🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-07-1444 ᴴ | 07-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ترکی و شام میں زلزلہ 😢
15-07-1444 ᴴ | 07-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-07-1444 ᴴ | 07-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ترکی و شام میں زلزلہ 😢
15-07-1444 ᴴ | 07-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔
حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔
دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔
موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری ۔ کنیت: ابو الخیر ۔لقب: فقیہِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فقیہِ اعظم مولانا مفتی نور اللہ بصیر پوری بن حضرت علامہ مولانا الحاج ابو النور محمد صدیق چشتی بن حضرت مولانا احمد دین ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا تعلق ارائیں خاندان کے ایک ایسے علمی و روحانی گھرانے سے ہے، جونسلاً بعد نسل علوم اسلامیہ کا امین چلا آرہا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 16 رجب المرجب 1332ھ، مطابق 10 جون 1914ء کو تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد زبدۃ الاصفیاء مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی علیہ الرحمۃ (م 1380ھ/1961ء) اور جد امجد حضرت مولانا احمد دین علیہ الرحمہ (م1361ھ/1942ء) سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی، پھر متحدہ ہندوستان کے مختلف مدارس کا رُخ کیا اورخداداد صلاحیت، ذاتی لگن اور محنت کی بنا پر علم کے کوہ ہمالیہ بن گئے۔علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کے بعد 1351ھ/1933ء میں مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری علیہ الرحمہ (م1354ھ/1935ء) اور مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد قادری علیہ الرحمۃ (م 1398ھ / 1978ء) سے دورہ حدیث شریف پرھا ۔
حضرت محدث الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث پڑھنے والوں کو اکثر فرمایا کرتے۔ "اس بار تم مولانا محمد نور اللہ صاحب کی طفیل پڑھ رہے ہو"۔
دورۂ حدیث مکمل کرنے کے بعد 6 شعبان 1352ھ / بمطابق 23 نومبر 1933ء کو سندو دستار فضیلت عطا کی گئی ۔ اس موقع پر امام اہل سنت محدث الوری علیہ الرحمۃ نے آپ کو مطبوعہ سند کے علاوہ خصوصی اسناد سے بھی نوازا اور"ابو الخیر" کنیت عطا فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ صدر الافاضل بدر المماثل مفسر قرآن، محافظ نظریۂ پاکستان حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور تمام علوم و سلاسل کی اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجمع علم عرفاں، شیخ الحدیث والتفسیر، حجۃ الاسلام، محدث دوراں، فقیہ العصر، فقیہ النفس، مفتیِ اعظم، حضرت فقیہ اعظم ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں، جن کا دوام جریدۂ عالم پرثبت ہو چکا ہے ۔ اعلیٰ اوصاف اور متنوع القاب میں سے "فقیہ اعظم" کا لقب زبان زد خاص و عام ہے ۔ اب فقیہ اعظم کہا جائے تو اہل علم اس سے آپ ہی کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم نے اپنی فطری ذکاوت و ذہانت سے زمانہ طالب علمی میں ذاتی مطالعہ سے کم و بیش پچاس و فنون میں وہ مہارت حاصل کی کہ باید و شاید۔ آپ کے اساتذہ بھی کی علمی استعداد اور صلاحیت و قابلیت کے متعرف تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز نے تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز اپنے دور کی نادر روزگار شخصیت تھے، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، تنظیم و سیاست اور ہمت و استقامت میں یکتائے روزگار تھے۔ یوں تو تفسیر، حدیث اور دیگر تمام مروج علومِ دینیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے لیکن فقہ میں آپ کو تخصص کا درجہ حاصل تھا، اس لیے آپ کےہم عصر اکابر علماء نے آپ کو" فقیہ اعظم" تسلیم کیا ۔
حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ العزیز فتویٰ نویسی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، آپ کی ذات مرجع خلائق تھی، ملک و بیرون ملک کے لوگ استفتاء ات میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ ایک فقیہ اور مفتی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ تمام تر آپ میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ آپ کو اللہ جل شانہ نے مجتہدانہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں ۔
موجودہ دور کے چیلنجوں کانہ صرف مقابلہ کیا بلکہ شریعت کی روشنی میں ان کاحل بھی پیش کیا ۔ ان کا چنانچہ ایک جگہ علماء کو دعوت فکر و عمل دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:"کیا تازہ حوادثات و نوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکلصُمٌّ بُکۡمٌبن جائیں اور عملاً اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے۔ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزارہا تقاضوں کا کوئی حل نہیں۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مقاد و منشاء سے جائز و مباح کہنا ہر گز جائز نہیں مگر شرعاً اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں، غرض یہ کہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علمائے کرام محض اللہ تعالیٰ کے لیے نفسانیت سے بلند و بالا سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کر سکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔" (فتاویٰ نوریہ، جلد 3، صفحہ 533) ـ
❤1👍1
حضرت فقیہ اعظم اعلیٰ اخلاق و کرادار کے حامل تھے۔ ان کے قول و فعل میں کامل ہم آہنگی تھی۔ آپ با وقار، بارعب اور پر کشش شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بچوں پر رحمت، طلبہ پر شفقت اور بزرگوں سے مودّت فرمایا کرتے تھے۔ اخلاقیات میں صاحب خلق عظیم کے مظہر اتم تھے۔ شخصیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ کی ذات شرافت و منانت، جرات و استقلال، ہمدردی، خیر خواہی، حلم و برد باری، بے لوثی و فرض شناسی، عالی ظفر،علم و عمل، تواضع و انکسار خشیت الہیہ جیسی صفات سے متصف تھی۔ آپ سلف صالحین کی کامل تصویر تھے۔
آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔
حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔
تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
آپ کی زندگی کی خصوصیات میں اہم بات یہ ہے کہ آپ سادہ منش، کم گو، دل کے کھرے اور شہرت و ذاتی نمائش سے بے نیاز تھے۔ شہری زندگی کے ہمہموں اور ظاہریت کے رکھ رکھاؤ سے دور، فطری اور صاف ستھرے ماحول میں رہ کر دین متین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے زندگی بسر کر ڈالی۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی، خطابت و امامت اور بہت بڑے ادارے کے جملہ انتظامی امور کی نگہداشت کے عوض تنخواہ یا اجرت لینے کے روادارنہ ہوئے بلکہ جملہ دینی خدمات محض رضائے الہی کی خاطر مفت سر انجام دیتے رہے۔انہی اوصاف کے پیش نظر استاذ الاساتذہ حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمۃ نے آپ کو "مجدد وقت" قرار دیا۔ شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی علیہ الرحمہ نے آپ کو "آیت من آیات اللہ" کہا اور شہباز خطابت زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ (آلو مہار شریف) نے آپ کو "دور حاضر کا امام ابو حنیفہ" قرار دیا ۔
حضرت فقیہ اعظم فنافی الرسول ﷺ اور فنافی حب المدینہ تھے۔ آپ کی محفل میں حاضری سے شرف یاب ہونے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذکر سےآنکھوں سے آنسؤوں کے چشمے ابلنے لگتے، ایسا محسوس ہوتا کہ محبوب پاک ﷺ کے جمال جہاں آراء کے دیدار میں محو ہیں۔ مولانا حافظ محمد اسد اللہ نوری کے نام ایک مکتوب گرامی میں اسی حقیقت کو یوں منکشف فرماتے ہیں: "میرا تو بفضلہٖ تعالیٰ یہ عالم ہے کہ بصیر پور میں درس اسباق دیتے ہوئے مدینہ عالیہ میں ہی حاضر معلوم ہوتا ہوں۔ گنبد خضراء پیش نظر رہے تو کوئی دوری نہیں ۔ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کہ صوفی بے علم شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے، ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ ہر وقت مدینہ عالیہ حاضری رہے"۔ (مکتوب محررہ، 18 - اکتوبر 1979ء) کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ظاہری بے سرو سامانی کے باوجود بارگاہ حبیب ﷺ سے بلاوا آ گیا، اور مدینۃ المنورہ میں بارگاہِ حبیب ﷺ میں حاضر ہو گئے ۔
تاریخِ وصال:
یکم رجب المرجب 1403ھ بمطابق 15 اپریل 1983ء، بروز جمعۃ المبارک، دو پہر ایک بجے وصال فرمایا۔آپ کی آخری آرامگاہ بصیر پورشریف ضلع ساہیوال پنجاب پاکستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-noorullah-naeemi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Muhammad Noorullah Naeemi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
نام: رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدر الدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ، 9 رمضان المبارک 649ھ / بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لے کر تکمیل تک، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت، آپ کے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِ نا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
" خاندانِ غوثیہ " کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں، اور روزانہ قرآنِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے ۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے ۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلے جو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ " اللہ جل جلالہ " کا اسم گرامی تھا ۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے ۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے ۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے ۔ کشفِ قلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے ۔ اس واسطے لوگوں میں آپ " قبلۂ حاجات " مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے ۔
علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، برد باری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ و محاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لئے تھے کہ آپ کو " ابو الفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتے تھے ۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے ۔
کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں ۔
وصال:
16 رجب المرجب 735ھ / بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
نام و نسب:
نام: رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدر الدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ، 9 رمضان المبارک 649ھ / بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لے کر تکمیل تک، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت، آپ کے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِ نا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
" خاندانِ غوثیہ " کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں، اور روزانہ قرآنِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے ۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے ۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلے جو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ " اللہ جل جلالہ " کا اسم گرامی تھا ۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے ۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے ۔ ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے ۔ کشفِ قلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے ۔ اس واسطے لوگوں میں آپ " قبلۂ حاجات " مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے ۔
علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، برد باری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ و محاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لئے تھے کہ آپ کو " ابو الفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتے تھے ۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے ۔
کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں ۔
وصال:
16 رجب المرجب 735ھ / بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ruknuddin Abul Fath
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1👍1