🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
اسلام میں عورت کا مقام 📚 خواتین
عورتوں کے مسائل | خواتین کے احکام
تقاریر | نکاح شادی بیاہ | طہارت پردہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فرمائش سے پہلے سرچ ضرور کریں!
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/6828
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جنتی زیور ⁵ سنی بہشتی زیور ¹¹
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12456

اسلامی پردہ 📚⁸ عورت اور پردہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12457

نکاح شادی بیاہ سے متعلق 📚⁴²
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12458

حیض و نفاس 📚¹⁸ Haiz O Nifas
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12459

مذہب اسلام اور عورت ❶ 📚⁰¹-³⁴
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12460

مذہب اسلام اور عورت ❷ 📚³⁵-⁷⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12461

عورتوں کے لئے تقریر کی کتابیں ¹²
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12462

والدین ماں باپ | زوجین میاں بیوی
شوہر اولاد | خواتین عورت بہن پردہ
نکاح طلاق | حق حقوق | ہندی📚
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/9834
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
islam Aurat Khawateen Parda
Taharat Nikah Talaq Taqreer
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12463
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@islaamic_Knowledge
@Aalaa_Hazrat_Library
@Maslake_Aalaa_Hazrat
@AhleSunnat_HindiBooks
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📞 +917860520899
Contact on WhatsApp ↷
https://wa.me/+917860520899
Contact on Telegram ↷
https://t.me/Muhammad_Jamaluddin_Khan
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
شیخ المشائخ شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کی اسم گرامی رحمکار ۔ آپ کا لقب: کاکا صاحب ۔ (کاکا پشتو زبان میں بزرگ کو کہتے ہیں) والد کا اسم گرامی: شیخ بہادر المعروف ابک بابا ، دادا کا نام مست بابا (انکا مزار شیخ رحمکارکے مزار سے سات میل دور ہے ۔آپ کی زیارت مرجع خلائق ہے) اور پر دادا کا نام غالب بابا (انکا مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گذار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں) تھا۔ آپ تمام صوبہ سرحد اور اکناف و اطراف میں کاکا صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا لقب ’’ شیخ المشائخ‘‘ تھا۔

ولادت:
آپکی ولادت 983ھ میں ہوئی۔

سیرت و خصائص:
آپ صائم الدھر ، شب بیدار ، انتہائی راست گفتار ، متواضع ، منکر المزاج ، سخی ، صاحب قلب سلیم ، مخلوق خدا پر شفقت کرنے والے، ہر وارد و صادر پر رحمد لی کرنے والے تھے ہرایک مرید پر توجہ باطنی فرما کر اس کو محبت الٰہی سے سرشار فرمادیتے ۔ وہ مریدین جو آپ سے دور دور ممالک میں سکونت پذیر تھے ان پر بھی آپ کی توجہات باطنی مرکوز رہتی ۔ آپ تارک ماسوا اللہ ، قرآن مجید کے بحر ذخار ، حقیقت و معرفت کے رموز و اسرار کے واقف تھے۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں۔ " کا کا صاحب علم ایقین ، حق ایقین او رعین ایقین کا کامل و مکمل علم رکھتے تھے اور ان سے اور ان کے مقامات بہت عظیم اور وافر واقفیت کے مالک تھے ۔ صاحب علم لدنی تھے۔ آپ کی نظر کیمیا اثر تھی، آپ مستجاب الدعوات تھے ۔ انتہائی یک سو، گوشہ نشین اور کم گو تھے۔"

بیعت و خلافت:
آپ کے فرزند جناب میاں عبدالحلیم فرماتے ہیں: آپ اپنے والد شیخ بہادر سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبر مبارک سے حاصل ہوئے ۔ آپ نے اتنی کثرت کے ساتھ کرامات کا صدور ہوا کہ ان کے جمع کے لئے پورا ایک دفتر چاہیے ۔ اس وقت آپ کی قبر مبارک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آآ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ میاں عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں۔ آپ کی وفات سے بعد بہت لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں ، بعض کو تو خواب میں بھی آپ نے فیضیاب کیا ہے اور آپ کے مزار شریف پر بہتوں کو فیض حاصل ہوا ہے ۔

اولاد:
آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل ، محمد گل، خلیل گل ، عبدالحلیم ، نجم الدین ۔ آپ کی اولاد میں علما ء ، فضلاء اور صاحبان دولت وحکومت ہیں، عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں آپ کی اولاد کو بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

خلفاء:
آپ کے بہت خلفاء ہیں ان میں یہ خلفاء بہت مشہور ہیں جو صاحبان علم وفقر اور صاحب کرامات تھے۔ غازی خان ، عزیز شیخ ، عبدالرحیم مشہور ، شیخ رحیم خٹک ، علی گل و ملی گل (یہ دونوں آپ کے خاص خادم بھی تھے ، ان دونوں کی قبریں بھی آپ کے روضہ میں ہیں) ۔ فقیر صاحب شگی ، شیخ میرزا گل یہ ولی کامل تھے۔ شیخ بابر، دریاخاں چمکنی ، شیخ فتح گل، شیخ اوین ، شیخ کمال، شیخ حیات ، پیرمیاں حاجی ، حسن بیگ ، آخوند ہلال آخوند اسماعیل ۔ یہ قلندر تھے ۔

وصال:
وفات سے ایک سال پہلے سے علیل رہتے تھے ۔ مگر باوجود علیل رہنے کے آپ نے نماز قضا نہیں کی ۔ اکثر اوقات قیام کی طاقت نہ رکھتے تو دو آدمی آپ کے بازوپکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے ۔ پھر آپ نماز کی تکمیل کر دیتے ۔ اپنے معمولات کو آخری وقت تک پورا کیا۔ 24رجب 1063ھ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا ۔ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔آپ کی عمر اسی برس تھی۔آپکا مزار نوشہرہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-rehamkar-kaka
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فاتح عیسائیت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ ہاشمی، ساہیوال

پیکرِ عشقِ رسالت حضرت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ صاحب ہاشمی بن حضرت مولانا چراغ علی شاہ ۲۴؍ رجب المرجب ۱۳۳۹ھ / ۱۵؍ دسمبر ۱۹۳۰ء میں موضع چوہان ضلع فیروز وپور (انڈیا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نسباً ہاشمی ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب چالیس واسطوں سے سیّد امام مسلم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا چراغ علی شاہ مستند عالم ہونے کے علاوہ طبیب بھی ہیں۔ علم الانسان میں کافی دسترس حاصل ہے۔ ’’بدر قریش‘‘ آپ کی مشہور تالیف ہے۔ جلال آبادی کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب رہ چکے ہیں۔

آپ نے فارسی اور صرف کی کتب (مکمّل) اپنے والد ماجد سے ہندوستان میں ہی پڑھیں اور پھر جلال آباد غربی فیروز آباد کے مدرسہ امداد العلوم میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان کی طرف ہجرت کر کے ضلع ساہیوال کے موضع ڈھپئی میں سکونت اختیار کی، تو موضع ٹوانہ میں مولانا ابو لسیر مولانا محمد اسماعیل فاضل بصیر پوری علیہ الرحمہ سے کنز الد قائق، قدوری اور کافیہ وغیرہ کتب پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف کا درس پاکپتن شریف کے مولانا الحاج محمد شریف تقشبندی سے لیا اور پھر اہل سنّت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ دو تین سال تک فقیہہ اعظم ابو الخیر مولانامفتی محمد نور اللہ نعیمی سے شرف تلمذ حاصل کرتے رہے اور بالآخر اسی دار العلوم سے ۱۹۵۲ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے درسِ نظامی کے نصاب کی تکمیل کے علاوہ میڑک، فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کیے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور سے درجہ تخصص (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ علماء اکیڈمی کوئٹہ و پشاور کے بھی فاضل ہیں۔

۱۹۵۲ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تحصیل کے بعد ساہیوال کے محلّہ حیدری سے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کے فرائض، بے شمار رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے۔ کچھ عرصہ مسجد قصاباں بیرونِ غلّہ منڈی میں خطابت فرمائی اور پھر سنہری مسجد گول چکر میں تشریف لائے جہاں اب تک تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں آپ نے ایک دینی ادارہ کی بنیاد ڈالی جو پہلے دار العلوم عربیہ اور پھر جامعہ حنفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بارہ سال اسی دارالعلوم میں مہتمم اور مدّرس کے طور پر کام کرنے کے بعد آپ نے ۱۹۶۳ء میں ایک نیا دارالعلوم جامعہ فریدیہ کے نام سے قائم کیا، جو آپ کی نگرانی میں اپنی عمر کی تیرہ منزلیں طے کر چکا ہے۔

تحریکِ پاکستان کے وقت آپ کا دور طالب علمی تھا۔ آپ نے طلبہ کے وفود کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قصبات و دیہات میں عوام کو تحریک کے مقاصد اور اہمیّت سے روشناس کرایا۔

پاکستان بننے کے بعد مرزائیت کے ناسور کو ختم کرنے کی خاطر مسلمانانِ پاکستان نے دومرتبہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء) تحریک چلائی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دیا۔ ان دونوں تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔

۱۹۵۳ء کی تحریک میں آپ نے ساہیوال میں دورے کیے اور مرزائیوں کے عقائد سے عوام کو روشناس کرایا۔ ’’مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت‘‘ نامی رسالہ دس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ مختلف باطل فرقوں کے مبلّغین بالخصوص مشہور عیسائی پادریوں سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے اور انہی مناظروں میں اسلام کی حقّانیت کا اقرار کرتے ہوئے ایک ہزار عیسائی مسلمان ہوئے (وللہ الحمد)

حضرت مولانا سیّد منظور احمد نے میدانِ تحریر میں کافی کام کیا ہے۔ آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حضور الحرمین، ۲۔ آئینہ حق، ۳۔ مقالۂ علمیّہ، ۴۔ لاتثلیت فی التوحید، ۵۔ مسیح کون ہے، ۶۔ بہائی اصول، ۷۔ اسلام اور ماہِ صیام، ۸۔ اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ، ۹۔ اسلام اور حفظانِ صحّت، ۱۰۔ اسلام اور سوشلزم، ۱۱۔ اسلام اور عید قربان، ۱۲۔ فلسفۂ زکوٰۃ، ۱۳۔ فلسفۂ جہاد، ۱۴۔ علِم القرآن، ۱۵۔ جنگِ مصر، ۱۶۔ مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت، ۱۷۔ فیوضاتِ فریدی(زیرِ طبع)[۱]

[۱۔ فیوضات فریدی حضرت شاہ صاحب کے مختلف دینی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جنکو منظور حسین قاسم رضوی ایم اے مرتب کررہے ہیں۔]

الفریدی کے نام سے آپ کی سرپرستی میں ایک ماہوار تبلیغی رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔ آپ نے ۱۹۵۴ء میں شیخ الاولیاء حضرت میاں علی محمد رحمۃ اللہ علیہ آف بسّی شریف سے بیعت اختیار کی۔

تائیدِ خداوندی سے آپ ۱۹۷۶ء تک گیارہ مرتبہ حجِ بیت اللہ شریف ارو زیارت روضۂ انور سے مشرّف ہوچکے ہیں۔ (ایں سعادت بزدر بازونیست)

آپ کو پاکیزہ صاف ستھری شاعری سے بھی شغف ہے، چنانچہ آپ نے عشق رسالت میں ڈوبی ہوئی چند نعمتیں تحریر کیں۔
1👍1
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
❶ مولانا اصغر علی مدّرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❷ مولانا نعمت علی ناظم مکتبہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❸ مولانا محمد یوسف خطیب مسجد مائی والی و مدرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❹ مولانا ظفر اقبال فریدی مدرسن جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❺ مولانا ابو الفتح شبیر احمد ہاشمی خطیب بوریوالہ، وہاڑی۔

آپ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں [۲]

[۲۔ یہ تمام حالات منظور حسین شاہ قاسم رضوی نائب ناظم اشاعت ’’الفرید‘‘ نے مرتب کے نام ارسال فرمائے۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-shah-hashmati
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شیخ الاسلام حضرت امام ابو زکریا نووی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: یحیٰ ۔ کنیت: لقب: شیخ الاسلام، قطبِ وقت، محی الدین، حافظ الحدیث ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن جمعہ بن حزام ۔ علیہم الرحمہ۔آپ کا سلسلہ نسب صحابیِ رسول ﷺ حضرت حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت محرم الحرام کے آخری عشرے 631ھ، مطابق 1234ء کو دمشق ، شام کے ایک علاقے " حوران " کی ایک نواحی بستی " نویٰ " میں ہوئی ۔ اسی علاقے کی نسبت سے " نووی " کہلاتے ہیں ۔

تحصیل علم:
امام نووی 649ھ میں" مدرسہ رواحیہ" میں داخل ہوئے اور باقاعدہ تحصیل علم کا آغاز فرمایا دوسال بعد اپنے والد کے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے مدینہ منورہ میں ڈیڑھ ماہ قیام کیا اس سفر میں حرمین شریفین بیت اللہ کے فضلاء سے استفادہ کرتے رہے واپسی کے بعد پورے انہماک کے ساتھ کسب علم میں مصروف ہوگئے آپ نے خداداد قوت حفظ و ضبط اور فہم و فراست کے ساتھ تحصیل علم کے میدان میں قدم رکھا تھا اور بڑی تحقیق و تفتیش اورع ذوق و شوق کے ساتھ علوم و فنون متداولہ کی تحصیل کی۔آپ فرماتےہیں:"کنت اعلق جمیع ما یتعلق بھا من شرح مشکل ووضوح عبارۃ وضبط لغۃ وبارک اللہ تعالیٰ فی وقتی" پڑھتے وقت مشکل الفاظ کی تشریح پیچیدہ عبارت کی توضیح اور ضبط لغت کے ساتھ تعلق رکھنے والی تمام ضروری باتیں نوٹ کرلیا کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے میرے اوقات میں برکت دی تھی۔

اسی طرح آپ نے حدیث، رجال، فقہ، اصول فقہ، عقائد و کلام، معقولات، عربیت ولغت کی باکمال اساتذہ فن سے تحصیل کی آپ کے نام آورشیوخ و اساتذہ کے نام یہ ہیں:امام رضی بن برہان، عبدالعزیز بن محمد انصاری، زین الدین بن عبدالدائم، عماد الدین بن عبدالکریم بن حرستانی، زین الدین خالد بن یوسف، تقی الدین بن ابی الیسر، جمال الدین مصری، شمس الدین بن ابی عمر، زین خالد، ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ مرادی وغیرہ۔ علیہم الرحمہ۔

بیعت و خلافت:
شیخ المشائخ حضرت شیخ یٰسین بن یوسف زرکشی علیہ الرحمہ سے علم التصوف کی تعلیم حاصل کی،اور انہیں سے بیعت ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیہ و مشائخ سے بڑی عقیدت رکھتے ،اور ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے تھے ۔مخالفین تصوف پر برہمی کا اظہار کرتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، محی الدین، قطب ِوقت، استاذالعلماء والمحدثین، امام الفقہاء والمتکلمین، رئیس الاولیاء والمتقین، حافظ الحدیث، مجتہد الشافعیہ، محسنِ ملت اسلامیہ، محی الدین شیخ الاسلام حضرت ابو زکریا یحیٰ بن شرف نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ کا ملت اسلامیہ میں ایک بہت بڑا مقام ہے ۔ تمام طبقات آپ کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ آپ شافعیوں کے ایک بہت بڑے فقیہ ہیں، اسی طرح علم الحدیث میں آپ کو امام تسلیم کیا جاتا ہے ۔ آپ کے اقوال کو بطورِ دلیل و حجت پیش کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تذکرہ نگاروں اور علماء اسلام نے آپ کو عمدہ الفاظ کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

حافظ ذہبی:
"الامام الحافظ الاوحد القدوۃ شیخ الاسلام الاولیاء صاحب التصانیف” شیخ الاسلام امام نووی بے نظیر،پیشوا جلیل القدر حافظ حدیث اور سرتاج اولیاء ہیں اور بہت سی مفید کتابوں کے مصنف ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۴، ص۲۵۰)

شیخ ابن فرح:
"نوبۃ الشیخ محی الدین قدصار الی ثلاث مراتب کل مرتبۃ لو کانت لشخص لشدت الیہ الرحال العلم والزھد والامر بالمعروف والنھی عن المنکر" شیخ محی الدین میں ایسی تین خوبیاں بدرجۂ کمال پائی جاتی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی کسی شخص میں پائی جاتی تو اس کی طرف عقیدت مندوں مستفیدین کے تانتے بندھ جائیں اور وہ ہیں علم، زہد اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر۔ (ایضاً)

امام یافعی:
"الامام شیخ الاسلام المحقق المداقق النجیب البحر المفید" گونا گوں فضائل و محاسن کے جامع، علوم میں مبتحر، حدیث، فقہ اور لغت میں وسیع المعرفت، عالم و فاضل یگانہ، ولی کبیر، سید شہیر، تمام معاصرین سے فائق و برتر ہر سوان کے محاسن کا چرچا اور فضائل کی شہرت ہے۔ (البدایہ و النہایہ، ج۳، ص۲۷۸)

مہارت فی الحدیث:
امام نووی حدیث اور متعلقات حدیث سے خاص شغف رکھتے تھے ان کا شمار ممتاز محدثین اور نامور شارحین حدیث میں ہوتا ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی رقمطراز ہیں: "کان حافظا للحدیث وفنونہ ورجالہ وصحیحہ علیلہ رأسا فی معرفۃ المذھب" آپ نامور حافظ حدیث اس کے جملہ فنون کے عالم،فن رجال کے ماہر صحیح اور ضعیف کو خوب جانتے تھے تحقیق مذاہب میں آپ کا جواب نہ تھا۔ (تذکرہ، ج۴، ص ۲۵۲)حدیث میں کمال کی بنا پر آپ کو دارالحدیث دمشق میں حافظ ابو شامہ جیسے عظیم محدث کا جانشین مقرر کیا گیا اور ان کی وفات کے بعد دارالحدیث دمشق کی تولیت و صدارت کے منصب پر فائز کیا گیا اس ذمہ داری کو وہ عمر بھر انجام دیتے رہے۔ (مرأۃ الجنان، ج۴، ص۱۸۴)
1👍1
مہارت فی الفقہ:
حدیث ہی کی طرح وہ فقہ میں بھی بڑی شان کے مالک تھے وہ فقہ وافتاء میں گہری نظر رکھتے ابن کثیر نے لکھا ہے وہ اپنے زمانہ کے اکابر فقہاء اور شوافع کے شیوخ میں تھے۔ امام یافعی لکھتے ہیں: وہ فقہ کی معرفت میں ممتاز و معتمد اور لائق اعتبار مفتی تھے۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں :امام شافعی کے مذہب کی انہوں نے گوناگوں خدمات انجام دیں ہیں اس کے تجسس و تفحص ضبط و تنقیح، تحریر و تدریس، ترتیب و تہذیب میں ان کا بڑا حصہ رہا ہے اور اس مذہب کے چوٹی کے علماء میں تھے۔امام رافعی کے بعد اس مذہب میں ان سے زیادہ صاحب کمال اور ممتاز شخص کوئی نہیں گذرا۔ (تذکرۃ المحدثین، ج۲)آپ حدیث و فقہ کے ساتھ قرآن و تفسیر و قرأت، عربیت، نحوو صرف، منطق و فلسفہ میں بھی مہارت رکھتے تھے وہ حافظ قرآن تھے تلاوت آپ کا بہترین مشغلہ تھا وہ جامع کمالات اور متعدد علوم و فنون پر دست گاہ رکھتے تھے۔

تدریس:
امام نووی نے اپنی زندگی تحصیل علم اور اشاعت علم کے لیے وقف کردی تھی عمر عزیز کاایک لمحہ بھی رائیگاں نہ کرتے وہ شب وروز علم کی تحصیل اور درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور اشاعت علم میں مشغول رہتے۔ راستہ چلتے وقت بھی پڑھتےرہتے۔آپ نے پوری زندگی حصول علم اور اس کی اشاعت میں صرف کردی آپ کی ذات طلبہ اور علماء کا مرجع بنی ہوئی تھی۔ متعدد مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیئے اور بقول حافظ ذہبی آپ کی شب و روز کی کوششوں اور سعی جمیل کا نتیجہ یہ ہوا “تخرج بہ جماعۃ من العلماء” کہ آپ کے حلقۂ درس سے نادرۂ روزار علماء اور فضلاء محدثین نے سند فراغت حاصل کی۔

امام نووی مکارم اخلاق کے پیکر تھے پوری زندگی اشاعت علم اور عمل صالح کے لیے وقف کردی تھی معاشرت بڑی سادہ غازۂ تکلف سے عاری تھی۔ روکھا سوکھا کھاتے موٹا جھوٹا پہنتے دنیاوی لذتوں سے بے نیاز رہتے۔ بہت سادہ انتہائی متقیانہ زندگی بسر کرتے تھے آپ نے لذائذ و تمتعات دنیا سے بہت کم فائدہ اٹھایا۔ (تذکرہ، ج۴، ص۲۵۴)

آپ نہایت متدین عابد و زاہد شخص تھے ۔برابر عبادت ذکر الہی، اوراد و وظائف میں مشغول رہتے تھے مجاہدہ و تزکیۂ نفس مراقبہ و تصفیہ باطن، تقوی و طہارت اور معمولی جزوی باتوں میں احتیا کو اپنی ذات پر لازم کرلیا تھا اپنی خواہشات نفس کو یکسر پامال کردیا تھا۔ امام یافعی فرماتے ہیں وہ عابدو زاہد، متورع باعمل شب بیدار حامی دین اور ناصر سنت تھے عبادت و طاعت تلاوت قرآن تصنیف و تالیف میں ان کا تمام وقت بسر ہوتا۔ دنیا اور اس کے تعیشات سے بالکل دست کش رہتے اور تمام تر توجہ دین بنانے اور سنوارنے پر مرکوز رکھتے تھے۔ زہد و قناعت، اتباع سنت، اقتدائے سلف، نیکی و صلاح اور خیر خیرات کے کاموں میں لگے رہنا ان کی زہد و عبادت، حزم و احتیاط اور لوگوں سے حذرو اجتناب پر قابو نہیں ہوسکتا خود فرمایا کرتے ہیں جسم کی ترو تازگی اور نیند کی زیادتی کے ڈر سے پھل، ترکاری، سبزی اور عمدہ کھانے سے پرہیز کرتا ہوں وہ ہدیے اور فتوح کے قبول کرنے میں بھی حد درجہ محتاط واقع ہوئے تھے غیر متعلق افراد سے تو کچھ بھی قبول نہ کرتے ہاں ایسے لوگ جن سے وہ ذاتی طور پرواقفیت رکھتے اور ان کے کسب حلال کا یقین ہوتا ان سے قبول تحائف میں زیادہ اجتناب نہ کرتے ۔ تکلیفوں پر صبر و تحمل ان کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی وہ اپنے معمولات پر بڑی سختی سے کاربند رہتے ان میں عمر بھر فرق آنے نہ دیا۔ سیرت و کردار کے لحاظ سے ان کا پایہ بہت بلند تھا امام یافعی فرماتے ہیں :کہ بخداوہ بہترین اوصاف و خصائص اور پاکیزہ سیرت و اخلاق سے متصف اور محاسن و کمالات میں عدیم النظیر تھے۔ (مرأۃ الجنان، ج۴، ص۱۸۲)

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 45 سال کی عمر میں 24 / رجب المرجب 676ھ، مطابق 22 / دسمبر 1277ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف " نویٰ " شام میں مرجعِ خلائق ہے ۔ ابھی 2017ء میں " خوارجی کتوں " نے اس محسنِ عظیم کا مزار شریف شہید کر دیا ہے ۔

ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیہ ۔ محدثین عظام حیات وخدمات ۔ عربی وکیپیڈیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-nawwi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-07-1444 ᴴ | 16-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1