🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1444 ᴴ | 21-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-07-1444 ᴴ | 21-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت عبد الکریم بن عبدالنور حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
عبد الکریم بن عبد النور بن منیر عبد الکریم حلبی: ۱۶ رجب ۶۶۳ھ میں پیدا ہوئے ۔
اپنے زمانہ کے امام اور فقیہ فاضل محدث کامل تھے ۔ قطب الدین لقب تھا، علم شمس الدین محمود بن ابی بکر کلا باذی فرضی سے اخذ کیا اور حدیث کو بکچرت سنا اور بیان کیا یہاں تک کہ حفاظ اور نقاد حدیث میں شمار ہوئے اور کئی دفوہ حج کیا۔ کتابوں کے عاریۃً دینے میں بڑے جوان مرد تھے ۔
کتاب اہتمام بہ تلخیص المام اور شرح صحیح بخاری دس مجلد میں ار شرح سیرت عبد الغنی تسنیف فرمائی اور مصر کی ایک تاریخ کچھ اوپر دس جلد میں لکھی، علاوہ ان کے اور بہت کتابیں تصنیف کیں ـ
وصال:
سلخ ماہِ رجب ۷۳۵ھ میں اس جہان فانی سے رحلت کی، ’’ محدث مقبولہ ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdul-karim-bin-abdul-noor-halbi
ولادت:
عبد الکریم بن عبد النور بن منیر عبد الکریم حلبی: ۱۶ رجب ۶۶۳ھ میں پیدا ہوئے ۔
اپنے زمانہ کے امام اور فقیہ فاضل محدث کامل تھے ۔ قطب الدین لقب تھا، علم شمس الدین محمود بن ابی بکر کلا باذی فرضی سے اخذ کیا اور حدیث کو بکچرت سنا اور بیان کیا یہاں تک کہ حفاظ اور نقاد حدیث میں شمار ہوئے اور کئی دفوہ حج کیا۔ کتابوں کے عاریۃً دینے میں بڑے جوان مرد تھے ۔
کتاب اہتمام بہ تلخیص المام اور شرح صحیح بخاری دس مجلد میں ار شرح سیرت عبد الغنی تسنیف فرمائی اور مصر کی ایک تاریخ کچھ اوپر دس جلد میں لکھی، علاوہ ان کے اور بہت کتابیں تصنیف کیں ـ
وصال:
سلخ ماہِ رجب ۷۳۵ھ میں اس جہان فانی سے رحلت کی، ’’ محدث مقبولہ ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdul-karim-bin-abdul-noor-halbi
scholars.pk
Hazrat Abdul Karim Bin Abdul Noor Halbi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت محمد بن ادریس امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
کنیت ابو عبد اللہ، لقب شافعی، نام محمد بن ادریس تھا ۔ آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا نسب نامہ آٹھ واسطوں سے حضرت عبد المطلب سے ملتا ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ کا نام حضرت ام الحسن بنت حمزہ بن قاسم بن زید بن حسن بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہے ۔
اسی لیے آپ کو قریشی، ہاشمی، علوی اور فاطمی کہا جاتا ہے ـ ائمہ اربعہ میں سے امام سوئم ہیں ۔
تعلیم:
جب تک مدینہ میں رہے حضرت امام مالک سے پڑھتے رہے ۔ جب عراق میں آئے امام محمد بن حسن شاگردِ حضرت امام اعظم سے استفادہ کیا ۔
ولادت:
آپ کی ولادت بمقام غرہ یا عسقلان یا بقول دیگر مناور ۱۵۰ھ میں ہوئی۔
امامِ شافعی رحمۃ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں حرم میں کہہ رہے تھے: سلونی بما شئتم ۔ جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو ۔ پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینے لگے۔
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ جنھیں تین ہزار احادیث یاد تھیں آپ کی شاگردی میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی حاشیہ برداری میں راحت محسوس کرتے تھے۔ لوگوں نے ایک بار آپ سے کہا: آپ بایں علم و فضیلت ایک بچے کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں اور مشائخ و اساتذہ کی صحبت ترک کر دی ہے ۔ آپ نے فرمایا: جو چیز ہمیں یاد ہے شافعی ان کے معنیٰ جانتا ہے ۔ فقہ کا دروازہ بند ہو گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی برکت سے کھول دیا ۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسالت مآب ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: بیٹا تمھارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ کے کمترین غلاموں میں سے ہوں۔ آپ نے مجھے اپنے پاس بلا کر اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اللہ کی برکات تجھے نصیب ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی انگشتری اتار کر مجھے پہنادی۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انوار اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علوم مجھے نصیب ہوئے۔
حضرت امام شافعی کی والدہ زاہدہ، عابدہ اور امینہ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر جاتے ایک دفعہ دو آدمی آئے۔ ایک صندوقچہ جو مال و سامان کا بھرا ہوا تھا آپ کے حوالے کردیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے ایک شخص آیا اور وہ صندوقچہ لے گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرا بھی آیا اور صندوقچہ مانگا۔ تو حضرت بی بی نے بتایا کہ تمہارا ساتھی لے گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دونوں کی حاضری کے بغیر آپ نے ایک شخص کو کیوں دے دیا۔ حضرت شافعی جن کی عمر پندرہ سال تھی آگئے۔ سارا واقعہ سننے کے بعد والدہ ماجدہ سے کہنے لگے آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔ مدعی سے آپ نے پوچھا کہ صندوقچہ دیتے وقت آپ لوگوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم دونوں آئیں تو امانت دی جائے۔ اب تم جاؤ اور اپنے دوست کو ہمراہ لے آؤ تاکہ صندوقچہ دونوں کو دیا جائے۔ جب تک تم دونوں اکٹھے نہیں آؤ گے صندوقچہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ مدعی متحیر ہوکر چلا گیا۔
ہارون الرشید ایک رات اپنی بیگم زبیدہ سے اُلجھ پڑا۔ زبیدہ نے ہارون کو دوزخی کہہ دیا۔ ہارون نے کہا: اگر میں دوزخی ہوں تو تمھیں طلاق ہو گئی۔
چنانچہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ۔ زبیدہ ہارون کی محبوب بیوی تھی اور ہارون پر دل و جان سے فدا تھی۔ چنانچہ دونوں اس اتفاقیہ تلخ کلامی سے ایک جدائی میں مبتلا ہوئے۔ ہارون نے علماء بغداد کو جمع کرکے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا اور فتویٰ چاہا کہ زبیدہ اس پر حلال ہو جائے۔ علماء کے لیے کوئی جواب نہ تھا اور کہا کہ خدائے عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ ہارون دوزخی ہے یا جنتی!
اس مجلس سے ایک بارہ سالہ لڑکا اٹھا اور اس نے کہا: میں جواب دوں گا۔ علماء و امراء اس کی اس جرأت پر حیران رہ گئے۔ اور کہنے لگے تم دیوانے ہو۔
لیکن ہارون الرشید نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا اگر ہو سکتا ہے تو جواب دو۔ یہ لڑکے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
حضرت امام شافعی نے خلیفہ کو کہا۔ چونکہ آپ سائل ہیں اس لیے تخت سے نیچے آ جائیں اور مجھے تخت پر بٹھا دیں۔ علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں اور جانشین رسول ہیں ہارون تخت سے اتر آیا اور امام شافعی تخت نشین ہو گئے۔
ہارون نے ایک سائل کی حیثیت سے مسئلہ بیان کیا ۔ حضرت امام شافعی نے کہا: جو کچھ میں پوچھوں اس کا صحیح جواب دیا جائے اور جھوٹ قطعاً نہ ملایا جائے ۔ اب تم اپنی زندگی پر نظر دوڑا کر بتاؤ کبھی تم معصیت پر قادر ہو کر خوفِ خداوندی سے ڈر کر رُک گئے ہو ۔ ہارون نے کہا: ہاں ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر کی ایک خوبصورت اور جواں سال لڑکی میری توجہ کا مرکز بنی، اسے میرا کچھ خیال نہ تھا ۔ ہزار ہا حیلہ و مکر کے بعد میں نے اسے طلب کر لیا اور تخلیہ میں لے جا کر اظہارِ مدعا کیا ۔ جب وہ بھی آمادۂ زنا ہو گئی تو میں خدا کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس عورت سے علیحدہ ہو گیا ۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرمانے لگے: اگر تم اس واقعے میں سچے ہو تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تم دوزخی نہیں جنتی ہو ۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس کا عذاب تمہاری گردن پر ہوگا ۔
کنیت ابو عبد اللہ، لقب شافعی، نام محمد بن ادریس تھا ۔ آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا نسب نامہ آٹھ واسطوں سے حضرت عبد المطلب سے ملتا ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ کا نام حضرت ام الحسن بنت حمزہ بن قاسم بن زید بن حسن بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہے ۔
اسی لیے آپ کو قریشی، ہاشمی، علوی اور فاطمی کہا جاتا ہے ـ ائمہ اربعہ میں سے امام سوئم ہیں ۔
تعلیم:
جب تک مدینہ میں رہے حضرت امام مالک سے پڑھتے رہے ۔ جب عراق میں آئے امام محمد بن حسن شاگردِ حضرت امام اعظم سے استفادہ کیا ۔
ولادت:
آپ کی ولادت بمقام غرہ یا عسقلان یا بقول دیگر مناور ۱۵۰ھ میں ہوئی۔
امامِ شافعی رحمۃ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں حرم میں کہہ رہے تھے: سلونی بما شئتم ۔ جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو ۔ پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینے لگے۔
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ جنھیں تین ہزار احادیث یاد تھیں آپ کی شاگردی میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی حاشیہ برداری میں راحت محسوس کرتے تھے۔ لوگوں نے ایک بار آپ سے کہا: آپ بایں علم و فضیلت ایک بچے کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں اور مشائخ و اساتذہ کی صحبت ترک کر دی ہے ۔ آپ نے فرمایا: جو چیز ہمیں یاد ہے شافعی ان کے معنیٰ جانتا ہے ۔ فقہ کا دروازہ بند ہو گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی برکت سے کھول دیا ۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسالت مآب ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: بیٹا تمھارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ کے کمترین غلاموں میں سے ہوں۔ آپ نے مجھے اپنے پاس بلا کر اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اللہ کی برکات تجھے نصیب ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی انگشتری اتار کر مجھے پہنادی۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انوار اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علوم مجھے نصیب ہوئے۔
حضرت امام شافعی کی والدہ زاہدہ، عابدہ اور امینہ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر جاتے ایک دفعہ دو آدمی آئے۔ ایک صندوقچہ جو مال و سامان کا بھرا ہوا تھا آپ کے حوالے کردیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے ایک شخص آیا اور وہ صندوقچہ لے گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرا بھی آیا اور صندوقچہ مانگا۔ تو حضرت بی بی نے بتایا کہ تمہارا ساتھی لے گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دونوں کی حاضری کے بغیر آپ نے ایک شخص کو کیوں دے دیا۔ حضرت شافعی جن کی عمر پندرہ سال تھی آگئے۔ سارا واقعہ سننے کے بعد والدہ ماجدہ سے کہنے لگے آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔ مدعی سے آپ نے پوچھا کہ صندوقچہ دیتے وقت آپ لوگوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم دونوں آئیں تو امانت دی جائے۔ اب تم جاؤ اور اپنے دوست کو ہمراہ لے آؤ تاکہ صندوقچہ دونوں کو دیا جائے۔ جب تک تم دونوں اکٹھے نہیں آؤ گے صندوقچہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ مدعی متحیر ہوکر چلا گیا۔
ہارون الرشید ایک رات اپنی بیگم زبیدہ سے اُلجھ پڑا۔ زبیدہ نے ہارون کو دوزخی کہہ دیا۔ ہارون نے کہا: اگر میں دوزخی ہوں تو تمھیں طلاق ہو گئی۔
چنانچہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ۔ زبیدہ ہارون کی محبوب بیوی تھی اور ہارون پر دل و جان سے فدا تھی۔ چنانچہ دونوں اس اتفاقیہ تلخ کلامی سے ایک جدائی میں مبتلا ہوئے۔ ہارون نے علماء بغداد کو جمع کرکے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا اور فتویٰ چاہا کہ زبیدہ اس پر حلال ہو جائے۔ علماء کے لیے کوئی جواب نہ تھا اور کہا کہ خدائے عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ ہارون دوزخی ہے یا جنتی!
اس مجلس سے ایک بارہ سالہ لڑکا اٹھا اور اس نے کہا: میں جواب دوں گا۔ علماء و امراء اس کی اس جرأت پر حیران رہ گئے۔ اور کہنے لگے تم دیوانے ہو۔
لیکن ہارون الرشید نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا اگر ہو سکتا ہے تو جواب دو۔ یہ لڑکے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
حضرت امام شافعی نے خلیفہ کو کہا۔ چونکہ آپ سائل ہیں اس لیے تخت سے نیچے آ جائیں اور مجھے تخت پر بٹھا دیں۔ علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں اور جانشین رسول ہیں ہارون تخت سے اتر آیا اور امام شافعی تخت نشین ہو گئے۔
ہارون نے ایک سائل کی حیثیت سے مسئلہ بیان کیا ۔ حضرت امام شافعی نے کہا: جو کچھ میں پوچھوں اس کا صحیح جواب دیا جائے اور جھوٹ قطعاً نہ ملایا جائے ۔ اب تم اپنی زندگی پر نظر دوڑا کر بتاؤ کبھی تم معصیت پر قادر ہو کر خوفِ خداوندی سے ڈر کر رُک گئے ہو ۔ ہارون نے کہا: ہاں ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر کی ایک خوبصورت اور جواں سال لڑکی میری توجہ کا مرکز بنی، اسے میرا کچھ خیال نہ تھا ۔ ہزار ہا حیلہ و مکر کے بعد میں نے اسے طلب کر لیا اور تخلیہ میں لے جا کر اظہارِ مدعا کیا ۔ جب وہ بھی آمادۂ زنا ہو گئی تو میں خدا کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس عورت سے علیحدہ ہو گیا ۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرمانے لگے: اگر تم اس واقعے میں سچے ہو تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تم دوزخی نہیں جنتی ہو ۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس کا عذاب تمہاری گردن پر ہوگا ۔
👍1
اس فتویٰ کو سنتے ہی علماءِ مجلس نے شور برپا کر دیا کہ آپ کس دلیل سے یہ فیصلہ دے رہے ہیں ۔ آپ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے (سورۃ النّٰزعت، ۴۰،۴۱)
لوگوں نے پوچھا کہ ہارون کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے یہ واقعی حلفاً بیان کیا ہے ۔ ہارون الرشید نے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس واقعہ کی تصدیق کی ۔ علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
حضرت امام شافعی کے زمانے میں دیگر مذاہب کے بعض علماء نے علمائے اسلام سے مناظرہ شروع کر دیا ۔ بغداد میں بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دریائے دجلہ پر بحث و مناظرہ شروع ہوا ۔ حضرت امام شافعی جو علمائے اسلام کی طرف سے آئے ہوئے تھے دریائے دجلہ کے پانی پر مصلی بچھا کر بیٹھ گئے اور کہا: غیر مذاہب کے جو علماء بحث کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے آکر بیٹھ جائیں ۔ مگر کسی میں یہ جرأت نہ ہوئی ۔ تمام شرم سار ہو کر چلے گئے ۔
وفات:
آپ کی وفات بروز جمعہ ماہ رجب ۲۰۴ھ میں ہوئی۔ مزار پُر انوار قرانہ مصر میں ہے۔
سال ترخیلِ آں یگانہ بگو
حبیبِ اصفیا کر دم رقم ہم سال وصل او
۲۰۴ھ
سرورِ اصحابِ زمانہ بگو
کہ ذاتِ او امام و مقتداء مومناں آید
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bin-idrees-imam-shafi
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے (سورۃ النّٰزعت، ۴۰،۴۱)
لوگوں نے پوچھا کہ ہارون کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے یہ واقعی حلفاً بیان کیا ہے ۔ ہارون الرشید نے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس واقعہ کی تصدیق کی ۔ علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
حضرت امام شافعی کے زمانے میں دیگر مذاہب کے بعض علماء نے علمائے اسلام سے مناظرہ شروع کر دیا ۔ بغداد میں بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دریائے دجلہ پر بحث و مناظرہ شروع ہوا ۔ حضرت امام شافعی جو علمائے اسلام کی طرف سے آئے ہوئے تھے دریائے دجلہ کے پانی پر مصلی بچھا کر بیٹھ گئے اور کہا: غیر مذاہب کے جو علماء بحث کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے آکر بیٹھ جائیں ۔ مگر کسی میں یہ جرأت نہ ہوئی ۔ تمام شرم سار ہو کر چلے گئے ۔
وفات:
آپ کی وفات بروز جمعہ ماہ رجب ۲۰۴ھ میں ہوئی۔ مزار پُر انوار قرانہ مصر میں ہے۔
سال ترخیلِ آں یگانہ بگو
حبیبِ اصفیا کر دم رقم ہم سال وصل او
۲۰۴ھ
سرورِ اصحابِ زمانہ بگو
کہ ذاتِ او امام و مقتداء مومناں آید
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bin-idrees-imam-shafi
scholars.pk
Hazrat Muhammad Bin Idrees Imam Shafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا قاضی سعید الدین احمد۔ لقب: فاروقی، نظامی ۔ قاضی سعید الدین فاروقی نظامی بن قاضی امین الدین بن قاضی نادر علی فاروقی ـ
آپ کے اجداد میں قاضی سراج الدین کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بلا واسطہ خلافت حضرت غوث الاعظم ، اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ سے حاصل تھی ۔اسی طرح شیخ حسن زنجانی بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، جن کامزار ِمقدس آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کاسلسلۂ نسب 32 واسطوں سے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
یکم شعبان المعظم 1292ھ بمطابق 2 / ستمبر 1875ء بروز جمعرات گھاٹم پور ضلع کانپور یو پی (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
وقت کے مشاہیر علماء کی زیر سر پرستی میں حصول علم کی جدو جہد جاری رکھی بالآخر فارغ التحصیل ہوئے ۔ دینی علوم میں کا مل دستگاہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلاسلِ عالیہ قادریہ ، چشتیہ نظامیہ، فخریہ صابر یہ و نقشبندیہ میں آپ نے جن مشائخ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ و خلافت سے مشرف ہوئے ان میں سے (1) حضرت نور محمد قادری فتح پوری ۔ (2) مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ۔ (3) حضر ت مولانا نور محمد محبوب قلندر دہلوی ثم نیاولی ۔ (4) حضرت مولانا شر ف الدین فاروقی صابری ۔ (5) اور حضرت مولانا کریم الدین قادری وغیرہ مشہور ہیں ۔
سیرت و خصائص:
خاندانِ فاروقِ اعظم کے سپوتِ جلیل، عالمِ نبیل، قاضیِ اسلام حضرت علامہ مولانا قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع شریعت و طریقت تھے ۔ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔کانپور میں آپ کے آباء و اجداد کرام ہمیشہ عہدہ قضا پرنسل درنسل فائز رہے ، چنانچہ آپ بھی پاکستان نقل مکانی تک اس خدمت پر مامور رہے ۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ و عیدین کے موقع پر تعلیماتِ اسلامی پر خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔
اپنے اکابرین کی طرح ہمیشہ تبلیغ و اشاعت دین اور شکستہ دلوں کی دستگیری کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے مالی مفادات کا حصول عار جانتے ۔ ابتداً سرکاری ملازمت سے منسلک ہوئے اور کورٹ آف وارڈز میں بحیثیت ضلع دار فرائض منصبی ادا کرتے رہے ۔ لیکن بعض خوارق کے ظہور کی وجہ سے ملازت کو خیر باد کہہ کر موروثی اراضی کی کاشت پر قانع ہو گئے اور اسی سے اپنی اور اہل و عیال کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ۔تمول پسندی کبھی مزاج نہیں رہا ۔ نہ کبھی اہل تمول کی صحبت پسند فرمائی ۔ اہل ثرو ت و اقتدار کی آمد سے کبھی خوش نہ ہوئے بلکہ بادل ناخواستہ ان سے ملتے یا اجازت دے دیتے ۔
آخری تہائی رات سے فجر تک مصروف ِعبادت رہتے ۔ جس میں طویل مراقبہ بھی شامل ہوتا ۔ بعد نماز بھی اور ادواشغال کا سلسلہ جاری رہتا ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اگر موقعہ میسر آتا تو قدرے آرام کر لیتے ۔ تقسیم ہند کے بعد 1950ء میں آپ نے سفر حج سے واپس آکر ترک وطن کرکے باب الا سلام سندھ (پاکستان) میں تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہو گئے ۔ اس طرح آپ نے پاک سر زمین پر فقط نو سال کا مختصر عرصہ مقیم رہ کر انتقال کیا ۔ قدرت کی طرف سے ذوقِ شاعری ودیعت تھا۔شاعری کی تمام اصناف پر مہارت رکھتے تھے۔اس لئے آپ کی کتب زیادہ تر منظوم شکل میں ہیں۔
آپ کے ملفوظات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: (1)" بندگی یہ ہے کہ جو اس کا آقا کھلائے کھائے ، جو پہنائے پہن لے، تاکہ آقا راضی رہے۔ یہ بھی کوئی بندگی ہے ؟ کہ ہم چاہیں کہ سب کام ہماری مرضی سے سر انجام پائیں ۔ (2) وصال سے قبل دونوں ہاتھ اٹھا کر پوچھا میرے ہاتھوں میں کیا ہے ۔کہا گیا کہ کچھ نہیں فرمایا: دنیا سے جو بھی جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ نہ کوئی کچھ لے کے آتا ہے اور نہ دنیا سے کچھ لے کر جاتا ہے ۔ یہاں کا سب یہیں رہ جاتا ہے ، جو ساتھ جاتا ہے وہ نیک عمل ہے مگرشرط یہ کہ خالص ہو ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ المبارک ، بوقت اذانِ مغرب 12 ربیع الثانی 1379ھ / مطابق 16 اکتوبر 1959ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں گلزار سعید مسجد میں آپ کی خانقاہ مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-saeeduddin-farooqi-nizami
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا قاضی سعید الدین احمد۔ لقب: فاروقی، نظامی ۔ قاضی سعید الدین فاروقی نظامی بن قاضی امین الدین بن قاضی نادر علی فاروقی ـ
آپ کے اجداد میں قاضی سراج الدین کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بلا واسطہ خلافت حضرت غوث الاعظم ، اور سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی قدس سرہ سے حاصل تھی ۔اسی طرح شیخ حسن زنجانی بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، جن کامزار ِمقدس آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کاسلسلۂ نسب 32 واسطوں سے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
یکم شعبان المعظم 1292ھ بمطابق 2 / ستمبر 1875ء بروز جمعرات گھاٹم پور ضلع کانپور یو پی (انڈیا) میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
وقت کے مشاہیر علماء کی زیر سر پرستی میں حصول علم کی جدو جہد جاری رکھی بالآخر فارغ التحصیل ہوئے ۔ دینی علوم میں کا مل دستگاہ رکھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلاسلِ عالیہ قادریہ ، چشتیہ نظامیہ، فخریہ صابر یہ و نقشبندیہ میں آپ نے جن مشائخ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ و خلافت سے مشرف ہوئے ان میں سے (1) حضرت نور محمد قادری فتح پوری ۔ (2) مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ۔ (3) حضر ت مولانا نور محمد محبوب قلندر دہلوی ثم نیاولی ۔ (4) حضرت مولانا شر ف الدین فاروقی صابری ۔ (5) اور حضرت مولانا کریم الدین قادری وغیرہ مشہور ہیں ۔
سیرت و خصائص:
خاندانِ فاروقِ اعظم کے سپوتِ جلیل، عالمِ نبیل، قاضیِ اسلام حضرت علامہ مولانا قاضی سعید الدین فاروقی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ جامع شریعت و طریقت تھے ۔ شریعت پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔کانپور میں آپ کے آباء و اجداد کرام ہمیشہ عہدہ قضا پرنسل درنسل فائز رہے ، چنانچہ آپ بھی پاکستان نقل مکانی تک اس خدمت پر مامور رہے ۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ و عیدین کے موقع پر تعلیماتِ اسلامی پر خطبے ارشاد فرماتے تھے ۔
اپنے اکابرین کی طرح ہمیشہ تبلیغ و اشاعت دین اور شکستہ دلوں کی دستگیری کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے مالی مفادات کا حصول عار جانتے ۔ ابتداً سرکاری ملازمت سے منسلک ہوئے اور کورٹ آف وارڈز میں بحیثیت ضلع دار فرائض منصبی ادا کرتے رہے ۔ لیکن بعض خوارق کے ظہور کی وجہ سے ملازت کو خیر باد کہہ کر موروثی اراضی کی کاشت پر قانع ہو گئے اور اسی سے اپنی اور اہل و عیال کی کفالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ۔تمول پسندی کبھی مزاج نہیں رہا ۔ نہ کبھی اہل تمول کی صحبت پسند فرمائی ۔ اہل ثرو ت و اقتدار کی آمد سے کبھی خوش نہ ہوئے بلکہ بادل ناخواستہ ان سے ملتے یا اجازت دے دیتے ۔
آخری تہائی رات سے فجر تک مصروف ِعبادت رہتے ۔ جس میں طویل مراقبہ بھی شامل ہوتا ۔ بعد نماز بھی اور ادواشغال کا سلسلہ جاری رہتا ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اگر موقعہ میسر آتا تو قدرے آرام کر لیتے ۔ تقسیم ہند کے بعد 1950ء میں آپ نے سفر حج سے واپس آکر ترک وطن کرکے باب الا سلام سندھ (پاکستان) میں تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہو گئے ۔ اس طرح آپ نے پاک سر زمین پر فقط نو سال کا مختصر عرصہ مقیم رہ کر انتقال کیا ۔ قدرت کی طرف سے ذوقِ شاعری ودیعت تھا۔شاعری کی تمام اصناف پر مہارت رکھتے تھے۔اس لئے آپ کی کتب زیادہ تر منظوم شکل میں ہیں۔
آپ کے ملفوظات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: (1)" بندگی یہ ہے کہ جو اس کا آقا کھلائے کھائے ، جو پہنائے پہن لے، تاکہ آقا راضی رہے۔ یہ بھی کوئی بندگی ہے ؟ کہ ہم چاہیں کہ سب کام ہماری مرضی سے سر انجام پائیں ۔ (2) وصال سے قبل دونوں ہاتھ اٹھا کر پوچھا میرے ہاتھوں میں کیا ہے ۔کہا گیا کہ کچھ نہیں فرمایا: دنیا سے جو بھی جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ نہ کوئی کچھ لے کے آتا ہے اور نہ دنیا سے کچھ لے کر جاتا ہے ۔ یہاں کا سب یہیں رہ جاتا ہے ، جو ساتھ جاتا ہے وہ نیک عمل ہے مگرشرط یہ کہ خالص ہو ۔
تاریخِ وصال:
بروز جمعۃ المبارک ، بوقت اذانِ مغرب 12 ربیع الثانی 1379ھ / مطابق 16 اکتوبر 1959ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں گلزار سعید مسجد میں آپ کی خانقاہ مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت (سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-saeeduddin-farooqi-nizami
scholars.pk
Hazrat Molana Qazi Saeeduddin Farooqi Nizami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضور محدث اعظم پاکستان، حضرت علامہ مفتی سردار احمد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی ۔ کنیت: ابو الفضل ۔لقب: محدثِ اعظم پاکستان ۔ والد کا اسمِ گرامی: چودھری میراں بخش چشتی علیہ الرحمہ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ قصبہ دیال گڑھ ضلع گورداس پور (مشرقى پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کى تاریخ ولادت 29 جمادی الاخریٰ 1321ھ بمطابق 22 ستمبر 1903ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
محدث اعظم پاکستان نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی 1343ھ؍ 1942ء میں اسلامی ہائی اسکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے۔ انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس میں پاک وہند کے کثیر التعداد علماء و مشائخ کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے ۔
حضور محدث اعظم پاکستان ـ حضرت حجۃ الاسلام کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم، کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے۔ حضور مفتی اعظم ہند ،حضور حجۃ الاسلام اور صدر الشریعہ اور مولانا محمد حسین وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا ۔ فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام معروف ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے، اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے ۔ اور حضور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدر الشریعہ نے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتیں:
تمہارا نام سردار ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں دین و دنیا کا سردار بنائے ۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسم با مسمّٰی بنا دیا ۔ محدثِ اعظم پاکستان، شیخ الحدیث والتفسیر، جامع المعقولات والمنقولات، رہبر شریعت و طریقت، آفتابِ رضویت ،محبوبِ خانوادۂِ اعلی ٰحضرت ،حضرت علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بیک وقت بلند پایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بیان مقرر، عظیم محقق اور متدین (دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ علیہ الرحمہ عاشقِ رسول ﷺ اور متبع شریعت تھے ۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتے جاتے اور عشقِ مصطفےٰ ﷺ میں آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بیمار ہوتے ہیں ، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہیں، لیکن مجھے تکلیف ہوتى ہے تو میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرتا ہوں اور حدیثِ مصطفےٰ ﷺٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے ۔ یہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی کسی بدمذہب سے ہاتھ نہیں ملایا ۔ اگر کوئی بدمذہب ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت آپ کو اسکی بد عقیدگی معلوم ہو جاتی ، آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے تھے ۔ آپ ان ہاتھوں پر فخر کیا کرتے تھے ،کہ انہوں نے حضور ﷺ کی محبت میں کبھی کسی گستاخ کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ۔
؎ خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔
حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباعِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: خوفِ الٰہی و خشیتِ ربانی ، زہدو تقویٰ ،اتباعِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست و برخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ میں انہماک، کم کھانا، کم سونا اور شب و روز تحصیلِ علم میں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔
وصال:
یکم شعبان 1382ھ بمطابق 29 دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمیانى رات ایک بج کر چالیس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہدایت کا مہرِ منیر "اللہ ھو" کى آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گیا ۔
اسٹیشن سے جامعہ رضویہ تک راستہ میں ہزاروں افراد نے دیکھا کہ جنازہ پر نور کی پھوار پڑ رہی ہے، حالانکہ بادل کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/muhaddith-e-azam-pakistan-allama-sardar-ahmed
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی ۔ کنیت: ابو الفضل ۔لقب: محدثِ اعظم پاکستان ۔ والد کا اسمِ گرامی: چودھری میراں بخش چشتی علیہ الرحمہ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ قصبہ دیال گڑھ ضلع گورداس پور (مشرقى پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کى تاریخ ولادت 29 جمادی الاخریٰ 1321ھ بمطابق 22 ستمبر 1903ء ہے ۔
تحصیلِ علم:
محدث اعظم پاکستان نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی 1343ھ؍ 1942ء میں اسلامی ہائی اسکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے۔ انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس میں پاک وہند کے کثیر التعداد علماء و مشائخ کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے ۔
حضور محدث اعظم پاکستان ـ حضرت حجۃ الاسلام کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم، کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے۔ حضور مفتی اعظم ہند ،حضور حجۃ الاسلام اور صدر الشریعہ اور مولانا محمد حسین وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا ۔ فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام معروف ہو گئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے، اور سلسلہ قادریہ رضویہ میں شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے ۔ اور حضور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدر الشریعہ نے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتیں:
تمہارا نام سردار ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں دین و دنیا کا سردار بنائے ۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسم با مسمّٰی بنا دیا ۔ محدثِ اعظم پاکستان، شیخ الحدیث والتفسیر، جامع المعقولات والمنقولات، رہبر شریعت و طریقت، آفتابِ رضویت ،محبوبِ خانوادۂِ اعلی ٰحضرت ،حضرت علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بیک وقت بلند پایہ مدرس، بے مثال محدث ، خوش بیان مقرر، عظیم محقق اور متدین (دیانت دار) مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ علیہ الرحمہ عاشقِ رسول ﷺ اور متبع شریعت تھے ۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتے جاتے اور عشقِ مصطفےٰ ﷺ میں آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بیمار ہوتے ہیں ، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہیں، لیکن مجھے تکلیف ہوتى ہے تو میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کرتا ہوں اور حدیثِ مصطفےٰ ﷺٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے ۔ یہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی کسی بدمذہب سے ہاتھ نہیں ملایا ۔ اگر کوئی بدمذہب ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت آپ کو اسکی بد عقیدگی معلوم ہو جاتی ، آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے تھے ۔ آپ ان ہاتھوں پر فخر کیا کرتے تھے ،کہ انہوں نے حضور ﷺ کی محبت میں کبھی کسی گستاخ کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ۔
؎ خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔
حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری علیہ الرحمہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباعِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: خوفِ الٰہی و خشیتِ ربانی ، زہدو تقویٰ ،اتباعِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست و برخاست میں اتباعِ سنّت ملحوظ رکھتے ۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ میں انہماک، کم کھانا، کم سونا اور شب و روز تحصیلِ علم میں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔
وصال:
یکم شعبان 1382ھ بمطابق 29 دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمیانى رات ایک بج کر چالیس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہدایت کا مہرِ منیر "اللہ ھو" کى آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گیا ۔
اسٹیشن سے جامعہ رضویہ تک راستہ میں ہزاروں افراد نے دیکھا کہ جنازہ پر نور کی پھوار پڑ رہی ہے، حالانکہ بادل کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/muhaddith-e-azam-pakistan-allama-sardar-ahmed
scholars.pk
Muhaddith-e-Azam Pakistan Allama Sardar Ahmed
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1444 ᴴ | 21-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-08-1444 ᴴ | 22-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1