🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت مولانا شاہ خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ خیر الدین دہلوی ۔ لقب: امام العلماء، شیخ العرب والعجم، مہلک الوہابیین، تخلص: خیوری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا شیخ محمد ہادی دہلوی بن مولانا شیخ محمد احسن، شاگرد رشید مفتی صدر الدین آزردہ ۔ مشہور عالم و مدرس مولانا منور الدین دہلوی (تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی) آپ کے نانا محترم ہیں، مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب " تفویۃ الایمان " کا رد شاہ صاحب کے حکم پر سب سے پہلے آپ نے ہی فرمایا تھا ۔
مولانا خیر الدین کی اہلیہ محترمہ مفتیِ مدینہ منورہ شیخ محمد علی بن ظاہر الوتری کی بھانجی تھیں، آپ مکۃ المکرمہ کے آخری محدث تھے، آپ کے بعد اس درجے کا کوئی محدث میں پیدا نہیں ہوا ۔ مولانا خیر الدین علیہ الرحمہ صدیقی النسب تھے، اور ہند کے ممتاز علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:85 / مقدمہ رسائل علامہ خیر الدین دہلوی، ص:12) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1247ھ / مطابق 1831ء کو "دہلی" میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
چار سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا، کچھ ہی عرصہ کے بعد والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں ۔ چنانچہ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے نانا مولانا منور الدین دہلوی کی زیر نگرانی ہوئی، مولانا منور الدین کے اپنے وقت کے جید علماء کرام سے گہرے روابط تھے، لہٰذا مولانا خیر الدین کو چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کا موقع ملا ۔
مولانا مفتی منور الدین کے علاوہ صدر الصدور دہلی مفتی محمد صدر الدین آزردہ، امام علم و حکمت، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی، حضرت شاہ محمد یعقوب دہلوی، شاہ محمد حلیم بلگرامی، مولانا محمد کریم (لال کوئیں والے)، مولانا محمد عمر، مولانا رشید الدین، نیز شیخ عبد اللہ سراج مدنی، اور امام المحدثین شیخ محمد علی بن ظاہر وتری ۔ علیہم الرحمہ ۔ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
اس کے علاوہ آپ نے مختلف فنون بھی سیکھے، مثلاً پنجہ کشی میر پنجہ کش سے، تیراکی میر مچھلی سے، تیر اندازی قلعہ معلی کے ایک استاد سے ۔ اسی طرح کشتی لڑنا سیکھا ۔ حافظ امام بخش خط نستعلیق کے امام تھے، ان سے کوش نویسی سیکھی ۔ نشانہ اندازی، شمشیر زنی، اور لکڑی کی کاری گری بھی سیکھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں صاحبِ مجاز تھے ۔ آپ کے شیخ کا نام معلوم نہیں ہو سکا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، استاذ الحرمین، محدث الحرمین، مجمع البحرین، امام الکل، جامع شریعت و طریقت، امام اہلسنت، ماحیِ بدعت، حامیِ دینِ مصطفیٰ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، صاحبِ اوصاف کثیرہ، امام الہدیٰ، عارف باللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، حضرت علامہ مولانا شاہ خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے جید اور عظیم علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ کی ذات عرب و عجم، شرق و غرب میں مرجعِ خلائق ، اور معروف تھی ۔ حرمین شریفین میں آپ کا وعظ ہوا کرتا تھا، آپ پہلے ہندوستانی عالم تھے، جن کو یہ شرف حاصل ہوا، آپ کے درس میں پوری دنیا کے مسلمان شریک ہو کر اپنے قلب کو منور کرتے تھے ۔ آپ کی شادی محدث حرم حضرت شیخ محمد علی بن ظاہر وتری کی بھانجی سے ہوئی، اور مکۃ المکرمہ میں مکان تعمیر کرایا اور وہیں مستقل رہنے لگے ۔
شیخ الاسلام احمد زینی وحلان کے ہمراہ قسطنطنیہ گئے، وہاں دو سال قیام رہا، ترکی زبان کی تحصیل کا شوق ہوا، ایک سال قونیہ میں قیام کیا، اس کے بعد ایک برس مصر میں رہ کر مکہ مکرمہ واپس آئے کچھ عرصہ کے لیے بمبئی آئے، یہیں سے بغداد مقدس کا سفر کیا ـ
اُس زمانہ میں سیدنا عبد الرحمٰن قدس سرہٗ نقیب الاشراف تھے، اُن کے مہمان ہوئے، نقیب الاشراف، آلوسی زادہ صاحب تفسیر روح المعانی کے شاگرد تھے، اور غایت درجہ ان کے مداح تھے ـ
تفسیر کا مسودہ مولانا کو دکھایا گیا، آپ نے کمالِ حق گوئی دکھائی، مطالعہ کے بعد صاف کہہ دیا کے اس سے اعتزال کی بو آتی ہے ـ
نقیب الاشراف اور ان جیسے دوسرے شاگردوں پر یہ بہت گراں گذری، آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ نکال کر دِکھایا، کہ علامہ آلوسی زادہ نے وجود خضر سے انکار کیا ہے، اور ان کے تمام استدلال معتزلہ کے دلائل و براہین سے ماخوذ ہیں، اُن کے علاوہ دیگر گیارہ مقامات دکھائے نقیب الاشراف وغیرہ آپ کے اعتراضات سے متفق ہو گئے، اور خواہش کی کہ آپ ان استدر کات کو قلم بند فرما دیں ۔
یہ استدار کات روح المعانی کے آخر میں آپ کے نام کی صراحت کے ساتھ مطبوعہ نسخے میں شامل ہیں، چھ ماہ قیام کے بعد بمبئی واپس آئے، اور کچھ دنوں بعد پھر مکہ مکرمہ چلے گئے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ خیر الدین دہلوی ۔ لقب: امام العلماء، شیخ العرب والعجم، مہلک الوہابیین، تخلص: خیوری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا شیخ محمد ہادی دہلوی بن مولانا شیخ محمد احسن، شاگرد رشید مفتی صدر الدین آزردہ ۔ مشہور عالم و مدرس مولانا منور الدین دہلوی (تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی) آپ کے نانا محترم ہیں، مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب " تفویۃ الایمان " کا رد شاہ صاحب کے حکم پر سب سے پہلے آپ نے ہی فرمایا تھا ۔
مولانا خیر الدین کی اہلیہ محترمہ مفتیِ مدینہ منورہ شیخ محمد علی بن ظاہر الوتری کی بھانجی تھیں، آپ مکۃ المکرمہ کے آخری محدث تھے، آپ کے بعد اس درجے کا کوئی محدث میں پیدا نہیں ہوا ۔ مولانا خیر الدین علیہ الرحمہ صدیقی النسب تھے، اور ہند کے ممتاز علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:85 / مقدمہ رسائل علامہ خیر الدین دہلوی، ص:12) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1247ھ / مطابق 1831ء کو "دہلی" میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
چار سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا، کچھ ہی عرصہ کے بعد والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں ۔ چنانچہ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے نانا مولانا منور الدین دہلوی کی زیر نگرانی ہوئی، مولانا منور الدین کے اپنے وقت کے جید علماء کرام سے گہرے روابط تھے، لہٰذا مولانا خیر الدین کو چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کا موقع ملا ۔
مولانا مفتی منور الدین کے علاوہ صدر الصدور دہلی مفتی محمد صدر الدین آزردہ، امام علم و حکمت، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی، حضرت شاہ محمد یعقوب دہلوی، شاہ محمد حلیم بلگرامی، مولانا محمد کریم (لال کوئیں والے)، مولانا محمد عمر، مولانا رشید الدین، نیز شیخ عبد اللہ سراج مدنی، اور امام المحدثین شیخ محمد علی بن ظاہر وتری ۔ علیہم الرحمہ ۔ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
اس کے علاوہ آپ نے مختلف فنون بھی سیکھے، مثلاً پنجہ کشی میر پنجہ کش سے، تیراکی میر مچھلی سے، تیر اندازی قلعہ معلی کے ایک استاد سے ۔ اسی طرح کشتی لڑنا سیکھا ۔ حافظ امام بخش خط نستعلیق کے امام تھے، ان سے کوش نویسی سیکھی ۔ نشانہ اندازی، شمشیر زنی، اور لکڑی کی کاری گری بھی سیکھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں صاحبِ مجاز تھے ۔ آپ کے شیخ کا نام معلوم نہیں ہو سکا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، استاذ الحرمین، محدث الحرمین، مجمع البحرین، امام الکل، جامع شریعت و طریقت، امام اہلسنت، ماحیِ بدعت، حامیِ دینِ مصطفیٰ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، صاحبِ اوصاف کثیرہ، امام الہدیٰ، عارف باللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، حضرت علامہ مولانا شاہ خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے جید اور عظیم علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ کی ذات عرب و عجم، شرق و غرب میں مرجعِ خلائق ، اور معروف تھی ۔ حرمین شریفین میں آپ کا وعظ ہوا کرتا تھا، آپ پہلے ہندوستانی عالم تھے، جن کو یہ شرف حاصل ہوا، آپ کے درس میں پوری دنیا کے مسلمان شریک ہو کر اپنے قلب کو منور کرتے تھے ۔ آپ کی شادی محدث حرم حضرت شیخ محمد علی بن ظاہر وتری کی بھانجی سے ہوئی، اور مکۃ المکرمہ میں مکان تعمیر کرایا اور وہیں مستقل رہنے لگے ۔
شیخ الاسلام احمد زینی وحلان کے ہمراہ قسطنطنیہ گئے، وہاں دو سال قیام رہا، ترکی زبان کی تحصیل کا شوق ہوا، ایک سال قونیہ میں قیام کیا، اس کے بعد ایک برس مصر میں رہ کر مکہ مکرمہ واپس آئے کچھ عرصہ کے لیے بمبئی آئے، یہیں سے بغداد مقدس کا سفر کیا ـ
اُس زمانہ میں سیدنا عبد الرحمٰن قدس سرہٗ نقیب الاشراف تھے، اُن کے مہمان ہوئے، نقیب الاشراف، آلوسی زادہ صاحب تفسیر روح المعانی کے شاگرد تھے، اور غایت درجہ ان کے مداح تھے ـ
تفسیر کا مسودہ مولانا کو دکھایا گیا، آپ نے کمالِ حق گوئی دکھائی، مطالعہ کے بعد صاف کہہ دیا کے اس سے اعتزال کی بو آتی ہے ـ
نقیب الاشراف اور ان جیسے دوسرے شاگردوں پر یہ بہت گراں گذری، آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ نکال کر دِکھایا، کہ علامہ آلوسی زادہ نے وجود خضر سے انکار کیا ہے، اور ان کے تمام استدلال معتزلہ کے دلائل و براہین سے ماخوذ ہیں، اُن کے علاوہ دیگر گیارہ مقامات دکھائے نقیب الاشراف وغیرہ آپ کے اعتراضات سے متفق ہو گئے، اور خواہش کی کہ آپ ان استدر کات کو قلم بند فرما دیں ۔
یہ استدار کات روح المعانی کے آخر میں آپ کے نام کی صراحت کے ساتھ مطبوعہ نسخے میں شامل ہیں، چھ ماہ قیام کے بعد بمبئی واپس آئے، اور کچھ دنوں بعد پھر مکہ مکرمہ چلے گئے ۔
❤1👍1
ایک مرتبہ بعد نماز جمعہ آپ کا وعظ ہوا، مشہور محدث مولانا احمد علی سہارن پوری بھی اس میں شریک تھے ۔ ختم محفل کے بعد آپ سے ملے، اور کہا: میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا مؤثر وعظ کبھی نہیں سُنا، آپ کا وعظ مرتب کتاب ہوتی تھی، بڑی دور سے کئی دن کا پیدل سفر کر کے لوگ اُن کا وعظ سننے آتے تھے، ان کی مجالس وعظ دلوں میں تقویٰ و خشیت پیدا کرتی تھیں، سامعین پر گریہ طاری ہو جاتا تھا، کتنے ہی نفوس نے وعظ کی مجلس میں روتے روتے ان کے قدموں میں جان دے دی ۔ کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے، اور حق کے معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے ۔
مولانا خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ رد وہابیہ میں بڑے مشہور تھے ۔ رد وہابیہ ان کا وظیفہ تھا، درونِ خانہ گفتگو ہو کہ بر سر منبر وعظ، مناظرہ کی بزم ہو یا تحریر کا میدان، ان کا موضوع سخن رد وہابیت ہوتا تھا ۔ عوامی اسٹیج ہویا حکومتی ایوان آپ وہابیوں کی اصلیت خوب ظاہر کرتے تھے ۔ حجاز مقدس میں آپ نے وہابیت کے خلاف محاذ کھولا، شریف مکہ نے اکابر ہندوستانی وہابیوں کو آپ کے کہنے پر 39،39 کوڑے لگائے، اور ان کو حرمین سے نکال دیا ۔ اسی طرح ترکی اوربمغرب میں " فتنۂ وہابیہ " کا پردہ چاک کیا ۔ تاکہ لوگ ان کے فتنے سے محفوظ رہیں ۔ حضرت سیف اللہ المسلول، اور حضرت تاج الفحول علیہما الرحمہ کو اپنا ہم مسلک گردانتے تھے ۔
آپ فرماتے تھے: "گمراہی کی موجودہ ترتیب یوں ہےکہ پہلے وہابیت، پھر نیچریت، نیچریت کے بعد تیسری قدرتی منزل جو الحاد قطعی ہے ۔ " ۔ (مقدمہ رسائل مولانا خیر الدین دہلوی، ص:15) ۔ اور یہ حقیقت ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ابھی حال ہی میں تقریباً مارچ 2017ء میں سوشل میڈیا پر " ملحدین " کا گروہ جو توہین اسلام اور بانی اسلام میں ملوث تھا، اس کا سربراہ اسی مکتبۂ فکر کے مدرسہ کا فارغ التحصیل، وفاق المدارس کا سند یافتہ، اور جامعہ بنوریہ کراچی کا مدرس، جس نے دس سال تدریسی زندگی گزاری، " علامہ ایاز نظامی " کے نام سے معروف ہے ۔ ابھی وہ حکومتی اداروں کی تحویل میں ہے ۔ در اصل بات یہ ہے کہ یہ فکر اس کو کس نے دی ہے ۔
مشہور دین فروش اور کانگریسی " مولوی ابو الکلام آزاد " آپ کا ناخلف بیٹا ظاہر ہوا ۔ ساری زندگی ننگ ملت و اسلاف کی تصویر بنا رہا ۔ ہنود کے نجس قدموں کو منبر رسول ﷺ پر جگہ دی، اور مساجد و مدارس کا فتتاح ان سے کروایا، مرزا دجال کے جنازے میں شریک ہو کر اپنے ایمان کا جنازہ نکال دیا، بلکہ وہ تو بلکہ وہ تو پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا ۔ اس کی زبانی رد وہابیہ کی کہانی: " جہاں تک مجھے خیال ہے وہ وہابیوں کے کفر پر وثوق کے ساتھ یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بارہا فتویٰ دیا کہ وہابیہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں! مدت العمر ان کی تمام تصانیف و تالیف، وعظ و مباحث کا تنہا مرکز وہی (وہابی) رہے ہیں ۔ مجھے اپنے بچپن کی پرانی سے پرانی مسموعات جو یاد آتی ہیں ان میں وہابیت کا رد موجود پاتا ہوں " ۔ (مقدمہ رسائل مولانا خیر الدین، ص:19 ۔ بحوالہ: آزاد کی کہانی، ص:145) ـ
مولانا خیر الدین بر عظیم پاک و ہند کی مظلوم ترین شخصیتوں میں سے ہیں ۔ اس میں بڑی کوتاہی تو اہلسنت کی ہے کہ انہوں نے اتنی عظیم شخصیت کو فراموش کر دیا ۔ اہلسنت آپ کی تصانیف کو منظر عام پر لا کر آپ کی روح کو تسکین دیں، اور نئی نسل کے ایمان کو محفوظ بنائیں ۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت، مجدد ملت، امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سن 1901ء میں آپ کی زیارت کے لئے کلکتہ تشریف لے گئے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:87) ـ
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 17 رجب المرجب 1326ھ / مطابق 15 اگست 1908ء بروز ہفتہ 77 سال کی عمر میں ہوا ۔ مانک تلہ کے قبرستان میں مزار شریف ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ رسائل مولانا خیر الدین دہلوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-khairuddin-dehlvi
مولانا خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ رد وہابیہ میں بڑے مشہور تھے ۔ رد وہابیہ ان کا وظیفہ تھا، درونِ خانہ گفتگو ہو کہ بر سر منبر وعظ، مناظرہ کی بزم ہو یا تحریر کا میدان، ان کا موضوع سخن رد وہابیت ہوتا تھا ۔ عوامی اسٹیج ہویا حکومتی ایوان آپ وہابیوں کی اصلیت خوب ظاہر کرتے تھے ۔ حجاز مقدس میں آپ نے وہابیت کے خلاف محاذ کھولا، شریف مکہ نے اکابر ہندوستانی وہابیوں کو آپ کے کہنے پر 39،39 کوڑے لگائے، اور ان کو حرمین سے نکال دیا ۔ اسی طرح ترکی اوربمغرب میں " فتنۂ وہابیہ " کا پردہ چاک کیا ۔ تاکہ لوگ ان کے فتنے سے محفوظ رہیں ۔ حضرت سیف اللہ المسلول، اور حضرت تاج الفحول علیہما الرحمہ کو اپنا ہم مسلک گردانتے تھے ۔
آپ فرماتے تھے: "گمراہی کی موجودہ ترتیب یوں ہےکہ پہلے وہابیت، پھر نیچریت، نیچریت کے بعد تیسری قدرتی منزل جو الحاد قطعی ہے ۔ " ۔ (مقدمہ رسائل مولانا خیر الدین دہلوی، ص:15) ۔ اور یہ حقیقت ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ابھی حال ہی میں تقریباً مارچ 2017ء میں سوشل میڈیا پر " ملحدین " کا گروہ جو توہین اسلام اور بانی اسلام میں ملوث تھا، اس کا سربراہ اسی مکتبۂ فکر کے مدرسہ کا فارغ التحصیل، وفاق المدارس کا سند یافتہ، اور جامعہ بنوریہ کراچی کا مدرس، جس نے دس سال تدریسی زندگی گزاری، " علامہ ایاز نظامی " کے نام سے معروف ہے ۔ ابھی وہ حکومتی اداروں کی تحویل میں ہے ۔ در اصل بات یہ ہے کہ یہ فکر اس کو کس نے دی ہے ۔
مشہور دین فروش اور کانگریسی " مولوی ابو الکلام آزاد " آپ کا ناخلف بیٹا ظاہر ہوا ۔ ساری زندگی ننگ ملت و اسلاف کی تصویر بنا رہا ۔ ہنود کے نجس قدموں کو منبر رسول ﷺ پر جگہ دی، اور مساجد و مدارس کا فتتاح ان سے کروایا، مرزا دجال کے جنازے میں شریک ہو کر اپنے ایمان کا جنازہ نکال دیا، بلکہ وہ تو بلکہ وہ تو پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا ۔ اس کی زبانی رد وہابیہ کی کہانی: " جہاں تک مجھے خیال ہے وہ وہابیوں کے کفر پر وثوق کے ساتھ یقین رکھتے تھے ۔ انہوں نے بارہا فتویٰ دیا کہ وہابیہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں! مدت العمر ان کی تمام تصانیف و تالیف، وعظ و مباحث کا تنہا مرکز وہی (وہابی) رہے ہیں ۔ مجھے اپنے بچپن کی پرانی سے پرانی مسموعات جو یاد آتی ہیں ان میں وہابیت کا رد موجود پاتا ہوں " ۔ (مقدمہ رسائل مولانا خیر الدین، ص:19 ۔ بحوالہ: آزاد کی کہانی، ص:145) ـ
مولانا خیر الدین بر عظیم پاک و ہند کی مظلوم ترین شخصیتوں میں سے ہیں ۔ اس میں بڑی کوتاہی تو اہلسنت کی ہے کہ انہوں نے اتنی عظیم شخصیت کو فراموش کر دیا ۔ اہلسنت آپ کی تصانیف کو منظر عام پر لا کر آپ کی روح کو تسکین دیں، اور نئی نسل کے ایمان کو محفوظ بنائیں ۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت، مجدد ملت، امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سن 1901ء میں آپ کی زیارت کے لئے کلکتہ تشریف لے گئے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:87) ـ
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 17 رجب المرجب 1326ھ / مطابق 15 اگست 1908ء بروز ہفتہ 77 سال کی عمر میں ہوا ۔ مانک تلہ کے قبرستان میں مزار شریف ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ رسائل مولانا خیر الدین دہلوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-khairuddin-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Khairuddin Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا حکیم عبد القیوم شہید بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
شوال المکرم ۱۲۸۲ھ سال ولادت ـ
” ذاکرِ رسول اللہ “ تاریخی نام، پر دادا مولانا شاہ فضل رسول بدایونی نے محمد عبد القیوم نام رکھا، دادا کے حقیقی چھوٹے بھائی حضرت تاج الفحول نے تعلیم دی، ۱۲۹۸ھ میں حضرت تاج الفحول کے ہمراہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، تکمیل علوم کے بعد طب کی تحصیل مولانا حکیم سراج الحق سےکی، پھر دہلی جاکر حکیم عبد المجید خاں سے استفادہ کیا، حکیم محمود خاں دہلوی نے بہت مسرت کے ساتھ سند طب پر دستخط ثبت کیے، طب میں خصوصی کمال حاصل کیا، علاج نہایت ارزاں اور تیر بہدف کرتے، نامی طبیب آپ کی حذا قت کے قائل و معترف تھے، حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے، حضرت تاج الفحول اور مولانا عبد العزیزی مکی سے اجازت و خلافت تھی ۔
علم کلام سے شغف ورثہ میں ملا تھا، خصوصاً وہابیوں کے رد کی طرف پوری توجہ صرف کرتے، آپ کی ذات سے بدایوں میں مسلاح معاشرہ کے بڑے بڑے کام انجام پائے، بدایوں میں شیعوں سے قرابت نے سُنیوں کے دلوں میں مداہنت کا رنگ جمایا، سنیوں کی مجالس محرم میں شیعہ سوز خوانی پڑھتے تھے، مولانا حکیم عبد القیوم نے از خود سنی محفلوں میں شرکت کرکے محافل پڑھیں، جس وقت ذکر شہادت و فضائل اہل بیت بیان فرمائے مجلس عرصہ کربلا بن جاتی، خود بے اختیار روتے اور دوسروں کو رُلاتے جب ۱۳۱۱ھ میں مجلس ندوۃ العلماء قائم ہوئی اور اس کے بانیوں نے دین و مذہب کے قیود دائرہ سے تجاوز کر کے وہابیوں، غیر مقلدوں اور شیعوں سے وداد، و ، الفت کی ٹھانی تو دیگر علمائے اہلسنت کی طرح مولانا حکیم عبد القیوم شہید نے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی، اور بعد میں اس کے بِالمقابل مجلس علمائے اہل سنت کی بنیاد ڈالی، قاضی عبد الوحید صاحب رئیس اعظم عظیم آباد سے تحریک کرکے ” تحفۂ حنفیہ “ جاری کرایا اور اس کے ذریعہ مفاسد ندوہ کا رد بلیغ فرمایا ـ اجلاس پٹنہ سے ایک سال پہلے ۱۱ صفر ۱۳۱۷ھ میں جامع مسجد شمسی میں جامعہ شمسیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک عظیم الشان افتتاحی جلسہ منعقد کیا، جس میں مولانا شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی، مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی، مولانا وصی احمد محدث سورتی نے شرکت کی، مولانا شاہ محب احمد بدایونی صدر مدرس مقرر کیے گئے ۔
مولانا حکیم عبد القیوم قدس سرہٗ کی رحلت و موت ایک خاص انداز سے ہوئی، حضرت سیف اللہ المسلول کے عرس میں ۶ جمادی الثانیہ کو معمولاً فجائل اہل بیت و ذکر شہادت بیان کیا جاتا تھا ۱۳۱۸ھ کو مواجہہ میں بیٹھ کر خاص شان سے ذکر شہادت و مصائب اہل بیت بیان کیا، علماء ومشائخ کا مجمع تھا سب اشکبار تھے، اختتام پر دفعۃ دعاء کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سراپا عجز و نیاز ہو کر یہ دعا مانگی، کہ الٰہی بہ برکت شہادت اہل بیت رسالت و عزت خاندان نبوت اس گنہگار بندہ کو بھی خمخانۂ شہادت سے ایک جام عطا ہو، دعاء قبول ہوئی اور آپ نے چالیس دن کے اندر درجہ شہادت حاصل کیا ـ
ولادت:
شوال المکرم ۱۲۸۲ھ سال ولادت ـ
” ذاکرِ رسول اللہ “ تاریخی نام، پر دادا مولانا شاہ فضل رسول بدایونی نے محمد عبد القیوم نام رکھا، دادا کے حقیقی چھوٹے بھائی حضرت تاج الفحول نے تعلیم دی، ۱۲۹۸ھ میں حضرت تاج الفحول کے ہمراہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، تکمیل علوم کے بعد طب کی تحصیل مولانا حکیم سراج الحق سےکی، پھر دہلی جاکر حکیم عبد المجید خاں سے استفادہ کیا، حکیم محمود خاں دہلوی نے بہت مسرت کے ساتھ سند طب پر دستخط ثبت کیے، طب میں خصوصی کمال حاصل کیا، علاج نہایت ارزاں اور تیر بہدف کرتے، نامی طبیب آپ کی حذا قت کے قائل و معترف تھے، حضرت شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے، حضرت تاج الفحول اور مولانا عبد العزیزی مکی سے اجازت و خلافت تھی ۔
علم کلام سے شغف ورثہ میں ملا تھا، خصوصاً وہابیوں کے رد کی طرف پوری توجہ صرف کرتے، آپ کی ذات سے بدایوں میں مسلاح معاشرہ کے بڑے بڑے کام انجام پائے، بدایوں میں شیعوں سے قرابت نے سُنیوں کے دلوں میں مداہنت کا رنگ جمایا، سنیوں کی مجالس محرم میں شیعہ سوز خوانی پڑھتے تھے، مولانا حکیم عبد القیوم نے از خود سنی محفلوں میں شرکت کرکے محافل پڑھیں، جس وقت ذکر شہادت و فضائل اہل بیت بیان فرمائے مجلس عرصہ کربلا بن جاتی، خود بے اختیار روتے اور دوسروں کو رُلاتے جب ۱۳۱۱ھ میں مجلس ندوۃ العلماء قائم ہوئی اور اس کے بانیوں نے دین و مذہب کے قیود دائرہ سے تجاوز کر کے وہابیوں، غیر مقلدوں اور شیعوں سے وداد، و ، الفت کی ٹھانی تو دیگر علمائے اہلسنت کی طرح مولانا حکیم عبد القیوم شہید نے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی، اور بعد میں اس کے بِالمقابل مجلس علمائے اہل سنت کی بنیاد ڈالی، قاضی عبد الوحید صاحب رئیس اعظم عظیم آباد سے تحریک کرکے ” تحفۂ حنفیہ “ جاری کرایا اور اس کے ذریعہ مفاسد ندوہ کا رد بلیغ فرمایا ـ اجلاس پٹنہ سے ایک سال پہلے ۱۱ صفر ۱۳۱۷ھ میں جامع مسجد شمسی میں جامعہ شمسیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک عظیم الشان افتتاحی جلسہ منعقد کیا، جس میں مولانا شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی، مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی، مولانا وصی احمد محدث سورتی نے شرکت کی، مولانا شاہ محب احمد بدایونی صدر مدرس مقرر کیے گئے ۔
مولانا حکیم عبد القیوم قدس سرہٗ کی رحلت و موت ایک خاص انداز سے ہوئی، حضرت سیف اللہ المسلول کے عرس میں ۶ جمادی الثانیہ کو معمولاً فجائل اہل بیت و ذکر شہادت بیان کیا جاتا تھا ۱۳۱۸ھ کو مواجہہ میں بیٹھ کر خاص شان سے ذکر شہادت و مصائب اہل بیت بیان کیا، علماء ومشائخ کا مجمع تھا سب اشکبار تھے، اختتام پر دفعۃ دعاء کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سراپا عجز و نیاز ہو کر یہ دعا مانگی، کہ الٰہی بہ برکت شہادت اہل بیت رسالت و عزت خاندان نبوت اس گنہگار بندہ کو بھی خمخانۂ شہادت سے ایک جام عطا ہو، دعاء قبول ہوئی اور آپ نے چالیس دن کے اندر درجہ شہادت حاصل کیا ـ
❤1👍1
ندوۃ العلماء کا جلسہ پٹنہ میں ہو رہا تھا، آسی کے مفاسد کے انسداد و استصال کے لیے مولانا قاضی عبد الوحید صاحب نے مدرسہ حنفیہ کا جلسہ طلب کیا، مولانا عبد القیوم صاحب نے جلسہ کی کامیابی کے لیے مشاہیر علماء مشائخ کو آمادہ کرنے کے لیے ملک گیر دورہ کیا، اور وقتِ مقررہ پر حضرت تاج الفحول کی ہم رکابی میں کثیر تعداد میں علماء کو لے کر جلسہ کی شرکت کے لیے روانہ ہوئے، دار نگر میں گاڑی رُکی، نماز فجر کا وقت تھا، اسٹیشن پر اُترے، حوائج ضروریہ سے فارغ ہوکر وضو کیا، ریل نے سیٹی دے دی، لپک کر چڑھنا چارہا ریل تیز ہو چکی تھی پاؤں پھیل گیا، نیچے جا گرے، مسافروں میں کُہرام مچ گیا، مولانا شاہ محمد فاخرالہ آبادی جو ہمراہ تھے سب سے پہلے گاڑی سے کود پڑے، گاڑی روک دی گئی، بار بار پہئے سے ٹکرانے کی وجہ سے آپ کا جسم زخموں سے چور تھا ـ
ہمت و توانائی کا یہ عالم کہ گاڑی رکتے ہی دامن قبا جھاڑتے ہوئے نکل آئے، مولانا شاہ محمد فاخر نے بڑھ کر ہاتھوں کو بوسہ دیا، قوت باطنی اور ہمت و توانائی پر سب کو حیرت تھی، صحیح سلامت نکل آنے پر حاضرین نے نعرہائے تکبیر بلند کیے، مگر حضرت تاج الفحول کی حق بیں نگاہیں پر نم تھیں، اس حادثہ فاجعہ کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی، امکان واپسی کے لیے لوگوں نے عرض کیا تو فرمایا جس نیت سے گھر چھوڑا ہے وہ امر دینی ہے اور اس کی شرکت جان سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، پٹنہ اسٹیشن پر ہزارہا افراد موجود تھے، فرود گاہ پر پہونچ کر حضرت سید العرفاء مولانا سید شاہ امین احمد منیری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء و مشائخ کے اصرار سے ڈاکٹری علاج شروع کرایا گیا ۔
حضرت تاج الفحول کے حکم کے مطابق مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی، مولانا شاہ فضل مجید بدایونی تیممار داری کے لیے مقرر تھے، طبیعت بظاہر و صحبت ہو رہی تھی کہ یکا یک دل و جگرے ٹکڑے خون بن کے خاجر ہونے لگے، سترہویں رجب کو جلسۂ اہل سنت ختم ہوا کامیابی جلسہ کے شکر میں شکر الٰہی ادا کرکے نماز عشاء معہ و تمہ ادا کی، اس کے بعد آدھا گھنٹہ تک یادِ اِلٰہی میں مصروف رہنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا ـ
حضرت تاج الفحول نے حضرت مولانا سید شاہ عبد الصمد صاحب سے فرمایا، سید صاحب! آپ شہید مرحوم کے بہت زیادہ ناز بردار اور خیال رکھنے والے تھے، آج آپ ہی اُن کو غسل بھی دیجئے، مولانا شاہ عبد الصمد نے مولانا شاہ عبد المقتدر، مولانا فضل مجید مولانا عبد الواحد خاں رام پوری کی مدد سے غسل دیا، اور قطب بہار حضرت شاہ امین احمد ثبات منیری المتوفی ۱۳ھ قدس سرہٗ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ بذریعہ ریل بدایوں لے جایا گیا ۱۴ رجب کو خانقاہ قادری میں حضرت سیف اللہ المسلول کے قرب میں دفن کیے گئے، مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
عالم کامل، طبیب نامدار
عبد قیوم آں وحیدروزگار
از شہادت، منصب اعلیٰ گرفت
روح پاکش رفت در دا القرار
ہاتمی از قوت اوامل جہاں
نوحہ خواں اندر فراقش روزگار
تایکے ایں گریہ نالہ تا یکے
تابکے باشی حسن اشک بار
صبر کن، تاریخ رحلت خوش نویس
شد بجنت عالم عالی وقار
آپ تصانیف میں ” رسالہ شفاعت “ فضائل الشہود بیان علم عروض تدبیر معالجات مرضیٰ عربی فارسی اردو قصائد وغزلیات کا مجموعہ میں آپ کا تخلص جوش تھا ۔
(تذکرہ طیبہ، اکمل التاریخ حصہ دوم، تحفۂ حنفیہ پٹنہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-qayyum-shaheed-badayuni
ہمت و توانائی کا یہ عالم کہ گاڑی رکتے ہی دامن قبا جھاڑتے ہوئے نکل آئے، مولانا شاہ محمد فاخر نے بڑھ کر ہاتھوں کو بوسہ دیا، قوت باطنی اور ہمت و توانائی پر سب کو حیرت تھی، صحیح سلامت نکل آنے پر حاضرین نے نعرہائے تکبیر بلند کیے، مگر حضرت تاج الفحول کی حق بیں نگاہیں پر نم تھیں، اس حادثہ فاجعہ کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی، امکان واپسی کے لیے لوگوں نے عرض کیا تو فرمایا جس نیت سے گھر چھوڑا ہے وہ امر دینی ہے اور اس کی شرکت جان سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، پٹنہ اسٹیشن پر ہزارہا افراد موجود تھے، فرود گاہ پر پہونچ کر حضرت سید العرفاء مولانا سید شاہ امین احمد منیری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء و مشائخ کے اصرار سے ڈاکٹری علاج شروع کرایا گیا ۔
حضرت تاج الفحول کے حکم کے مطابق مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی، مولانا شاہ فضل مجید بدایونی تیممار داری کے لیے مقرر تھے، طبیعت بظاہر و صحبت ہو رہی تھی کہ یکا یک دل و جگرے ٹکڑے خون بن کے خاجر ہونے لگے، سترہویں رجب کو جلسۂ اہل سنت ختم ہوا کامیابی جلسہ کے شکر میں شکر الٰہی ادا کرکے نماز عشاء معہ و تمہ ادا کی، اس کے بعد آدھا گھنٹہ تک یادِ اِلٰہی میں مصروف رہنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا ـ
حضرت تاج الفحول نے حضرت مولانا سید شاہ عبد الصمد صاحب سے فرمایا، سید صاحب! آپ شہید مرحوم کے بہت زیادہ ناز بردار اور خیال رکھنے والے تھے، آج آپ ہی اُن کو غسل بھی دیجئے، مولانا شاہ عبد الصمد نے مولانا شاہ عبد المقتدر، مولانا فضل مجید مولانا عبد الواحد خاں رام پوری کی مدد سے غسل دیا، اور قطب بہار حضرت شاہ امین احمد ثبات منیری المتوفی ۱۳ھ قدس سرہٗ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنازہ بذریعہ ریل بدایوں لے جایا گیا ۱۴ رجب کو خانقاہ قادری میں حضرت سیف اللہ المسلول کے قرب میں دفن کیے گئے، مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
عالم کامل، طبیب نامدار
عبد قیوم آں وحیدروزگار
از شہادت، منصب اعلیٰ گرفت
روح پاکش رفت در دا القرار
ہاتمی از قوت اوامل جہاں
نوحہ خواں اندر فراقش روزگار
تایکے ایں گریہ نالہ تا یکے
تابکے باشی حسن اشک بار
صبر کن، تاریخ رحلت خوش نویس
شد بجنت عالم عالی وقار
آپ تصانیف میں ” رسالہ شفاعت “ فضائل الشہود بیان علم عروض تدبیر معالجات مرضیٰ عربی فارسی اردو قصائد وغزلیات کا مجموعہ میں آپ کا تخلص جوش تھا ۔
(تذکرہ طیبہ، اکمل التاریخ حصہ دوم، تحفۂ حنفیہ پٹنہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-qayyum-shaheed-badayuni
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Abdul Qayyum Shaheed Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی: یوسف بن ایوب اور کنیت ابو یعقوب تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 441ھ میں موضع بوزنجرد (ہمدان کے نواحی علاقہ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں بغداد میں آئے ابواسحاق شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرکے فقہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اصولِ فقہ و مذہب میں مہارت تامہ حاصل ہو گئی ۔ قاضی ابو الحسنین محمد بن علی بن مہتدی باللہ، ابو الغنائم عبد الصمد بن علی بن مامون رحمہ اللہ علیہ، ابو جعفر بن احمد بن مسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے سماعِ حدیث کیا اور اصفہان و سمرقند کے مشائخِ حدیث سے بھی استفادہ کیا بعد ازیں سب کو ترک کرکے عبادت و ریاضت و مجاہدہ کو مطمعٔ نظر اور مقصدِ وحید بنا لیا ۔
بیعت و خلافت:
تصوف میں آپ کا انتساب حضرت ابو علی فارمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے ۔ اصفہان میں شیخ عبد اللہ جوینی نیشاپوری اور شیخ حسن سمنانی سے بھی خرقۂ خلاقت اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔ ان سب کے بعد حضرت ابو علی فارمدی کی خدمت میں فقر و سلوک کی منزلیں طے کیں ۔
سیرت و خصائص:
آپ عالم، عامل، عارف، زاہد، پرہیز گار، عابد، صاحبِ حال اور صاحبِ کرامت تھے اپنے وقت کے سر کردہ مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ خراسان میں مریدوں کی تربیت آپ جیسی کسی نے نہ کی ۔ آپ کی مجلس میں علماء، فقہاء و صلحاء کا بہت بڑا اجتماع رہتا تھا ۔ سب لوگ آپ کے ارشاد و کلام سے استفادہ کرتے تھے ۔ آپ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ تک مسند رشد و ہدایت پر متمکن رہے، کچھ عرصہ کوہِ زرا (خراسان کے نواح) میں بھی مقیم رہے اور سوائے نمازِ جمعہ کے کبھی باہر نہ نکلتے تھے ۔
آپ کے خلفاء میں سے چار کو بڑی شہرت ملی ۔ خواجہ عبد الخالق غجدوانی، خواجہ احمد یسوی، خواجہ احمد انداقی اور عبد اللہ برقی، مرو میں آپ کا قیام کافی عرصہ تک رہا، وہاں آپ کی خانقاہ میں جس قدر طالبانِ خدا تھے کسی دوسری خانقاہ میں نہ تھے ۔ مرو سے آپ ہرات تشریف لائے، کچھ عرصہ بعد پھر ہرات سے مرو چلے گئے ۔ بعد ازاں دوبارہ ہرات کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ کچھ مدت بعد پھر مرو چلے گئے۔ یہ آپ کا آخری سفر تھا ۔
غوث الاعظم کی آپ سے ملاقات:
حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی طرح حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اٹھارہ سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے اپنے وطن سے بغداد تشریف لائے تھے ۔ جب آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو چکے تو ایک روز حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اُن کی ملاقات ہوئی، جسے انہوں نے یوں سپرد قلم فرمایا ہے:
’’ بغداد میں ایک شخص ہمدان سے آیا جسے یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ وہ قطب ہیں ۔ وہ ایک مسافر خانے میں اُترے ۔ جب میں نے یہ حال سنا تو مسافر خانے میں گیا مگر اُن کو نہ پایا ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرداب میں ہیں ۔ پس میں وہاں پہنچا تو مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے پاس بٹھایا میرے تمام حالات مجھ سے ذکر کیے اور میری تمام مشکلات کو حل فرمایا پھر مجھ سے یوں ارشاد فرما ہوئے، ’’اے عبد القادر! تم لوگوں کو وعظ سنایا کرو‘‘۔
میں نے عرض کیا، آقا! میں عجمی ہوں، اہلِ بغداد کی فصاحت و بلاغت کے سامنے میری گفتگو کی کیا حیثیت ہے؟ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم کو اب فقہ، اصولِ فقہ، اختلافِ مذاہب، نحو، لغت اور تفسیر قرآن یاد ہے ۔ تم میں وعظ کہنے کی صلاحیت و قابلیت موجود ہے ۔ برسرِ منبر لوگوں کو وعظ سنایا کرو کیونکہ میں تم میں ایک جڑ دیکھ رہا ہوں جو عنقریب درخت ہو جائے گا‘‘ ۔
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی اُن مشائخ کبار میں سے ہیں جن کی صحبت میں حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ جیسے لوگ بھی حاضر ہوتے رہے ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات 17 رجب 526ھ / 1142ء بعمر شریف 95 برس ہرات اور بغشور کے درمیان موضع بامئین میں ہوئی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے ایک مریدِ خاص شیخ ابن النجار (بعض جگہوں پر ابن التجار بھی لکھا ہے) نے آپ کے جسدِ مبارک کو شہر مرو میں لے جاکر دفن کردیا جہاں آج مزار مقدس موجود ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-hamdani
نام و نسب:
آپ کا نامِ نامی اسم گرامی: یوسف بن ایوب اور کنیت ابو یعقوب تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 441ھ میں موضع بوزنجرد (ہمدان کے نواحی علاقہ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں بغداد میں آئے ابواسحاق شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرکے فقہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اصولِ فقہ و مذہب میں مہارت تامہ حاصل ہو گئی ۔ قاضی ابو الحسنین محمد بن علی بن مہتدی باللہ، ابو الغنائم عبد الصمد بن علی بن مامون رحمہ اللہ علیہ، ابو جعفر بن احمد بن مسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے سماعِ حدیث کیا اور اصفہان و سمرقند کے مشائخِ حدیث سے بھی استفادہ کیا بعد ازیں سب کو ترک کرکے عبادت و ریاضت و مجاہدہ کو مطمعٔ نظر اور مقصدِ وحید بنا لیا ۔
بیعت و خلافت:
تصوف میں آپ کا انتساب حضرت ابو علی فارمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہے ۔ اصفہان میں شیخ عبد اللہ جوینی نیشاپوری اور شیخ حسن سمنانی سے بھی خرقۂ خلاقت اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔ ان سب کے بعد حضرت ابو علی فارمدی کی خدمت میں فقر و سلوک کی منزلیں طے کیں ۔
سیرت و خصائص:
آپ عالم، عامل، عارف، زاہد، پرہیز گار، عابد، صاحبِ حال اور صاحبِ کرامت تھے اپنے وقت کے سر کردہ مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ خراسان میں مریدوں کی تربیت آپ جیسی کسی نے نہ کی ۔ آپ کی مجلس میں علماء، فقہاء و صلحاء کا بہت بڑا اجتماع رہتا تھا ۔ سب لوگ آپ کے ارشاد و کلام سے استفادہ کرتے تھے ۔ آپ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ تک مسند رشد و ہدایت پر متمکن رہے، کچھ عرصہ کوہِ زرا (خراسان کے نواح) میں بھی مقیم رہے اور سوائے نمازِ جمعہ کے کبھی باہر نہ نکلتے تھے ۔
آپ کے خلفاء میں سے چار کو بڑی شہرت ملی ۔ خواجہ عبد الخالق غجدوانی، خواجہ احمد یسوی، خواجہ احمد انداقی اور عبد اللہ برقی، مرو میں آپ کا قیام کافی عرصہ تک رہا، وہاں آپ کی خانقاہ میں جس قدر طالبانِ خدا تھے کسی دوسری خانقاہ میں نہ تھے ۔ مرو سے آپ ہرات تشریف لائے، کچھ عرصہ بعد پھر ہرات سے مرو چلے گئے ۔ بعد ازاں دوبارہ ہرات کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ کچھ مدت بعد پھر مرو چلے گئے۔ یہ آپ کا آخری سفر تھا ۔
غوث الاعظم کی آپ سے ملاقات:
حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی طرح حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اٹھارہ سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے اپنے وطن سے بغداد تشریف لائے تھے ۔ جب آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو چکے تو ایک روز حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اُن کی ملاقات ہوئی، جسے انہوں نے یوں سپرد قلم فرمایا ہے:
’’ بغداد میں ایک شخص ہمدان سے آیا جسے یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ وہ قطب ہیں ۔ وہ ایک مسافر خانے میں اُترے ۔ جب میں نے یہ حال سنا تو مسافر خانے میں گیا مگر اُن کو نہ پایا ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرداب میں ہیں ۔ پس میں وہاں پہنچا تو مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے پاس بٹھایا میرے تمام حالات مجھ سے ذکر کیے اور میری تمام مشکلات کو حل فرمایا پھر مجھ سے یوں ارشاد فرما ہوئے، ’’اے عبد القادر! تم لوگوں کو وعظ سنایا کرو‘‘۔
میں نے عرض کیا، آقا! میں عجمی ہوں، اہلِ بغداد کی فصاحت و بلاغت کے سامنے میری گفتگو کی کیا حیثیت ہے؟ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم کو اب فقہ، اصولِ فقہ، اختلافِ مذاہب، نحو، لغت اور تفسیر قرآن یاد ہے ۔ تم میں وعظ کہنے کی صلاحیت و قابلیت موجود ہے ۔ برسرِ منبر لوگوں کو وعظ سنایا کرو کیونکہ میں تم میں ایک جڑ دیکھ رہا ہوں جو عنقریب درخت ہو جائے گا‘‘ ۔
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی اُن مشائخ کبار میں سے ہیں جن کی صحبت میں حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ جیسے لوگ بھی حاضر ہوتے رہے ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات 17 رجب 526ھ / 1142ء بعمر شریف 95 برس ہرات اور بغشور کے درمیان موضع بامئین میں ہوئی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے ایک مریدِ خاص شیخ ابن النجار (بعض جگہوں پر ابن التجار بھی لکھا ہے) نے آپ کے جسدِ مبارک کو شہر مرو میں لے جاکر دفن کردیا جہاں آج مزار مقدس موجود ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-hamdani
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abu Yousuf Hamdani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1