🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مفتی مالکیہ شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی:
شیخ عابد بن حسین بن ابراہیم بن حسین بن محمد بن عامر تھا ۔ اور آپ محمد عابد کے نام سے مشہور ہوئے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ 17 رجب المرجب 1275 ھ کو اتوار کے دن مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد مفتی مالکیہ شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ظاہری و روحانی تربیت کرنے میں تمام تر جہد سے کام لیا تا آنکہ آپ نے اس فرزند کی کامل تربیت فرما کر انتقال کیا ۔ اس کے مزید علوم کے حصول کے لئے مدرسہ صولتیہ میں ڈاخل ہوکر جلیل القدر علماء سے مختلف فنون پر دسترس حاصل کی ۔

سیرت و خصائص:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ متقی، پرہزگار، جواد وسخی اور وسیع القلب جیسے صفات کے حامل شخص تھے ۔

آپ علیہ الرحمہ حرم شریف میں مدرس رہے اور استاذ العلماء ہوئے ۔ اعلاء کلمۃ الحق میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا اور وقت کے حکمرانوں کے جاہ و جلال سے خوف زدہ نہ ہوئے ۔ سالہا سال جلا وطنی میں بسر کی جہاں اور جس حال میں رہے علم کے چراغ جلاتے رہے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے اشاعتِ اہلسنت اور دفاع اہلسنت کے سِلسِلے میں کئی کتابیں تصنیف کیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں محض تین سال چھوٹے تھے لیکن اس تمام تر علم وفضل کے باوجود اعلیٰ حضرت کی عظمت کا اقرار کرتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہٍ کا وصال 22 شوال 1340ھ / بمطابق جون 1922ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-aabid-bin-hussain-maliki-mufti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شاہ عبد القادر ۔ لقب: تاج الفحول، محبِ رسول، مظہرِ حق، شیخ الاسلام فی الہند ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
تاج الفحول حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 17 رجب المرجب 1253ھ / مطابق اکتوبر 1837ء کو پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی رسم تسمیہ خوانی آپ کے جد محترم نے فرمائی ۔ بعد ازان تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا حضرت مولانا نور احمد صاحب نے کمالات علمیہ میں آپ کو معراج کمال تک پہنچایا ۔ اس کے بعد آپ نے استاذ الاساتذہ امام الوقت مجاہدِ جنگ آزادی حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ استاذ کو اپنے تلامذہ میں سے آپ پر ناز تھا ۔مولانا فضلِ حق آپ پر فخر کیا کرتے تھے، اکثر فرمایا کرتے: کہ "صاحب قوت قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عصراً بعد عصرٍ پیدا ہوتے ہیں، اگر اس زمانے میں کسی کا وجود تسلیم کیا جائے تو وہ عبد القادر ہیں "ذہن کی جودت کا یہ عالم تھا کہ والد محترم فرمایا کرتے تھے: کہ "برخوردار عبد القادر کی ذہانت مجھ سے بھی زیادہ ہے" ۔

حضرت مولانا فضل حق کے شاگردوں میں چار شاگرد عناصر اربعہ مانے جاتے تھے مگر تاج الفحول کا نام ان میں بھی سر فہرست تھا کیوں کہ تین شاگرد تو کسی خاص فن میں وحید عصر تھے مگر حضرت تاج الفحول کا تبحر جملہ علوم و فنون میں تھا ۔ بعد فراغ علوم عقلیہ و نقلیہ سندِ اجازت حدیث اپنے والد ماجد سے لی، اور مکۃ المکرمہ میں شیخ جمال عمر مکی علیہ الرحمہ سے سندِ حدیث حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مظہرِ حق، تاج الفحول، محب الرسول، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے زمانے میں امام الانام اور شیخ الاسلام تھے ۔ عرب و عجم، شام و عراق تمام بلاد اسلامیہ میں آپ کی بزرگی اور فضل و کمال مسلم ہے ۔ علماء و مشائخِ عصر نے متفقہ طور پر آپ کو " تاج الفحول " کے مبارک خطاب سے ملقب کیا ۔ آپ کے مناقب نظم و نثر میں تحریر کیے گئے، فی زمانہ کوئی علمی درس گاہ ایسی نہیں جہاں بہ صد احترام آپ کا نام نہ لیا جاتا ہو ۔

مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل طلباء کو نہایت آسانی سے سمجھا دیتے تھے ۔ فلسفہ اور منطق کی گھتیاں اس طرح سُلجھا دیتے کہ بڑے بڑے فلسفی اور منطقی منھ تکتے رہ جاتے تھے ۔ اکثر اوقات بخاری شریف کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بخاری شریف حرفاً حرفاًٍ حفظ تھی ۔ آپ جس طرح کلامِ الٰہی کے حافظ تھے اسی طرح احادیث نبوی کے بھی حافظ تھے ۔ آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا حافظ شاہ عبد الصمد سہسوانی کو بھی یہ شرف حاصل تھا اور وہ بھی " حافظِ بخاری " کہلائے جاتے تھے ۔

طرز تحریر:
حضرت تاج الفحول کا اندازِ تحریر بالکل انوکھا اور نرالا تھا ۔ آپ کو تصنیف کا بے حد شوق تھا لیکن زیادہ تر تصانیف تلامذہ کے نام سے شائع ہوتی تھیں ۔ مدرسہ قادریہ کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون کے صدہا مسودات دست اقدس کے لکھے ہوئے موجود ہیں ۔ درسی کتب میں شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس پر آپ کے دستِ اقدس کا حاشیہ نہ ہو ، فرقہ مبتدعہ باطلہ کاردبڑی شد و مد سے کیا ہے۔حضرت تاج الفحول کا قوت استدلال کا تو جواب نہ تھا مگر انداز تقریر نہایت سادہ اور عام فہم ہوتا تھا ۔ جب آپ درس دیا کرتے، تو اہل نظر کہتے تھے " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسندِ حرم پر حضرت امام مالک جلوہ افروز ہو کر درسِ حدیث دے رہے ہیں " ۔ سننے والوں کے سینے نور ایمان سے چمکنے لگتے تھے ۔ تصوف و عرفان کی یہ شان تھی کہ جس طرف توجہ فرمائی جاتی حجابات اٹھا دِیے جاتے تھے۔ اس رویت و بے حجابی کا تذکرہ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک قصیدے چراغ میں کیا ہے۔

میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے
صفا مروہ پہ تو نے جو دیکھا
ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں

روز سعی صفا محب رسول
وہ مجھے بھی دکھا محب رسول
آنکھ پہلے دلا محب رسول
شریعت مطہرہ کا احترام:
آپ شریعت مطہرہ کے پیکرِ اَتم تھے ۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں  تھاجو احادیث مبارکہ سے مزین نہ ہو ۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے، بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے ۔ جس کا جی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائے‌گا ۔

جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا ۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالم ﷺ دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎

ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا

تیری حب و ولا محب رسول
یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے، کہتے ہیں؎

تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
مجھ پہ سایہ ترا محبّ رسول

حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے ۔

اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:

آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا

دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1319ھ، مطابق 29 ستمبر 1901ء کو ہوا ۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آخری آرام گاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ اکابرِ بدایوں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-qadir-badayuni
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)

تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔

اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔

سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔

آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔

آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔

علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔

تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-07-1444 ᴴ | 09-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1