🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه نام و نسب: کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔ سلسلۂ نسب: سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت…
نصربی صالح کا صدقہ
صالح و منصور رکھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
دے حیات دیں محی
جاں فزا کے واسطے
صالح و منصور رکھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
دے حیات دیں محی
جاں فزا کے واسطے
❤1👍1
والدِ غوث الاعظم، حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔
" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔
چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
scholars.pk
Hazrat Syed Abu Saleh Musa Jangi Dost
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
کنیت: ابو القاسم ۔ اسم گرامی: جنید ۔ القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید ۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص: 52)
آپ کے والد شیشہ اور کپڑےکی تجارت کیا کرتے تھے ۔ وطنِ اصلی ’’نہاوند‘‘ ایران تھا ۔ پھر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ (شریف التواریخ، ج:1، ص:522)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت غالباً 216ھ یا 218ھ کو بغداد شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ابتدا سے ہی نہایت ذہین و فطین تھے ۔ بہت قلیل عرصے میں ہی آپ نے تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرلی تھی ۔ اکثر اپنے ماموں حضرت شیخ سری سقطی کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور فیضِ صحبت سے مستفیض ہوا کرتے، اور فقہ مشہور شافعی فقیہ شیخ ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی (تلمیذ حضرت امام شافعی) سے حاصل کی جو بغداد کے اَجِلَّہ فقہاء و مشاہیر علماء سے تھے ۔ ان سے فقہ شافعی میں کمال حاصل کیا، اور ان کی زیر نگرانی فتویٰ جاری کیا ۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی ۔ جوانی میں ہی آپ کے علم کا چرچا عام ہو گیا تھا
حضرت سری سقطی، شیخ ابو ثور ابراہیم، شیخ حارث محاسبی، محمد بن ابراہیم بغدادی، ابو جعفر محمد بن علی قصاب، بشر بن حارث، کےعلاوہ آپ نےطایک سو بیس سے زائد علماء و شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ۔
آپ کے تَبَحُّرِعلمی کے بارےمیں ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں ہے: عن أبي القاسم الكعبي أنه قال مرة : رأيت لكم شيخا ببغداد يقال له الجنيد ، ما رأت عيناي مثله ، كان الكتبة، يعني البلغاء يحضرونه لألفاظه ، والفلاسفة يحضرونه لدقة معانيه ، و المتكلمون لزمام علمه ، وكلامه بائن عن فهمهم وعلمهم۔ (سیر اعلام النبلاء، الطبقۃ السادسۃ عشرۃ، تذکرۃ الجنید)
نیز شیخ ابو بکر کسائی اور آپ کے درمیان ہزار مسئلوں کا مُراسلہ (خط و کتابت) ہوا تھا آپ نے سب کے جواب لکھے، کسائی نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ ان مسئلوں کو میرے ساتھ قبر میں رکھ دینا، میں ان کو ایسا دوست رکھتا ہوں کہ چاہتا ہوں کہ یہ مسئلے مخلوق کے ہاتھ سے چھوئے بھی نہ جائیں ۔ (شریف التواریخ، ج1، ص530)
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’ میرے پیر حضرت سری سقطی نے مجھے دعا دی ﷲ تعالیٰ تمہیں حدیث دان بنا کر پھر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے‘‘۔
اسی طرح فرماتے ہیں:
علمنا مضبوط بالكتاب والسنة من لم يحفظ الكتاب ، ويكتب الحديث ، ولم يتفقه لا يقتدى بہ۔ ’’
یعنی: جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں اور اسے اپنا پیر نہ بنائیں کیونکہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے‘‘ ۔
نیز فرمایا:
’’ خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲﷺکے نشانِ قدم (سنت) کی پیروی کرے‘‘۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص53)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے حقیقی ماموں حضرت شیخ سری سقطی سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، سلطان الاولیاء والمتقین، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی ۔
آپ اہل سنت و جماعت کے علماء و اولیاء کے امام ہیں ۔ آپ کو گروہِ صوفیاء میں ’’ سید الطائفہ ‘‘ اور علماء میں ’’ طاؤس العلماء ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔ حضرت شیخ سری سقطی آپ کے حقیقی ماموں تھے ۔ قرآن و حدیث، تفسیر و فقہ اور عربی ادب میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ بیس سال کی عمر میں فتویٰ نویسی شروع کر دی تھی ۔ آپ کا شمار بغداد کے اجلہ علماء میں ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ تیس برس تک آپ کا معمول رہا کہ نماز عشاء پڑھ کر ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے اور صبح تک ذکر اللہ کرتے، اور اسی وضو سے نمازِ فجر ادا فرماتے ۔
آپ ابتدائی حالت سے لے کر دور آخر تک تمام جماعتوں کے محمود و مقبول تھے اور تمام لوگ آپ کی امامت پر متفق تھے۔ آپ کا سخن طریقت میں حجت ہےاور تمام زمانوں نے آپ کی تعریف رہی ہے، اور کوئی شخص بھی آپ کے ظاہر وباطن پر انگشت نمائی نہ کر سکا، سوائے اس شخص کے جو بالکل اندھا تھا ۔
خواص نے آپ کو ’’ لِسان القوم ‘‘ کہا ہے اور آپ نے خود کو ’’ عبد المشائخ ‘‘ لکھا ہے ۔ طبقۂ علماء نے ’’ طاؤس العلماء ’’ اور سلطان المحققین ‘‘ جانا ہے ۔ اس لیے کہ آپ شریعت و طریقت میں انتہاء کو پہنچ چکے تھے ۔
نام و نسب:
کنیت: ابو القاسم ۔ اسم گرامی: جنید ۔ القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید ۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص: 52)
آپ کے والد شیشہ اور کپڑےکی تجارت کیا کرتے تھے ۔ وطنِ اصلی ’’نہاوند‘‘ ایران تھا ۔ پھر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ (شریف التواریخ، ج:1، ص:522)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت غالباً 216ھ یا 218ھ کو بغداد شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ ابتدا سے ہی نہایت ذہین و فطین تھے ۔ بہت قلیل عرصے میں ہی آپ نے تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرلی تھی ۔ اکثر اپنے ماموں حضرت شیخ سری سقطی کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور فیضِ صحبت سے مستفیض ہوا کرتے، اور فقہ مشہور شافعی فقیہ شیخ ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی (تلمیذ حضرت امام شافعی) سے حاصل کی جو بغداد کے اَجِلَّہ فقہاء و مشاہیر علماء سے تھے ۔ ان سے فقہ شافعی میں کمال حاصل کیا، اور ان کی زیر نگرانی فتویٰ جاری کیا ۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی ۔ جوانی میں ہی آپ کے علم کا چرچا عام ہو گیا تھا
حضرت سری سقطی، شیخ ابو ثور ابراہیم، شیخ حارث محاسبی، محمد بن ابراہیم بغدادی، ابو جعفر محمد بن علی قصاب، بشر بن حارث، کےعلاوہ آپ نےطایک سو بیس سے زائد علماء و شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ۔
آپ کے تَبَحُّرِعلمی کے بارےمیں ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں ہے: عن أبي القاسم الكعبي أنه قال مرة : رأيت لكم شيخا ببغداد يقال له الجنيد ، ما رأت عيناي مثله ، كان الكتبة، يعني البلغاء يحضرونه لألفاظه ، والفلاسفة يحضرونه لدقة معانيه ، و المتكلمون لزمام علمه ، وكلامه بائن عن فهمهم وعلمهم۔ (سیر اعلام النبلاء، الطبقۃ السادسۃ عشرۃ، تذکرۃ الجنید)
نیز شیخ ابو بکر کسائی اور آپ کے درمیان ہزار مسئلوں کا مُراسلہ (خط و کتابت) ہوا تھا آپ نے سب کے جواب لکھے، کسائی نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ ان مسئلوں کو میرے ساتھ قبر میں رکھ دینا، میں ان کو ایسا دوست رکھتا ہوں کہ چاہتا ہوں کہ یہ مسئلے مخلوق کے ہاتھ سے چھوئے بھی نہ جائیں ۔ (شریف التواریخ، ج1، ص530)
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’ میرے پیر حضرت سری سقطی نے مجھے دعا دی ﷲ تعالیٰ تمہیں حدیث دان بنا کر پھر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے‘‘۔
اسی طرح فرماتے ہیں:
علمنا مضبوط بالكتاب والسنة من لم يحفظ الكتاب ، ويكتب الحديث ، ولم يتفقه لا يقتدى بہ۔ ’’
یعنی: جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں اور اسے اپنا پیر نہ بنائیں کیونکہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے‘‘ ۔
نیز فرمایا:
’’ خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲﷺکے نشانِ قدم (سنت) کی پیروی کرے‘‘۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص53)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے حقیقی ماموں حضرت شیخ سری سقطی سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، سلطان الاولیاء والمتقین، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی ۔
آپ اہل سنت و جماعت کے علماء و اولیاء کے امام ہیں ۔ آپ کو گروہِ صوفیاء میں ’’ سید الطائفہ ‘‘ اور علماء میں ’’ طاؤس العلماء ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔ حضرت شیخ سری سقطی آپ کے حقیقی ماموں تھے ۔ قرآن و حدیث، تفسیر و فقہ اور عربی ادب میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ بیس سال کی عمر میں فتویٰ نویسی شروع کر دی تھی ۔ آپ کا شمار بغداد کے اجلہ علماء میں ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ تیس برس تک آپ کا معمول رہا کہ نماز عشاء پڑھ کر ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے اور صبح تک ذکر اللہ کرتے، اور اسی وضو سے نمازِ فجر ادا فرماتے ۔
آپ ابتدائی حالت سے لے کر دور آخر تک تمام جماعتوں کے محمود و مقبول تھے اور تمام لوگ آپ کی امامت پر متفق تھے۔ آپ کا سخن طریقت میں حجت ہےاور تمام زمانوں نے آپ کی تعریف رہی ہے، اور کوئی شخص بھی آپ کے ظاہر وباطن پر انگشت نمائی نہ کر سکا، سوائے اس شخص کے جو بالکل اندھا تھا ۔
خواص نے آپ کو ’’ لِسان القوم ‘‘ کہا ہے اور آپ نے خود کو ’’ عبد المشائخ ‘‘ لکھا ہے ۔ طبقۂ علماء نے ’’ طاؤس العلماء ’’ اور سلطان المحققین ‘‘ جانا ہے ۔ اس لیے کہ آپ شریعت و طریقت میں انتہاء کو پہنچ چکے تھے ۔
❤1👍1
آپ عشق و زہد میں بے مثل اور طریقت میں مجتہد عصر تھے۔ بہت سے مشائخ آپ کے مذہب پر ہوئے۔ سب سے زیادہ معروف طریقہ طریقت میں اور مشہور تر مذہب مذاہب میں آپ ہی کا ہے ۔ آب اپنے وقت میں تمام مشائخ کا مرجع تھے،
آپ کی تصانیف بہت ہیں جو تمام ارشادات و معارف میں لکھی ہیں ۔باوجود ان عظیم خوبیوں کے دشمنوں اور آپ کے حاسدوں نے آپ کو زندیق کہا ہے ۔
حضرت سرّی سقطی سے لوگوں نے پوچھا کہ کسی مرید کا پیر سے بلند درجہ ہوا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے اور اس کی دلیل ظاہر ہے کہ جنید بغدادی مجھ سے بلند درجہ رکھتے ہیں ۔
عادات و صفات:
حضرت جنید بغدادی سلوک کے اس عظیم منزل پر فائز ہونے کے ساتھ اخلاقِ حسنہ والی صفت سے مزیّن تھے اور اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے ساتھ بھی آپ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔
آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، مگر جب کبھی آپ کے برادران طریقت آ جاتے تو روزہ افطار کر دیتے اور فرماتے کہ اسلامی بھائیوں کی خاطر و مدارات نفل روزوں سے افضل ہے ۔ غریبوں یتیموں مسکینوں اور بیواؤں کا سہارا بنتے، امیروں پر فقیروں اور غریبوں کو ترجیح دیتےتھے ۔ کبھی کسی امیر و وزیر کی تعظیم نہیں کی ۔
آپ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے تھے، ایک بار لوگوں نے عرض کیا یا شیخ! کیا خوب ہو کہ آپ مُرَقَّعْ (گدڑی) پہنیں ۔ فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ مرقع پر تصوف و معرفت منحصر ہے تو میں لوہے و آگ سے لباس بناتا اور پہنتا، لیکن ہر گھڑی باطن میں یہ ندا آتی ہے ’’ لیس الاعتبار بالخرقۃ انما الاعتبار بالحرقۃ ‘‘ یعنی معرفت میں خرقہ کا اعتبار نہیں بلکہ (محبتِ الہی میں) جان جلنے کا اعتبار ہے ۔ (شریف التواریخ: جلد اول، ص528)
تجارت و عبادت:
آپ شیشےکی تجارت کرتے تھے (مریدوں کے نذرانوں پر گزارہ نہیں تھا) اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلا ناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور سامنے پردے کو گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یہاں تک کہ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا ۔ پھر آپ نے اپنی دوکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضرت سری سقطی کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کر دی اور حالتِ مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مُصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے اور اس طرح آپ نے چالیس سال کا عرصہ گزارا۔
آپ خود فرماتے ہیں:
کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی، اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ، 192)
مسندِ رشد و ہدایت:
حضرت جنید بغدادی جب راہ ِسلوک میں کامل واکمل ہوگئے اور آپ کی مقبولیت ہر چہار جانب پھیلنے لگی تو حضرت شیخ سِرّی سقطی نے آپ کو حکم دیا جنید اب تم وعظ کہا کرو ۔ آپ تردّد میں پڑ گئے کہ شیخ الوقت کی موجودگی میں کس طرح تقریر کروں؟ کیونکہ یہ خلاف ادب ہے؟ اسی حالت میں رہے کہ ایک رات خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو سرکار دو عالم ﷺ نے بھی آپ کو وعظ کہنے کے لیے ارشاد فرمایا ۔ آپ جب صبح بیدار ہوئے تو اپنے شیخ طریقت سے خواب کو بیان کرنے کے لیے سوچا یہاں تک کہ آپ حضرت سرّی سقطی کی بارگاہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے شیخ پہلے ہی آپ کے انتظار میں دروازے پر کھڑے ہیں، جب آپ قریب ہوئے تو آپ سے ارشاد فرمایا: ’’لم تصدقنا حتیٰ جاءک الامر من رسول اللہ‘‘ یعنی تم نے (بپاس ادب) ہماری بات نہ مانی؛ اب تو تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرما دیا ہے ۔ (نفحاتِ منبریۃ، 54)
تعلیمات:
حضرت جنید بغدادی ارشاد فرماتے ہیں: ’’ کہ صوفی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جب پلیدی اس پر ڈالی جاتی ہےتو وہ سرسبز ہوکر نکلتی ہے ۔ فرمایا صوفی وہ ہے جس کا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو اور فرمان الٰہی بجالانے والا ہو، اس کی تسلیم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم کی طرح ہو اور اس کا غم و اندوہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ہو اور اس کا صبر حضرت ایوب علیہ السلام کے مانند ہو اس کا ذوق و شوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو اور مناجات میں اس کا اخلاص حضور سرورِ کائنات ﷺ کی طرح ہو ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، 197)
خلفاء و تلامذہ:
شیخ ابو بکر شبلی، ابو محمد الجریری، ابن الاعرابی احمد بن محمد، علی بن بندار ابوالحسن الصیرفی، عبد اللہ بن محمد الشعرانی، محمد بن اسود دینوری ۔ علیہم الرحمہ
وصال:
بروز جمعۃ المبارک 27 ؍ رجب المرجب 297ھ مطابق11 ؍ اپریل 910ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار مبارک مقامِ ’’شونیزیہ‘‘ بغدادِ معلیٰ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
بہر معروف و سری معروف دے بے خود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-junaid-baghdadi
آپ کی تصانیف بہت ہیں جو تمام ارشادات و معارف میں لکھی ہیں ۔باوجود ان عظیم خوبیوں کے دشمنوں اور آپ کے حاسدوں نے آپ کو زندیق کہا ہے ۔
حضرت سرّی سقطی سے لوگوں نے پوچھا کہ کسی مرید کا پیر سے بلند درجہ ہوا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے اور اس کی دلیل ظاہر ہے کہ جنید بغدادی مجھ سے بلند درجہ رکھتے ہیں ۔
عادات و صفات:
حضرت جنید بغدادی سلوک کے اس عظیم منزل پر فائز ہونے کے ساتھ اخلاقِ حسنہ والی صفت سے مزیّن تھے اور اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے ساتھ بھی آپ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔
آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، مگر جب کبھی آپ کے برادران طریقت آ جاتے تو روزہ افطار کر دیتے اور فرماتے کہ اسلامی بھائیوں کی خاطر و مدارات نفل روزوں سے افضل ہے ۔ غریبوں یتیموں مسکینوں اور بیواؤں کا سہارا بنتے، امیروں پر فقیروں اور غریبوں کو ترجیح دیتےتھے ۔ کبھی کسی امیر و وزیر کی تعظیم نہیں کی ۔
آپ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے تھے، ایک بار لوگوں نے عرض کیا یا شیخ! کیا خوب ہو کہ آپ مُرَقَّعْ (گدڑی) پہنیں ۔ فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ مرقع پر تصوف و معرفت منحصر ہے تو میں لوہے و آگ سے لباس بناتا اور پہنتا، لیکن ہر گھڑی باطن میں یہ ندا آتی ہے ’’ لیس الاعتبار بالخرقۃ انما الاعتبار بالحرقۃ ‘‘ یعنی معرفت میں خرقہ کا اعتبار نہیں بلکہ (محبتِ الہی میں) جان جلنے کا اعتبار ہے ۔ (شریف التواریخ: جلد اول، ص528)
تجارت و عبادت:
آپ شیشےکی تجارت کرتے تھے (مریدوں کے نذرانوں پر گزارہ نہیں تھا) اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلا ناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور سامنے پردے کو گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یہاں تک کہ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا ۔ پھر آپ نے اپنی دوکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضرت سری سقطی کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کر دی اور حالتِ مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مُصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے اور اس طرح آپ نے چالیس سال کا عرصہ گزارا۔
آپ خود فرماتے ہیں:
کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی، اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ، 192)
مسندِ رشد و ہدایت:
حضرت جنید بغدادی جب راہ ِسلوک میں کامل واکمل ہوگئے اور آپ کی مقبولیت ہر چہار جانب پھیلنے لگی تو حضرت شیخ سِرّی سقطی نے آپ کو حکم دیا جنید اب تم وعظ کہا کرو ۔ آپ تردّد میں پڑ گئے کہ شیخ الوقت کی موجودگی میں کس طرح تقریر کروں؟ کیونکہ یہ خلاف ادب ہے؟ اسی حالت میں رہے کہ ایک رات خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو سرکار دو عالم ﷺ نے بھی آپ کو وعظ کہنے کے لیے ارشاد فرمایا ۔ آپ جب صبح بیدار ہوئے تو اپنے شیخ طریقت سے خواب کو بیان کرنے کے لیے سوچا یہاں تک کہ آپ حضرت سرّی سقطی کی بارگاہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے شیخ پہلے ہی آپ کے انتظار میں دروازے پر کھڑے ہیں، جب آپ قریب ہوئے تو آپ سے ارشاد فرمایا: ’’لم تصدقنا حتیٰ جاءک الامر من رسول اللہ‘‘ یعنی تم نے (بپاس ادب) ہماری بات نہ مانی؛ اب تو تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرما دیا ہے ۔ (نفحاتِ منبریۃ، 54)
تعلیمات:
حضرت جنید بغدادی ارشاد فرماتے ہیں: ’’ کہ صوفی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جب پلیدی اس پر ڈالی جاتی ہےتو وہ سرسبز ہوکر نکلتی ہے ۔ فرمایا صوفی وہ ہے جس کا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو اور فرمان الٰہی بجالانے والا ہو، اس کی تسلیم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم کی طرح ہو اور اس کا غم و اندوہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ہو اور اس کا صبر حضرت ایوب علیہ السلام کے مانند ہو اس کا ذوق و شوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو اور مناجات میں اس کا اخلاص حضور سرورِ کائنات ﷺ کی طرح ہو ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، 197)
خلفاء و تلامذہ:
شیخ ابو بکر شبلی، ابو محمد الجریری، ابن الاعرابی احمد بن محمد، علی بن بندار ابوالحسن الصیرفی، عبد اللہ بن محمد الشعرانی، محمد بن اسود دینوری ۔ علیہم الرحمہ
وصال:
بروز جمعۃ المبارک 27 ؍ رجب المرجب 297ھ مطابق11 ؍ اپریل 910ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار مبارک مقامِ ’’شونیزیہ‘‘ بغدادِ معلیٰ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
بہر معروف و سری معروف دے بے خود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-junaid-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Junaid Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نام و نسب: کنیت: ابو القاسم ۔ اسم گرامی: جنید ۔ القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام ۔ سلسلۂ نسب: حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید ۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص: 52) آپ کے والد شیشہ اور…
بہر معروف و سری معروف دے بے خود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://t.me/islaamic_Knowledge/45589
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://t.me/islaamic_Knowledge/45589
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1444 ᴴ | 18-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا جنید بغدادی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45589
سید ابو صالح موسی جنگی دوست
https://t.me/islaamic_Knowledge/45586
سید ابو صالح عبد اللہ نصر
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45579
خواجہ عارف ریوگری
https://t.me/islaamic_Knowledge/45576
مولانا ضیاء القادری بدایونی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45572
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت ۲۷ رجب المرجب
یوم وصال 27 رجب المرجب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیدنا جنید بغدادی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45589
سید ابو صالح موسی جنگی دوست
https://t.me/islaamic_Knowledge/45586
سید ابو صالح عبد اللہ نصر
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45579
خواجہ عارف ریوگری
https://t.me/islaamic_Knowledge/45576
مولانا ضیاء القادری بدایونی
https://t.me/islaamic_Knowledge/45572
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت ۲۷ رجب المرجب
یوم وصال 27 رجب المرجب
❤1👍1