🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-07-1444 ᴴ | 20-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-07-1444 ᴴ | 20-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
مبلّغ اعظم ، خورشید ملت ، حضرت علامہ
مولانا خورشید احمد فیضی علیہ الرحمہ
ولادت:
اہل سنّت و جماعت کے عظیم مبلغ حضرت مولانا خورشید احمد ولد جناب منشی حبیب اللہ فیضی ۱۹۲۷ء میں بمقام راجن پور کلاں ڈہریں والی، تحصیل و ضلع رحیم یار خاں میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
آپ راجپوت خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور آپ کے اکابر میں سے حضرت مفتی غلام حسن رحمہ اللہ، حضرت جمال اللہ ملتانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ مجاز تھے اور اب ان کا روضۂ مبارکہ ملتان شریف میں مرجع خلائق ہے ۔
تعلیم:
حضرت مولانا خورشید احمد مدظلہ نے درسِ نظامی کا مکمل نصاب فرید آباد شریف (آستانہ حضرت خواجہ مولانا نور احمد صاحب) اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں پڑھ کر ۱۹۴۸ء میں سندِ فراغت حاصل کی ۔
آپ کے اساتذہ کرام کے اسماء یہ ہیں:
۱۔ حضرت خواجہ مولانا نور احمد خلیفۂ مجاز حضور خواجہ نازک کریم کوٹ مٹھن شریف
۲۔ حضرت مولانا محمد عبد الخالق مدظلہ، پکالاڑاں
۳۔ حضرت مولانا عبد الکریم مدظلہ
۴۔ حضرت مولانا پیر فیض محمد شاہ جمالی، ڈیرہ غازی خاں
۵۔ غزالیٔ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی، مرکزی صدر جماعت اہل سنت پاکستان
۶۔ شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سید محمد خلیل محدث امروہی قدس سرہ
تدریسی خدمات:
آپ نے ایک سال مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔ چار سال مدرسہ مطلع العلوم ہائی رہنہ، دو سال مدرسہ منبع العلوم فرید آباد اور پانچ سال مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ ظاہر پیر میں علومِ عربیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ کی جامع مسجد میں خطابت فرماتے ہیں ۔ یہ دارالعلوم ۱۳۷۶ھ سے آپ کی زیرِ نگرانی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ۔
حضرت علامہ خورشید احمد نہایت فاضل اور خوش بیان مبلغ ہیں اور تبلیغ دین کے سلسلہ میں صوبہ پنجاب اور سندھ میں اکثر دورے فرماتے ہیں ۔
سیاسی طور پر آپ کا تعلق جمعیت علماء پاکستان سے ہے اور جماعت اہل سنت ضلع رحیم یار خان کے آپ صدر ہیں ۔
۱۹۵۵ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ مطہرہ کا شرف حاصل کیا ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ چشتیہ میں حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی قدس سرہ العزیز کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے ۔
کثیر تعداد میں آپ سے طلباء نے اکتسابِ فیض کیا، تاہم چند معروف فضلاء کے اسماء یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا فیض احمد اویسی، مہتمم جامعہ اویسیہ، بہاول پور
۲۔ مولانا حافظ محمد اللہ یار فریدی، پروفیسر گورنمنٹ علمدار حسین کالج، ملتان
۳۔ مولانا مفتی غلام مصطفےٰ رضوی، مفتی مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان
۴۔ مولانا محمد رمضان گلتر، پتوکی
۵۔ ابو امجد مولانا محمد عبدالحئی فضل احمد فیضی، ظاہر پیر
۶۔ مولانا محمد خورشدل، خطیب واعظ مسجد روہڑی
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے ہیں جن کے اسماء یہ ہیں:
مولانا عبد الحی ابو امجد فضل احمد، حافظ غلام جیلانی، مولانا طالب رسول۔
اوّل الذکر مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ کے ناظمِ اعلیٰ ہیں ۔ [۱]
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا خورشید احمد دامت برکاتہم العالیہ بنامِ مرتب ۔ ۱۹ محرم الحرام / ۲ دسمبر ۱۳۹۹ھ/ ۱۹۷۸ء] ـ
وصال:
29 رجب المرجب 1422 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/khursheed-e-millat-hazrat-allama-molana-khursheed-ahmad-faizi
مولانا خورشید احمد فیضی علیہ الرحمہ
ولادت:
اہل سنّت و جماعت کے عظیم مبلغ حضرت مولانا خورشید احمد ولد جناب منشی حبیب اللہ فیضی ۱۹۲۷ء میں بمقام راجن پور کلاں ڈہریں والی، تحصیل و ضلع رحیم یار خاں میں پیدا ہوئے ۔
خاندانی حالات:
آپ راجپوت خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور آپ کے اکابر میں سے حضرت مفتی غلام حسن رحمہ اللہ، حضرت جمال اللہ ملتانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ مجاز تھے اور اب ان کا روضۂ مبارکہ ملتان شریف میں مرجع خلائق ہے ۔
تعلیم:
حضرت مولانا خورشید احمد مدظلہ نے درسِ نظامی کا مکمل نصاب فرید آباد شریف (آستانہ حضرت خواجہ مولانا نور احمد صاحب) اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں پڑھ کر ۱۹۴۸ء میں سندِ فراغت حاصل کی ۔
آپ کے اساتذہ کرام کے اسماء یہ ہیں:
۱۔ حضرت خواجہ مولانا نور احمد خلیفۂ مجاز حضور خواجہ نازک کریم کوٹ مٹھن شریف
۲۔ حضرت مولانا محمد عبد الخالق مدظلہ، پکالاڑاں
۳۔ حضرت مولانا عبد الکریم مدظلہ
۴۔ حضرت مولانا پیر فیض محمد شاہ جمالی، ڈیرہ غازی خاں
۵۔ غزالیٔ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی، مرکزی صدر جماعت اہل سنت پاکستان
۶۔ شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا سید محمد خلیل محدث امروہی قدس سرہ
تدریسی خدمات:
آپ نے ایک سال مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔ چار سال مدرسہ مطلع العلوم ہائی رہنہ، دو سال مدرسہ منبع العلوم فرید آباد اور پانچ سال مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ ظاہر پیر میں علومِ عربیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ کی جامع مسجد میں خطابت فرماتے ہیں ۔ یہ دارالعلوم ۱۳۷۶ھ سے آپ کی زیرِ نگرانی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ۔
حضرت علامہ خورشید احمد نہایت فاضل اور خوش بیان مبلغ ہیں اور تبلیغ دین کے سلسلہ میں صوبہ پنجاب اور سندھ میں اکثر دورے فرماتے ہیں ۔
سیاسی طور پر آپ کا تعلق جمعیت علماء پاکستان سے ہے اور جماعت اہل سنت ضلع رحیم یار خان کے آپ صدر ہیں ۔
۱۹۵۵ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ مطہرہ کا شرف حاصل کیا ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ چشتیہ میں حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی قدس سرہ العزیز کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے ۔
کثیر تعداد میں آپ سے طلباء نے اکتسابِ فیض کیا، تاہم چند معروف فضلاء کے اسماء یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا فیض احمد اویسی، مہتمم جامعہ اویسیہ، بہاول پور
۲۔ مولانا حافظ محمد اللہ یار فریدی، پروفیسر گورنمنٹ علمدار حسین کالج، ملتان
۳۔ مولانا مفتی غلام مصطفےٰ رضوی، مفتی مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان
۴۔ مولانا محمد رمضان گلتر، پتوکی
۵۔ ابو امجد مولانا محمد عبدالحئی فضل احمد فیضی، ظاہر پیر
۶۔ مولانا محمد خورشدل، خطیب واعظ مسجد روہڑی
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے ہیں جن کے اسماء یہ ہیں:
مولانا عبد الحی ابو امجد فضل احمد، حافظ غلام جیلانی، مولانا طالب رسول۔
اوّل الذکر مدرسہ سعیدیہ کاظمیہ کے ناظمِ اعلیٰ ہیں ۔ [۱]
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا خورشید احمد دامت برکاتہم العالیہ بنامِ مرتب ۔ ۱۹ محرم الحرام / ۲ دسمبر ۱۳۹۹ھ/ ۱۹۷۸ء] ـ
وصال:
29 رجب المرجب 1422 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/khursheed-e-millat-hazrat-allama-molana-khursheed-ahmad-faizi
scholars.pk
Zahir PeerHazrat Molana Khursheed Ahmad
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
مجاہد اسلام ، حضرت پیر سید محمد امین الحسنا ت پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا پیر سید محمد امین الحسنات ۔ لقب: ناصرِ ملت، مجاہدِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر محمد امین الحسنات بن پیر عبد الرؤف بن پیر عبد الحق پیر عبد الوہاب بن مولانا ضیاء الدین ۔ علیہم الرحمہ ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ص:125) ـ
آپ کا آبائی تعلق " اکوڑہ خٹک " سے ہے ۔ آپ کے جد امجد مولانا ضیاء الدین نے اپنے وطن سے ہجرت کرکے علاقہ " بداش " تشریف لے گئے، اور وہاں ایک مسجد میں امامت و خطابت اور تبلیغ اسلام میں مشغول ہو گئے ۔ جب 1863ء میں انگریز نے سوات اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہا، تو انہوں نے اپنے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت اخوند عبد الغفور قادری علیہ الرحمہ کے ساتھ مل کر انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اس کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔ اس وقت ان کا خاندان موضع " کٹی خیل " میں رہائش پذیر تھا ۔ حضرت اخوند کے حکم پر آپ موضع " مانکی " تحصیل نوشہرہ، ضلع پشاور تشریف لائے، آپ کی قدم میمنت کی برکت سے ایک گم نام قصبہ موضع مانکی، پوری دنیا میں " مانکی شریف " کے نام سے معروف ہو گیا، اور پیر صاحب، پیر آف مانکی شریف سے مشہور ہو گئے ۔ پھر یہاں سے سلسلہ رشد و ہدایت پوری دنیامیں عام ہوا۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ج:1، ص:444) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ 3 جمادی الثانی 1340ھ / مطابق یکم فروری 1922ء کو خانقاہ قادریہ مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں ہوئی ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، ص:125) ـ
تحصیل علم:
چھ سال کی عمر میں والد گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا، اور گیارہ سال کی عمر میں شفقت پدری سے بھی محروم ہو گئے ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی تھی ۔ حفظِ قرآن کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، اور حفظ قرآن کے بعد مختلف علماء کرام سے جملہ علوم متداولہ کی تحصیل فرمائی، اور وقت کے عظیم دانشوروں میں شمار ہونے لگے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت پیر عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے، اور حقِ سجادگی، اور ملت کی نگہبانی کا حق ادا کر دیا ۔
سیرت و خصائص:
مجاہد اسلام، ناصرِ ملت، فخرِ امت، صاحبِ عزیمت، نازشِ اہل سنت، محسنِ پاکستان، فاتحِ سرحد، حضرت علامہ مولانا پیر محمد امین الحسنات پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت پیر صاحب علیہ الرحمہ کی تحریک پاکستان اور خدمت اسلام کے لئے عظیم خدمات ہیں ۔ آپ کے اس روشن اور بے داغ کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، اور آپ کی سیرت و جذبۂ خود داری اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ کے لئے مشعل راہ کا کردار ادا کرتی رہےگی، اور اہل اسلام اس کی روشنی میں سفر کرتے رہیں گے ۔
پیر صاحب مانکی شریف انتہائی فعال، بلند اخلاق، مدبر اور دانشمند انسان تھے ۔ انہوں نے روحانیت اور سیاست کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان کی ابتدائی خواہش تھی کہ اس خطے میں مسلمانوں کے لئے ایک ایسی آزاد مسلم ریاست ہونی چاہئے جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں، اور وہ اسلامی ریاست تمام عالم اسلام کے لئے ایک قائدانہ کردار ادا کرے ۔ کیونکہ اس وقت عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا، اور ہند کے مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ پیر صاحب کا تعلق ایسے علاقے سے تھا، جہاں ہندو اقلیت والے صوبہ سرحد میں اسلام کو ہندو اکثریت والے صوبوں سے زیادہ خطرات در پیش تھے ۔ بالآخر پیر صاحب نے اس نا ممکن کو ممکن بنا دیا ۔
صوبہ سرحد موجودہ (خیبر پختونخوا) سرخپوشوں، اور کانگریسیوں کا گڑھ تھا، کانگریسی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ علاقہ تو ہمارا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ 1937ء میں جواہر لال نہرونے دو مرتبہ اس صوبے کا دورہ کیا، اور اس کا بڑا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ پیر صاحب نے پورے صوبے میں طوفانی دورے کرکے مریدین اور عوام کو " مسلم لیگ " کی حمایت کے لئے آمادہ کیا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھا، اور آپ کے ایماء پر قائد اعظم نے مجاہدِ آزادی مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ کو سرحد بھیجا ۔
پیر صاحب نے 14 اکتوبر 1945ء کو مانکی شریف میں " علماء و مشائخ کانفرنس " منعقد کی جس میں سینکڑوں جید علمائے کرام اور مشائخ عظام نے شرکت فرمائی ۔ جن میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ، صدر الافاضل حضرت سید نعیم الدین مراد آبادی، مولانا عبد الحامد بدایونی، حضرت دیوان آل رسول سجادہ نشین اجمیر شریف، خواجہ حسن نظامی دہلوی وغیرہ ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا پیر سید محمد امین الحسنات ۔ لقب: ناصرِ ملت، مجاہدِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر محمد امین الحسنات بن پیر عبد الرؤف بن پیر عبد الحق پیر عبد الوہاب بن مولانا ضیاء الدین ۔ علیہم الرحمہ ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ص:125) ـ
آپ کا آبائی تعلق " اکوڑہ خٹک " سے ہے ۔ آپ کے جد امجد مولانا ضیاء الدین نے اپنے وطن سے ہجرت کرکے علاقہ " بداش " تشریف لے گئے، اور وہاں ایک مسجد میں امامت و خطابت اور تبلیغ اسلام میں مشغول ہو گئے ۔ جب 1863ء میں انگریز نے سوات اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہا، تو انہوں نے اپنے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت اخوند عبد الغفور قادری علیہ الرحمہ کے ساتھ مل کر انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اس کو بھاگنے پر مجبور کیا ۔ اس وقت ان کا خاندان موضع " کٹی خیل " میں رہائش پذیر تھا ۔ حضرت اخوند کے حکم پر آپ موضع " مانکی " تحصیل نوشہرہ، ضلع پشاور تشریف لائے، آپ کی قدم میمنت کی برکت سے ایک گم نام قصبہ موضع مانکی، پوری دنیا میں " مانکی شریف " کے نام سے معروف ہو گیا، اور پیر صاحب، پیر آف مانکی شریف سے مشہور ہو گئے ۔ پھر یہاں سے سلسلہ رشد و ہدایت پوری دنیامیں عام ہوا۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ج:1، ص:444) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز بدھ 3 جمادی الثانی 1340ھ / مطابق یکم فروری 1922ء کو خانقاہ قادریہ مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں ہوئی ۔ (تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، ص:125) ـ
تحصیل علم:
چھ سال کی عمر میں والد گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا، اور گیارہ سال کی عمر میں شفقت پدری سے بھی محروم ہو گئے ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی تھی ۔ حفظِ قرآن کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، اور حفظ قرآن کے بعد مختلف علماء کرام سے جملہ علوم متداولہ کی تحصیل فرمائی، اور وقت کے عظیم دانشوروں میں شمار ہونے لگے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت پیر عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے، اور حقِ سجادگی، اور ملت کی نگہبانی کا حق ادا کر دیا ۔
سیرت و خصائص:
مجاہد اسلام، ناصرِ ملت، فخرِ امت، صاحبِ عزیمت، نازشِ اہل سنت، محسنِ پاکستان، فاتحِ سرحد، حضرت علامہ مولانا پیر محمد امین الحسنات پیر آف مانکی شریف رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت پیر صاحب علیہ الرحمہ کی تحریک پاکستان اور خدمت اسلام کے لئے عظیم خدمات ہیں ۔ آپ کے اس روشن اور بے داغ کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، اور آپ کی سیرت و جذبۂ خود داری اہل پاکستان اور ملت اسلامیہ کے لئے مشعل راہ کا کردار ادا کرتی رہےگی، اور اہل اسلام اس کی روشنی میں سفر کرتے رہیں گے ۔
پیر صاحب مانکی شریف انتہائی فعال، بلند اخلاق، مدبر اور دانشمند انسان تھے ۔ انہوں نے روحانیت اور سیاست کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان کی ابتدائی خواہش تھی کہ اس خطے میں مسلمانوں کے لئے ایک ایسی آزاد مسلم ریاست ہونی چاہئے جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں، اور وہ اسلامی ریاست تمام عالم اسلام کے لئے ایک قائدانہ کردار ادا کرے ۔ کیونکہ اس وقت عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا، اور ہند کے مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ پیر صاحب کا تعلق ایسے علاقے سے تھا، جہاں ہندو اقلیت والے صوبہ سرحد میں اسلام کو ہندو اکثریت والے صوبوں سے زیادہ خطرات در پیش تھے ۔ بالآخر پیر صاحب نے اس نا ممکن کو ممکن بنا دیا ۔
صوبہ سرحد موجودہ (خیبر پختونخوا) سرخپوشوں، اور کانگریسیوں کا گڑھ تھا، کانگریسی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ علاقہ تو ہمارا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ 1937ء میں جواہر لال نہرونے دو مرتبہ اس صوبے کا دورہ کیا، اور اس کا بڑا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ پیر صاحب نے پورے صوبے میں طوفانی دورے کرکے مریدین اور عوام کو " مسلم لیگ " کی حمایت کے لئے آمادہ کیا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھا، اور آپ کے ایماء پر قائد اعظم نے مجاہدِ آزادی مولانا عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ کو سرحد بھیجا ۔
پیر صاحب نے 14 اکتوبر 1945ء کو مانکی شریف میں " علماء و مشائخ کانفرنس " منعقد کی جس میں سینکڑوں جید علمائے کرام اور مشائخ عظام نے شرکت فرمائی ۔ جن میں امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ، صدر الافاضل حضرت سید نعیم الدین مراد آبادی، مولانا عبد الحامد بدایونی، حضرت دیوان آل رسول سجادہ نشین اجمیر شریف، خواجہ حسن نظامی دہلوی وغیرہ ۔
❤1👍1
1945ء میں حضرت قائد اعظم نے صوبہ سرحد کا دوسرا دورہ آپ کی دعوت پر کیا ۔ اس سے پہلے 1936ء میں پہلا دورہ کیا تھا جس میں بہت کم لوگ ساتھ تھے ۔ قائد اعظم کا یہ دورہ ایسا کامیاب ہوا کہ گانگریسیوں کے ہوش اڑ گئے، نومبر 1945ء میں شاہی باغ پشاور میں دو روزہ " مسلم لیگ کانفرنس " منعقد ہوئی، جس میں ایک لاکھ لوگ شریک ہوئے، تحریک پاکستان کے سلسلے میں عوام میں ایک ولولہ و جوش پیدا ہو گیا ۔ اس جلسے میں حضرت امیر ملت نے اپنے صاحبزادے کے ہاتھ قائد اعظم کے لئے سونے کا ایک تمغہ جس پر کلمہ طیبہ کندہ تھا، قائد اعظم کو پیش کیا، اور کہا: " میرے والد ماجد نے یہ تمغہ آپ کی خدمت میں بھیجاہے " ۔ سن کر قائد اعظم بے حد خوش ہوئے اور کھڑے ہوکر اس کو اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہا: " پھر تومیں کامیاب ہوں یہ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجئے " ۔ (تحریک پاکستان اور مشائخ عظام ص:147) ـ
کانگریسیوں نے قائد اعظم کے مقابلے میں نہرو کا تیسرا دورہ رکھ لیا ۔ جب 16 اکتوبر 1946ء کو نہرو کا ہوائی جہاز پشاور ائیرپورٹ پر اترا، تو پیر صاحب آف مانکی شریف کی قیادت میں سینکڑوں مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے میں ملبوس موجود تھے، اور ہزاروں سیاہ رنگ کے غبارے جن پر سفید رنگ سے " واپس جاؤ " کے الفاظ نمایاں تھے، فضا میں چھوڑے گئے، اور کالی جھنڈیاں لہرا کر نعرے لگائے " نہرو! واپس جاؤ " ۔ پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد کے پر جوش نعرے لگائے گئے، اور نہرو کی گاڑی انتہائی حفاظتی حصار میں گورنمنٹ ہاؤس پہنچائی گئی، اور وہ خفیہ طریقے سے بھاگنے پر مجبور ہوا ۔ اُفق کی سیاہی دیکھ کر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا:
؏: لایا ہے پیر مانکی ایک ایسا انقلاب
رنگت معاً بدلنے لگی آسمان کی ۔
اپریل 1946ء میں آپ نے " آل انڈیا سنی کانفرنس " بنارس میں شرکت کی اور اس جوش ایمانی سے اڑھائی گھنٹے تقریر فرمائی کہ عوام و خواص عش عش کر اٹھے آپ نے دوران تقریر فرمایا: " میں نے قائد اعظم محمد علی جناح سے وعدہ لیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا، یا اسلام کے خلاف کوئی نظام جاری کرنے کی کوشش کی تو آج جس طرح ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو مان رہے ہیں، کل اسی طرح اس کے بر عکس ہوگا " ۔ (ایضاً ص:149) ـ
13 اگست 1947ء کو جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے پیر آف مانکی شریف کو کراچی سے بذریعہ فون قیام پاکستان کی مبارک باد دی اور فرمایا: " پاکستان قائم ہو گیا ہے اور یہ سب آپ کی برکات ہیں ۔ جواباً پیر صاحب نے آپ کو مبارک باد دی ۔ " (ایضاً:154) ـ
قیام پاکستان کے بعد پیر صاحب کو وزارت کی پیش کش کی گئی لیکن آپ نے کمال بے نیازی سے فرمایا: " درویشوں کو وزارت سے کوئی سروکار نہیں " ۔ اس طرح آپ نے ثابت کر دیا کہ ہماری جد و جہد کسی مالی منفعت، یا سیاسی اغراض و مقاصد، کے لئے نہیں تھی ۔ بلکہ اس کا مقصد ایک اسلامی و فلاحی ریاست تھا ۔ الحمد للہ اہل سنت و جماعت کی روشن تاریخ ہے، ہمارے اکابرین واقعی اکابرین تھے ۔ ان کا دامن ہر زمانے میں تمام قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک رہا ۔ وہ صاف ستھرا کردار اس دنیا میں چھوڑ کر گئے، اور اپنے متبعین کو یہی سبق دیا کہ کبھی بھی ضمیر کا سودا نہ کرنا، حق کے ساتھ رہنا اس کے لئے تمہیں بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔
غیر جانبدار مُنصِف مؤرخ ضرور لکھےگا: کہ ایک مردِ حق نے اسلام ، اور اہل اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر دیا، اور اس کے صلے کاطلب گار دنیا کے بندوں سے نہ ہوا، بلکہ اپنا اجر آخرت کے لئے محفوظ کر لیا ۔
یہ بھی تحریر کرےگا: "پلیدستان" کانعرہ لگانے والے، اور کانگریس کی گود میں بیٹھ کر اہلِ اسلام و پاکستان پر تبرا کرنے والے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس ملک میں رہے، اور "ڈیزل و پٹرول" پر اپنے ضمیر کا سودا کیا، وہ بھی اسلام کے نام پر، ابن الوقتوں کے امام بنے، ہواؤں کے رخ کا فائدہ اٹھا کر خوب مال ومنصب حاصل کیا۔جہاں نفس کےخلاف دیکھا فوراً اسلام یاد آیا ۔ انسان چلا جاتا ہے، لیکن کردار زندہ رہتا ہے ۔ یہی فرق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ابن زیاد وغیرہ کے کردار طمیں ہے ۔حسینیت آج بھی زندہ ہے چورطتا قیامِ قیامت تابندہ رہےگی، اور یزیدیت تو عار کا استعارہ ہے ۔
؏: نیرنگیِ دوراں کی سیاست تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 رجب المرجب 1379ھ / مطابق 28 جنوری 1960ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔ تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ۔ تحریک پاکستان اور مشائخِ عظام ۔ تصوف اولیائے مانکی شریف اور تحریک پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-amin-ul-hasanat-pir-of-manki-sharif
کانگریسیوں نے قائد اعظم کے مقابلے میں نہرو کا تیسرا دورہ رکھ لیا ۔ جب 16 اکتوبر 1946ء کو نہرو کا ہوائی جہاز پشاور ائیرپورٹ پر اترا، تو پیر صاحب آف مانکی شریف کی قیادت میں سینکڑوں مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے میں ملبوس موجود تھے، اور ہزاروں سیاہ رنگ کے غبارے جن پر سفید رنگ سے " واپس جاؤ " کے الفاظ نمایاں تھے، فضا میں چھوڑے گئے، اور کالی جھنڈیاں لہرا کر نعرے لگائے " نہرو! واپس جاؤ " ۔ پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد کے پر جوش نعرے لگائے گئے، اور نہرو کی گاڑی انتہائی حفاظتی حصار میں گورنمنٹ ہاؤس پہنچائی گئی، اور وہ خفیہ طریقے سے بھاگنے پر مجبور ہوا ۔ اُفق کی سیاہی دیکھ کر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا:
؏: لایا ہے پیر مانکی ایک ایسا انقلاب
رنگت معاً بدلنے لگی آسمان کی ۔
اپریل 1946ء میں آپ نے " آل انڈیا سنی کانفرنس " بنارس میں شرکت کی اور اس جوش ایمانی سے اڑھائی گھنٹے تقریر فرمائی کہ عوام و خواص عش عش کر اٹھے آپ نے دوران تقریر فرمایا: " میں نے قائد اعظم محمد علی جناح سے وعدہ لیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا، یا اسلام کے خلاف کوئی نظام جاری کرنے کی کوشش کی تو آج جس طرح ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو مان رہے ہیں، کل اسی طرح اس کے بر عکس ہوگا " ۔ (ایضاً ص:149) ـ
13 اگست 1947ء کو جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے پیر آف مانکی شریف کو کراچی سے بذریعہ فون قیام پاکستان کی مبارک باد دی اور فرمایا: " پاکستان قائم ہو گیا ہے اور یہ سب آپ کی برکات ہیں ۔ جواباً پیر صاحب نے آپ کو مبارک باد دی ۔ " (ایضاً:154) ـ
قیام پاکستان کے بعد پیر صاحب کو وزارت کی پیش کش کی گئی لیکن آپ نے کمال بے نیازی سے فرمایا: " درویشوں کو وزارت سے کوئی سروکار نہیں " ۔ اس طرح آپ نے ثابت کر دیا کہ ہماری جد و جہد کسی مالی منفعت، یا سیاسی اغراض و مقاصد، کے لئے نہیں تھی ۔ بلکہ اس کا مقصد ایک اسلامی و فلاحی ریاست تھا ۔ الحمد للہ اہل سنت و جماعت کی روشن تاریخ ہے، ہمارے اکابرین واقعی اکابرین تھے ۔ ان کا دامن ہر زمانے میں تمام قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک رہا ۔ وہ صاف ستھرا کردار اس دنیا میں چھوڑ کر گئے، اور اپنے متبعین کو یہی سبق دیا کہ کبھی بھی ضمیر کا سودا نہ کرنا، حق کے ساتھ رہنا اس کے لئے تمہیں بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔
غیر جانبدار مُنصِف مؤرخ ضرور لکھےگا: کہ ایک مردِ حق نے اسلام ، اور اہل اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر دیا، اور اس کے صلے کاطلب گار دنیا کے بندوں سے نہ ہوا، بلکہ اپنا اجر آخرت کے لئے محفوظ کر لیا ۔
یہ بھی تحریر کرےگا: "پلیدستان" کانعرہ لگانے والے، اور کانگریس کی گود میں بیٹھ کر اہلِ اسلام و پاکستان پر تبرا کرنے والے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس ملک میں رہے، اور "ڈیزل و پٹرول" پر اپنے ضمیر کا سودا کیا، وہ بھی اسلام کے نام پر، ابن الوقتوں کے امام بنے، ہواؤں کے رخ کا فائدہ اٹھا کر خوب مال ومنصب حاصل کیا۔جہاں نفس کےخلاف دیکھا فوراً اسلام یاد آیا ۔ انسان چلا جاتا ہے، لیکن کردار زندہ رہتا ہے ۔ یہی فرق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ابن زیاد وغیرہ کے کردار طمیں ہے ۔حسینیت آج بھی زندہ ہے چورطتا قیامِ قیامت تابندہ رہےگی، اور یزیدیت تو عار کا استعارہ ہے ۔
؏: نیرنگیِ دوراں کی سیاست تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 رجب المرجب 1379ھ / مطابق 28 جنوری 1960ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف مانکی شریف ضلع نوشہرہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔ تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ۔ تحریک پاکستان اور مشائخِ عظام ۔ تصوف اولیائے مانکی شریف اور تحریک پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-amin-ul-hasanat-pir-of-manki-sharif
👍2❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-07-1444 ᴴ | 20-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-07-1444 ᴴ | 21-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1