🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: حضرت علی مرتضیٰ
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت مولیٰ علی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت مولیٰ علی
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت: حضرت علی مرتضیٰ
13-07-1444 ᴴ | 05-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت علی مشکل کشا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: حضرت علی مشکل کشا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد یار ۔ تخلص: محمد اور بلبل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا خواجہ محمد یار فریدی بن مولانا عبد الکریم بن محمد یار بن محمد حسن بن محمد کبیر بن قاضی محمد محسن بن قاضی ابو العلی محمد یعقوب بن محمد یوسف بن ولی محمد ۔الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت زید بن عون بن مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واسطے سے خاندان بنی ہاشم تک پہنچتا ہے ۔ آپ کا خاندانی تعلق "قطب شاہی اعوان" سے ہے ۔ (بہار چشت، ص:161) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1300ھ / مطابق 1883ء کو "گڑھی اختیار خان" ضلع رحیم یار خان میں مولانا عبد الکریم کے گھر ہوئی ۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، اس کے بعد جلال پور میں قرآن مجید، اور فارسی کی ابتدائی چند کتابیں پڑھیں، ابتدائی اساتذہ میں مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد حیات اور مولانا تاج محمود شامل تھے ۔ اس کے بعد چاچڑاں شریف میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے مدرسے میں داخل ہوئے، اور علوم دینیہ کی تحصیل کی اور 19سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کرلی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم کی خدمت میں رہ کر دس سال تک کسبِ فیض کیا اور ان کے وصال کے بعد ایک زمانہ تک ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد معین الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہے اور اجازت و خلافت سے مشرف ہوکر اپنے وطن گڑھی اختیار خاں چلے گئے اور علوم و معارف کے دریا بہا دئے ۔
سیرت و خصائص:
سفیر عشقِ مصطفیٰﷺ، عاشقِ خیر الوریٰ، صاحبِ علم الہدیٰ، واعظِ خوش مقال، یادگار اسلاف، پرورۂ نگاہِ حضرت خواجہ معین، فیض یافتہ حضرت خواجہ غلام فرید، حافظِ مثنوی مولائے روم، محسن اہلسنت، حضرت علامہ مولانا خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ تمام علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی، لیکن آپ کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ، اور فن خطابت میں جو شہرت و مقام حاصل ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ پنجاب میں بالعموم اور پورے ہندوستان میں بالخصوص آپ کے مواعظِ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔ اس وقت کوئی بھی بڑا پروگرام آپ کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا ۔
ایک مرتبہ تو بریلی شریف میں امام اہلسنت کی موجودگی میں بیان فرمایا، ابھی خطبہ ہی شروع کیا تھا کہ امام اہل سنت نے اٹھ کر آپ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا اور فرمایا: "سرِ آمد واعظینِ پنجاب" ۔ (بہارِ چشت، ص:187) ـ
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی فرماتے ہیں: ملک کے ہزارہا قصبات میں سے ایک گڑھی اختیار خان ہے، مگر اس قصبے کو ایک لا زوال شہرت حاصل ہے کہ اس کی آغوش میں اپنے دور کا ایک جادو بیان خطیب، درد و سوز کا سفیر، اسلاف کی روایات کا امین، بستانِ فرید کا بلبل، روشن ضمیر صوفی، عشق و محبت کا پیکر، مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے خاموش الفاظ کو نطق آشنا کرنے والا شیریں مقال واعظ، اور مٹی و ریت کے ذروں میں عشق کا بارود بھر دینے والا مردِ قلندر آسودہ ہے جس کی لحد، زیارت گاہ اہل کیف و مستی کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس گمنام قصبے کی ساری بہاریں اس ایک شخص کے تصور سے ہیں جو عمر بھر درد کی دولت تقسیم کرتا رہا جو لوگوں میں ذوق ابھارتا رہا، جو عشق کا درس دیتا رہاجو اپنے سوز میں ہر ایک کو شریک کرتا رہا اور جو اپنے ساز زندگی پر حسن کے نغمے ترتیب دیتا رہا اور ان نغموں سے دل کے اتاروں میں اب تک تھر تھراہٹ ہے، اگرچہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے متعدد نمایاں پہلو ہیں، ایک صوفی بزرگ، پختہ کار شاعر، روش خیال عالم دین، یہ سب ان کی طر حدار شخصیت کی جھلکیاں ہیں مگر میرے نزدیک ان کا سحر البیان خطیب ہونا بہت ممتاز اور روشن تعارف اور ان کی حکایت میں تصوف شعر و سخن کی چاشنی اور علم کا وقار سبھی موجود ہے ۔ (ایضاً)
❤2👍1
حصول علم کے بعد تبلیغ دین اور فروغِ حبّ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ریاست بہالپور میں دھوم مچادی، آپ اپنی تقریروں میں قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ کی تلاوت اس خوش الحانی سے کرتے کہ پوری محفل پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی، اپنی سحر آفرین تقریروں میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے فارسی اور سرائیکی اشاعر کا بر محل استعمال اس قدر شیریں لسانی سے کرتے کہ خطاب دو آتشہ ہو جاتا، آہستہ آہستہ آپ پنجاب اور بر صغیر کے کونے کونے میں پہنچے اور اپنی وجد آفریں تقریروں سے لوگوں کو گرمایا اور تڑپا دیا ۔
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
لاہور، اجمیر، امر تسر، دہلی اور دیگر مقامات پر بزرگان دین کے اعراس اور دینی محفلوں میں آپ کا خطاب خصوصی توجہ اور اشتیاق سے سنا جاتا اور سامعین مہینوں اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتے تھے ۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ان کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا، یہی وجہ ہے کہ ایک جہاں ان کی خوش الحانی جادو بیانی اور گرمی گفتار کا معترف اور گواہ ہے ۔ آپ کا اصل تعارف تاجدارِ مدینہ سرور کائنات ﷺ کی سچی محبت ہے اور پھر ساری زندگی عشق مصطفیٰ ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے رہے ۔
مولانا سید فاروق القادری فرماتے ہیں: "سرور عالم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بھی یہی تھا کہ ان پاکیزہ اوصاف اور احکام کی تبلیغ و ترویج کی جائے جن پر آپ ﷺ فائز تھے، اس حیثیت سے ہم دیکھتے ہیں تو خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اسوۂ رسول ﷺ کی تصویر تھی آپ کا بیشتر وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی قیل و قال میں گزرتا، آپ نے زندگی ایک عام فرد کی حیثیت سے بسر کی عام آدمیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا سب لوگوں کو حتی الامکان راضی رکھنے کی کوشش کرنا اپنے لیے امتیازی علامت قائم نہ کرنا اہل بیت اور مشائخ کے خانوادوں کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا دینا، اپنی دوستی دشمنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو معیار بنانا آپ کی ایسی خصوصیات ہیں جنہیں محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں اپنایا جا سکتا ۔ (بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار اور عشق رسول ﷺ) ـ
ڈاکٹر الطاف حسین جہانیاں، حضرت خواجہ محمد یار رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں: آپ بڑے قادر الکلام شاعر تھے، آپ کے کلام میں سادگی، مقامی رنگ، وعظ و نصیحت، درد و غم، سوز و گداز، تغزل، ترنم و موسیقیت مضمون آفرینی، نازک خیالی اور جدت ادا نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ آپ کی ساری شاعری تصوف، وحدۃ الوجود، نعتِ حبیب ﷺ مدح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور منقت اولیائے کرام پر مشتمل ہے ۔ (بہار چشت، بحوالہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی شخصیت و کلام) ـ
وصال:
آپ کا وصال 1948ء کو لاہور میں ہوا ۔ اس وقت حالات کے پیش نظر حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ کی دیوارکے ساتھ بیرونی جانب امانتاً دفن کیا گیا، تقریباً چھ ماہ بعد آپ کو "گڑھی اختیار خان" میں موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 14 سال بعد موجودہ مزار مبارک میں منتقل کیا گیا ۔ جب قبر کشائی ہوئی تو دیکھنے والے حیرت میں تھے کہ اتنا عرصہ بیت گیا، خاک نشینی کا دَورَانِیہ اتنا طویل کہ انسانی جسم کا خاک ہو جانا حقیقت، مگر یہاں کیا ہوا؟ نہ قلیل عرصہ اور نہ کثیر دورانیہ اثر انداز ہوا، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں فنا در اصل بقا کی ضمانت ہے ۔
؏:زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کےنام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ صاحبِ مزار کو پہلے سے ہی یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ اس لئے آپ نے پہلے فرما دیا تھا ـ
؏:وہ خاکسار ہوں برہم میرا مزار رہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 14 رجب المرجب 1367ھ / مطابق 24 مئی 1948ء ،بروز پیر کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف "گڑھی اختیار خان" تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب ،پاکستان میں مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ بہار چشت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-muhammad-yaar-fareedi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Yaar Garhi Sharif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1