🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-07-1444 ᴴ | 15-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
اسلام میں عورت کا مقام 📚 خواتین
عورتوں کے مسائل | خواتین کے احکام
تقاریر | نکاح شادی بیاہ | طہارت پردہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فرمائش سے پہلے سرچ ضرور کریں!
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/6828
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جنتی زیور ⁵ سنی بہشتی زیور ¹¹
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12456

اسلامی پردہ 📚⁸ عورت اور پردہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12457

نکاح شادی بیاہ سے متعلق 📚⁴²
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12458

حیض و نفاس 📚¹⁸ Haiz O Nifas
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12459

مذہب اسلام اور عورت ❶ 📚⁰¹-³⁴
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12460

مذہب اسلام اور عورت ❷ 📚³⁵-⁷⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12461

عورتوں کے لئے تقریر کی کتابیں ¹²
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12462

والدین ماں باپ | زوجین میاں بیوی
شوہر اولاد | خواتین عورت بہن پردہ
نکاح طلاق | حق حقوق | ہندی📚
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/9834
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
islam Aurat Khawateen Parda
Taharat Nikah Talaq Taqreer
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12463
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@islaamic_Knowledge
@Aalaa_Hazrat_Library
@Maslake_Aalaa_Hazrat
@AhleSunnat_HindiBooks
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📞 +917860520899
Contact on WhatsApp ↷
https://wa.me/+917860520899
Contact on Telegram ↷
https://t.me/Muhammad_Jamaluddin_Khan
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
شیخ المشائخ شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کی اسم گرامی رحمکار ۔ آپ کا لقب: کاکا صاحب ۔ (کاکا پشتو زبان میں بزرگ کو کہتے ہیں) والد کا اسم گرامی: شیخ بہادر المعروف ابک بابا ، دادا کا نام مست بابا (انکا مزار شیخ رحمکارکے مزار سے سات میل دور ہے ۔آپ کی زیارت مرجع خلائق ہے) اور پر دادا کا نام غالب بابا (انکا مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گذار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں) تھا۔ آپ تمام صوبہ سرحد اور اکناف و اطراف میں کاکا صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا لقب ’’ شیخ المشائخ‘‘ تھا۔

ولادت:
آپکی ولادت 983ھ میں ہوئی۔

سیرت و خصائص:
آپ صائم الدھر ، شب بیدار ، انتہائی راست گفتار ، متواضع ، منکر المزاج ، سخی ، صاحب قلب سلیم ، مخلوق خدا پر شفقت کرنے والے، ہر وارد و صادر پر رحمد لی کرنے والے تھے ہرایک مرید پر توجہ باطنی فرما کر اس کو محبت الٰہی سے سرشار فرمادیتے ۔ وہ مریدین جو آپ سے دور دور ممالک میں سکونت پذیر تھے ان پر بھی آپ کی توجہات باطنی مرکوز رہتی ۔ آپ تارک ماسوا اللہ ، قرآن مجید کے بحر ذخار ، حقیقت و معرفت کے رموز و اسرار کے واقف تھے۔ صاحب مقامات قطبیہ و مقالات قدسیہ آپ کی تعریف میں لکھتے ہیں۔ " کا کا صاحب علم ایقین ، حق ایقین او رعین ایقین کا کامل و مکمل علم رکھتے تھے اور ان سے اور ان کے مقامات بہت عظیم اور وافر واقفیت کے مالک تھے ۔ صاحب علم لدنی تھے۔ آپ کی نظر کیمیا اثر تھی، آپ مستجاب الدعوات تھے ۔ انتہائی یک سو، گوشہ نشین اور کم گو تھے۔"

بیعت و خلافت:
آپ کے فرزند جناب میاں عبدالحلیم فرماتے ہیں: آپ اپنے والد شیخ بہادر سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبر مبارک سے حاصل ہوئے ۔ آپ نے اتنی کثرت کے ساتھ کرامات کا صدور ہوا کہ ان کے جمع کے لئے پورا ایک دفتر چاہیے ۔ اس وقت آپ کی قبر مبارک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آآ کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ میاں عبدالحلیم صاحب لکھتے ہیں۔ آپ کی وفات سے بعد بہت لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں ، بعض کو تو خواب میں بھی آپ نے فیضیاب کیا ہے اور آپ کے مزار شریف پر بہتوں کو فیض حاصل ہوا ہے ۔

اولاد:
آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل ، محمد گل، خلیل گل ، عبدالحلیم ، نجم الدین ۔ آپ کی اولاد میں علما ء ، فضلاء اور صاحبان دولت وحکومت ہیں، عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں آپ کی اولاد کو بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

خلفاء:
آپ کے بہت خلفاء ہیں ان میں یہ خلفاء بہت مشہور ہیں جو صاحبان علم وفقر اور صاحب کرامات تھے۔ غازی خان ، عزیز شیخ ، عبدالرحیم مشہور ، شیخ رحیم خٹک ، علی گل و ملی گل (یہ دونوں آپ کے خاص خادم بھی تھے ، ان دونوں کی قبریں بھی آپ کے روضہ میں ہیں) ۔ فقیر صاحب شگی ، شیخ میرزا گل یہ ولی کامل تھے۔ شیخ بابر، دریاخاں چمکنی ، شیخ فتح گل، شیخ اوین ، شیخ کمال، شیخ حیات ، پیرمیاں حاجی ، حسن بیگ ، آخوند ہلال آخوند اسماعیل ۔ یہ قلندر تھے ۔

وصال:
وفات سے ایک سال پہلے سے علیل رہتے تھے ۔ مگر باوجود علیل رہنے کے آپ نے نماز قضا نہیں کی ۔ اکثر اوقات قیام کی طاقت نہ رکھتے تو دو آدمی آپ کے بازوپکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے ۔ پھر آپ نماز کی تکمیل کر دیتے ۔ اپنے معمولات کو آخری وقت تک پورا کیا۔ 24رجب 1063ھ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا ۔ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔آپ کی عمر اسی برس تھی۔آپکا مزار نوشہرہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-rehamkar-kaka
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فاتح عیسائیت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ ہاشمی، ساہیوال

پیکرِ عشقِ رسالت حضرت مولانا ابو النصر منظور احمد شاہ صاحب ہاشمی بن حضرت مولانا چراغ علی شاہ ۲۴؍ رجب المرجب ۱۳۳۹ھ / ۱۵؍ دسمبر ۱۹۳۰ء میں موضع چوہان ضلع فیروز وپور (انڈیا) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نسباً ہاشمی ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب چالیس واسطوں سے سیّد امام مسلم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا چراغ علی شاہ مستند عالم ہونے کے علاوہ طبیب بھی ہیں۔ علم الانسان میں کافی دسترس حاصل ہے۔ ’’بدر قریش‘‘ آپ کی مشہور تالیف ہے۔ جلال آبادی کی مرکزی جامع مسجد میں خطیب رہ چکے ہیں۔

آپ نے فارسی اور صرف کی کتب (مکمّل) اپنے والد ماجد سے ہندوستان میں ہی پڑھیں اور پھر جلال آباد غربی فیروز آباد کے مدرسہ امداد العلوم میں پڑھتے رہے۔ تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان کی طرف ہجرت کر کے ضلع ساہیوال کے موضع ڈھپئی میں سکونت اختیار کی، تو موضع ٹوانہ میں مولانا ابو لسیر مولانا محمد اسماعیل فاضل بصیر پوری علیہ الرحمہ سے کنز الد قائق، قدوری اور کافیہ وغیرہ کتب پڑھیں۔ مشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف کا درس پاکپتن شریف کے مولانا الحاج محمد شریف تقشبندی سے لیا اور پھر اہل سنّت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ دو تین سال تک فقیہہ اعظم ابو الخیر مولانامفتی محمد نور اللہ نعیمی سے شرف تلمذ حاصل کرتے رہے اور بالآخر اسی دار العلوم سے ۱۹۵۲ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے درسِ نظامی کے نصاب کی تکمیل کے علاوہ میڑک، فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کیے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور سے درجہ تخصص (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں آپ علماء اکیڈمی کوئٹہ و پشاور کے بھی فاضل ہیں۔

۱۹۵۲ء میں آپ نے درسِ نظامی کی تحصیل کے بعد ساہیوال کے محلّہ حیدری سے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاحِ معاشرہ کے فرائض، بے شمار رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے۔ کچھ عرصہ مسجد قصاباں بیرونِ غلّہ منڈی میں خطابت فرمائی اور پھر سنہری مسجد گول چکر میں تشریف لائے جہاں اب تک تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں آپ نے ایک دینی ادارہ کی بنیاد ڈالی جو پہلے دار العلوم عربیہ اور پھر جامعہ حنفیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بارہ سال اسی دارالعلوم میں مہتمم اور مدّرس کے طور پر کام کرنے کے بعد آپ نے ۱۹۶۳ء میں ایک نیا دارالعلوم جامعہ فریدیہ کے نام سے قائم کیا، جو آپ کی نگرانی میں اپنی عمر کی تیرہ منزلیں طے کر چکا ہے۔

تحریکِ پاکستان کے وقت آپ کا دور طالب علمی تھا۔ آپ نے طلبہ کے وفود کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قصبات و دیہات میں عوام کو تحریک کے مقاصد اور اہمیّت سے روشناس کرایا۔

پاکستان بننے کے بعد مرزائیت کے ناسور کو ختم کرنے کی خاطر مسلمانانِ پاکستان نے دومرتبہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء) تحریک چلائی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دیا۔ ان دونوں تحریکوں میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔

۱۹۵۳ء کی تحریک میں آپ نے ساہیوال میں دورے کیے اور مرزائیوں کے عقائد سے عوام کو روشناس کرایا۔ ’’مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت‘‘ نامی رسالہ دس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیا۔ مختلف باطل فرقوں کے مبلّغین بالخصوص مشہور عیسائی پادریوں سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے اور انہی مناظروں میں اسلام کی حقّانیت کا اقرار کرتے ہوئے ایک ہزار عیسائی مسلمان ہوئے (وللہ الحمد)

حضرت مولانا سیّد منظور احمد نے میدانِ تحریر میں کافی کام کیا ہے۔ آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حضور الحرمین، ۲۔ آئینہ حق، ۳۔ مقالۂ علمیّہ، ۴۔ لاتثلیت فی التوحید، ۵۔ مسیح کون ہے، ۶۔ بہائی اصول، ۷۔ اسلام اور ماہِ صیام، ۸۔ اسلام اور انفاق فی سبیل اللہ، ۹۔ اسلام اور حفظانِ صحّت، ۱۰۔ اسلام اور سوشلزم، ۱۱۔ اسلام اور عید قربان، ۱۲۔ فلسفۂ زکوٰۃ، ۱۳۔ فلسفۂ جہاد، ۱۴۔ علِم القرآن، ۱۵۔ جنگِ مصر، ۱۶۔ مرزائیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت، ۱۷۔ فیوضاتِ فریدی(زیرِ طبع)[۱]

[۱۔ فیوضات فریدی حضرت شاہ صاحب کے مختلف دینی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جنکو منظور حسین قاسم رضوی ایم اے مرتب کررہے ہیں۔]

الفریدی کے نام سے آپ کی سرپرستی میں ایک ماہوار تبلیغی رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔ آپ نے ۱۹۵۴ء میں شیخ الاولیاء حضرت میاں علی محمد رحمۃ اللہ علیہ آف بسّی شریف سے بیعت اختیار کی۔

تائیدِ خداوندی سے آپ ۱۹۷۶ء تک گیارہ مرتبہ حجِ بیت اللہ شریف ارو زیارت روضۂ انور سے مشرّف ہوچکے ہیں۔ (ایں سعادت بزدر بازونیست)

آپ کو پاکیزہ صاف ستھری شاعری سے بھی شغف ہے، چنانچہ آپ نے عشق رسالت میں ڈوبی ہوئی چند نعمتیں تحریر کیں۔
1👍1
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
❶ مولانا اصغر علی مدّرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❷ مولانا نعمت علی ناظم مکتبہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❸ مولانا محمد یوسف خطیب مسجد مائی والی و مدرس جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❹ مولانا ظفر اقبال فریدی مدرسن جامعہ فریدیہ ساہیوال ۔ ❺ مولانا ابو الفتح شبیر احمد ہاشمی خطیب بوریوالہ، وہاڑی۔

آپ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں [۲]

[۲۔ یہ تمام حالات منظور حسین شاہ قاسم رضوی نائب ناظم اشاعت ’’الفرید‘‘ نے مرتب کے نام ارسال فرمائے۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-manzoor-ahmad-shah-hashmati
1👍1