🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: حضرت علی مرتضیٰ
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت علی مشکل کشا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت علی مشکل کشا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
❤2👍1
حصول علم کے بعد تبلیغ دین اور فروغِ حبّ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ریاست بہالپور میں دھوم مچادی، آپ اپنی تقریروں میں قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ کی تلاوت اس خوش الحانی سے کرتے کہ پوری محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی، اپنی سحر آفرین تقریروں میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے فارسی اور سرائیکی اشاعر کا بر محل استعمال اس قدر شیریں لسانی سے کرتے کہ خطاب دو آتشہ ہو جاتا، آہستہ آہستہ آپ پنجاب اور بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچے اور اپنی وجد آفریں تقریروں سے لوگوں کو گرمایا اور تڑپا دیا ۔
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Yaar Garhi Sharif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت سید برہان الدین قطب عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت قطب عالم، عالم میں مشہور ہوئے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری کے پوتے ہیں ۔
نام:
آپ کا نام سید برہان الدین ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب "قطب عالم" ہے، اسی لقب سے آپ مشہور ہوئے ۔
گجرات میں آمد:
آپ وطن سےہجرت کرکے گجرات تشریف لے گئے اور گجرات ہی کو اپنی رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔
وصال:
آپ نے ۸ ذی الحجہ ۸۵۷ھ کو انتقال فرمایا ۔ ۱؎ مزار مبارک بتوہ میں ہے، جو احمد آباد کے قریب ہے ۔
سیرت:
ترک و تجرید میں یگانۂ روز گار تھے
عشق الٰہی میں سرشار تھے ۔
کرامات:
ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ پانی میں تشریف لے گئے، آپ کے پیروں میں کوئی چیز لگی، چوٹ کا لگنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ کس چیز سے چوٹ لگی، کیا یہ پتھر ہے یا لوہا ہے یا لکڑی" ۔
چنانچہ اس پتھر میں تینوں چیزیں پیدا ہو گئیں، پتھر کی صفت بھی اس میں ہے، لوہا بھی اور لکڑی بھی ۔
حواشی:
۱؎ اخبار الاخیار (اردو ترجمہ) ص:۲۳۴
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-burhanuddin-qutb-e-alam
حضرت قطب عالم، عالم میں مشہور ہوئے۔
خاندانی حالات:
آپ مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری کے پوتے ہیں ۔
نام:
آپ کا نام سید برہان الدین ہے ۔
لقب:
آپ کا لقب "قطب عالم" ہے، اسی لقب سے آپ مشہور ہوئے ۔
گجرات میں آمد:
آپ وطن سےہجرت کرکے گجرات تشریف لے گئے اور گجرات ہی کو اپنی رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔
وصال:
آپ نے ۸ ذی الحجہ ۸۵۷ھ کو انتقال فرمایا ۔ ۱؎ مزار مبارک بتوہ میں ہے، جو احمد آباد کے قریب ہے ۔
سیرت:
ترک و تجرید میں یگانۂ روز گار تھے
عشق الٰہی میں سرشار تھے ۔
کرامات:
ایک دن کا واقعہ ہے کہ آپ پانی میں تشریف لے گئے، آپ کے پیروں میں کوئی چیز لگی، چوٹ کا لگنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ کس چیز سے چوٹ لگی، کیا یہ پتھر ہے یا لوہا ہے یا لکڑی" ۔
چنانچہ اس پتھر میں تینوں چیزیں پیدا ہو گئیں، پتھر کی صفت بھی اس میں ہے، لوہا بھی اور لکڑی بھی ۔
حواشی:
۱؎ اخبار الاخیار (اردو ترجمہ) ص:۲۳۴
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-burhanuddin-qutb-e-alam
scholars.pk
Hazrat Sheikh Syed Burhanuddin Qutb e Alam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
نام و نسب:
کنیت: ام الحکم ـ ابتدائی نام: برہ تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے زینب رکھدیا ۔
سلسلسۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنتِ جحش بن رباب بن یعمر بن صبیرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دَودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ ۔والدہ کا نام: امیمہ بنتِ عبد المطلب۔یہ رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کی پھوپھی زاد ہوئیں۔
ابتدائی زندگی:
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو ﷺ کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیئے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور ﷺ سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔
شرفِ ام المؤمنین:
جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی تو چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لئے آپ تامل فرماتے رہے،لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِیۡ فِیۡ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیۡہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ ۚ وَ اللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشٰىہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰیزَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوٰجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنےکا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا ہے۔(سورۃ الاحزاب:37)
اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سےماہِ ذیقعد،5/ھ میں نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں۔
فضائل و خصائل:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے: کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بعد از نکاح ،ازواجِ رسول ﷺ پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرماتی تھیں :کہ تمہارے نکاح تو تمہارے متولیوں نے پڑھائےہیں،لیکن میرانکاح خود خدائے ذوالجلال نے عرشِ مجید پر سر انجام دیا ہے،اور حضور نبیِ کریم ﷺ نے میر ے ولیمے پر روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بڑی عبادت گزار اورکریم النفس تھیں،آپ ہنر مند تھیں ،اس لئے جو کچھ کماتی تھیں اللہ کی راہ میں صرف کردیتی تھیں،اسی طرح بیت المال سے جو کچھ آتا تھا وہ بھی غربا میں تقسیم کردیا کرتی تھیں ۔
اس نکاح پر کفارِ مکہ نے بڑی حاشیہ آرائی اور غوغا کیا کہ محمد ﷺنے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرکے حرام کو حلال کرلیا ہے،لیکن قرآن نے"مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٌ مِّن رِّجَالِکُم" کہہ کر دشمنوں کے منہ پر ایک چپت رسید کردی،اور صاف صاف فرمادیا،"اُدعُوھُم لِاٰبَاءِھِم ھُوَاَقسَطُ عِندَ اللہِ" اس کے بعد زید بن محمد ،زید بن حارثہ ہو گئے ۔
نام و نسب:
کنیت: ام الحکم ـ ابتدائی نام: برہ تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے زینب رکھدیا ۔
سلسلسۂ نسب اس طرح ہے:
زینب بنتِ جحش بن رباب بن یعمر بن صبیرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دَودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ ۔والدہ کا نام: امیمہ بنتِ عبد المطلب۔یہ رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپﷺ کی پھوپھی زاد ہوئیں۔
ابتدائی زندگی:
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو ﷺ کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیئے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور ﷺ سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔
شرفِ ام المؤمنین:
جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی تو چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لئے آپ تامل فرماتے رہے،لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ ﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیۡہِ اَمْسِکْ عَلَیۡکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِیۡ فِیۡ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیۡہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ ۚ وَ اللہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخْشٰىہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰیزَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوٰجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللّٰہ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللّٰہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنےکا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا ہے۔(سورۃ الاحزاب:37)
اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سےماہِ ذیقعد،5/ھ میں نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں۔
فضائل و خصائل:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے روایت ہے: کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بعد از نکاح ،ازواجِ رسول ﷺ پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرماتی تھیں :کہ تمہارے نکاح تو تمہارے متولیوں نے پڑھائےہیں،لیکن میرانکاح خود خدائے ذوالجلال نے عرشِ مجید پر سر انجام دیا ہے،اور حضور نبیِ کریم ﷺ نے میر ے ولیمے پر روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا بڑی عبادت گزار اورکریم النفس تھیں،آپ ہنر مند تھیں ،اس لئے جو کچھ کماتی تھیں اللہ کی راہ میں صرف کردیتی تھیں،اسی طرح بیت المال سے جو کچھ آتا تھا وہ بھی غربا میں تقسیم کردیا کرتی تھیں ۔
اس نکاح پر کفارِ مکہ نے بڑی حاشیہ آرائی اور غوغا کیا کہ محمد ﷺنے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرکے حرام کو حلال کرلیا ہے،لیکن قرآن نے"مَاکَانَ مُحَمَّدٌاَبَااَحَدٌ مِّن رِّجَالِکُم" کہہ کر دشمنوں کے منہ پر ایک چپت رسید کردی،اور صاف صاف فرمادیا،"اُدعُوھُم لِاٰبَاءِھِم ھُوَاَقسَطُ عِندَ اللہِ" اس کے بعد زید بن محمد ،زید بن حارثہ ہو گئے ۔
❤1👍1
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے: کہ حضورِاکرمﷺ نے فرمایا :کہ میری وفات کے بعد تم میں سے سب سے پہلے وہ خاتون مجھ سے آملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہونگے،اس لئے ہم باہم ہاتھوں کی لمبائی ناپا کرتی تھیں(کہ کون سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کریگی)(ہاتھ لمبے مراد سخاوت تھی) جب ام المؤمنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنھا کا انتقال ہو اتو پھر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی مراد سخاوت و فیاضی تھی ۔لیکن چونکہ زینب بکثرت انفاق فی سبیل اللہ کیا کرتی اس لئے ہاتھ اسی کے لمبے تھے،اور پھر فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی خاتون اتنی کریم النفس،متقی اور راستگو زندگی بھر نہیں دیکھی۔
رسول ِ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ میں نے زینب سے بڑھ کر (عورتوں میں) کسی کو خضوع خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ (ام المؤمنین ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں) ـ
وصال:
آپکا انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا ۔اس وقت آپ کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔ اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن حجش اور عبداللہ بن ابو احمد بن جحش نے انہیں قبر میں اتارا یہ پہلی خاتون ہیں، جن کے لئے تابوت تیار کیا گیا، اور آپ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-jahsh
رسول ِ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ میں نے زینب سے بڑھ کر (عورتوں میں) کسی کو خضوع خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ (ام المؤمنین ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں) ـ
وصال:
آپکا انتقال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا ۔اس وقت آپ کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا۔ اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن حجش اور عبداللہ بن ابو احمد بن جحش نے انہیں قبر میں اتارا یہ پہلی خاتون ہیں، جن کے لئے تابوت تیار کیا گیا، اور آپ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-zainab-bint-jahsh
scholars.pk
Wife of Holy Prophet Muhamamd Hazrat Zainab Bint Jahsh
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1