو خواب میں دیکھا تو عرض کیا:یارسول اللہﷺ!میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: علم ابوحنیفہ کے پاس ۔ خواجہ محمد پارسا نے فصولِ ستہ میں لکھا ہے: کہ امام اعظم کا وجود حضورﷺکے معجزات میں سے ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اس مذہب پر گامزن ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک اسی دین پر حکم چلایا کریں گے۔ قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر اپنی کتاب راحت القلوب میں لکھتے ہیں: کہ جناب امام ابوحنیفہ جب آخری مرتبہ حج بیت اللہ کوتشریف لے گئے تو رات کے وقت کعبۃ اللہ کا دروازہ پکڑ کر ایک پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف قرآن ختم کردیا، پھر دوسرے پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف دوسرا ختم کیا۔ پھر کہا:ما عرفناک حق معرفتک وما عبدناک حق عبادتک۔ غیب سےآوازآئی:ابوحنیفہ تم نے پہچان لیا، جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور میری تم نے عبادت کردی جیسا کہ حق ہوتا ہے، ہم تمہیں اور تیرے مقلدین کو بخش دیں گے۔(ایضاً:91)
زہد و تقویٰ:
حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ علم و فضل کی بے اندازہ دولت کے ساتھ عمل صالح اور اخلاق حسنہ کا مثالی پیکر تھے ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباع سنت میں گزرتا ، شریعت اسلامی کی نزاکتوں کا پورا خیال رکھتے۔ خدا ترسی اور ورع و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے، ترہیب کی آیتوں پربے اختیار آنسو جاری ہوجاتے۔ ایک بار " والساعۃ ادھیٰ وامر"پر پہنچے تو اسی کو رات بھر دہراتے اور روتے رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت سے غیر معمولی شغف تھا۔ امام صاحب جس جگہ سے گرفتار کر کے بغداد بھیجے گئے اس جگہ سات ہزار مرتبہ قرآن شریف ختم کیا۔مشہور محدث حفص بن عبدالرحمان فرماتے ہیں: کہ امام ابو حنیفہ نے تیس سال تک ایک رات میں پورا قرآن پڑھ کر قیام لیل فرمایا تیس سال برابر روزے رکھے۔قاضی ِبغداد حسن بن عمارہ نے وفات کے بعد آپ کو غسل دیا اور فرمایا تم پر اللہ رحم فرمائے، تین سال سے افطار نہیں کیا اور چالیس سال سے رات کو کروٹ نہ لی ہم میں تم سب سے زیادہ فقیہ تھے اور سب سے زیادہ عبادت گذار تھے اور ہم میں سب سے زیادہ بھلائی کی خصلتوں کو جمع کرنے والے تھے اور جب دفن ہوئے تو بھلائی اور سنت کے ساتھ دفن ہوئے۔(حیاتِ محدثین:25) ۔ حضرت امام عبدالعزیز بن ابی رواد فرماتےہیں: آپ سے محبت اہل سنت کی علامت ، اورآپ سے بغض اہل بدعت کی علامت ہے۔(سیر اعلام النبلاء:ج6،ص536)
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کے تمام انواع و اقسام پر اجتہادی نوعیت سے کام کیا ہے۔بصیرت افروز راہنما اصول قائم کیے ہیں اور محض روایتی انداز سے سماع حدیث کرنے والوں کو عقل و آگہی کی روشنی دی ہے، ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر نہ جانے کتنے افراد دنیائے علم و فضل میں اَمر ہوگئے۔ان کے تلامذۃ کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ذروں کو اٹھایا تو رشک ماہتاب بنادیا، یہ حنفی سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو احادیث رسول سے قرناً فقرناً ائمہ و مشائخ کے سینوں کو منور کرتی چلی گئیں۔سلام ہو اس امام پر جس نے جھلملاتے چراغون کو سورج کی توانائیاں بخشیں،آفرین ہو اس کی فکرِ صائب پر جس نے اسلامی علوم کو رعنائیاں دیں،آج دینی علوم کے تمام شعبوں میں انہیں کے فیض کے دھارے بہہ رہے ہیں ۔جب تک علم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔جب تک درس گاہوں میں فقہ و حدیث کا چرچا رہے گازمانہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتا رہے گا۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2/شعبان المعظم 150ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار " اعظمیہ " عراق میں منبعِ فیوض وبرکات ہے ۔ (سیرت امام اعظم: 93 / علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرۃ المحدثین ۔ حیات المحدثین ـ خزینۃ الاصفیاء ۔ امام اعظم کا محدثانہ مقام ۔ وفیات الاعیان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-e-azam-abu-hanifa
scholars.pk
Hazrat Imam-e-Azam Abu Hanifa
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Noman Bin Sabit Imam-e-Azam Abu Hanifa
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نام و نسب: اسم گرامی: نعمان ۔ کنیت: ابو حنیفہ لقب: امام اعظم، سراج الامۃ، کاشف الغمہ ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بن ثابت بن قیس بن یزد گرد بن بن شہر یار بن پرویز بن نوشیرواں…
امام اعظم کی سیرت اور تصنیفات
https://t.me/islaamic_Knowledge/45781
https://t.me/islaamic_Knowledge/45781
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-08-1444 ᴴ | 22-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1444 ᴴ | 23-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2