🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شاگردِ امام اعظم 🌹 عاشق رسول حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا 🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ ➻═══════════➻ TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ…
شاگردِ امام اعظم 🌹 عاشق رسول
حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ
یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ
یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ امام حسین / کنیت ابو محمد ابو الحسین / ابو القاسم / ابو بکر 🌹 لقب سجاد زین العابدین سیدالعابدین ذکی امین نام حضرت علی بِن حسین بِن علی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَــعَــالیٰ عَــنۡــہُـمۡ اولاد : پندرہ ¹⁵ / ¹¹ بیٹے / ⁴ بیٹیاں ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ⁰⁵ شعبان…
🌹 سید سجاد امام زین العابدین
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یوم وفات بزرگان دین | 19 मुह़र्रम
تاریخ ۱۹ محرم الحرام | 19Muharram
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=1&day=19&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ۱۹ محرم الحرام | 19Muharram
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=1&day=19&month=01&year=&user-submit=
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
امام حسین کا گھوڑا ذوالجناح
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
ملا حسین کاشفی لکھتا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد آپ کا گھوڑا ذوالجناح بے قرار ہو کر چاروں طرف بھاگنے لگا پھر کچھ دیر بعد واپس آ کر اس نے اپنی پیشانی کے بال خون سے تر کیے اور اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا ہوا خیمے کی طرف لوٹ آیا۔
جب اہل بیت نے دیکھا تو انھوں نے فریاد کرتے ہوئے گھوڑے سے فرمایا کہ اے ذوالجناح تو نے امام کے ساتھ کیا کیا؟ تو انھیں ساتھ لے کر گیا تھا واپس کیوں نہیں لایا؟ آخر تو کس دل کے ساتھ انھیں دشمنوں کے بیچ چھوڑ آیا ہے؟
اہل بیت نوحہ کر رہے تھے اور ذوالجناح گردن جھکائے رو رہا تھا اور اپنے چہرے کو امام زین العابدین کے پاؤں پر مل رہا تھا۔ پھر اس گھوڑے نے زمین پر سر مارا اور اپنی جان دے دی اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ گھوڑا صحرا کی طرف نکل گیا اور کسی شخص کو اس کا نشان نہ مل سکا۔
(روضۃ الشھداء، ج2، ص361)
یہ فرضی اور من گھڑت قصہ ملا حسین کاشفی نے شیعوں کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ کسی معتبر کتاب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات گھڑنے کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے نوحہ خوانی کو فروغ دینا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ امام حسین نے کربلا تک اونٹنی پر سفر کیا تو پھر یہ گھوڑا کہاں سے آ گیا؟
امام سیوطی اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمھما اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مقام پر فرمایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان (شہیدان کربلا) کے اونٹ بیٹھیں گے اور ان کے کجاووں کی جگہ یہ ہے اور اس جگہ ان کا خون گرایا جائے گا۔
(ملخصاً: خصائص کبری، سر الشھادتین، دلائل النبوۃ)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک جگہ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں ان کے اونٹ بیٹھیں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کربلا میں امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے۔
کچھ شیعوں نے لکھا ہے کہ جب امام حسین روانہ ہونے لگے تو آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ نے آپ کو روکنے کے لیے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔ (یعنی آپ اونٹنی پر سوار تھے)
(ذبح عظیم، ص165 بہ حوالہ مقتل ابی مخنف)
تاریخ طبری میں ہے کہ راستے میں امام حسین نے فرزدق شاعر سے باتیں کی اور پھر اپنی سواری (اونٹنی) کو حرکت دی اور چل پڑے۔
(تاریخ طبری، ج6، ص218)
کچھ کتابوں میں امام حسین کا یہ قول موجود ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے، یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہ ہے۔
(کشف الغمه، ج2، ص347۔ مناقب ابن شھر آشوب، ج4، ص97۔ الاخبار الطوال، ص353)
ایک شیعہ لکھتا ہے کہ امام حسین نے خطاب فرمایا پھر اپنی اونٹنی بٹھائی۔
(مقتل ابی مخنف، ص55)
شیعوں کی ایک بڑی کتاب "بحار الانوار" میں بھی یہ موجود ہے۔
(بحار الانوار، ج44، ص383)
بحار الانوار میں یہ بھی ہے کہ محمد بن حنفیہ نے امام حسین کو روکنے کے لیے اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔
(ایضاً، ص364)
ان کے علاوہ اور بھی کچھ کتب میں اونٹنیوں کا ہی ذکر ہے۔
(تاریخ روضۃ الصفاء، ج3، ص579۔
تفسیر لوامع التنزيل، ج13، ص91)
الکامل میں ہے کہ امام حسین اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے آواز دی جسے سب لوگوں نے سنا۔
(الکامل فی التاریخ، ج4، ص61)
ایک شیعہ لکھتا ہے کہ میں نے یہ ذوالجناح کا نام حدیث، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں نہیں دیکھا۔
(ناسخ التواریخ، ج6، ص344)
ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے لیکن کچھ لوگ نہ جانے کہاں سے گھوڑے لے آتے ہیں۔ ویسے جو لوگ امام زین العابدین کی ملاقات حضرت عبداللہ بن مبارک سے کروا سکتے ہیں، میدان کربلا میں شادی کروا سکتے ہیں، ان کے لیے اونٹوں کو بھگا کر گھوڑے لانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
عبد مصطفی
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
ملا حسین کاشفی لکھتا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد آپ کا گھوڑا ذوالجناح بے قرار ہو کر چاروں طرف بھاگنے لگا پھر کچھ دیر بعد واپس آ کر اس نے اپنی پیشانی کے بال خون سے تر کیے اور اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا ہوا خیمے کی طرف لوٹ آیا۔
جب اہل بیت نے دیکھا تو انھوں نے فریاد کرتے ہوئے گھوڑے سے فرمایا کہ اے ذوالجناح تو نے امام کے ساتھ کیا کیا؟ تو انھیں ساتھ لے کر گیا تھا واپس کیوں نہیں لایا؟ آخر تو کس دل کے ساتھ انھیں دشمنوں کے بیچ چھوڑ آیا ہے؟
اہل بیت نوحہ کر رہے تھے اور ذوالجناح گردن جھکائے رو رہا تھا اور اپنے چہرے کو امام زین العابدین کے پاؤں پر مل رہا تھا۔ پھر اس گھوڑے نے زمین پر سر مارا اور اپنی جان دے دی اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ گھوڑا صحرا کی طرف نکل گیا اور کسی شخص کو اس کا نشان نہ مل سکا۔
(روضۃ الشھداء، ج2، ص361)
یہ فرضی اور من گھڑت قصہ ملا حسین کاشفی نے شیعوں کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ کسی معتبر کتاب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات گھڑنے کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے نوحہ خوانی کو فروغ دینا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ امام حسین نے کربلا تک اونٹنی پر سفر کیا تو پھر یہ گھوڑا کہاں سے آ گیا؟
امام سیوطی اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمھما اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مقام پر فرمایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان (شہیدان کربلا) کے اونٹ بیٹھیں گے اور ان کے کجاووں کی جگہ یہ ہے اور اس جگہ ان کا خون گرایا جائے گا۔
(ملخصاً: خصائص کبری، سر الشھادتین، دلائل النبوۃ)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک جگہ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں ان کے اونٹ بیٹھیں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کربلا میں امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے۔
کچھ شیعوں نے لکھا ہے کہ جب امام حسین روانہ ہونے لگے تو آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ نے آپ کو روکنے کے لیے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔ (یعنی آپ اونٹنی پر سوار تھے)
(ذبح عظیم، ص165 بہ حوالہ مقتل ابی مخنف)
تاریخ طبری میں ہے کہ راستے میں امام حسین نے فرزدق شاعر سے باتیں کی اور پھر اپنی سواری (اونٹنی) کو حرکت دی اور چل پڑے۔
(تاریخ طبری، ج6، ص218)
کچھ کتابوں میں امام حسین کا یہ قول موجود ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے، یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہ ہے۔
(کشف الغمه، ج2، ص347۔ مناقب ابن شھر آشوب، ج4، ص97۔ الاخبار الطوال، ص353)
ایک شیعہ لکھتا ہے کہ امام حسین نے خطاب فرمایا پھر اپنی اونٹنی بٹھائی۔
(مقتل ابی مخنف، ص55)
شیعوں کی ایک بڑی کتاب "بحار الانوار" میں بھی یہ موجود ہے۔
(بحار الانوار، ج44، ص383)
بحار الانوار میں یہ بھی ہے کہ محمد بن حنفیہ نے امام حسین کو روکنے کے لیے اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔
(ایضاً، ص364)
ان کے علاوہ اور بھی کچھ کتب میں اونٹنیوں کا ہی ذکر ہے۔
(تاریخ روضۃ الصفاء، ج3، ص579۔
تفسیر لوامع التنزيل، ج13، ص91)
الکامل میں ہے کہ امام حسین اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے آواز دی جسے سب لوگوں نے سنا۔
(الکامل فی التاریخ، ج4، ص61)
ایک شیعہ لکھتا ہے کہ میں نے یہ ذوالجناح کا نام حدیث، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں نہیں دیکھا۔
(ناسخ التواریخ، ج6، ص344)
ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے لیکن کچھ لوگ نہ جانے کہاں سے گھوڑے لے آتے ہیں۔ ویسے جو لوگ امام زین العابدین کی ملاقات حضرت عبداللہ بن مبارک سے کروا سکتے ہیں، میدان کربلا میں شادی کروا سکتے ہیں، ان کے لیے اونٹوں کو بھگا کر گھوڑے لانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
عبد مصطفی
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اسے بھی ہضم کیجیے (3) ۔ تاریخ الخلفاء میں موجود ایک روایت
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
کہا جاتا ہے کہ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کی شہادت کا قصہ فلاں فلاں معتبر کتب میں موجود ہے لہذا یہ جھوٹا نہیں ہو سکتا تو چلیں تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ معتبر کتب میں جھوٹی روایات نہیں ہو سکتیں لیکن اب آپ اس روایت کا کیا جواب دیں گے جو امام سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب "تاریخ الخلفاء" میں موجود ہے:
فلما رھقه السلاح عرض علیھم الاستسلام والرجوع والمضی الی یزید فیضع یدہ فی یدہ فابوا الاقتله فقتل
"جب امام حسین کو ہتھیاروں نے گھیر لیا تو امام نے ان پر صلح پیش کی اور لوٹنے کی خواہش کی اور یزید کے پاس جانے کی تاکہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر دے دیں"
(تاریخ الخلفاء، ص207)
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کے جھوٹے قصے کو ہضم کرنے والوں کو چاہیے کہ ذرا اسے بھی ہضم کر کے دکھائیں۔ بچوں والا قصہ تو پھر بھی کتب تواریخ میں موجود نہیں لیکن مذکورہ عبارت تو معتبر کتاب میں موجود ہے۔ اس روایت کے متعلق حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت جعل اور کذب ہے اور یہ بات دشمنوں نے اڑائی ہے۔
(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص70)
جان لیجیے کہ قرآن مجید کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں غلطیوں کا امکان نہ ہو۔ کتابیں لکھنے والے انسان ہی تھے لہذا ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ کسی معتبر کتاب میں موجود ایک ایک لفظ معتبر اور مستند ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر صحاح ستہ کے بارے میں کیا خیال ہے، یہ تو معتبر کتابیں ہیں لیکن ان میں بھی موضوع روایات موجود ہیں۔
عبد مصطفی
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)
کہا جاتا ہے کہ امام مسلم بن عقیل کے بچوں کی شہادت کا قصہ فلاں فلاں معتبر کتب میں موجود ہے لہذا یہ جھوٹا نہیں ہو سکتا تو چلیں تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ معتبر کتب میں جھوٹی روایات نہیں ہو سکتیں لیکن اب آپ اس روایت کا کیا جواب دیں گے جو امام سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب "تاریخ الخلفاء" میں موجود ہے:
فلما رھقه السلاح عرض علیھم الاستسلام والرجوع والمضی الی یزید فیضع یدہ فی یدہ فابوا الاقتله فقتل
"جب امام حسین کو ہتھیاروں نے گھیر لیا تو امام نے ان پر صلح پیش کی اور لوٹنے کی خواہش کی اور یزید کے پاس جانے کی تاکہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر دے دیں"
(تاریخ الخلفاء، ص207)
امام مسلم بن عقیل کے بچوں کے جھوٹے قصے کو ہضم کرنے والوں کو چاہیے کہ ذرا اسے بھی ہضم کر کے دکھائیں۔ بچوں والا قصہ تو پھر بھی کتب تواریخ میں موجود نہیں لیکن مذکورہ عبارت تو معتبر کتاب میں موجود ہے۔ اس روایت کے متعلق حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت جعل اور کذب ہے اور یہ بات دشمنوں نے اڑائی ہے۔
(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص70)
جان لیجیے کہ قرآن مجید کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں غلطیوں کا امکان نہ ہو۔ کتابیں لکھنے والے انسان ہی تھے لہذا ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ کسی معتبر کتاب میں موجود ایک ایک لفظ معتبر اور مستند ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر صحاح ستہ کے بارے میں کیا خیال ہے، یہ تو معتبر کتابیں ہیں لیکن ان میں بھی موضوع روایات موجود ہیں۔
عبد مصطفی
ولادت | وفات بزرگان دین عَلَیۡہِمُالرَّحۡمَہۡ
تاریخ ²⁰محرم الحرام | Muharram²⁰
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=20&month=01&year=&user-submit=
تاریخ ²⁰محرم الحرام | Muharram²⁰
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=20&month=01&year=&user-submit=
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شاگردِ امام اعظم 🌹 عاشق رسول حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا 🌹 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ ➻═══════════➻ TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ…
شاگردِ امام اعظم 🌹 عاشق رسول
حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا 🌹
نفحات الانس ¹⁹ سید احمد علی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ
یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت نورالدین عبدالرحمٰن جامی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سات⁷ دِن میں قرآن حفظ کیا 🌹
نفحات الانس ¹⁹ سید احمد علی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²³شعبان المعظم ۷۱۸ھ
یومِ وفات ¹⁸ محرم الحرام ۸۹۸ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻