حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں: "آپ نے عمر بھر نہ کسی کی غیبت کی اور نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کو گالی دی۔ صحیح و سقیم حدیث کی پہچان میں اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے بلکہ بعض امور میں ان کو امام بخاری پر بھی ترجیح و فضیلت ہے۔ (بستان المحدثین، ص۱۷۸)
حضرت امام نووی فرماتے ہیں:
محدثین اگر دو سو سال بھی حدیثیں لکھتے رہیں جب بھی ان کا دارو مدار اسی المسند الصحیح (صحیح مسلم) پر رہے گا۔ (مقدمہ مسلم امام نووی)
حلقۂ درس و تلامذہ:
امام مسلم کے زمانہ میں نیشا پور کا گوشہ گوشہ محدثین سے معمور تھا اور ان کے حلقہ ہائے درس قائم تھے مگر علم حدیث میں امام مسلم نے جو عظمت اور شان پیدا کرلی تھی اس رتبہ تک عالم اسلام میں کم ہی لوگوں کی رسائی ہوسکی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے حلقۂ درس میں شائقین علم کا ہجوم رہتا۔ عام لوگوں کی بات ہی کیاہے خود آپ کے بلند مرتبہ اقران حتی کہ شیوخ بھی آپ سے سماع حدیث کے مشتاق رہتے اور آپ کی سند عالی سے روایت کرنے پر فخر کرتے تھے ۔ حضرت امام ترمذی علیہ الرحمہ آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
وفات:
امام مسلم کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے ـ
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتےہیں:
زندگی کے آخری ایام تک حدیث رسول کی تلاش میں وجستجو کا حیرت انگیز انہماک قائم رہا ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے۔ گھر آکر اپنی کتابوں میں اس کی تلاش شروع کردی قریب ہی کھجووں کا ایک ٹوکرا رکھا ہوا تھا امام مسلم حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور کو اٹھا کر کھاتے رہے حدیث تلاش کرنے میں امام مسلم کے استغراق و انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی جانب آپ کی توجہ نہ ہوسکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا اور غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی ان کی موت کا سبب بن گیا ۔
تاریخِ وصال:
24 / رجب المرجب 261ھ، مطابق 5 / مئی 875ء، اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا اور دوسرے دن پیرکواس عظیم محدث کو ہزاروں سوگواروں نے نمازِ جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا۔
ابو حاتم رازی بیان کرتے ہیں:
کہ میں نے امام مسلم کی وفات کے بعد ان کو خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں ۔ (تذکرۃ المحدثین: 227)
ماخذ و مراجع:
حیات محدثین عظام ۔ تذکرۃ المحدثین ۔ بستان المحدثین ۔ تہذیب التہذیب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muslim-bin-hajjaj-nishapuri
حضرت امام نووی فرماتے ہیں:
محدثین اگر دو سو سال بھی حدیثیں لکھتے رہیں جب بھی ان کا دارو مدار اسی المسند الصحیح (صحیح مسلم) پر رہے گا۔ (مقدمہ مسلم امام نووی)
حلقۂ درس و تلامذہ:
امام مسلم کے زمانہ میں نیشا پور کا گوشہ گوشہ محدثین سے معمور تھا اور ان کے حلقہ ہائے درس قائم تھے مگر علم حدیث میں امام مسلم نے جو عظمت اور شان پیدا کرلی تھی اس رتبہ تک عالم اسلام میں کم ہی لوگوں کی رسائی ہوسکی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے حلقۂ درس میں شائقین علم کا ہجوم رہتا۔ عام لوگوں کی بات ہی کیاہے خود آپ کے بلند مرتبہ اقران حتی کہ شیوخ بھی آپ سے سماع حدیث کے مشتاق رہتے اور آپ کی سند عالی سے روایت کرنے پر فخر کرتے تھے ۔ حضرت امام ترمذی علیہ الرحمہ آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
وفات:
امام مسلم کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے ـ
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتےہیں:
زندگی کے آخری ایام تک حدیث رسول کی تلاش میں وجستجو کا حیرت انگیز انہماک قائم رہا ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے۔ گھر آکر اپنی کتابوں میں اس کی تلاش شروع کردی قریب ہی کھجووں کا ایک ٹوکرا رکھا ہوا تھا امام مسلم حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور کو اٹھا کر کھاتے رہے حدیث تلاش کرنے میں امام مسلم کے استغراق و انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی جانب آپ کی توجہ نہ ہوسکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا اور غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی ان کی موت کا سبب بن گیا ۔
تاریخِ وصال:
24 / رجب المرجب 261ھ، مطابق 5 / مئی 875ء، اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا اور دوسرے دن پیرکواس عظیم محدث کو ہزاروں سوگواروں نے نمازِ جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا۔
ابو حاتم رازی بیان کرتے ہیں:
کہ میں نے امام مسلم کی وفات کے بعد ان کو خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں ۔ (تذکرۃ المحدثین: 227)
ماخذ و مراجع:
حیات محدثین عظام ۔ تذکرۃ المحدثین ۔ بستان المحدثین ۔ تہذیب التہذیب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muslim-bin-hajjaj-nishapuri
scholars.pk
Hazrat Syed Muslim Bin Hajjaj Nishapuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: عمر ۔ کنیت: ابو حفص ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم ۔ آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی: امِ عاصم بنتِ سیدنا عاصم بن فاروقِ اعظم (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔ گویا آپ حضرت فاروقِ اعظم کی پوتی ہوئیں ۔ اس لحاظ سے آپ کی رگوں میں خونِ فاروقی کی آمیزش تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 61 یا 63 ہجری میں مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ :
امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دن خواب دیکھا اور بیدار ہونے کے بعد فرمایا:میری اولاد میں سے ایک شخص جس کے چہرے پر زَخم کا نشان ہوگا ، زمین کو عَدل و اِنصاف سے بھر دے گا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اکثر کہا کرتے: کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ میرے ابو جان کی اولاد میں سے کون ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ زمین کو عدل و اِنصاف سے بھر دے گا ؟ وَقت گزرتا رہا، اور "فاروقی خاندان" حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خواب کی تعبیر دیکھنے کا منتظر رہا ، یہاں تک کہ حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نواسے حضرت عمر بن عبد العزیز کی وِلادت ہوئی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰،۱۱)
تحصیلِ علم:
آپ کے والدِ گرامی عبد العزیز علیہ الرحمہ مصر کے گورنر تھے اور بہت ہی نیک سیرت انسان تھے ۔ انہوں نے حضرت صالح بن کیسان علیہ الرحمہ کو آپ کا اتالیق (معلم) مقرر فرمایا ۔
حضرت صالح نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خوب حق ادا کیا ۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بچپن ہی میں قرآن پاک حِفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالک ، سائب بن یزید اور سعید بن مسیب وغیرہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ اور تابِعین کے حلقۂ دَرس میں بھی شریک ہوئے ۔
اس طرح ان بزرگانِ دین کی صحبتِ بابرکت میں قرآن و حدیث اور فِقہ ، عربی ادب و لغت کی تعلیم مکمل کرکے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز نے وہ مَقام حاصل کیا کہ آپ کے ہم عَصر بڑے بڑے محدثین کو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فَضل و کمال کا اِعتراف رہا ۔
چُنانچِہ علامہ ذہبی نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا تَذکِرہ اِن الفاظ میں لکھا ہے:وہ بہت بڑے اِمام، فقیہ، مجتہد، حدیث کے بہت ماہر تھے ۔ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہم مسائل کے حل کے لئے حضرت عمر بن عبد العزیز کی طرف رجوع کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
خلفاء راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد جس مسلمان فرماں روا کا نام تاریخ کے افق پر آفتاب کی طرح روشن اور تابناک ہے وہ ابو حفص عمر بن عبد العزیز ہیں ۔ جس وقت وہ سریر آرائے خلافت ہوئے اسلامی سلطنت بے انتہا وسعت اختیار کر چکی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی نظام حکومت میں کئی خرابیاں پیدا ہوچکی تھی ۔ اور خلفاء راشدین کا عہدِ زریں قصۂ پارینہ بن چکا تھا ۔ عمر بن عبد العزیز نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں ان خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور مجددانہ کارناموں سے جسدِ ملت میں اسلام کی حقیقی روح پھونک کر ایک بار پھر خلفاء راشدین کابا برکت دور واپس لے آئے۔
آپ مجدد اور خلیفۂ راشد ہیں:
اسی لئے علماء فقہ و تاریخ نے آپ کو پہلی صدی ہجری کا مجدد اور ارباب سیر نے خلیفہ راشد ٹھہرایا، جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا: کہ خلفاء راشدین پانچ ہیں، حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضی اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
آپ کے والد مسلسل 21 برس مصر کے گورنر رہے ۔ دولت و ثروت کی فراوانی تھی لہذا ناز و نعم کے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی ۔ جس کا اثر خلیفہ بننے تک قائم رہا ۔ وہ ایک نفیس طبع خوش پوش مگر صالح نوجوان تھے ۔ عہد شباب میں اچھے سے اچھا لباس پہنتے ۔ دن میں کئی پوشاک تبدیل کرتے، خوشبو کو بے حد پسند کرتے، جس راہ سے گزر جاتے فضا مہک جاتی ۔
خلافت کا بار گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے احساس نے آپ کی زندگی بِالکل بدل کر رکھ دی ۔ وہی عمر جو نفاست پسندی اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جو خوشبو کے دلدادہ تھے، جن کی چال امیرانہ آن بان کی آئینہ دار تھی ، جن کا لباس فاخرانہ تھا ۔ اب سراپا عجز و نیاز تھے ۔
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: عمر ۔ کنیت: ابو حفص ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم ۔ آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی: امِ عاصم بنتِ سیدنا عاصم بن فاروقِ اعظم (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔ گویا آپ حضرت فاروقِ اعظم کی پوتی ہوئیں ۔ اس لحاظ سے آپ کی رگوں میں خونِ فاروقی کی آمیزش تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 61 یا 63 ہجری میں مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ :
امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دن خواب دیکھا اور بیدار ہونے کے بعد فرمایا:میری اولاد میں سے ایک شخص جس کے چہرے پر زَخم کا نشان ہوگا ، زمین کو عَدل و اِنصاف سے بھر دے گا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اکثر کہا کرتے: کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ میرے ابو جان کی اولاد میں سے کون ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ زمین کو عدل و اِنصاف سے بھر دے گا ؟ وَقت گزرتا رہا، اور "فاروقی خاندان" حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خواب کی تعبیر دیکھنے کا منتظر رہا ، یہاں تک کہ حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نواسے حضرت عمر بن عبد العزیز کی وِلادت ہوئی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰،۱۱)
تحصیلِ علم:
آپ کے والدِ گرامی عبد العزیز علیہ الرحمہ مصر کے گورنر تھے اور بہت ہی نیک سیرت انسان تھے ۔ انہوں نے حضرت صالح بن کیسان علیہ الرحمہ کو آپ کا اتالیق (معلم) مقرر فرمایا ۔
حضرت صالح نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خوب حق ادا کیا ۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بچپن ہی میں قرآن پاک حِفظ کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالک ، سائب بن یزید اور سعید بن مسیب وغیرہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ اور تابِعین کے حلقۂ دَرس میں بھی شریک ہوئے ۔
اس طرح ان بزرگانِ دین کی صحبتِ بابرکت میں قرآن و حدیث اور فِقہ ، عربی ادب و لغت کی تعلیم مکمل کرکے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز نے وہ مَقام حاصل کیا کہ آپ کے ہم عَصر بڑے بڑے محدثین کو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فَضل و کمال کا اِعتراف رہا ۔
چُنانچِہ علامہ ذہبی نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا تَذکِرہ اِن الفاظ میں لکھا ہے:وہ بہت بڑے اِمام، فقیہ، مجتہد، حدیث کے بہت ماہر تھے ۔ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اہم مسائل کے حل کے لئے حضرت عمر بن عبد العزیز کی طرف رجوع کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
خلفاء راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد جس مسلمان فرماں روا کا نام تاریخ کے افق پر آفتاب کی طرح روشن اور تابناک ہے وہ ابو حفص عمر بن عبد العزیز ہیں ۔ جس وقت وہ سریر آرائے خلافت ہوئے اسلامی سلطنت بے انتہا وسعت اختیار کر چکی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی نظام حکومت میں کئی خرابیاں پیدا ہوچکی تھی ۔ اور خلفاء راشدین کا عہدِ زریں قصۂ پارینہ بن چکا تھا ۔ عمر بن عبد العزیز نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں ان خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور مجددانہ کارناموں سے جسدِ ملت میں اسلام کی حقیقی روح پھونک کر ایک بار پھر خلفاء راشدین کابا برکت دور واپس لے آئے۔
آپ مجدد اور خلیفۂ راشد ہیں:
اسی لئے علماء فقہ و تاریخ نے آپ کو پہلی صدی ہجری کا مجدد اور ارباب سیر نے خلیفہ راشد ٹھہرایا، جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا: کہ خلفاء راشدین پانچ ہیں، حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضی اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
آپ کے والد مسلسل 21 برس مصر کے گورنر رہے ۔ دولت و ثروت کی فراوانی تھی لہذا ناز و نعم کے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی ۔ جس کا اثر خلیفہ بننے تک قائم رہا ۔ وہ ایک نفیس طبع خوش پوش مگر صالح نوجوان تھے ۔ عہد شباب میں اچھے سے اچھا لباس پہنتے ۔ دن میں کئی پوشاک تبدیل کرتے، خوشبو کو بے حد پسند کرتے، جس راہ سے گزر جاتے فضا مہک جاتی ۔
خلافت کا بار گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے احساس نے آپ کی زندگی بِالکل بدل کر رکھ دی ۔ وہی عمر جو نفاست پسندی اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جو خوشبو کے دلدادہ تھے، جن کی چال امیرانہ آن بان کی آئینہ دار تھی ، جن کا لباس فاخرانہ تھا ۔ اب سراپا عجز و نیاز تھے ۔
❤1👍1
آپ کی عاجزی و انکساری:
سلیمان کی تجہیز و تکفین کے بعد پلٹے تو سواری کے لیے اعلیٰ ترین گھوڑے پیش کیے گئے مگر حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا "میرے لیے میرا خچر کافی ہے" اور انہیں واپس بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا ۔
جب افسر پولیس نیزہ لے کر آگے آگے روانہ ہوا تو اسے ہٹا دیا اور کہا کہ" میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں "پھر جب سلیمان کے اثاثہ کو ورثا میں تقسیم کرنے کی تجویز کی تو آپ نے سارے سامان کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔ واپسی کے وقت دستور کے مطابق خیال تھا کہ وہ قصر خلافت میں ضرور داخل ہوں گے لیکن عمر اس کے بجائے یہ کہہ کر کہ " میرے لیے میرا خیمہ کافی ہے" اندر داخل ہوگئے ۔
آپ کی ملازمہ نے چہرہ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ آپ پریشان ہیں ۔ پُوچھا تو کہا: "یہ تشویش ناک بات ہی تو ہے کہ مشرق سے مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو" ۔
ہر وقت امت مسلمہ کے حقوق کی نگہداشت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور نفاذ کی فکر دامن گیر رہتی جس کی وجہ سے ہمیشہ چہرے پر پریشانی اور ملال کے آثار دکھائی دیتے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے اپنی بیوی فاطمہ کو حکم دیا کہ تمام زر و جواہر بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ ۔ وفا شعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی ۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازمہ مقرر نہ تھی تمام کام ان کی بیوی خود کرتیں ۔ الغرض آپ کی زندگی درویشی اور فقر و استغنا کا نمونہ بَن کر رہ گئی ۔
آپ کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس امر پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ ایک بار پھر سنت فاروقی اور عہد فاروقی کی یاد تازہ کر دیں ۔ آپ اس پاکیزہ زندگی اور کارہائے نمایاں کی بدولت ہی پانچویں خلیفہ راشد قرار پائے ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز بدھ 25 رجب المرجب 101ھ میں ہوا ۔ آپ کو حلب کے قریب "دیرِ سمعان" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-umar-bin-abdul-aziz
سلیمان کی تجہیز و تکفین کے بعد پلٹے تو سواری کے لیے اعلیٰ ترین گھوڑے پیش کیے گئے مگر حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا "میرے لیے میرا خچر کافی ہے" اور انہیں واپس بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا ۔
جب افسر پولیس نیزہ لے کر آگے آگے روانہ ہوا تو اسے ہٹا دیا اور کہا کہ" میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں "پھر جب سلیمان کے اثاثہ کو ورثا میں تقسیم کرنے کی تجویز کی تو آپ نے سارے سامان کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔ واپسی کے وقت دستور کے مطابق خیال تھا کہ وہ قصر خلافت میں ضرور داخل ہوں گے لیکن عمر اس کے بجائے یہ کہہ کر کہ " میرے لیے میرا خیمہ کافی ہے" اندر داخل ہوگئے ۔
آپ کی ملازمہ نے چہرہ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ آپ پریشان ہیں ۔ پُوچھا تو کہا: "یہ تشویش ناک بات ہی تو ہے کہ مشرق سے مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو" ۔
ہر وقت امت مسلمہ کے حقوق کی نگہداشت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور نفاذ کی فکر دامن گیر رہتی جس کی وجہ سے ہمیشہ چہرے پر پریشانی اور ملال کے آثار دکھائی دیتے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے اپنی بیوی فاطمہ کو حکم دیا کہ تمام زر و جواہر بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ ۔ وفا شعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی ۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازمہ مقرر نہ تھی تمام کام ان کی بیوی خود کرتیں ۔ الغرض آپ کی زندگی درویشی اور فقر و استغنا کا نمونہ بَن کر رہ گئی ۔
آپ کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس امر پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ ایک بار پھر سنت فاروقی اور عہد فاروقی کی یاد تازہ کر دیں ۔ آپ اس پاکیزہ زندگی اور کارہائے نمایاں کی بدولت ہی پانچویں خلیفہ راشد قرار پائے ۔
وصال:
آپ کا وصال بروز بدھ 25 رجب المرجب 101ھ میں ہوا ۔ آپ کو حلب کے قریب "دیرِ سمعان" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-umar-bin-abdul-aziz
scholars.pk
Hazrat Umar Bin Abdul Aziz
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-07-1444 ᴴ | 16-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-07-1444 ᴴ | 17-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-07-1444 ᴴ | 17-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-07-1444 ᴴ | 17-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1