🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-07-1444 ᴴ | 13-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-07-1444 ᴴ | 13-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام الفقہاء والمحدثین حضرت علامہ سید محمد دیدار علی شاہ الوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
کنیت: ابو محمد ۔ اسمِ گرامی: سید دیدار علی شاہ بن سید نجف علی شاہ ۔

آپ کے پر دادا سید خلیل شاہ علیہ الرحمہ " مشہد مقدس " سے ہندوستان تشریف لائے اور " ریاست الور " میں قیام پذیر ہوئے ۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
امام المحدثین سید محمد دیدار علی شاہ ۔ 1273ھ / 1856ء بروز پیر محلہ نواب پورہ ، الور میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
قرآنِ پاک آپ نے اپنے عمِ محترم ولیِ کامل مولانا سید نثار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ سے پڑھا ۔ ابتدئی درسیات کی کتب مولانا قمرالدین اورمولانا شاہ کرامت علی سے پڑھیں، فقہ و منطق کی تحصیل مولانا ارشاد حسین رام پوری سے کی ،اور دورہ ٔحدیث کی تکمیل مولانا احمد علی محدث سہارنپوری اور حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی سے حاصل کی ، حضرت شیخ الاسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی اور مولانا وصی احمد محدث سورتی آپ کے ہم درس تھے۔(علیہم الرحمہ)

بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو اور آپ کے قابلِ صد افتخار فرزند مفتیِ اعظم پاکستان مولانا سید ابو البرکات کو اجازت و خلافت عطا فرماتے ہوئے تمام اوراد و وظائف اور تمام کتب فقہ حنفی کی روایت کی اجازت عطاء فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
امام الفقہاء والمحدثین، رئیس العلماء والمتکلمین، جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ ، زبدۃ المشائخ، آفتاب ِشریعت ماہتابِ رضویت، ابومحمد سید محمد دیدار علی شاہ علیہ الرحمۃ والرضوان ۔

حضرت کی ذات ستودہ صفات محتاجِ تعارف نہیں ہے، بے باکی اور حق گوئی آپ کی طبیعت ثانیہ تھی ۔ مخالفین و حاسدین کے غوغے آپ کے پائے ثبات کو جنبش نہ دے سکے، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مرعوب نہ کر سکی ۔ علم وفضل کے گویا سمندر تھے ۔سورۂ ِفاتحہ کا درس شروع کیاتو ایک سال تک صرف سورۂ ِ فاتحہ کا درس جاری رہا۔اس درس کی خصوصیت یہ تھی کہ سننے والے پابندِ شریعت ہوگئے، سینکڑوں نے گناہوں سے توبہ کر لی ۔ اسی درسِ قرآن کی برکت سے بہت سے ہندو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔آپکا وعظ عوام و خواص میں مقبول وپر اثرہو تا تھا۔

آپ کے خلوص، ایثار، زہد و تقویٰ سادگی اور اخلاقِ عالیہ کا زمانہ معترف تھا۔دینی طلباء پر شفقت فرماتے ۔ علماء کی عزت وتکریم آپ کا شیوہ تھا ۔ اپنی ضروریات کی اشیاء بازار سے خود خرید لاتے، جہاں خلافِ شریعت بات دیکھتے تو نرمی وشفقت سے سمجھاتے ۔ شہر کے تاجروں کو مسائلِ تجارت سے آگاہ فرماتے۔

مسلک اہلِ سنت وجماعت کی بقاء اور ترویج کیلئے مساجد ومدارس کے قیام پر خصوصی توجہ دی، اور خود ساری زندگی درس وتدریس تصنیف وتالیف اور فتویٰ نویسی سے وابستہ رہے۔آج پاکستان کے ہر شہر وقصبہ میں حزب الاحناف کے فضلاء مسلکِ رضا (جوکہ درحقیقت عین اسلام ہے) کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔

ملکِ عزیز پاکستان کے لئے آپکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔ اس وقت دو قومی نظریئے کی حمایت میں جامع فتویٰ آپ نے ہی دیا تھا ،اس کی لاکھوں کاپیاں ہندوستان کے طول وعرض میں تقسیم کی گئیں ۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اسی فتوے سے متأثر ہوکر دو قومی کے نظریئے کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا ۔ آپ کی کوششوں سے احراری و کانگریسی مولوی (جو اِس وقت پاکستان کے مامے بنے ہوئے ہیں) ذلیل وخوار ہوکر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ ؎ لیکن منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے۔

اعلیٰ حضرت مجددِ ملت نے آپ کو اسطرح یاد فرمایا ہے:

مولانا دیدار علی کو
کب دیدار دکھاتے یہ ہیں

وصال:
22 رجب المرجب ، 20 اکتوبر 1354ھ / 1935ء کو اپنے رب کریم کے دربار میں حاضر ہوئے اور جامع مسجد اندرون دہلی دروازہ لاہور میں دفن ہوئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-deedar-ali-shah
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
صحابی ابن صحابی، کاتب وحی حضرت
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
آپ کا نام: معاویہ ، کنیت: ابو عبد الرحمن ہے ۔ آپ کا شجرہ نسب والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پشت میں سرورِ عالم ﷺ مل جاتا ہے ۔

آپ کا قبولِ اسلام:
صحیح قول کے مطابق آپ نے خاص صلح حدیبیہ کے دن 7ھ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مگر مکہ والوں کے خوف سے اپنا اسلام چھپائے رہے، جیسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ ۔ (حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر ، ص: 36) ۔ اسی طرح بعض مؤرخین نے آپکو مؤلفۃ القلوب میں شمار کیا ہے یہ صحیح نہیں ہے ۔ (ایضاً)

مختصر حالات:
حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے ۔ آپ کی والدہ کا نام ہندہ تھا ۔ ظہورِ اسلام سے قبل ابو سفیان کا شمار رؤسائے عرب میں ہوتا تھا ۔ جبکہ ابو سفیان اسلام کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے ۔ فتح مکہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا تو ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ہندہ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں شامل تھے ۔

پھر قبولِ اسلام کے بعد ساری زندگی اسلام کی ترقی کے لئے کوشاں رہے ۔ ہجرت مدینہ سے تقریباً 8 برس قبل مکہ میں آپ کی پیدائش ہوئی ۔ جب اسلام لائے تو زندگی کے پچیسویں برس میں تھے ۔ فتح مکہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے تالیف قلب کے لیے حضرت ابو سفیان رضی الله تعالیٰ عنه کے گھر کو بیت الامن قرار دیا ۔ یعنی جو شخص ان کے گھر چلا جائے وہ مامون ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کاتبِ وحی مقرر کیا ۔ اس کے علاوہ بیرون علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپ کے سپرد تھا ۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے بھائی یزید بن ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کے محاذ پر بھیجا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

عہد فاروقی میں حضرت یزید بن ابو سفیان کی وفات کے بعد آپ کو ان کی جگہ دمشق کا حاکم مقرر کیا گیا ۔ رومیوں کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گئی جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو دمشق ، اردن ، اور فلسطین تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا ۔ والیِ شام کی حیثیت سے آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی بحری بیڑے کی تشکیل اور قبرص کی فتح ہے ۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور آپ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج سے مقابلہ کیا، مصر، کوفہ، مکہ، مدینہ میں باصلاحیت افراد کو عامل و گورنر مقرر کیا ۔ آپ کے دور حکومت جوبیس سال کو محیط ہے ۔ سجستان، رقہ، سوڈان، افریقہ، طرابلس، الجزائر اور سندھ کے بعض علاقے فتح ہوئے ۔ ان کا دور حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانہ میں کوئی علاقہ سلطنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

وصال:
ایک قول کے مطابق آپکا وصال 22 رجب المرجب 60 ھ میں ہوا ۔

وصیت:
آپ نے وصیت فرمائی کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ کے کچھ ناخن شریف ہیں ۔ وہ میری آنکھوں میں رکھ دینا ۔ حضور ﷺ کی قمیص اور تہبند میں مجھے لپیٹ دینا ۔ اور آپ کے بال شریف میرے منہ اور ناک میں رکھ دینا ۔ پھر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کر دینا ۔ (حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر ، ص: 39)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-muawiya
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-07-1444 ᴴ | 13-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-07-1444 ᴴ | 14-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍21