🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شیخ الحدیث علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبد القدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔ والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 / رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔

سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔

آپ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے ۔

اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتےتھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے پروفیسر اور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو ’’تفسیر ِصدیقی‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔ آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔

فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17/ شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه

نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔

سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔

تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔

سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔

حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔

بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔

چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
1👍1
عہدۂ قاضی القضاۃ:
بتاریخ 622ھ کو الظاہر بامر اللہ کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اور خلیفہ مذکورہ کے انتقال تک آپ منصب قضا پر فائز رہے، اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے اخلاق وعادات اور آپ کی تواضع وانکساری میں مطلقاً کچھ بھی فرق نہیں آیا بلکہ سابقہ دستور کے مطابق آپ ویسے ہی خلیق، تواضع  پسند اور کریم النفس رہے۔ آپ کے اجلاس میں شہادتیں قلم بند کرلی جایا کرتی تھیں۔ خلیفہ نے آپ کے پاس دس ہزار دینار صرف اس غرض سے روانہ کیے تھے کہ اس روپیہ سے جتنے بھی مفلس، قرض دار، محبوس ہیں ان کا قرض ادا کرکے انہیں رہا کر دیا جائے اور خلیفہ موصوف نے آپ ہی کو اوقاف عامہ مثلاً مدارس حنفیہ، شافعیہ، جامع السلطان اور جامع ابن المطلب وغیرہ کا ناظر و نگراں مقرر فرمایا، آپ کو ان اوقاف میں ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ اور ہر طرح کی بحالی و برطرفی کا پورا پورا اختیار دے دیا تھا اور مدرسہ نظامیہ میں بحالی و برطرفی بھی آپ ہی کے ذمے ہو گئی تھی۔ آپ آثار سلف صالحین کے قدم بقدم چلتے اور نہایت سرگرمی واہتمام سےا پنے منصب ِ قضا کو انجام دیتے رہے۔

شانِ قضاء:
آپ کے عہد ولایت کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے اجلاس ہی میں اذان دی جاتی تھی اور آپ سب کو شریک نماز کرکے جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے، جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد میں پیادہ پا تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ خلیفہ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا المستنصر باللہ نے اپنے ابتدائی عہدِ خلافت سے چارماہ بعد 623ھ میں آپ کو منصبِ قضا سے معزول کر دیا ۔ اس معزولی کی خوشی پر آپ نے ایک قصیدہ تحریر فرمایا ۔ جس کا ایک شعر یہ ہے :

حمدت اللہ عزوجل لما
قضیٰ لی بالخلاص من القضاء

ترجمہ:
میں خدائے عزوجل کا شکر ادا کرتا ہوں ، جس نے مجھے قضا کے عہدے سے رہائی عطاء کر دی۔

درس و تدریس:
معزولی کے بعد آپ نے اپنے مدرسہ میں درس وافتاء کاسلسلہ شروع کیا اور بڑی بڑی مجلسیں آپ کے یہاں ہونے لگیں۔ بےشمار لوگوں نے آپ سے علم فقہ وحدیث سیکھا اور فیض حاصل کیا۔ آپ کے تفقہ کا اعتراف کرتے ہوئےصرصریؔ شاعر نے آپ کی مدح میں قصیدۂ لامیہ لکھا ۔ پھر دوبارہ مستنصر باللہ نے آپ کوکلیسائے روم کا (جس کو اس نے خانقاہ میں تبدیل کرکے حکومتی تحویل میں لےلیا تھا) صدر بنادیا۔ وہاں آپ کو بے حد تکریم وتعظیم حاصل ہوئی، عوام الناس بہت بڑی بڑی رقمیں آپ کی خدمت میں اس اختیار کے ساتھ روانہ کرتے کہ آپ جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔

تصانیف:
افسوس کہ آپ کے علمی، فقہی وتحقیقی خدمات کی کوئی تفصیل مورخین نے نہیں لکھی میں صرف ایک کتاب کا پتہ لگ سکا ہے جو ’’ارشاد المبتدئین ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور علم فقہ میں اپنی نظیر آپ ہے۔

خلفاء:
آپ کے خلفاء کرام کی نیز اولاد امجاد کی کوئی بھی تفصیل کتب تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے صرف حضرت محی الدین ابو نصر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتذکرہ اکثر مورخین نے تحریر فرمایا ہے۔ اور انہیں کو آپ نے اپنی خلافت ونیابت سے نوازا ہے۔

وصال:
آپ مطابق شجرۃ قادریہ رضویہ 27رجب المرجب 632ھ کو محبوب حقیقی سے جاملے۔ ’’اِنَّا لِلہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ مگر بعض لوگوں نے 6 شوال،13/شوال، 16شوّال 633ھ لکھا ہے۔ آپ نے ستر سال کی عمر میں صبح صادق کے وقت وصال فرمایا۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں روضۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرجع خلائق ہے۔

ماخوذ از:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:

نصربی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیات دیں محی جاں فزا کے واسطے

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-imaduddin-abu-saleh-nasr
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
والدِ غوث الاعظم، حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ ۔ کنیت: ابو صالح ۔ لقب: جنگی دوست ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبد اللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبد اللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 27 / رجب المرجب 400ھ، بمطابق 9 / اپریل 648ء کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جو آذر بائیجان کے ساتھ ہے) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے ۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ربانیین میں سے تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سید عبد اللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے ۔

جنگی دوست کی وجہ تسمیہ:
"جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کو دوست رکھتے تھے۔

" ریاض الحیات " میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے ۔

چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی ، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء ومساکین کو بلا کر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جو کی روٹی اور گرم پانی بہت ہے ۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو ۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں ۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا ۔ جب سے آپ کا لقب " جنگی دوست" ہو گیا ۔ (سیرتِ غوث الاعظم)

سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، والدِ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس ، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے ـ آپکا چہرہ مبارک انوار بانی کا مرقع تھا ۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تووہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی ۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔

اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو ۔ جب کسی محفل میں حضور سید الانبیاء ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو ، ہر آن پرور دگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو ۔

وصال:
بروز جمعۃ المبارک11 / ذوالقعدہ 489 ھ، بمطابق 30 / اکتوبر 1096ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
سیرتِ غوث الاعظم ۔ تذکرہ قادریہ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-saleh-mosa-jangi-dost
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
کنیت: ابو القاسم ۔ اسم گرامی: جنید ۔ القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام ۔

سلسلۂ نسب:
حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید ۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص: 52)

آپ کے والد شیشہ اور کپڑےکی تجارت کیا کرتے تھے ۔ وطنِ اصلی ’’نہاوند‘‘ ایران تھا ۔ پھر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ (شریف التواریخ، ج:1، ص:522)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت غالباً 216ھ یا 218ھ کو بغداد شریف میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ ابتدا سے ہی نہایت ذہین و فطین تھے ۔ بہت قلیل عرصے میں ہی آپ نے تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرلی تھی ۔ اکثر اپنے ماموں حضرت شیخ سری سقطی کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور فیضِ صحبت سے مستفیض ہوا کرتے، اور فقہ مشہور شافعی فقیہ شیخ ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی (تلمیذ حضرت امام شافعی) سے حاصل کی جو بغداد کے اَجِلَّہ فقہاء و مشاہیر علماء سے تھے ۔ ان سے فقہ شافعی میں کمال حاصل کیا، اور ان کی زیر نگرانی فتویٰ جاری کیا ۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی ۔ جوانی میں ہی آپ کے علم کا چرچا عام ہو گیا تھا

حضرت سری سقطی، شیخ ابو ثور ابراہیم، شیخ حارث محاسبی، محمد بن ابراہیم بغدادی، ابو جعفر محمد بن علی قصاب، بشر بن حارث، کےعلاوہ آپ نےطایک سو بیس سے زائد علماء و شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ۔

آپ کے تَبَحُّرِعلمی کے بارےمیں ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں ہے: عن أبي القاسم الكعبي أنه قال مرة : رأيت لكم شيخا ببغداد يقال له الجنيد ، ما رأت عيناي مثله ، كان الكتبة، يعني البلغاء يحضرونه لألفاظه ، والفلاسفة يحضرونه لدقة معانيه ، و المتكلمون لزمام علمه ، وكلامه بائن عن فهمهم وعلمهم۔ (سیر اعلام النبلاء، الطبقۃ السادسۃ عشرۃ، تذکرۃ الجنید)

نیز شیخ ابو بکر کسائی اور آپ کے درمیان ہزار مسئلوں کا مُراسلہ (خط و کتابت) ہوا تھا آپ نے سب کے جواب لکھے، کسائی نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ ان مسئلوں کو میرے ساتھ قبر میں رکھ دینا، میں ان کو ایسا دوست رکھتا ہوں کہ چاہتا ہوں کہ یہ مسئلے مخلوق کے ہاتھ سے چھوئے بھی نہ جائیں ۔ (شریف التواریخ، ج1، ص530)

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’ میرے پیر حضرت سری سقطی نے مجھے دعا دی ﷲ تعالیٰ تمہیں حدیث دان بنا کر پھر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے‘‘۔

اسی طرح فرماتے ہیں:
علمنا مضبوط بالكتاب والسنة من لم يحفظ الكتاب ، ويكتب الحديث ، ولم يتفقه لا يقتدى بہ۔ ’’

یعنی: جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں اور اسے اپنا پیر نہ بنائیں کیونکہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے‘‘ ۔

نیز فرمایا:
’’ خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲﷺکے نشانِ قدم (سنت) کی پیروی کرے‘‘۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص53)

بیعت و خلافت:
آپ اپنے حقیقی ماموں حضرت شیخ سری سقطی سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، سلطان الاولیاء والمتقین، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی ۔

آپ اہل سنت و جماعت کے علماء و اولیاء کے امام ہیں ۔ آپ کو گروہِ صوفیاء میں ’’ سید الطائفہ ‘‘ اور علماء میں ’’ طاؤس العلماء ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔ حضرت شیخ سری سقطی آپ کے حقیقی ماموں تھے ۔ قرآن و حدیث، تفسیر و فقہ اور عربی ادب میں مہارت تامہ رکھتے تھے ۔ بیس سال کی عمر میں فتویٰ نویسی شروع کر دی تھی ۔ آپ کا شمار بغداد کے اجلہ علماء میں ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ تیس برس تک آپ کا معمول رہا کہ نماز عشاء پڑھ کر ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے اور صبح تک ذکر اللہ کرتے، اور اسی وضو سے نمازِ فجر ادا فرماتے ۔

آپ ابتدائی حالت سے لے کر دور آخر تک تمام جماعتوں کے محمود و مقبول تھے اور تمام لوگ آپ کی امامت پر متفق تھے۔ آپ کا سخن طریقت میں حجت ہےاور تمام زمانوں نے آپ کی تعریف رہی ہے، اور کوئی شخص بھی آپ کے ظاہر وباطن پر انگشت نمائی نہ کر سکا، سوائے اس شخص کے جو بالکل اندھا تھا ۔

خواص نے آپ کو ’’ لِسان القوم ‘‘ کہا ہے اور آپ نے خود کو ’’ عبد المشائخ ‘‘ لکھا ہے ۔ طبقۂ علماء نے ’’ طاؤس العلماء ’’ اور سلطان المحققین ‘‘ جانا ہے ۔ اس لیے کہ آپ شریعت و طریقت میں انتہاء کو پہنچ چکے تھے ۔
1👍1
آپ عشق و زہد میں بے مثل اور طریقت میں مجتہد عصر تھے۔ بہت سے مشائخ آپ کے مذہب پر ہوئے۔ سب سے زیادہ معروف طریقہ طریقت میں اور مشہور تر مذہب مذاہب میں آپ ہی کا ہے ۔ آب اپنے وقت میں تمام مشائخ کا مرجع تھے،

آپ کی تصانیف بہت ہیں جو تمام ارشادات و معارف میں لکھی ہیں ۔باوجود ان عظیم خوبیوں کے دشمنوں اور آپ کے حاسدوں نے آپ کو زندیق کہا ہے ۔

حضرت سرّی سقطی سے لوگوں نے پوچھا کہ کسی مرید کا پیر سے بلند درجہ ہوا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے اور اس کی دلیل ظاہر ہے کہ جنید بغدادی مجھ سے بلند درجہ رکھتے ہیں ۔

عادات و صفات:
حضرت جنید بغدادی سلوک کے اس عظیم منزل پر فائز ہونے کے ساتھ اخلاقِ حسنہ والی صفت سے مزیّن تھے اور اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے ساتھ بھی آپ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے ۔

آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، مگر جب کبھی آپ کے برادران طریقت آ جاتے تو روزہ افطار کر دیتے اور فرماتے کہ اسلامی بھائیوں کی خاطر و مدارات نفل روزوں سے افضل ہے ۔ غریبوں یتیموں مسکینوں اور بیواؤں کا سہارا بنتے، امیروں پر فقیروں اور غریبوں کو ترجیح دیتےتھے ۔ کبھی کسی امیر و وزیر کی تعظیم نہیں کی ۔

آپ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے تھے، ایک بار لوگوں نے عرض کیا یا شیخ! کیا خوب ہو کہ آپ مُرَقَّعْ (گدڑی) پہنیں ۔ فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ مرقع پر تصوف و معرفت منحصر ہے تو میں لوہے و آگ سے لباس بناتا اور پہنتا، لیکن ہر گھڑی باطن میں یہ ندا آتی ہے ’’ لیس الاعتبار بالخرقۃ انما الاعتبار بالحرقۃ ‘‘ یعنی معرفت میں خرقہ کا اعتبار نہیں بلکہ (محبتِ الہی میں) جان جلنے کا اعتبار ہے ۔ (شریف التواریخ: جلد اول، ص528)

تجارت و عبادت:
آپ شیشےکی تجارت کرتے تھے (مریدوں کے نذرانوں پر گزارہ نہیں تھا) اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلا ناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور سامنے پردے کو گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یہاں تک کہ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا ۔ پھر آپ نے اپنی دوکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضرت سری سقطی کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کر دی اور حالتِ مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مُصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے اور اس طرح آپ نے چالیس سال کا عرصہ گزارا۔

آپ خود فرماتے ہیں:
کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی، اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ، 192)

مسندِ رشد و ہدایت:
حضرت جنید بغدادی جب راہ ِسلوک میں کامل واکمل ہوگئے اور آپ کی مقبولیت ہر چہار جانب پھیلنے لگی تو حضرت شیخ سِرّی سقطی نے آپ کو حکم دیا جنید اب تم وعظ کہا کرو ۔ آپ تردّد میں پڑ گئے کہ شیخ الوقت کی موجودگی میں کس طرح تقریر کروں؟ کیونکہ یہ خلاف ادب ہے؟ اسی حالت میں رہے کہ ایک رات خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو سرکار دو عالم ﷺ نے بھی آپ کو وعظ کہنے کے لیے ارشاد فرمایا ۔ آپ جب صبح بیدار ہوئے تو اپنے شیخ طریقت سے خواب کو بیان کرنے کے لیے سوچا یہاں تک کہ آپ حضرت سرّی سقطی کی بارگاہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے شیخ پہلے ہی آپ کے انتظار میں دروازے پر کھڑے ہیں، جب آپ قریب ہوئے تو آپ سے ارشاد فرمایا: ’’لم تصدقنا حتیٰ جاءک الامر من رسول اللہ‘‘ یعنی تم نے (بپاس ادب) ہماری بات نہ مانی؛ اب تو تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرما دیا ہے ۔ (نفحاتِ منبریۃ، 54)

تعلیمات:
حضرت جنید بغدادی ارشاد فرماتے ہیں: ’’ کہ صوفی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جب پلیدی اس پر ڈالی جاتی ہےتو وہ سرسبز ہوکر نکلتی ہے ۔ فرمایا صوفی وہ ہے جس کا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو اور فرمان الٰہی بجالانے والا ہو، اس کی تسلیم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم کی طرح ہو اور اس کا غم و اندوہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ہو اور اس کا صبر حضرت ایوب علیہ السلام کے مانند ہو اس کا ذوق و شوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو اور مناجات میں اس کا اخلاص حضور سرورِ کائنات ﷺ کی طرح ہو ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، 197)

خلفاء و تلامذہ:
شیخ ابو بکر شبلی، ابو محمد الجریری، ابن الاعرابی احمد بن محمد، علی بن بندار ابوالحسن الصیرفی، عبد اللہ بن محمد الشعرانی، محمد بن اسود دینوری ۔ علیہم الرحمہ

وصال:
بروز جمعۃ المبارک 27 ؍ رجب المرجب 297ھ مطابق11 ؍ اپریل 910ء کو واصل بااللہ ہوئے ۔ مزار مبارک مقامِ ’’شونیزیہ‘‘ بغدادِ معلیٰ میں مرجعِ خلائق ہے ۔

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:

بہر معروف و سری معروف دے بے خود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-junaid-baghdadi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1444 ᴴ | 18-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-07-1444 ᴴ | 19-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1