حضرت مولانا حکیم عبد القیوم شہید بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
شوال المکرم ۱۲۸۲ھ سال ولادت ـ
” ذاکرِ رسول اللہ “ تاریخی نام، پر دادا مولانا شاہ فضل رسول بدایونی نے محمد عبد القیوم نام رکھا، دادا کے حقیقی چھوٹے بھائی حضرت تاج الفحول نے تعلیم دی، ۱۲۹۸ھ میں حضرت تاج الفحول کے ہمراہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، تکمیل علوم کے بعد طب کی تحصیل مولانا حکیم سراج الحق سےکی، پھر دہلی جاکر حکیم عبد المجید خاں سے استفادہ کیا، حکیم محمود خاں دہلوی نے بہت مسرت کے ساتھ سند طب پر دستخط ثبت کیے، طب میں خصوصی کمال حاصل کیا، علاج نہایت ارزاں اور تیر بہدف کرتے، نامی طبیب آپ کی حذا قت کے قائل و معترف تھے، حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے، حضرت تاج الفحول اور مولانا عبد العزیزی مکی سے اجازت و خلافت تھی ۔
علم کلام سے شغف ورثہ میں ملا تھا، خصوصاً وہابیوں کے رد کی طرف پوری توجہ صرف کرتے، آپ کی ذات سے بدایوں میں مسلاح معاشرہ کے بڑے بڑے کام انجام پائے، بدایوں میں شیعوں سے قرابت نے سُنیوں کے دلوں میں مداہنت کا رنگ جمایا، سنیوں کی مجالس محرم میں شیعہ سوز خوانی پڑھتے تھے، مولانا حکیم عبد القیوم نے از خود سنی محفلوں میں شرکت کرکے محافل پڑھیں، جس وقت ذکر شہادت و فضائل اہل بیت بیان فرمائے مجلس عرصہ کربلا بن جاتی، خود بے اختیار روتے اور دوسروں کو رُلاتے جب ۱۳۱۱ھ میں مجلس ندوۃ العلماء قائم ہوئی اور اس کے بانیوں نے دین و مذہب کے قیود دائرہ سے تجاوز کر کے وہابیوں، غیر مقلدوں اور شیعوں سے وداد، و ، الفت کی ٹھانی تو دیگر علمائے اہلسنت کی طرح مولانا حکیم عبد القیوم شہید نے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی، اور بعد میں اس کے بِالمقابل مجلس علمائے اہل سنت کی بنیاد ڈالی، قاضی عبد الوحید صاحب رئیس اعظم عظیم آباد سے تحریک کرکے ” تحفۂ حنفیہ “ جاری کرایا اور اس کے ذریعہ مفاسد ندوہ کا رد بلیغ فرمایا ـ اجلاس پٹنہ سے ایک سال پہلے ۱۱ صفر ۱۳۱۷ھ میں جامع مسجد شمسی میں جامعہ شمسیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک عظیم الشان افتتاحی جلسہ منعقد کیا، جس میں مولانا شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی، مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی، مولانا وصی احمد محدث سورتی نے شرکت کی، مولانا شاہ محب احمد بدایونی صدر مدرس مقرر کیے گئے ۔
مولانا حکیم عبد القیوم قدس سرہٗ کی رحلت و موت ایک خاص انداز سے ہوئی، حضرت سیف اللہ المسلول کے عرس میں ۶ جمادی الثانیہ کو معمولاً فجائل اہل بیت و ذکر شہادت بیان کیا جاتا تھا ۱۳۱۸ھ کو مواجہہ میں بیٹھ کر خاص شان سے ذکر شہادت و مصائب اہل بیت بیان کیا، علماء ومشائخ کا مجمع تھا سب اشکبار تھے، اختتام پر دفعۃ دعاء کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سراپا عجز و نیاز ہو کر یہ دعا مانگی، کہ الٰہی بہ برکت شہادت اہل بیت رسالت و عزت خاندان نبوت اس گنہگار بندہ کو بھی خمخانۂ شہادت سے ایک جام عطا ہو، دعاء قبول ہوئی اور آپ نے چالیس دن کے اندر درجہ شہادت حاصل کیا ـ
ولادت:
شوال المکرم ۱۲۸۲ھ سال ولادت ـ
” ذاکرِ رسول اللہ “ تاریخی نام، پر دادا مولانا شاہ فضل رسول بدایونی نے محمد عبد القیوم نام رکھا، دادا کے حقیقی چھوٹے بھائی حضرت تاج الفحول نے تعلیم دی، ۱۲۹۸ھ میں حضرت تاج الفحول کے ہمراہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، تکمیل علوم کے بعد طب کی تحصیل مولانا حکیم سراج الحق سےکی، پھر دہلی جاکر حکیم عبد المجید خاں سے استفادہ کیا، حکیم محمود خاں دہلوی نے بہت مسرت کے ساتھ سند طب پر دستخط ثبت کیے، طب میں خصوصی کمال حاصل کیا، علاج نہایت ارزاں اور تیر بہدف کرتے، نامی طبیب آپ کی حذا قت کے قائل و معترف تھے، حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے، حضرت تاج الفحول اور مولانا عبد العزیزی مکی سے اجازت و خلافت تھی ۔
علم کلام سے شغف ورثہ میں ملا تھا، خصوصاً وہابیوں کے رد کی طرف پوری توجہ صرف کرتے، آپ کی ذات سے بدایوں میں مسلاح معاشرہ کے بڑے بڑے کام انجام پائے، بدایوں میں شیعوں سے قرابت نے سُنیوں کے دلوں میں مداہنت کا رنگ جمایا، سنیوں کی مجالس محرم میں شیعہ سوز خوانی پڑھتے تھے، مولانا حکیم عبد القیوم نے از خود سنی محفلوں میں شرکت کرکے محافل پڑھیں، جس وقت ذکر شہادت و فضائل اہل بیت بیان فرمائے مجلس عرصہ کربلا بن جاتی، خود بے اختیار روتے اور دوسروں کو رُلاتے جب ۱۳۱۱ھ میں مجلس ندوۃ العلماء قائم ہوئی اور اس کے بانیوں نے دین و مذہب کے قیود دائرہ سے تجاوز کر کے وہابیوں، غیر مقلدوں اور شیعوں سے وداد، و ، الفت کی ٹھانی تو دیگر علمائے اہلسنت کی طرح مولانا حکیم عبد القیوم شہید نے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی، اور بعد میں اس کے بِالمقابل مجلس علمائے اہل سنت کی بنیاد ڈالی، قاضی عبد الوحید صاحب رئیس اعظم عظیم آباد سے تحریک کرکے ” تحفۂ حنفیہ “ جاری کرایا اور اس کے ذریعہ مفاسد ندوہ کا رد بلیغ فرمایا ـ اجلاس پٹنہ سے ایک سال پہلے ۱۱ صفر ۱۳۱۷ھ میں جامع مسجد شمسی میں جامعہ شمسیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک عظیم الشان افتتاحی جلسہ منعقد کیا، جس میں مولانا شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی، مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی، مولانا وصی احمد محدث سورتی نے شرکت کی، مولانا شاہ محب احمد بدایونی صدر مدرس مقرر کیے گئے ۔
مولانا حکیم عبد القیوم قدس سرہٗ کی رحلت و موت ایک خاص انداز سے ہوئی، حضرت سیف اللہ المسلول کے عرس میں ۶ جمادی الثانیہ کو معمولاً فجائل اہل بیت و ذکر شہادت بیان کیا جاتا تھا ۱۳۱۸ھ کو مواجہہ میں بیٹھ کر خاص شان سے ذکر شہادت و مصائب اہل بیت بیان کیا، علماء ومشائخ کا مجمع تھا سب اشکبار تھے، اختتام پر دفعۃ دعاء کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سراپا عجز و نیاز ہو کر یہ دعا مانگی، کہ الٰہی بہ برکت شہادت اہل بیت رسالت و عزت خاندان نبوت اس گنہگار بندہ کو بھی خمخانۂ شہادت سے ایک جام عطا ہو، دعاء قبول ہوئی اور آپ نے چالیس دن کے اندر درجہ شہادت حاصل کیا ـ
❤1👍1
ندوۃ العلماء کا جلسہ پٹنہ میں ہو رہا تھا، آسی کے مفاسد کے انسداد و استصال کے لیے مولانا قاضی عبد الوحید صاحب نے مدرسہ حنفیہ کا جلسہ طلب کیا، مولانا عبد القیوم صاحب نے جلسہ کی کامیابی کے لیے مشاہیر علماء مشائخ کو آمادہ کرنے کے لیے ملک گیر دورہ کیا، اور وقتِ مقررہ پر حضرت تاج الفحول کی ہم رکابی میں کثیر تعداد میں علماء کو لے کر جلسہ کی شرکت کے لیے روانہ ہوئے، دار نگر میں گاڑی رُکی، نماز فجر کا وقت تھا، اسٹیشن پر اُترے، حوائج ضروریہ سے فارغ ہوکر وضو کیا، ریل نے سیٹی دے دی، لپک کر چڑھنا چارہا ریل تیز ہو چکی تھی پاؤں پھیل گیا، نیچے جا گرے، مسافروں میں کُہرام مچ گیا، مولانا شاہ محمد فاخرالہ آبادی جو ہمراہ تھے سب سے پہلے گاڑی سے کود پڑے، گاڑی روک دی گئی، بار بار پہئے سے ٹکرانے کی وجہ سے آپ کا جسم زخموں سے چور تھا ـ
ہمت و توانائی کا یہ عالم کہ گاڑی رکتے ہی دامن قبا جھاڑتے ہوئے نکل آئے، مولانا شاہ محمد فاخر نے بڑھ کر ہاتھوں کو بوسہ دیا، قوت باطنی اور ہمت و توانائی پر سب کو حیرت تھی، صحیح سلامت نکل آنے پر حاضرین نے نعرہائے تکبیر بلند کیے، مگر حضرت تاج الفحول کی حق بیں نگاہیں پر نم تھیں، اس حادثہ فاجعہ کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی، امکان واپسی کے لیے لوگوں نے عرض کیا تو فرمایا جس نیت سے گھر چھوڑا ہے وہ امر دینی ہے اور اس کی شرکت جان سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، پٹنہ اسٹیشن پر ہزارہا افراد موجود تھے، فرود گاہ پر پہونچ کر حضرت سید العرفاء مولانا سید شاہ امین احمد منیری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء و مشائخ کے اصرار سے ڈاکٹری علاج شروع کرایا گیا ۔
حضرت تاج الفحول کے حکم کے مطابق مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی، مولانا شاہ فضل مجید بدایونی تیممار داری کے لیے مقرر تھے، طبیعت بظاہر و صحبت ہو رہی تھی کہ یکا یک دل و جگرے ٹکڑے خون بن کے خاجر ہونے لگے، سترہویں رجب کو جلسۂ اہل سنت ختم ہوا کامیابی جلسہ کے شکر میں شکر الٰہی ادا کرکے نماز عشاء معہ و تمہ ادا کی، اس کے بعد آدھا گھنٹہ تک یادِ اِلٰہی میں مصروف رہنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا ـ
حضرت تاج الفحول نے حضرت مولانا سید شاہ عبد الصمد صاحب سے فرمایا، سید صاحب! آپ شہید مرحوم کے بہت زیادہ ناز بردار اور خیال رکھنے والے تھے، آج آپ ہی اُن کو غسل بھی دیجئے، مولانا شاہ عبد الصمد نے مولانا شاہ عبد المقتدر، مولانا فضل مجید مولانا عبد الواحد خاں رام پوری کی مدد سے غسل دیا، اور قطب بہار حضرت شاہ امین احمد ثبات منیری المتوفی ۱۳ھ قدس سرہٗ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ بذریعہ ریل بدایوں لے جایا گیا ۱۴ رجب کو خانقاہ قادری میں حضرت سیف اللہ المسلول کے قرب میں دفن کیے گئے، مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
عالم کامل، طبیب نامدار
عبد قیوم آں وحیدروزگار
از شہادت، منصب اعلیٰ گرفت
روح پاکش رفت در دا القرار
ہاتمی از قوت اوامل جہاں
نوحہ خواں اندر فراقش روزگار
تایکے ایں گریہ نالہ تا یکے
تابکے باشی حسن اشک بار
صبر کن، تاریخ رحلت خوش نویس
شد بجنت عالم عالی وقار
آپ تصانیف میں ” رسالہ شفاعت “ فضائل الشہود بیان علم عروض تدبیر معالجات مرضیٰ عربی فارسی اردو قصائد وغزلیات کا مجموعہ میں آپ کا تخلص جوش تھا ۔
(تذکرہ طیبہ، اکمل التاریخ حصہ دوم، تحفۂ حنفیہ پٹنہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-qayyum-shaheed-badayuni
ہمت و توانائی کا یہ عالم کہ گاڑی رکتے ہی دامن قبا جھاڑتے ہوئے نکل آئے، مولانا شاہ محمد فاخر نے بڑھ کر ہاتھوں کو بوسہ دیا، قوت باطنی اور ہمت و توانائی پر سب کو حیرت تھی، صحیح سلامت نکل آنے پر حاضرین نے نعرہائے تکبیر بلند کیے، مگر حضرت تاج الفحول کی حق بیں نگاہیں پر نم تھیں، اس حادثہ فاجعہ کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی، امکان واپسی کے لیے لوگوں نے عرض کیا تو فرمایا جس نیت سے گھر چھوڑا ہے وہ امر دینی ہے اور اس کی شرکت جان سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، پٹنہ اسٹیشن پر ہزارہا افراد موجود تھے، فرود گاہ پر پہونچ کر حضرت سید العرفاء مولانا سید شاہ امین احمد منیری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء و مشائخ کے اصرار سے ڈاکٹری علاج شروع کرایا گیا ۔
حضرت تاج الفحول کے حکم کے مطابق مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی، مولانا شاہ فضل مجید بدایونی تیممار داری کے لیے مقرر تھے، طبیعت بظاہر و صحبت ہو رہی تھی کہ یکا یک دل و جگرے ٹکڑے خون بن کے خاجر ہونے لگے، سترہویں رجب کو جلسۂ اہل سنت ختم ہوا کامیابی جلسہ کے شکر میں شکر الٰہی ادا کرکے نماز عشاء معہ و تمہ ادا کی، اس کے بعد آدھا گھنٹہ تک یادِ اِلٰہی میں مصروف رہنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا ـ
حضرت تاج الفحول نے حضرت مولانا سید شاہ عبد الصمد صاحب سے فرمایا، سید صاحب! آپ شہید مرحوم کے بہت زیادہ ناز بردار اور خیال رکھنے والے تھے، آج آپ ہی اُن کو غسل بھی دیجئے، مولانا شاہ عبد الصمد نے مولانا شاہ عبد المقتدر، مولانا فضل مجید مولانا عبد الواحد خاں رام پوری کی مدد سے غسل دیا، اور قطب بہار حضرت شاہ امین احمد ثبات منیری المتوفی ۱۳ھ قدس سرہٗ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ بذریعہ ریل بدایوں لے جایا گیا ۱۴ رجب کو خانقاہ قادری میں حضرت سیف اللہ المسلول کے قرب میں دفن کیے گئے، مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
عالم کامل، طبیب نامدار
عبد قیوم آں وحیدروزگار
از شہادت، منصب اعلیٰ گرفت
روح پاکش رفت در دا القرار
ہاتمی از قوت اوامل جہاں
نوحہ خواں اندر فراقش روزگار
تایکے ایں گریہ نالہ تا یکے
تابکے باشی حسن اشک بار
صبر کن، تاریخ رحلت خوش نویس
شد بجنت عالم عالی وقار
آپ تصانیف میں ” رسالہ شفاعت “ فضائل الشہود بیان علم عروض تدبیر معالجات مرضیٰ عربی فارسی اردو قصائد وغزلیات کا مجموعہ میں آپ کا تخلص جوش تھا ۔
(تذکرہ طیبہ، اکمل التاریخ حصہ دوم، تحفۂ حنفیہ پٹنہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-qayyum-shaheed-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Abdul Qayyum Shaheed Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی: یوسف بن ایوب اور کنیت ابو یعقوب تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 441ھ میں موضع بوزنجرد (ہمدان کے نواحی علاقہ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں بغداد میں آئے ابواسحاق شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرکے فقہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اصولِ فقہ و مذہب میں مہارت تامہ حاصل ہو گئی ۔ قاضی ابو الحسنین محمد بن علی بن مہتدی باللہ، ابو الغنائم عبد الصمد بن علی بن مامون رحمہ اللہ علیہ، ابو جعفر بن احمد بن مسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے سماعِ حدیث کیا اور اصفہان و سمرقند کے مشائخِ حدیث سے بھی استفادہ کیا بعد ازیں سب کو ترک کرکے عبادت و ریاضت و مجاہدہ کو مطمعٔ نظر اور مقصدِ وحید بنا لیا ۔
بیعت و خلافت:
تصوف میں آپ کا انتساب حضرت ابو علی فارمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے ۔ اصفہان میں شیخ عبد اللہ جوینی نیشاپوری اور شیخ حسن سمنانی سے بھی خرقۂ خلاقت اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔ ان سب کے بعد حضرت ابو علی فارمدی کی خدمت میں فقر و سلوک کی منزلیں طے کیں ۔
سیرت و خصائص:
آپ عالم، عامل، عارف، زاہد، پرہیز گار، عابد، صاحبِ حال اور صاحبِ کرامت تھے اپنے وقت کے سر کردہ مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ خراسان میں مریدوں کی تربیت آپ جیسی کسی نے نہ کی ۔ آپ کی مجلس میں علماء، فقہاء و صلحاء کا بہت بڑا اجتماع رہتا تھا ۔ سب لوگ آپ کے ارشاد و کلام سے استفادہ کرتے تھے ۔ آپ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ تک مسند رشد و ہدایت پر متمکن رہے، کچھ عرصہ کوہِ زرا (خراسان کے نواح) میں بھی مقیم رہے اور سوائے نمازِ جمعہ کے کبھی باہر نہ نکلتے تھے ۔
آپ کے خلفاء میں سے چار کو بڑی شہرت ملی ۔ خواجہ عبد الخالق غجدوانی، خواجہ احمد یسوی، خواجہ احمد انداقی اور عبد اللہ برقی، مرو میں آپ کا قیام کافی عرصہ تک رہا، وہاں آپ کی خانقاہ میں جس قدر طالبانِ خدا تھے کسی دوسری خانقاہ میں نہ تھے ۔ مرو سے آپ ہرات تشریف لائے، کچھ عرصہ بعد پھر ہرات سے مرو چلے گئے ۔ بعد ازاں دوبارہ ہرات کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ کچھ مدت بعد پھر مرو چلے گئے۔ یہ آپ کا آخری سفر تھا ۔
غوث الاعظم کی آپ سے ملاقات:
حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی طرح حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اٹھارہ سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے اپنے وطن سے بغداد تشریف لائے تھے ۔ جب آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو چکے تو ایک روز حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اُن کی ملاقات ہوئی، جسے انہوں نے یوں سپرد قلم فرمایا ہے:
’’ بغداد میں ایک شخص ہمدان سے آیا جسے یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ وہ قطب ہیں ۔ وہ ایک مسافر خانے میں اُترے ۔ جب میں نے یہ حال سنا تو مسافر خانے میں گیا مگر اُن کو نہ پایا ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرداب میں ہیں ۔ پس میں وہاں پہنچا تو مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے پاس بٹھایا میرے تمام حالات مجھ سے ذکر کیے اور میری تمام مشکلات کو حل فرمایا پھر مجھ سے یوں ارشاد فرما ہوئے، ’’اے عبد القادر! تم لوگوں کو وعظ سنایا کرو‘‘۔
میں نے عرض کیا، آقا! میں عجمی ہوں، اہلِ بغداد کی فصاحت و بلاغت کے سامنے میری گفتگو کی کیا حیثیت ہے؟ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم کو اب فقہ، اصولِ فقہ، اختلافِ مذاہب، نحو، لغت اور تفسیر قرآن یاد ہے ۔ تم میں وعظ کہنے کی صلاحیت و قابلیت موجود ہے ۔ برسرِ منبر لوگوں کو وعظ سنایا کرو کیونکہ میں تم میں ایک جڑ دیکھ رہا ہوں جو عنقریب درخت ہو جائے گا‘‘ ۔
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی اُن مشائخ کبار میں سے ہیں جن کی صحبت میں حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ جیسے لوگ بھی حاضر ہوتے رہے ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات 17 رجب 526ھ / 1142ء بعمر شریف 95 برس ہرات اور بغشور کے درمیان موضع بامئین میں ہوئی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے ایک مریدِ خاص شیخ ابن النجار (بعض جگہوں پر ابن التجار بھی لکھا ہے) نے آپ کے جسدِ مبارک کو شہر مرو میں لے جاکر دفن کردیا جہاں آج مزار مقدس موجود ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-hamdani
نام و نسب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی: یوسف بن ایوب اور کنیت ابو یعقوب تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 441ھ میں موضع بوزنجرد (ہمدان کے نواحی علاقہ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں بغداد میں آئے ابواسحاق شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرکے فقہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اصولِ فقہ و مذہب میں مہارت تامہ حاصل ہو گئی ۔ قاضی ابو الحسنین محمد بن علی بن مہتدی باللہ، ابو الغنائم عبد الصمد بن علی بن مامون رحمہ اللہ علیہ، ابو جعفر بن احمد بن مسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے سماعِ حدیث کیا اور اصفہان و سمرقند کے مشائخِ حدیث سے بھی استفادہ کیا بعد ازیں سب کو ترک کرکے عبادت و ریاضت و مجاہدہ کو مطمعٔ نظر اور مقصدِ وحید بنا لیا ۔
بیعت و خلافت:
تصوف میں آپ کا انتساب حضرت ابو علی فارمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے ۔ اصفہان میں شیخ عبد اللہ جوینی نیشاپوری اور شیخ حسن سمنانی سے بھی خرقۂ خلاقت اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔ ان سب کے بعد حضرت ابو علی فارمدی کی خدمت میں فقر و سلوک کی منزلیں طے کیں ۔
سیرت و خصائص:
آپ عالم، عامل، عارف، زاہد، پرہیز گار، عابد، صاحبِ حال اور صاحبِ کرامت تھے اپنے وقت کے سر کردہ مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ خراسان میں مریدوں کی تربیت آپ جیسی کسی نے نہ کی ۔ آپ کی مجلس میں علماء، فقہاء و صلحاء کا بہت بڑا اجتماع رہتا تھا ۔ سب لوگ آپ کے ارشاد و کلام سے استفادہ کرتے تھے ۔ آپ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ تک مسند رشد و ہدایت پر متمکن رہے، کچھ عرصہ کوہِ زرا (خراسان کے نواح) میں بھی مقیم رہے اور سوائے نمازِ جمعہ کے کبھی باہر نہ نکلتے تھے ۔
آپ کے خلفاء میں سے چار کو بڑی شہرت ملی ۔ خواجہ عبد الخالق غجدوانی، خواجہ احمد یسوی، خواجہ احمد انداقی اور عبد اللہ برقی، مرو میں آپ کا قیام کافی عرصہ تک رہا، وہاں آپ کی خانقاہ میں جس قدر طالبانِ خدا تھے کسی دوسری خانقاہ میں نہ تھے ۔ مرو سے آپ ہرات تشریف لائے، کچھ عرصہ بعد پھر ہرات سے مرو چلے گئے ۔ بعد ازاں دوبارہ ہرات کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ کچھ مدت بعد پھر مرو چلے گئے۔ یہ آپ کا آخری سفر تھا ۔
غوث الاعظم کی آپ سے ملاقات:
حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی طرح حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اٹھارہ سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے اپنے وطن سے بغداد تشریف لائے تھے ۔ جب آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو چکے تو ایک روز حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اُن کی ملاقات ہوئی، جسے انہوں نے یوں سپرد قلم فرمایا ہے:
’’ بغداد میں ایک شخص ہمدان سے آیا جسے یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ وہ قطب ہیں ۔ وہ ایک مسافر خانے میں اُترے ۔ جب میں نے یہ حال سنا تو مسافر خانے میں گیا مگر اُن کو نہ پایا ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرداب میں ہیں ۔ پس میں وہاں پہنچا تو مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے پاس بٹھایا میرے تمام حالات مجھ سے ذکر کیے اور میری تمام مشکلات کو حل فرمایا پھر مجھ سے یوں ارشاد فرما ہوئے، ’’اے عبد القادر! تم لوگوں کو وعظ سنایا کرو‘‘۔
میں نے عرض کیا، آقا! میں عجمی ہوں، اہلِ بغداد کی فصاحت و بلاغت کے سامنے میری گفتگو کی کیا حیثیت ہے؟ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم کو اب فقہ، اصولِ فقہ، اختلافِ مذاہب، نحو، لغت اور تفسیر قرآن یاد ہے ۔ تم میں وعظ کہنے کی صلاحیت و قابلیت موجود ہے ۔ برسرِ منبر لوگوں کو وعظ سنایا کرو کیونکہ میں تم میں ایک جڑ دیکھ رہا ہوں جو عنقریب درخت ہو جائے گا‘‘ ۔
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی اُن مشائخ کبار میں سے ہیں جن کی صحبت میں حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ جیسے لوگ بھی حاضر ہوتے رہے ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات 17 رجب 526ھ / 1142ء بعمر شریف 95 برس ہرات اور بغشور کے درمیان موضع بامئین میں ہوئی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے ایک مریدِ خاص شیخ ابن النجار (بعض جگہوں پر ابن التجار بھی لکھا ہے) نے آپ کے جسدِ مبارک کو شہر مرو میں لے جاکر دفن کردیا جہاں آج مزار مقدس موجود ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-hamdani
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abu Yousuf Hamdani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
قافی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبد اللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی: منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
آپ علیہ الرحمہ بڑے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے عِلم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب و رد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سند لی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا ذکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا، مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے: شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب وغریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۹ ربیع الآخر ۸۶۷ھ کو مصر میں ہوئی ـ ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
ولادت:
قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبد اللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی: منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ـ
ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ
آپ علیہ الرحمہ بڑے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے عِلم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب و رد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سند لی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔
علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا ذکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا، مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔
شمس الدین سخاوی نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے: شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب وغریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۹ ربیع الآخر ۸۶۷ھ کو مصر میں ہوئی ـ ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-ul-qaza-hazrat-saad-bin-shamsuddin-nabulusi
scholars.pk
Qazi-ul-Qaza Hazrat Saad Bin Shamsuddin Nabulusi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
مفتی مالکیہ شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: شیخ عابد بن حسین بن ابراہیم بن حسین بن محمد بن عامر تھا ۔ اور آپ محمد عابد کے نام سے مشہور ہوئے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ 17 رجب المرجب 1275 ھ کو اتوار کے دن مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد مفتی مالکیہ شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ظاہری و روحانی تربیت کرنے میں تمام تر جہد سے کام لیا تا آنکہ آپ نے اس فرزند کی کامل تربیت فرما کر انتقال کیا ۔ اس کے مزید علوم کے حصول کے لئے مدرسہ صولتیہ میں ڈاخل ہوکر جلیل القدر علماء سے مختلف فنون پر دسترس حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ متقی، پرہزگار، جواد وسخی اور وسیع القلب جیسے صفات کے حامل شخص تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حرم شریف میں مدرس رہے اور استاذ العلماء ہوئے ۔ اعلاء کلمۃ الحق میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا اور وقت کے حکمرانوں کے جاہ و جلال سے خوف زدہ نہ ہوئے ۔ سالہا سال جلا وطنی میں بسر کی جہاں اور جس حال میں رہے علم کے چراغ جلاتے رہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے اشاعتِ اہلسنت اور دفاع اہلسنت کے سِلسِلے میں کئی کتابیں تصنیف کیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں محض تین سال چھوٹے تھے لیکن اس تمام تر علم وفضل کے باوجود اعلیٰ حضرت کی عظمت کا اقرار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہٍ کا وصال 22 شوال 1340ھ / بمطابق جون 1922ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-aabid-bin-hussain-maliki-mufti
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: شیخ عابد بن حسین بن ابراہیم بن حسین بن محمد بن عامر تھا ۔ اور آپ محمد عابد کے نام سے مشہور ہوئے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ 17 رجب المرجب 1275 ھ کو اتوار کے دن مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد مفتی مالکیہ شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ظاہری و روحانی تربیت کرنے میں تمام تر جہد سے کام لیا تا آنکہ آپ نے اس فرزند کی کامل تربیت فرما کر انتقال کیا ۔ اس کے مزید علوم کے حصول کے لئے مدرسہ صولتیہ میں ڈاخل ہوکر جلیل القدر علماء سے مختلف فنون پر دسترس حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ متقی، پرہزگار، جواد وسخی اور وسیع القلب جیسے صفات کے حامل شخص تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حرم شریف میں مدرس رہے اور استاذ العلماء ہوئے ۔ اعلاء کلمۃ الحق میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا اور وقت کے حکمرانوں کے جاہ و جلال سے خوف زدہ نہ ہوئے ۔ سالہا سال جلا وطنی میں بسر کی جہاں اور جس حال میں رہے علم کے چراغ جلاتے رہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے اشاعتِ اہلسنت اور دفاع اہلسنت کے سِلسِلے میں کئی کتابیں تصنیف کیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں محض تین سال چھوٹے تھے لیکن اس تمام تر علم وفضل کے باوجود اعلیٰ حضرت کی عظمت کا اقرار کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہٍ کا وصال 22 شوال 1340ھ / بمطابق جون 1922ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-aabid-bin-hussain-maliki-mufti
scholars.pk
Hazrat Allama Sheikh Aabideen Hussain (Maliki Mufti)
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ عبد القادر ۔ لقب: تاج الفحول، محبِ رسول، مظہرِ حق، شیخ الاسلام فی الہند ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
تاج الفحول حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 17 رجب المرجب 1253ھ / مطابق اکتوبر 1837ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی رسم تسمیہ خوانی آپ کے جد محترم نے فرمائی ۔ بعد ازان تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا حضرت مولانا نور احمد صاحب نے کمالات علمیہ میں آپ کو معراج کمال تک پہنچایا ۔ اس کے بعد آپ نے استاذ الاساتذہ امام الوقت مجاہدِ جنگ آزادی حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ استاذ کو اپنے تلامذہ میں سے آپ پر ناز تھا ۔مولانا فضلِ حق آپ پر فخر کیا کرتے تھے، اکثر فرمایا کرتے: کہ "صاحب قوت قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عصراً بعد عصرٍ پیدا ہوتے ہیں، اگر اس زمانے میں کسی کا وجود تسلیم کیا جائے تو وہ عبد القادر ہیں "ذہن کی جودت کا یہ عالم تھا کہ والد محترم فرمایا کرتے تھے: کہ "برخوردار عبد القادر کی ذہانت مجھ سے بھی زیادہ ہے" ۔
حضرت مولانا فضل حق کے شاگردوں میں چار شاگرد عناصر اربعہ مانے جاتے تھے مگر تاج الفحول کا نام ان میں بھی سر فہرست تھا کیوں کہ تین شاگرد تو کسی خاص فن میں وحید عصر تھے مگر حضرت تاج الفحول کا تبحر جملہ علوم و فنون میں تھا ۔ بعد فراغ علوم عقلیہ و نقلیہ سندِ اجازت حدیث اپنے والد ماجد سے لی، اور مکۃ المکرمہ میں شیخ جمال عمر مکی علیہ الرحمہ سے سندِ حدیث حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مظہرِ حق، تاج الفحول، محب الرسول، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے زمانے میں امام الانام اور شیخ الاسلام تھے ۔ عرب و عجم، شام و عراق تمام بلاد اسلامیہ میں آپ کی بزرگی اور فضل و کمال مسلم ہے ۔ علماء و مشائخِ عصر نے متفقہ طور پر آپ کو " تاج الفحول " کے مبارک خطاب سے ملقب کیا ۔ آپ کے مناقب نظم و نثر میں تحریر کیے گئے، فی زمانہ کوئی علمی درس گاہ ایسی نہیں جہاں بہ صد احترام آپ کا نام نہ لیا جاتا ہو ۔
مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل طلباء کو نہایت آسانی سے سمجھا دیتے تھے ۔ فلسفہ اور منطق کی گھتیاں اس طرح سُلجھا دیتے کہ بڑے بڑے فلسفی اور منطقی منھ تکتے رہ جاتے تھے ۔ اکثر اوقات بخاری شریف کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بخاری شریف حرفاً حرفاًٍ حفظ تھی ۔ آپ جس طرح کلامِ الٰہی کے حافظ تھے اسی طرح احادیث نبوی کے بھی حافظ تھے ۔ آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا حافظ شاہ عبد الصمد سہسوانی کو بھی یہ شرف حاصل تھا اور وہ بھی " حافظِ بخاری " کہلائے جاتے تھے ۔
طرز تحریر:
حضرت تاج الفحول کا اندازِ تحریر بالکل انوکھا اور نرالا تھا ۔ آپ کو تصنیف کا بے حد شوق تھا لیکن زیادہ تر تصانیف تلامذہ کے نام سے شائع ہوتی تھیں ۔ مدرسہ قادریہ کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون کے صدہا مسودات دست اقدس کے لکھے ہوئے موجود ہیں ۔ درسی کتب میں شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس پر آپ کے دستِ اقدس کا حاشیہ نہ ہو ، فرقہ مبتدعہ باطلہ کاردبڑی شد و مد سے کیا ہے۔حضرت تاج الفحول کا قوت استدلال کا تو جواب نہ تھا مگر انداز تقریر نہایت سادہ اور عام فہم ہوتا تھا ۔ جب آپ درس دیا کرتے، تو اہل نظر کہتے تھے " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسندِ حرم پر حضرت امام مالک جلوہ افروز ہو کر درسِ حدیث دے رہے ہیں " ۔ سننے والوں کے سینے نور ایمان سے چمکنے لگتے تھے ۔ تصوف و عرفان کی یہ شان تھی کہ جس طرف توجہ فرمائی جاتی حجابات اٹھا دِیے جاتے تھے۔ اس رویت و بے حجابی کا تذکرہ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک قصیدے چراغ میں کیا ہے۔
میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے
صفا مروہ پہ تو نے جو دیکھا
ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں
روز سعی صفا محب رسول
وہ مجھے بھی دکھا محب رسول
آنکھ پہلے دلا محب رسول
نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ عبد القادر ۔ لقب: تاج الفحول، محبِ رسول، مظہرِ حق، شیخ الاسلام فی الہند ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
تاج الفحول حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی بن شاہ عبد الحمید بدایونی ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 17 رجب المرجب 1253ھ / مطابق اکتوبر 1837ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی رسم تسمیہ خوانی آپ کے جد محترم نے فرمائی ۔ بعد ازان تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا حضرت مولانا نور احمد صاحب نے کمالات علمیہ میں آپ کو معراج کمال تک پہنچایا ۔ اس کے بعد آپ نے استاذ الاساتذہ امام الوقت مجاہدِ جنگ آزادی حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ استاذ کو اپنے تلامذہ میں سے آپ پر ناز تھا ۔مولانا فضلِ حق آپ پر فخر کیا کرتے تھے، اکثر فرمایا کرتے: کہ "صاحب قوت قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عصراً بعد عصرٍ پیدا ہوتے ہیں، اگر اس زمانے میں کسی کا وجود تسلیم کیا جائے تو وہ عبد القادر ہیں "ذہن کی جودت کا یہ عالم تھا کہ والد محترم فرمایا کرتے تھے: کہ "برخوردار عبد القادر کی ذہانت مجھ سے بھی زیادہ ہے" ۔
حضرت مولانا فضل حق کے شاگردوں میں چار شاگرد عناصر اربعہ مانے جاتے تھے مگر تاج الفحول کا نام ان میں بھی سر فہرست تھا کیوں کہ تین شاگرد تو کسی خاص فن میں وحید عصر تھے مگر حضرت تاج الفحول کا تبحر جملہ علوم و فنون میں تھا ۔ بعد فراغ علوم عقلیہ و نقلیہ سندِ اجازت حدیث اپنے والد ماجد سے لی، اور مکۃ المکرمہ میں شیخ جمال عمر مکی علیہ الرحمہ سے سندِ حدیث حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مظہرِ حق، تاج الفحول، محب الرسول، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے زمانے میں امام الانام اور شیخ الاسلام تھے ۔ عرب و عجم، شام و عراق تمام بلاد اسلامیہ میں آپ کی بزرگی اور فضل و کمال مسلم ہے ۔ علماء و مشائخِ عصر نے متفقہ طور پر آپ کو " تاج الفحول " کے مبارک خطاب سے ملقب کیا ۔ آپ کے مناقب نظم و نثر میں تحریر کیے گئے، فی زمانہ کوئی علمی درس گاہ ایسی نہیں جہاں بہ صد احترام آپ کا نام نہ لیا جاتا ہو ۔
مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل طلباء کو نہایت آسانی سے سمجھا دیتے تھے ۔ فلسفہ اور منطق کی گھتیاں اس طرح سُلجھا دیتے کہ بڑے بڑے فلسفی اور منطقی منھ تکتے رہ جاتے تھے ۔ اکثر اوقات بخاری شریف کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ بخاری شریف حرفاً حرفاًٍ حفظ تھی ۔ آپ جس طرح کلامِ الٰہی کے حافظ تھے اسی طرح احادیث نبوی کے بھی حافظ تھے ۔ آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا حافظ شاہ عبد الصمد سہسوانی کو بھی یہ شرف حاصل تھا اور وہ بھی " حافظِ بخاری " کہلائے جاتے تھے ۔
طرز تحریر:
حضرت تاج الفحول کا اندازِ تحریر بالکل انوکھا اور نرالا تھا ۔ آپ کو تصنیف کا بے حد شوق تھا لیکن زیادہ تر تصانیف تلامذہ کے نام سے شائع ہوتی تھیں ۔ مدرسہ قادریہ کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون کے صدہا مسودات دست اقدس کے لکھے ہوئے موجود ہیں ۔ درسی کتب میں شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس پر آپ کے دستِ اقدس کا حاشیہ نہ ہو ، فرقہ مبتدعہ باطلہ کاردبڑی شد و مد سے کیا ہے۔حضرت تاج الفحول کا قوت استدلال کا تو جواب نہ تھا مگر انداز تقریر نہایت سادہ اور عام فہم ہوتا تھا ۔ جب آپ درس دیا کرتے، تو اہل نظر کہتے تھے " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسندِ حرم پر حضرت امام مالک جلوہ افروز ہو کر درسِ حدیث دے رہے ہیں " ۔ سننے والوں کے سینے نور ایمان سے چمکنے لگتے تھے ۔ تصوف و عرفان کی یہ شان تھی کہ جس طرف توجہ فرمائی جاتی حجابات اٹھا دِیے جاتے تھے۔ اس رویت و بے حجابی کا تذکرہ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک قصیدے چراغ میں کیا ہے۔
میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے
صفا مروہ پہ تو نے جو دیکھا
ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں
روز سعی صفا محب رسول
وہ مجھے بھی دکھا محب رسول
آنکھ پہلے دلا محب رسول
شریعت مطہرہ کا احترام:
آپ شریعت مطہرہ کے پیکرِ اَتم تھے ۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھاجو احادیث مبارکہ سے مزین نہ ہو ۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے، بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے ۔ جس کا جی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائےگا ۔
جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا ۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالم ﷺ دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎
ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا
تیری حب و ولا محب رسول
یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے، کہتے ہیں؎
تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
مجھ پہ سایہ ترا محبّ رسول
حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا
دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1319ھ، مطابق 29 ستمبر 1901ء کو ہوا ۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ اکابرِ بدایوں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-qadir-badayuni
آپ شریعت مطہرہ کے پیکرِ اَتم تھے ۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھاجو احادیث مبارکہ سے مزین نہ ہو ۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے، بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے ۔ جس کا جی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺ کی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائےگا ۔
جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا ۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالم ﷺ دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎
ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا
تیری حب و ولا محب رسول
یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے، کہتے ہیں؎
تجھ پہ فضل رسول کا سایہ
مجھ پہ سایہ ترا محبّ رسول
حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے ۔
اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:
آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا
دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1319ھ، مطابق 29 ستمبر 1901ء کو ہوا ۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آخری آرام گاہ ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ اکابرِ بدایوں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-qadir-badayuni
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Qadir Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
تاریخ و مقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہو کر تکمیلِ سلوک کیا ۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کر دی ۔
سیرت و خصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ـ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے ۔
آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش " طبع ہو چکی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: " شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو " ۔ تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا ۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ۔
علمائے اہل سنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے ۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے ۔ اہلسنت کی نشر و اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد و جہد سے کام لیا ، سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا ۔ آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا ۔
تاریخِ وصال:
حضور محدثِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ / بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
scholars.pk
Hazrat Muhaddith-e-Azam Syed Muhammad Kachochavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم نام و نسب: اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) تاریخ و مقامِ ولادت: محدثِ…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضور محدث اعظم ہند ، حضرت علامہ سید محمد کچھوچھوی بن حکیم نذر اشرف رضی الله تعالیٰ عنہم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/45022
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت 15 ذی القعدہ 1311ھ
وصال: 17 ذو رجب المرجب 1383ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_القعدہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب
https://t.me/islaamic_Knowledge/45022
❤1👍1