🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسلام بھارت اور دنیا کا سب سے قدیم مذہب
دہلی اجلاس کے ایک بیان سے اہل تعصب ہنود کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا ہے۔وہ ویدک دھرم کو قدیم دھرم(سناتن دھرم)بتا کر مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے پر تول رہے تھے۔2024 میں بی جے پی کی فتحیابی کا جھوٹا خواب اپنے دلوں میں سجائے ہوئے ہندو راشٹر کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔
ان خیالوں میں مست ارباب تعصب اسلام کے قدیم دھرم ہونے کی بات سن کر چونک پڑے۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔
بلا شبہہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔وہ پہلے پیغمبر اور مسلمان ہیں۔ان سے ہی نسل انسانی کا آغاز ہوا۔وہ جنت سے کوہ سراندیپ شری لنکا میں اتارے گئے۔شری لنکا پہلے بھارت کا ایک حصہ تھا۔
کیرلا میں ایک پہاڑی پر حضرت آدم علیہ السلام کا نشان قدم بتایا جاتا ہے۔میں نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔اس سے یہ ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ موجودہ بھارت میں بھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے تھے
ویدک دھرم میں افسانوی کرداروں کا ذکر ہے٫لہذا اوم اور منو سے کیا مراد ہے۔اس سے مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
اسلام بھارت اور دنیا کا سب سے قدیم مذہب
دہلی اجلاس کے ایک بیان سے اہل تعصب ہنود کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا ہے۔وہ ویدک دھرم کو قدیم دھرم(سناتن دھرم)بتا کر مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے پر تول رہے تھے۔2024 میں بی جے پی کی فتحیابی کا جھوٹا خواب اپنے دلوں میں سجائے ہوئے ہندو راشٹر کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔
ان خیالوں میں مست ارباب تعصب اسلام کے قدیم دھرم ہونے کی بات سن کر چونک پڑے۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔
بلا شبہہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔وہ پہلے پیغمبر اور مسلمان ہیں۔ان سے ہی نسل انسانی کا آغاز ہوا۔وہ جنت سے کوہ سراندیپ شری لنکا میں اتارے گئے۔شری لنکا پہلے بھارت کا ایک حصہ تھا۔
کیرلا میں ایک پہاڑی پر حضرت آدم علیہ السلام کا نشان قدم بتایا جاتا ہے۔میں نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔اس سے یہ ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ موجودہ بھارت میں بھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے تھے
ویدک دھرم میں افسانوی کرداروں کا ذکر ہے٫لہذا اوم اور منو سے کیا مراد ہے۔اس سے مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
❤1👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
حکومت کی حمایت وپشت پناہی
اور ناقابل برداشت ناکامی ونامرادی
بھارت کے مشہور تاجر اڈانی گجراتی کی حمایت میں مرکزی حکومت تھی اور آج بھی ہے۔ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا کا حال خواص و عوام کو معلوم ہے کہ وہ حکومت کو خوش کرنے کے واسطے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
نہ حکومت نے اڈانی پر کوئی دباؤ ڈالا٫نہ ہی میڈیا نے کبھی کوئی مخالفانہ بیان دیا٫پھر بھی اڈانی کو ایسا زوال آیا کہ اسے تاریخی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ نے اس کو تباہ وبرباد کر دیا۔
جو لوگ بی جے پی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ووٹنگ مشین(ای وی ایم)میں ہی وہ لوگ تخریب کاری کردیتے ہیں تو بی جے پی ہار کیسے سکتی ہے۔
اڈانی کے حادثہ سے واضح ہو گیا کہ جو مقدر میں ہے٫وہ ہو کر رہے گا۔اللہ تعالی کے فیصلے کو کون روک سکتا ہے۔جب حکم الٰہی ہو گا تو فرقہ پرست قوتیں بھی نیست ونابود ہو جائیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
حکومت کی حمایت وپشت پناہی
اور ناقابل برداشت ناکامی ونامرادی
بھارت کے مشہور تاجر اڈانی گجراتی کی حمایت میں مرکزی حکومت تھی اور آج بھی ہے۔ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا کا حال خواص و عوام کو معلوم ہے کہ وہ حکومت کو خوش کرنے کے واسطے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
نہ حکومت نے اڈانی پر کوئی دباؤ ڈالا٫نہ ہی میڈیا نے کبھی کوئی مخالفانہ بیان دیا٫پھر بھی اڈانی کو ایسا زوال آیا کہ اسے تاریخی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ نے اس کو تباہ وبرباد کر دیا۔
جو لوگ بی جے پی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ووٹنگ مشین(ای وی ایم)میں ہی وہ لوگ تخریب کاری کردیتے ہیں تو بی جے پی ہار کیسے سکتی ہے۔
اڈانی کے حادثہ سے واضح ہو گیا کہ جو مقدر میں ہے٫وہ ہو کر رہے گا۔اللہ تعالی کے فیصلے کو کون روک سکتا ہے۔جب حکم الٰہی ہو گا تو فرقہ پرست قوتیں بھی نیست ونابود ہو جائیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
❤1👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
❤1👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::مصلیا ومسلما
قرب قیامت اور مسلم خواص و عوام
(1)قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ایک نشانی یہ ہے کہ دین پر عمل کرنا اس قدر مشکل ہو جائے گا جیسے ہاتھ پر انگارہ لینا۔
ابھی وہ زمانہ تو نہیں آیا٫لیکن اس کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ایسے وقت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود احتسابی کرے کہ وہ دین پر کس قدر عمل کر رہا ہے۔ہر شخص دوسروں سے زیادہ اپنی فکر کرے۔
(2)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم دین اٹھا لیا جائے گا٫یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے۔عہد حاضر میں بے شمار مدارس و جامعات ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ہر ملک میں علما وفقہا ہیں٫لیکن متاخرین اپنے متقدمین سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں٫یعنی علم دین رفتہ رفتہ اٹھا لیا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں قلت علم کے ساتھ بد اخلاقی بھی عروج پر ہے۔انسانیت کا نام ونشان مٹتا جا رہا ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ آپ انہیں سلام کریں تو وہ آپ کو جواب سلام سے بھی محروم رکھیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:فروری 2023
قرب قیامت اور مسلم خواص و عوام
(1)قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ایک نشانی یہ ہے کہ دین پر عمل کرنا اس قدر مشکل ہو جائے گا جیسے ہاتھ پر انگارہ لینا۔
ابھی وہ زمانہ تو نہیں آیا٫لیکن اس کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ایسے وقت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود احتسابی کرے کہ وہ دین پر کس قدر عمل کر رہا ہے۔ہر شخص دوسروں سے زیادہ اپنی فکر کرے۔
(2)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم دین اٹھا لیا جائے گا٫یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے۔عہد حاضر میں بے شمار مدارس و جامعات ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ہر ملک میں علما وفقہا ہیں٫لیکن متاخرین اپنے متقدمین سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں٫یعنی علم دین رفتہ رفتہ اٹھا لیا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں قلت علم کے ساتھ بد اخلاقی بھی عروج پر ہے۔انسانیت کا نام ونشان مٹتا جا رہا ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ آپ انہیں سلام کریں تو وہ آپ کو جواب سلام سے بھی محروم رکھیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:فروری 2023
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-07-1444 ᴴ | 20-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1