🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
خلیفۂ اعلیٰ حضرت 🌹 ملک العلماء
حضرت علامہ مفتی ظفرالدین قادری
رضوی بہاری رَحۡمَةُ الـلّٰـهِ تَعَالیٰ عَـلَـیۡـه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁴ محرم الحرام ۳۰۳۱؁ھ
یومِ وفات ¹⁹ جمادی الثانی ۲۸۳۱؁ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
شہزادۂ اعلیٰ حضرت🌹 ابو البرکات
محی الدین آل رحمٰن مفتئ اعظم ہند
مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری‌بریلوی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²²ذوالحجۃالحرام ۰۱۳۱؁ھ
یومِ وصال ¹⁴ محرم الحرام ۲۰۴۱؁ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
*مفتی اعظم کا زہد و تقویٰ*
مشاہدات کی بزم سجی ہے…محبوبانِ خدا کا ذکرِ جمیل ہو رہا ہے…سبحان اللہ! تذکرہ مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کا…وہ بھی بزبانِ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمۃ…جو مجالسِ حضور مفتی اعظم کے حاضر باش تھے…جنھوں نے پیکرِ تقویٰ و استقامت کے پاکیزہ شب و روز مشاہدہ کیے…ان کی عظمتوں کی قندیلیں حریمِ قلب میں آویزاں پائیں… ان کی مقبولیت کا جھومر بلندیوں پر نصب دیکھا…آپ بھی چند لمحے مادیت کی گرداب سے نکل کر صحبتِ محبوبانِ الٰہی میں بیٹھیں…بحرالعلوم نے ان محاسن و خوبیوں کا ذکر کیا جو کتاب و سُنّت میں مذکور ہیں…جن سے تعمیرِ شخصیت کا مرحلہ طے ہوتا ہے…اللہ کریم نےحضور مفتی اعظم پر وہ فضل فرمایا کہ خوبیوں کا جامع بنایا…خشیت سے نوازا…انعاماتِ خسروانہ کی بارانِ تطہیر سے سیراب کیا…حضور مفتی اعظم خوب چمکے...اور زمانے کو چمکا دیا…تحفظِ شریعت کا فریضہ انجام دیا…اقتدار ِ باطل کے سامنے سینہ سپر ہوگئے…حکومتیں جُھک گئیں…تخت و تاج سرنگوں ہو گئے... اسلام کی عظمتوں کا پھریرا کشورِ ہند پر لہرانے لگا…آپ بھی ایسے مردِ درویش کے تقویٰ شعار لمحوں کا نظارہ محسوس نگاہوں سے کریں…بحرالعلوم نے کیسی بزم آراستہ کی…جہاں ہر طرف نکہتیں پھیلی ہوئی ہیں…پورا چمن مہک رہا ہے… [غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالیگاؤں]
***
عرسِ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کی ساعتِ دل آویز مبارک
١٣ ستمبر ٣٠١٩ء
حضرت سکینہ اور گھوڑا
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

حضرت زینب کے سر سے چادر اتری ہوئی ہے، بال بکھرے ہوئے ہیں، نظر پتھرائی ہوئی ہے، آنسوؤں کے دو موٹے موٹے قطرے پلکوں پر آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں، حضرت سکینہ بے ہوش پڑی ہیں اور اپنے سرتاج کو دیکھ دیکھ کر روتے جا رہی ہیں۔
امام حسین اپنے بیٹے زین العابدین سے گفتگو میں مصروف تھے اور اپنے پیچھے برپا ہونے والی قیامت کو نہ دیکھ سکے، اب جو دیکھا تو دل پر ہاتھ رکھ لیا۔

امام حسین آگے بڑھے اور بہن کی گری ہوئی چادر کو اٹھایا اور سر ڈھانپ دیا۔ حضرت سکینہ کو گود میں لیا، علی اکبر کے خون سے لتھڑے ہوئے سکینہ کے چہرے کو اپنے عمامے سے صاف کیا، بکھرے ہوئے بالوں کو انگلیوں سے درست کیا پھر فرمایا:
سکینہ ہوش میں آؤ، بابا کی آخری زیارت کر لو پھر ساری عمر بابا کا چہرہ دیکھنے کو ترس جاؤ گی۔ بیٹی سکینہ اٹھو جلدی کرو، آخری ملاقات کر لو، آخری بار بابا کے سینے سے لپٹ لو پھر تو ساری زندگی تمھیں بھی صغری کی طرح رو رو کر اور تڑپ تڑپ کر گزارنی ہے۔ تین دن کی پیاسی بچی تین دن کے پیاسے باپ سے گلے مل رہی ہے۔ امام حسین نے کہا کہ اے بچی! تم تھوڑی دیر بعد یتیم ہو جاؤ گی! سکینہ کہنے لگی بابا آپ نہ جائیں، میرے ابا جان نہ جائیں، آپ چلے گئے تو بابا کس کو کہوں گی!
پھر جب امام حسین گھوڑے پر سوار ہوئے اور گھوڑے کو چلانا چاہا تو وہ ہِل نہیں رہا ہے۔ آپ نے نیچے دیکھا تو سکینہ گھوڑے کے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بیٹی باپ کے دل پر چھریاں نہ چلاؤ، پھر آپ نے گھوڑے سے اتر کر بڑی مشکل سے بچی کو خیمے میں پہنچایا اور میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔

یہ قصہ شہید ابن شہید وغیرہ میں موجود ہے اور بیان کرنے والے جیسے چاہتے ہیں نمک مرچ لگا کر بیان کرتے ہیں۔ یہ ایک من گھڑت قصہ ہے جسے صرف رونے رلانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔ اس میں حضرت زینب کے متعلق جو مذکور ہے کہ "سر سے چادر اتری ہوئی ہے اور ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں" کیا حضور ﷺ کے گھرانے کی ایک شہزادی کے بارے میں ایسا سوچا بھی جا سکتا ہے؟
حضرت سکینہ جو کہ شادی شدہ تھیں، ان کے بارے میں کہنا کہ امام حسین نے گود میں لیا اور وہ گھوڑے کے پاؤں سے لپٹ گئیں، یہ کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اہل بیت نے اس طرح سے بے صبری کا مظاہرہ کیا ہو۔ یہ سب باتیں بالکل جھوٹ ہیں اور کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے۔

کچھ لوگ بجائے اپنی اصلاح کرنے کے، جو ایسے من گھڑت اور گستاخی بھرے واقعات کی حقیقت بیان کرتا ہے، اسی پر گڑ کھا کر چڑھ جاتے ہیں، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ کچھ مقررین نے تو حد کر دی ہے، کہتے ہیں ہمیں دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ ابو جہل کو ہے!
اپنی تقریر میں چار چاند لگانے اور اپنے بازار کو چمکانے کے لیے ایسے قصوں کو خوب رو رو کر بیان کیا جاتا ہے اور لوگوں کی عقیدت اور محبت کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں اہل بیت کی طرف ایسے جھوٹے قصوں کو منسوب کرنے سے بچائے اور ان کی شانوں کے لائق ان کی تعظیم و تکریم کرنے اور ان سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

عبد مصطفی