🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1444 ᴴ | 18-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-07-1444 ᴴ | 18-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شب معراج کے نوافل | عبادات
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1💯1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
﷽ اَللهۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ کی بارگاہ مِیں دُنیا بھر کے تمام سُنّی صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے دُعا ہے کہ

اَللهۡ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ ﷻ بَطُفَیۡلِ مُصۡطَفیٰ ﷺ وَ کُلۡ انبیآء وَ مُرۡسلیۡنۡ عَلَیۡهِمُ السَّلَامۡ وَ کُلۡ صحابہ وَ تابعینۡ عَلَیۡهِمُ الرِّضۡوَان وَ جمیع اوۡلیآء وَ بزرگان دین وَ علمائے ربانیینۡ عَلَیۡهِمُ الرَّحۡمَہۡ کے صدۡقہ وَ طفیل

آپ کو اور آپ کے والدین، بھائی بہن رِشتہ دار، دوست و احباب، عزیز و اقارب، خاندان اور دنیا بهر کے تمام سُنِّی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو مذہبِ اہل سنت و جماعت جسے دورِ حاضِر میں پہچان کے لئے مسلکِ اعلیٰ حضرت کہا جاتا ہے اِسی مسلکِ حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ـ اور اِسی مسلکِ حق پر خاتمہ بالخیر فرمائے ـ آمین

اور تمام چھوٹے بڑے گناہ جو جانے اَنجانے میں ہو گئے ہوں ان سب کو معاف فرمائے ـ آمین

اور ہر اچھے کام ہمیشہ کرنے کی اور ہر برے کام سے ہمیشہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے ـ ہر دُکھ تکلیف پریشانی رنج و غم مصیبت سے نجات عطا فرمائے ـ صحت و سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ زِندگی عطا فرمائے ـ روزی روزگار دوکان مکان کھیت کھلِیہان میں دِن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ـ اور تمام جائز تمنائیں اور مقاصد کو پوری فرمائے ـ بِالخصوص خاتمہ ایمان پر فرمائے ـ

آمِیۡن = ثُمَّ آمِیۡن = اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا ثُمَّ آمِیۡنۡ
بِــجَــاهِ الــنَّـبِـیِّ الاَمِــیۡنِ الۡـکَــرِیۡم ﷺ


⚠️ یہ دُعا صِرف اور صِرف سُنِّی
صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے ہے
4👍1👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
4👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔

ولادت:
۲۶ رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ھ بمطابق ۲ جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃ العلم بدایون ( بھارت) میں تولد ہوئے ۔

آپ کے مورث اعلی مولانا خواجہ عبد اللہ چشتی بدایوں کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔

تعلیم و تربیت:
جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر فقہ ، تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھائیں ۔ تقریبا چودہ سال کی عمر میں آپ نے عالمانہ استعداد حاصل کر لی ۔

سفر حرمین شریفین:
آپ ہندوستان سے پاکستان مستقل منتقل ہوئے اور ۱۳۲ھ؍ ۱۹۴۸ء میں آپ کو حج و زیارت روضہ رسولﷺ کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو یہ امتیازی کے مزار پر انوار ( بغداد شریف ) پر حاضری بھی نصیب ہوئی ۔

عادات و خصائل:
مولانا ضیاء القادری نہایت خلیق اور سراپا درد بزرگ تھے ، ایثار و خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، انکسار پسند ، اور شگفتہ مزاج تھے ، ظاہری شان و شوکت سے آپ کو کوئی لگاوٗ نہ تھا ، تقویٰ و پرہیز گاری میں سلف صالحین کا بہتری نمونہ تھے ۔

۱۹۱۷ء سے ایک عرصہ تک آپ کے زیر اہتمام بدایون میں رجبی شریف کے عظیم الشان جلسے منعقد ہوتے رہے ۔ تقریبا ۳۵ سال تک سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے اس کے باوجود علم و ادب کی وہ گراں قدر خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ فراموش نہیں کر سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نظم و نثر پر یکساں قدرت عطا فرمائی تھی ۔

تلامذہ:
پاک و ہند کے مشہور شعرائے کرام مثلا شکیل بدایونی ، اختر الحامدی ، مضطر صابری ، ماہر القادری طالب انصاری ، محشر بدایونی، سحر اکبر آبادی ، تابش قصوری ، صابر براری اور رضا قریشی آپ کے ممتاز شاگرد ہیں ۔

شاعری:
دہلی میں حضر ت شاہ کلیم اللہ جہا ں آبادی ؒ کے دربار سے شائع ہونے والے مشہو ر مجلہ ماہنامہ ’’ آستانہ ‘‘ کے آ پ شاعر خصوصی تھے ۔ آپ کلام طویل عرصہ تک آستانہ دہلی میں’’ شاعر آستانہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا ہے ۔

خواجہ حسن نظامی آپ کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مولانا ضیاء القادری کے کلام میں ایسی مذہبی زندگی ہے جو ایک دفعہ کے لئے ان مردہ دلوں کو بھی گر مادے گی جو مذہبی تا ثرات کے معاملہ میں بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہیں ‘‘۔

ناصر اسلام خطیب اہل سنت مولانا پیر سید عبدالسلام قادری باندویؒ (سن وصال ۱۹۶۸ئ) آپ کی شاعر ی و شخصیت پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں ‘‘۔

’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوق شعر و ادب قدرت نے کمسنی ہی سے آپ کی فطرت میں و دیعت فرمایا تھا ۔ دس سال کی عمر میں آپ بے ساختہ شعر کہنے لگے تھے چونکہ ہوش سنبھالتے ہی حضرت زبدۃ العرفاء مولانا علی احمد خان صاحب اسیر قادری نقشبندی بدایونی شہید مدینہ کی تعلیمی برکات نے آپ کو اعلی حضرت ، قطب ربانی محب یزدانی ، تاج العلما ء ، سراج الاولیاء ، تاج الفحول ، محب الرسول، مظہر حق ، مولانا عبد القادر الثانی العثمانی فقیر نواز فقیر قادری بدایونی جیسے خدا رسیدہ قطب وقت کی خدمت میں پیش کر کے ان کی مقبول دعاؤں کا مستحق بنا دیا تھا ۔ اس لئے آپ کی طبع رسانے کسی وقت بھی مجازی شاعری کی طرف رغبت نہ کی اور نعت و مناقب ہی کے لئے آپ کی زندگی وقف ہو گئی ۔

حضرت محسن کاکوری ، حضرت امیر مینائی ، حضرت حافظ پیلی بھیتی ، حضر ت حسن بریلوی ، حضرت رضوان مراد آبادی کے بعد ہندوستان میں آپ کو جو انفرادیت اور مقبو لیت حاصل ہوئی اس سے تمام علماء و مشائخ اور دنیائے شعرو ادب واقف ہے ۔ لسان الحسان ، شاعر اعظم اہل سنت ، حسان پاکستان آپ کے وہ خطابات ہیں جوا کا بر علماء و مشائخ نے آپ کو عظیم الشان اجتماعات میں دیئے ہیں ۔ آپ کا مشغلہ حیات مستقل طور پر تبلیغ و ترویج محبت و عظمت حضور خاتم المرسلین و رحمتہ للعالمین ہے ۔ آپ کے مضامین نظم و نثر نصف صدی پیشتر سے اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہے ہیں ۔ بکثرت تصانیف آپ کی منظر عام پر آچکی ہیں آج بھی رسالہ آستانہ دہلی آپ کے رشحات قلم سے سیراب ہورہا ہے ۔ مشاہیر اساتذہ اہل سخن کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ ’’ مرقع شہادت ‘‘ آپ کے مخزن تصانیف کا وہ پیش بہا سرمایہ ہے جو دس سال پیشتر چھپ کر اپنی مقبولیت عامہ کے باعث بالکل نایاب ہو چکا تھا ۔

آج ارباب نظر کے سامنے میں فخر و مباہات کے ساتھ ’’ مرقع شہادت ‘‘ پیش کرنے کی عزت حاصل کر رہا ہوں ، علماء اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نظم میں مرقع شہادت تمام اصناف سخن اور صحت واقعات کے اعتبار سے بے مثل کتاب ہے اور ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا چاہئے ۔
1👍1