﷽ اَللهۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ کی بارگاہ مِیں دُنیا بھر کے تمام سُنّی صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے دُعا ہے کہ
اَللهۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ بَطُفَیۡلِ مُصۡطَفیٰ ﷺ وَ کُلۡ انبیآء وَ مُرۡسلیۡنۡ عَلَیۡهِمُ السَّلَامۡ وَ کُلۡ صحابہ وَ تابعینۡ عَلَیۡهِمُ الرِّضۡوَان وَ جمیع اوۡلیآء وَ بزرگان دین وَ علمائے ربانیینۡ عَلَیۡهِمُ الرَّحۡمَہۡ کے صدۡقہ وَ طفیل
آپ کو اور آپ کے والدین، بھائی بہن رِشتہ دار، دوست و احباب، عزیز و اقارب، خاندان اور دنیا بهر کے تمام سُنِّی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو مذہبِ اہل سنت و جماعت جسے دورِ حاضِر میں پہچان کے لئے مسلکِ اعلیٰ حضرت کہا جاتا ہے اِسی مسلکِ حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ـ اور اِسی مسلکِ حق پر خاتمہ بالخیر فرمائے ـ آمین
اور تمام چھوٹے بڑے گناہ جو جانے اَنجانے میں ہو گئے ہوں ان سب کو معاف فرمائے ـ آمین
اور ہر اچھے کام ہمیشہ کرنے کی اور ہر برے کام سے ہمیشہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے ـ ہر دُکھ تکلیف پریشانی رنج و غم مصیبت سے نجات عطا فرمائے ـ صحت و سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ زِندگی عطا فرمائے ـ روزی روزگار دوکان مکان کھیت کھلِیہان میں دِن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ـ اور تمام جائز تمنائیں اور مقاصد کو پوری فرمائے ـ بِالخصوص خاتمہ ایمان پر فرمائے ـ
آمِیۡن = ثُمَّ آمِیۡن = اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ
بِــجَــاهِ الــنَّـبِـیِّ الاَمِــیۡنِ الۡـکَــرِیۡم ﷺ
⚠️ یہ دُعا صِرف اور صِرف سُنِّی
صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے ہے
اَللهۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ بَطُفَیۡلِ مُصۡطَفیٰ ﷺ وَ کُلۡ انبیآء وَ مُرۡسلیۡنۡ عَلَیۡهِمُ السَّلَامۡ وَ کُلۡ صحابہ وَ تابعینۡ عَلَیۡهِمُ الرِّضۡوَان وَ جمیع اوۡلیآء وَ بزرگان دین وَ علمائے ربانیینۡ عَلَیۡهِمُ الرَّحۡمَہۡ کے صدۡقہ وَ طفیل
آپ کو اور آپ کے والدین، بھائی بہن رِشتہ دار، دوست و احباب، عزیز و اقارب، خاندان اور دنیا بهر کے تمام سُنِّی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو مذہبِ اہل سنت و جماعت جسے دورِ حاضِر میں پہچان کے لئے مسلکِ اعلیٰ حضرت کہا جاتا ہے اِسی مسلکِ حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ـ اور اِسی مسلکِ حق پر خاتمہ بالخیر فرمائے ـ آمین
اور تمام چھوٹے بڑے گناہ جو جانے اَنجانے میں ہو گئے ہوں ان سب کو معاف فرمائے ـ آمین
اور ہر اچھے کام ہمیشہ کرنے کی اور ہر برے کام سے ہمیشہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے ـ ہر دُکھ تکلیف پریشانی رنج و غم مصیبت سے نجات عطا فرمائے ـ صحت و سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ زِندگی عطا فرمائے ـ روزی روزگار دوکان مکان کھیت کھلِیہان میں دِن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ـ اور تمام جائز تمنائیں اور مقاصد کو پوری فرمائے ـ بِالخصوص خاتمہ ایمان پر فرمائے ـ
آمِیۡن = ثُمَّ آمِیۡن = اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ
بِــجَــاهِ الــنَّـبِـیِّ الاَمِــیۡنِ الۡـکَــرِیۡم ﷺ
⚠️ یہ دُعا صِرف اور صِرف سُنِّی
صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے ہے
❤4👍1👌1
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایون ( بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریبا چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارت روضہ رسولﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار ( بغداد شریف ) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بدایون میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریبا ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلا شکیل بدایونی ، اختر الحامدی ، مضطر صابری ، ماہر القادری طالب انصاری ، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی ، تابش قصوری ، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضر ت شاہ کلیم اللہ جہا ں آبادی ؒ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آ پ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دلوں کو بھی گر مادے گی جو مذہبی تا ثرات کے معاملہ میں بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبدالسلام قادری باندویؒ (سن وصال ۱۹۶۸ئ) آپ کی شاعر ی و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوق شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں و دیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت ، قطب ربانی محب یزدانی ، تاج العلما ء ، سراج الاولیاء ، تاج الفحول ، محب الرسول، مظہر حق ، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطب وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضر ت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبو لیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعرو ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جوا کا بر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمتہ للعالمین ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہورہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔
ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایون ( بھارت) میں تولد ہوئے ۔
آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔
تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریبا چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارت روضہ رسولﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار ( بغداد شریف ) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔
عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔
۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بدایون میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریبا ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔
تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلا شکیل بدایونی ، اختر الحامدی ، مضطر صابری ، ماہر القادری طالب انصاری ، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی ، تابش قصوری ، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔
شاعری:
دہلی میں حضر ت شاہ کلیم اللہ جہا ں آبادی ؒ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آ پ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دلوں کو بھی گر مادے گی جو مذہبی تا ثرات کے معاملہ میں بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔
ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبدالسلام قادری باندویؒ (سن وصال ۱۹۶۸ئ) آپ کی شاعر ی و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوق شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں و دیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت ، قطب ربانی محب یزدانی ، تاج العلما ء ، سراج الاولیاء ، تاج الفحول ، محب الرسول، مظہر حق ، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطب وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔
حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضر ت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبو لیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعرو ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جوا کا بر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمتہ للعالمین ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہورہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔
آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
❤1👍1
اس کو دربار رسالت کا عطیہ کہیں کہ حضرت مولانا ضیاء القادری مد ظلہم کو باوجود ان کمالات عظیمیہ کے شہرت نام و نمود سے ہمیشہ اجتنا ب ہی نہیں بلکہ قطعا بے تعلقی رہی ، یہی وجہ ہے کہ ااپ کے سات دیوان موجود ہوتے ہوئے صرف دو دیوان تاج مضامین منقبت میں ’’ تجلیات نعت ‘‘ نعت شریف میں مطبوع ہو کر مفقود ہو گئے ہیں ۔ باقی منظومات کا دفتر ہنوز غیر مطبوعہ موجود ہے۔
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’فن تاریخ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمۃ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایون ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی۔ جوار غوث الوریٰ
٭ ہفت احمد۔ قصائد صبح نورانی۔ مجموعہ سلام۔ کلام ضیائ۔ خزینہ بہشت۔ نغمہ ربانی۔ بہار چشت۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایون ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی ھسین آباد ( سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو ئٹہ ) کی کتاب ’’ مصباح الاخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں :
غیر منقسم ہندو ستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اسلامیان ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصمو ا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقو ا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الا عظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کر ا کے ان کو پروان چڑھا یا اور اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دور آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء)
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دست بیعت تھے اور حضرت علامہ عبدالمقتدد بدایونی قادریؒ کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگان قادریہ ص:۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
( مرقع شہادت ، طبع دوئم، انجمن امانت الا سلام )
علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں: علماء و مشائخین ارباب علم و ادب یکساں طور پر ضیاء کی نظموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مولانا ضیاء القادر محض ایک کامیاب شاعر ہی نہیں بلکہ علم و اد ب اور ’’فن تاریخ‘‘ میں بھی خاص ادراک اور مہارت رکھتے ہیں اور کثیر تصانیف ملک کے سامنے پیش فرما چکے ہیں‘‘ (مرقع شہادت ، تقریظ)
تصنیف و تالیف:
مولانا نے نظم و نثر میں تصانیف کا گراں قدر ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے آپ کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں:
٭ اکمل التاریخ (۲ جلدیں) حضرت مولانا فضل رسول قادری علیہ الرحمۃ کا مفصل خاندانی تذکرہ مطبوعہ نظامی پریس بدایون ۱۹۱۵ء
٭ تاریخ اولیائے بدایوں مطبوعہ کراچی ۱۳۷۷ء
٭ تجلیات نعت ۔ تاج مضامین (مناقت) ستارہ چشت ۔ دیار نبی۔ جوار غوث الوریٰ
٭ ہفت احمد۔ قصائد صبح نورانی۔ مجموعہ سلام۔ کلام ضیائ۔ خزینہ بہشت۔ نغمہ ربانی۔ بہار چشت۔ چراغ صبح جمال
٭ مرقع شہادت (نظم) طبع اول بدایون ۱۳۶۰ھ ؍ ۱۹۴۱ء ، طبع دوم انجمن امانت الا سلام کراچی ۱۹۵۱ء
٭ قصائد نورانی
٭ ماہنامہ نعت لاہور نے جولائی ۱۹۸۹ء کے خصوصی شمارہ میں ’’ کلام ضیاء ‘‘ شائع کیا ۔
حضرت مولانا ضیاء القادری نے الحاج علی ھسین آباد ( سابق استاد کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو ئٹہ ) کی کتاب ’’ مصباح الاخرت ‘‘ پر تقریظ میں لکھتے ہیں :
غیر منقسم ہندو ستان میں ایک ہزار سال تک اسلامی سلطنت قائم رہی ۔ تمام اسلامیان ہند کا ایک ہی مذہب و مسلک رہا ۔ انگریز کے قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصمو ا بحبل اللہ جمیعا الا تفرقو ا پر پورے استحکام کے ساتھ عامل تھے۔ عاملین برطانیہ نے اپنے جبلی فریب سیاست سے سواد الا عظم اسلام میں اخنہ اندازی شروع کی اور نئے نئے مذاہب جاری کر ا کے ان کو پروان چڑھا یا اور اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں تفرقہ اندازی کی داغ بیل ڈالی ۔
دور آخر میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور سیاسی و ملکی حقوق کے حصول کیلئے مسلم لیگ ایک نصب العین لے کر میدان عمل میں آئی ۔ دنیانے دیکھ لیا کہ انگریز کے بنائے مذاہب اور فرنگی کے مرغان دست پرور نے مسلم لیگ اور ان کے نصب العین پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر سواد الاعظم اسلام یعنی مذہب اہل سنت والجماعت اور اس کے علماء و مشائخ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان حاصل کر لیا ‘‘۔
( مصباح الآخرت مطبوعہ کراچی ۱۹۵۴ء)
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا عبد الرسول محب احمد قادری سے دست بیعت تھے اور حضرت علامہ عبدالمقتدد بدایونی قادریؒ کے خلیفہ مجاز تھے ۔ (بزرگان قادریہ ص:۲۲۹) ـ
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے نرینہ اولاد میں سے محمد یوسف قادری تولد ہوئے لیکن آج وہ بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
وصال:
مولانا ضیاء القادری نے ۱۲ جمادی الآخر ۱۳۹۰ ھ بمطابق ۱۵ اگست ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ ۸۷ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔ مزار شریف فیدرل بی ایریا کے قبرستان (کراچی) میں واقع ہے ۔
( تذکرہ اکابر اہل سنت مطبوعہ لاہور )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zia-ul-qadri-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Zia-ul-Qadri Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔
آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍ میل اور غجدوان سے ۳؍ میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷؍ رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵؍ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹؍دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبدالخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ میں۔ گویا کہ آپ پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۱۴۰ سال زندہ رہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ عارف ریوگری قدس سرہ
نسبت و ارادت:
خواجہ عبد الخالق قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے ۔ خواجہ احمد صدیق ۔ خواجہ اولیائے کبیر ۔ خواجہ سلیمان کرمینی ۔ خواجہ عارف ریوگری ۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی نسبت و ارادت ان میں سے خواجہ عارف تک پہنچتی ہے۔ حضرت خواجہ عارف کا مولد و مدفن موضع ریوگر ہے [۱] جو دیہات بخارا میں سے ہے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و عبادت اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔
[۱۔ ریوگر (بکسر راے مہملہ و سکون یا و واد ہر دو۔ وکسرکاف فارسی) بخارا سے چھ فرسنگ اور غجدوان سے ایک فرسنگ شرعی کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
وصال مُبارک:
آپ کا سنہ وفات بقول صاحب حضرات القدس ۶۱۶ھ یا ایک سال بعد ہے ۔ (رشحات) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-arif
حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔
آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍ میل اور غجدوان سے ۳؍ میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷؍ رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵؍ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹؍دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبدالخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ میں۔ گویا کہ آپ پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۱۴۰ سال زندہ رہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ عارف ریوگری قدس سرہ
نسبت و ارادت:
خواجہ عبد الخالق قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے ۔ خواجہ احمد صدیق ۔ خواجہ اولیائے کبیر ۔ خواجہ سلیمان کرمینی ۔ خواجہ عارف ریوگری ۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی نسبت و ارادت ان میں سے خواجہ عارف تک پہنچتی ہے۔ حضرت خواجہ عارف کا مولد و مدفن موضع ریوگر ہے [۱] جو دیہات بخارا میں سے ہے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و عبادت اور ہدایت خلق میں مشغول رہے۔
[۱۔ ریوگر (بکسر راے مہملہ و سکون یا و واد ہر دو۔ وکسرکاف فارسی) بخارا سے چھ فرسنگ اور غجدوان سے ایک فرسنگ شرعی کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
وصال مُبارک:
آپ کا سنہ وفات بقول صاحب حضرات القدس ۶۱۶ھ یا ایک سال بعد ہے ۔ (رشحات) ۔
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-arif
scholars.pk
Hazrat Khawaja Arif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شیخ الحدیث علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبد القدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔ والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 / رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے ۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتےتھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے پروفیسر اور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو ’’تفسیر ِصدیقی‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔ آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17/ شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبد القدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔ والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 / رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔
آپ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے ۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتےتھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے پروفیسر اور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو ’’تفسیر ِصدیقی‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔ آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17/ شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Qadeer Hasrat Hyderabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه
نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔
سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔
سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔
حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔
بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔
چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔
سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔
سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔
حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔
بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔
چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
❤1👍1