🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-07-1444 ᴴ | 08-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا شاہ خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت مولانا شاہ خیر الدین دہلوی ۔ لقب: امام العلماء، شیخ العرب والعجم، مہلک الوہابیین، تخلص: خیوری ۔ والد کا اسم گرامی: مولانا شیخ محمد ہادی دہلوی بن مولانا شیخ محمد احسن، شاگرد رشید مفتی صدر الدین آزردہ ۔ مشہور عالم و مدرس مولانا منور الدین دہلوی (تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی) آپ کے نانا محترم ہیں، مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب " تفویۃ الایمان " کا رد شاہ صاحب کے حکم پر سب سے پہلے آپ نے ہی فرمایا تھا ۔

مولانا خیر الدین کی اہلیہ محترمہ مفتیِ مدینہ منورہ شیخ محمد علی بن ظاہر الوتری کی بھانجی تھیں، آپ مکۃ المکرمہ کے آخری محدث تھے، آپ کے بعد اس درجے کا کوئی محدث میں پیدا نہیں ہوا ۔ مولانا خیر الدین علیہ الرحمہ صدیقی النسب تھے، اور ہند کے ممتاز علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:85 / مقدمہ رسائل علامہ خیر الدین دہلوی، ص:12) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1247ھ / مطابق 1831ء کو "دہلی" میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
چار سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا، کچھ ہی عرصہ کے بعد والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں ۔ چنانچہ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے نانا مولانا منور الدین دہلوی کی زیر نگرانی ہوئی، مولانا منور الدین کے اپنے وقت کے جید علماء کرام سے گہرے روابط تھے، لہٰذا مولانا خیر الدین کو چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کا موقع ملا ۔

مولانا مفتی منور الدین کے علاوہ صدر الصدور دہلی مفتی محمد صدر الدین آزردہ، امام علم و حکمت، مجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی، حضرت شاہ محمد یعقوب دہلوی، شاہ محمد حلیم بلگرامی، مولانا محمد کریم (لال کوئیں والے)، مولانا محمد عمر، مولانا رشید الدین، نیز شیخ عبد اللہ سراج مدنی، اور امام المحدثین شیخ محمد علی بن ظاہر وتری ۔ علیہم الرحمہ ۔ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔

اس کے علاوہ آپ نے مختلف فنون بھی سیکھے، مثلاً پنجہ کشی میر پنجہ کش سے، تیراکی میر مچھلی سے، تیر اندازی قلعہ معلی کے ایک استاد سے ۔ اسی طرح کشتی لڑنا سیکھا ۔ حافظ امام بخش خط نستعلیق کے امام تھے، ان سے کوش نویسی سیکھی ۔ نشانہ اندازی، شمشیر زنی، اور لکڑی کی کاری گری بھی سیکھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں صاحبِ مجاز تھے ۔ آپ کے شیخ کا نام معلوم نہیں ہو سکا ۔

سیرت و خصائص:
شیخ العرب والعجم، استاذ الحرمین، محدث الحرمین، مجمع البحرین، امام الکل، جامع شریعت و طریقت، امام اہلسنت، ماحیِ بدعت، حامیِ دینِ مصطفیٰ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، صاحبِ اوصاف کثیرہ، امام الہدیٰ، عارف باللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، حضرت علامہ مولانا شاہ خیر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے جید اور عظیم علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ کی ذات عرب و عجم، شرق و غرب میں مرجعِ خلائق ، اور معروف تھی ۔ حرمین شریفین میں آپ کا وعظ ہوا کرتا تھا، آپ پہلے ہندوستانی عالم تھے، جن کو یہ شرف حاصل ہوا، آپ کے درس میں پوری دنیا کے مسلمان شریک ہو کر اپنے قلب کو منور کرتے تھے ۔ آپ کی شادی محدث حرم حضرت شیخ محمد علی بن ظاہر وتری کی بھانجی سے ہوئی، اور مکۃ المکرمہ میں مکان تعمیر کرایا اور وہیں مستقل رہنے لگے ۔

شیخ الاسلام احمد زینی وحلان کے ہمراہ قسطنطنیہ گئے، وہاں دو سال قیام رہا، ترکی زبان کی تحصیل کا شوق ہوا، ایک سال قونیہ میں قیام کیا، اس کے بعد ایک برس مصر میں رہ کر مکہ مکرمہ واپس آئے کچھ عرصہ کے لیے بمبئی آئے، یہیں سے بغداد مقدس کا سفر کیا ـ

اُس زمانہ میں سیدنا عبد الرحمٰن قدس سرہٗ نقیب الاشراف تھے، اُن کے مہمان ہوئے، نقیب الاشراف، آلوسی زادہ صاحب تفسیر روح المعانی کے شاگرد تھے، اور غایت درجہ ان کے مداح تھے ـ

تفسیر کا مسودہ مولانا کو دکھایا گیا، آپ نے کمالِ حق گوئی دکھائی، مطالعہ کے بعد صاف کہہ دیا کے اس سے اعتزال کی بو آتی ہے ـ

نقیب الاشراف اور ان جیسے دوسرے شاگردوں پر یہ بہت گراں گذری، آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ نکال کر دِکھایا، کہ علامہ آلوسی زادہ نے وجود خضر سے انکار کیا ہے، اور ان کے تمام استدلال معتزلہ کے دلائل و براہین سے ماخوذ ہیں، اُن کے علاوہ دیگر گیارہ مقامات دکھائے نقیب الاشراف وغیرہ آپ کے اعتراضات سے متفق ہو گئے، اور خواہش کی کہ آپ ان استدر کات کو قلم بند فرما دیں ۔

یہ استدار کات روح المعانی کے آخر میں آپ کے نام کی صراحت کے ساتھ مطبوعہ نسخے میں شامل ہیں، چھ ماہ قیام کے بعد بمبئی واپس آئے، اور کچھ دنوں بعد پھر مکہ مکرمہ چلے گئے ۔
1👍1