🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-07-1444 ᴴ | 04-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-07-1444 ᴴ | 04-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت امام سیّد نقی علی ہادی علیہالرحمہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ
الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ کا نام:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 13 رجب المرجب 214ھ / مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں ۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت ودیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے ۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِ حسینی کی مثال بَن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا ۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں ۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بے باک کرنے میں مدد مل جائے گی ۔
دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا ۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی ۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا ۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کر لیا ۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی ۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا ۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے ۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی ۔ جب سیّدنا امام علی نقی وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے ۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔
القاب: نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصح، فقیہ، امین، طیب ۔
نسب:
حضرت سیّدنا امام علی نقی علیہ
الرحمہ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
حضرت سیّدنا علی نقی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہرا بنتِ رسول اللہ ﷺ ۔
والدہ کا نام:
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حضرت سمانہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 13 رجب المرجب 214ھ / مطابق 14 ستمبر 829ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
نقی، تقی، ہادی زکی، ناصح، فقیہ، محدث، طیب، طاہر حضرت امام لمسلمین سیّدنا امام علی نقی علم و عمل، زُہد و تقویٰ میں اپنے آبا و اَجداد کی علمی و روحانی امانتوں کے امین و وارثِ کامل تھے ۔ جب چھ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ بچپن ہی میں کرامات کا ظہور شروع ہو گیا تھا ۔ دور سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ خاندانِ نبوّت کے چشم و چراغ ہیں ۔
اللہ جل شانہ نے اِس امّتِ مرحومہ کے دلوں میں فطری طور پر اِس خاندان کی محبّت ودیعت فرما دی ہے، اور ان کی محبت کو ایمان کی علامت بتایا گیا ہے ۔ یہ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے تھے مخلوقِ خدا پروانہ وار ان پر گرتی تھی اور دنیا کے بندے جن کے پاس کرسی، عہدے، لشکر وغیرہ ہر چیز ہوتی تھی، وہ یہ چیزیں دیکھ کر حیران اور حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے کہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے لیکن ہماری وہ عزّت و شوکت نہیں ہے، جو اس گلستانِ کرم کے ایک پھول کی ہے ۔ آپ کو بھی اس راستے میں ستایا گیا، تکلیفیں دی گئیں؛ لیکن آپ جرأتِ حیدری اور صبرِ حسینی کی مثال بَن کر شان و شوکت کی زندگی گزارتے رہے ۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا جو بھی آیا خالی ہاتھ نہ گیا ۔
حضرت امام نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے ۔ ایک دیہاتی نے آ کر عرض کی کہ میرے ذمّے ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہوں ۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک رقعہ تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں اُمراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بے شک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بے باک کرنے میں مدد مل جائے گی ۔
دیہاتی نے وہ تمسک لیا اور چلا گیا ۔ ایک دن خلیفۂ بغداد سے ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی، مجلس جمی ہوئی تھی ۔ اعرابی آ گیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا ۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کر لیا ۔ خلیفہ نے یہ صورتِ حال دیکھی ۔ تیس ہزار روپے خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں پیش کیے اور یُوں آپ نے اُس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا ۔
فضل و کمال:
متوکل نے اپنے گھر میں ہر قسم کے پرندے جمع کر رکھے تھے ۔ اُن کے شور و غل سے بات سنی نہیں جاتی تھی ۔ جب سیّدنا امام علی نقی وہاں تشریف لے جاتے تو تمام پرندے خاموش ہو جاتے تھے ۔ جب تک بیٹھے رہتے کسی جانور کی آواز نہ آتی تھی ۔
❤1👍1
ہندوستان کا ایک شعبدہ باز خلیفہ متوکل کے دربار میں آیا اور عجیب و غریب شعبدے دکھانے لگا؛ ایک دن متوکل نے شعبدے باز سے کہا:
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوںگا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اڑکر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے ۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا ۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے۔
آپ نے ساری زندگی رسول اللہ ﷺ کے دین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی ۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے ۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔
علامہ جامی فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نے آپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسے جنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) ـ (بارہ امام: صفحہ: 208) ـ
وصال:
آپ کا وصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
’’اگر تم اپنے شعبدے سے امام علی نقی کو شرمندہ کر دکھاؤ تو میں تمہیں ایک ہزار دینار انعام دوں گا۔‘‘
وہ کہنے لگا:
’’مجھے مجلس میں امام کے بالکل قریب بٹھا دینا، میں اُنہیں شرمندہ کر دوںگا۔‘‘
جب مجلس لگی تو حضرت امام کو اس شعبدے باز کے ساتھ ہی کھانا کھانے کو کہا گیا ۔ جب امام اور دوسرے اہل مجلس کھانا کھانے لگے تو حضرت امام علی نقی نے جس روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اڑکر دوسرے شخص کی طرف چلی گئی ۔ دوسری بار ہاتھ بڑھایا تو پھر ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
اہلِ مجلس اس شعبدے سے بڑے محظوظ ہوئے اور حضرت امام پر ہنسنے لگے ۔ آپ نے معلوم کر لیا کہ اس شعبدے کا مقام یہاں ہے، جو شخص میرے پاس بیٹھا ہے ۔ آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اُس مکان کی دیوار پر ایک شیر کی تصویر نقش تھی ۔
آپ نے اُس شیر کی طرف اشارہ کرکے کہا:
’’ اِس دشمنِ اہلِ بیت کو پکڑ لو ۔ ‘‘
حکم سنتے ہی تصویر والا شیر اصلی شیر کی طرح اُٹھا اور شعبدے باز کا ایک لقمہ کرکے پھر دیوار پر نقش بن گیا ۔ متوکل نے بڑی کوشش کی کہ اُسے لوٹا دیا جائے مگر آپ نے ایک نہ مانی ۔
آپ نے فرمایا:
’’خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
آپ غصے کے عالم میں مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے۔
آپ نے ساری زندگی رسول اللہ ﷺ کے دین کی خدمت اور نشر و اشاعت فرمائی ۔ لوگوں کو وعظ و نصیحت اور اُن کا تزکیۂ نفس آپ کا مشغلہ تھا ۔ لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی محبت کے نقصانات اور اس کے مقابلے میں اخروی نعمتیں اور اُن کی ثباتی اور اللہ جل شانہ اور اس کےحبیب ﷺ کی محبت کی تلقین فرماتے تھے ۔ ہر قسم کے دنیاوی عہدوں، منصبوں اور دنیا داروں سے دور رہتے تھے ۔
علامہ جامی فرماتے ہیں:
’’حضرت رضا علی بن محمد موسیٰ سے منقول ہے کہ
جس شخص نے آپ کی مرقد کی زیارت کی، اُسے جنّت کا حصول ہوگا۔‘‘ (صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے) ـ (بارہ امام: صفحہ: 208) ـ
وصال:
آپ کا وصال 25 جمادی الآخرہ 254ھ / مطابق 19 جون 868ء کو ہوا ۔ مزار شریف ’’سامرہ‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مَراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ شریف التواریخ ۔ اقتباس الانوار ۔ بارہ امام، علامہ جامی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ul-muslimeen-syedna-imam-ali-naqi
scholars.pk
Biography of Hazrat Imam-ul-Muslimeen Syedna Imam Ali Naqi R.A, Shahadat, Caliph of Islam, History of Islam, Muslim Scholarm,…
❤1👍1
شیخ الشیوخ قطبِ عالم سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
scholars.pk
Hazrat Syed Qutb-e-Alam Shah Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عیسیٰ ۔لقب: امام المحدثین، حافظ الحدیث، صاحبِ سنن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی بن سورۃ بن موسیٰ بن ضحاک بن سکن سلمی ترمذی ۔ علیم الرحمہ ۔
امام ترمذی علیہ الرحمہ نے اپنے نام کی بجائے کنیت کو اختیار کیا ہے، اور اسی سے معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 209ھ / مطابق 824ء ک و"ترمذ" ازبکستان میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
خراسان ماوراء النہر کا علاقہ علم و فن کا گہوارہ رہا ہے جس کی خاک سے ہزاروں اسلامی شخصیتیں ابھریں انہیں میں امام ترمذی کی باکمال ذات گرامی بھی ہے امام ترمذی نے جس زمانہ میں آنکھ کھولی آپ کے گرد پیش کا سارا ماحول علم و فضل کے غلغلوں سے معمور تھا انہوں نے اپنی فطری مناسبت علم اور قوت حفظ و ضبط کے ساتھ ابتداءمیں اپنے شہر کے محدثین سے کسب فیض کیا پھر اسلامی شہروں کی رحلت کی اور اپنے دامن کو علم حدیث کی دولت سے مالا مال کیا ۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: "طاف البلاد وسمع خلقاً من الخراسیین و العراقیین والحجازیین" انہوں نے متعدد شہروں کا سفرکیا۔ خراسان، عراق اور حجاز کے ارباب کمال سے سماع کیا ۔ (تہذیب، ج۹، ص۳۴۴) ـ
قوت حافظہ:
قدرت نے انہیں غیر معمولی قوت حفظ و ضبط عطا فرمائی تھی جس حدیث کو ایک بار سن لیتے ہمیشہ کے لیے حافظہ میں محفوظ ہو جاتی ۔ بعض محدثین نےامام ابو عیسیٰ ترمذی کا امتحان لیا اور اپنی چالیس غریب حدیثیں ان کے سامنے پڑھیں جو ابو عیسیٰ نے اسی وقت زبانی پڑھ کر سنادیں اس پر وہ بولے "ما رأیت مثلک" میں نے آپ جیسا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (تذکرہ، ج2 ص:188) ـ
قدرت نے امام ترمذی میں ضبط علم کی فطری صلاحیتیں و دیعت کردی تھی اور ساتھ ہی انہیں اپنے وقت کے بڑے بڑے محدثین سے اکتساب علم کا موقع ملا خصوصیت کے ساتھ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کی صحبت نے آپ کو علم حدیث میں ذروۂ کمال تک پہنچا دیا۔ آپ کی جلالت علم،شان حفظ و ضبط،اورفضل وکمال پر تمام محدثین اور ارباب تذکرہ کا اتفاق ہے۔ امام ترمذی نے خداداد صلاحیت علم کو بروئے کار لاکر اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین سے حدیث کا سماع کیا۔ امام بخاری اور امام مسلم کے بعض شیوخ سے بھی استفادہ کیا۔ اس طرح آپ کے شیوخ کثیر تعدادمیں ہیں۔
سیرت و خصائص:
حافظ الحدیث،امام المحدثین حضرت امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ملتِ اسلامیہ کے عظیم شخصیات میں ہوتا ہے، علم، عمل، زہد، تقویٰ، بہترین اخلاق، عظیم کردار کی بدولت آج بھی ان کا نام اور کام زندہ و جاوید ہے۔
آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جامع ترمذی کا شمار کتاب اللہ کے بعد جو اصح الکتب ہیں، جن کو "صحاح ستہ " کہا جاتا ہے، میں ہوتا ہے۔ جو آج بھی پوری دنیا میں پڑھی جاتی ہے، اور علماء استفادہ کر رہے ہیں ۔
آپ کی عظمت کا شخصیات اسلام نے اعتراف کیا ہے ۔
امام بخاری:
امام بخاری باجودیکہ آپ کے عظیم المرتبت شیخ ہیں فرماتےہیں :"ما انتفعت بک اکثر مما انتفعت بی"تم نے مجھ سے جتنا فائدہ حاصل کیا اس سے زیادہ میں نے تم سے حاصل کیا ۔ (ایضاً، ص۳۴۵)
ادریسی:
کان الترمذی احد ائمۃ الذین یقتدیٰ بھم فی علم الحدیث صنف الجامع و التواریخ والعلل تصنیف رجل عالم متقن کان یضرب بہ المثل فی الحفظ۔ امام ترمذی ان اماموں میں سے تھے علم حدیث میں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔ انہوں نے حدیث میں جامع علل اور تاریخ تصنیف فرمائی۔ وہ عالم اور متقن شخص تھے قوت حفظ میں ان کی مثال دی جاتی تھی۔ (تہذیب التہذیب، ج۹، ص۳۴۵)
عمران ابن علان:
مات محمد بن اسماعیل البخاری ولم یخلف بخراسان مثل ابی عیسی فی العلم والورع بکی حتی عمی، امام محمد بن اسماعیل بخاری نے وفات پائی اور اپنے بعد خراسان میں علم و تقویٰ میں ابو عیسیٰ ترمذی کا مثل نہیں چھوڑا وہ خشیت الہی سے اس قدر روئے کہ بینائی جاتی رہی۔ (ایضاً)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
امام ترمذی صرف خراسان ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی شہرو اورقریوں میں عظمت علم و فضل کے لیے مشہور ہوگئے تھے۔ امام بخاری کےبعد پورے خراسان میں کوئی صاحب علم آپ کا ہمسرنہ تھا یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے حلقۂ درس قائم کیا تو خراسان کے علاوہ دوسرے ملکوں اور شہروں سے بھی طالب علموں کا قافلہ جوق درجوق سماع سماع حدیث کے لیے آنے لگا۔ آپ کے تلامذہ میں بڑےبڑےمحدثین کانام آتاہے۔
تصانیف:
امام ترمذی بلند پایہ مصنف بھی تھے حدیث، رجال اور علل کے ساتھ صحابہ، تابعین، تبع، تابعین اور ائمہ فقہ کے اقوال و آراء میں درجۂ کمال رکھتے تھے۔ ان کی اہم تصانیف انہیں موضا عات ر مشتمل ہیں۔ چند مشہور مصنفات یہ ہیں۔۱۔ جامع ترمذی ۲۔ کتاب العلل ۳۔ کتاب التاریخ ۴۔ کتاب الذہد ۵۔ کتاب الاسماء والکنی ۶۔ کتاب الشمائل النبویہ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عیسیٰ ۔لقب: امام المحدثین، حافظ الحدیث، صاحبِ سنن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی بن سورۃ بن موسیٰ بن ضحاک بن سکن سلمی ترمذی ۔ علیم الرحمہ ۔
امام ترمذی علیہ الرحمہ نے اپنے نام کی بجائے کنیت کو اختیار کیا ہے، اور اسی سے معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 209ھ / مطابق 824ء ک و"ترمذ" ازبکستان میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
خراسان ماوراء النہر کا علاقہ علم و فن کا گہوارہ رہا ہے جس کی خاک سے ہزاروں اسلامی شخصیتیں ابھریں انہیں میں امام ترمذی کی باکمال ذات گرامی بھی ہے امام ترمذی نے جس زمانہ میں آنکھ کھولی آپ کے گرد پیش کا سارا ماحول علم و فضل کے غلغلوں سے معمور تھا انہوں نے اپنی فطری مناسبت علم اور قوت حفظ و ضبط کے ساتھ ابتداءمیں اپنے شہر کے محدثین سے کسب فیض کیا پھر اسلامی شہروں کی رحلت کی اور اپنے دامن کو علم حدیث کی دولت سے مالا مال کیا ۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: "طاف البلاد وسمع خلقاً من الخراسیین و العراقیین والحجازیین" انہوں نے متعدد شہروں کا سفرکیا۔ خراسان، عراق اور حجاز کے ارباب کمال سے سماع کیا ۔ (تہذیب، ج۹، ص۳۴۴) ـ
قوت حافظہ:
قدرت نے انہیں غیر معمولی قوت حفظ و ضبط عطا فرمائی تھی جس حدیث کو ایک بار سن لیتے ہمیشہ کے لیے حافظہ میں محفوظ ہو جاتی ۔ بعض محدثین نےامام ابو عیسیٰ ترمذی کا امتحان لیا اور اپنی چالیس غریب حدیثیں ان کے سامنے پڑھیں جو ابو عیسیٰ نے اسی وقت زبانی پڑھ کر سنادیں اس پر وہ بولے "ما رأیت مثلک" میں نے آپ جیسا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (تذکرہ، ج2 ص:188) ـ
قدرت نے امام ترمذی میں ضبط علم کی فطری صلاحیتیں و دیعت کردی تھی اور ساتھ ہی انہیں اپنے وقت کے بڑے بڑے محدثین سے اکتساب علم کا موقع ملا خصوصیت کے ساتھ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کی صحبت نے آپ کو علم حدیث میں ذروۂ کمال تک پہنچا دیا۔ آپ کی جلالت علم،شان حفظ و ضبط،اورفضل وکمال پر تمام محدثین اور ارباب تذکرہ کا اتفاق ہے۔ امام ترمذی نے خداداد صلاحیت علم کو بروئے کار لاکر اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین سے حدیث کا سماع کیا۔ امام بخاری اور امام مسلم کے بعض شیوخ سے بھی استفادہ کیا۔ اس طرح آپ کے شیوخ کثیر تعدادمیں ہیں۔
سیرت و خصائص:
حافظ الحدیث،امام المحدثین حضرت امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار ملتِ اسلامیہ کے عظیم شخصیات میں ہوتا ہے، علم، عمل، زہد، تقویٰ، بہترین اخلاق، عظیم کردار کی بدولت آج بھی ان کا نام اور کام زندہ و جاوید ہے۔
آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جامع ترمذی کا شمار کتاب اللہ کے بعد جو اصح الکتب ہیں، جن کو "صحاح ستہ " کہا جاتا ہے، میں ہوتا ہے۔ جو آج بھی پوری دنیا میں پڑھی جاتی ہے، اور علماء استفادہ کر رہے ہیں ۔
آپ کی عظمت کا شخصیات اسلام نے اعتراف کیا ہے ۔
امام بخاری:
امام بخاری باجودیکہ آپ کے عظیم المرتبت شیخ ہیں فرماتےہیں :"ما انتفعت بک اکثر مما انتفعت بی"تم نے مجھ سے جتنا فائدہ حاصل کیا اس سے زیادہ میں نے تم سے حاصل کیا ۔ (ایضاً، ص۳۴۵)
ادریسی:
کان الترمذی احد ائمۃ الذین یقتدیٰ بھم فی علم الحدیث صنف الجامع و التواریخ والعلل تصنیف رجل عالم متقن کان یضرب بہ المثل فی الحفظ۔ امام ترمذی ان اماموں میں سے تھے علم حدیث میں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔ انہوں نے حدیث میں جامع علل اور تاریخ تصنیف فرمائی۔ وہ عالم اور متقن شخص تھے قوت حفظ میں ان کی مثال دی جاتی تھی۔ (تہذیب التہذیب، ج۹، ص۳۴۵)
عمران ابن علان:
مات محمد بن اسماعیل البخاری ولم یخلف بخراسان مثل ابی عیسی فی العلم والورع بکی حتی عمی، امام محمد بن اسماعیل بخاری نے وفات پائی اور اپنے بعد خراسان میں علم و تقویٰ میں ابو عیسیٰ ترمذی کا مثل نہیں چھوڑا وہ خشیت الہی سے اس قدر روئے کہ بینائی جاتی رہی۔ (ایضاً)
حلقۂ درس اور تلامذہ:
امام ترمذی صرف خراسان ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی شہرو اورقریوں میں عظمت علم و فضل کے لیے مشہور ہوگئے تھے۔ امام بخاری کےبعد پورے خراسان میں کوئی صاحب علم آپ کا ہمسرنہ تھا یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے حلقۂ درس قائم کیا تو خراسان کے علاوہ دوسرے ملکوں اور شہروں سے بھی طالب علموں کا قافلہ جوق درجوق سماع سماع حدیث کے لیے آنے لگا۔ آپ کے تلامذہ میں بڑےبڑےمحدثین کانام آتاہے۔
تصانیف:
امام ترمذی بلند پایہ مصنف بھی تھے حدیث، رجال اور علل کے ساتھ صحابہ، تابعین، تبع، تابعین اور ائمہ فقہ کے اقوال و آراء میں درجۂ کمال رکھتے تھے۔ ان کی اہم تصانیف انہیں موضا عات ر مشتمل ہیں۔ چند مشہور مصنفات یہ ہیں۔۱۔ جامع ترمذی ۲۔ کتاب العلل ۳۔ کتاب التاریخ ۴۔ کتاب الذہد ۵۔ کتاب الاسماء والکنی ۶۔ کتاب الشمائل النبویہ۔
👍2❤1
جامع ترمذی:
لیکن امام ترمذی کو جس کتاب نے شہرت دوام عطا کی وہ جامع ترمذی ہے جامع ترمذی، نسائی اور ابو داؤد کے بعد تصنیف کی گئی لیکن اپنی افادیت و جامعیت کے لحاظ سے اس کتاب کاشمار کتب صحاح ستہ میں بخاری و مسلم کے بعد کیا جاتا ہے۔
شیخ ہرات عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں:
میرے نزدیک ابو عیسیٰ ترمذی کی کتاب جامع ترمذی صحیح بخاری اور مسلم سے زیادہ مفید ہے ان کتابوں سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جسے حدیث میں معرفت تامہ حاصل ہو ان کے برعکس امام ترمذی نے اپنی کتاب میں تمام احادیث کی شرح و تفسیر اور مذاہب علماء اس طرح بیان کردئیے ہیں کہ اس سے ہر فقیہ، ہر محدث بآسانی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تذکرۃ المحدثین، ص۲۴۵)
امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں:
"صنفت ھٰذا الکتاب فعر ضتہ علٰی علماء الحجاز والعراق والخر اسان و رضوابہ ومن کان فی بیتہ ھٰذ الکتاب یعنی الجامع فکانمافی بیتہ نبی ﷺ یتکلم" میں نے یہ کتاب تصنیف کی تو اسے حجاز، عراق اور خراسان کے علماء کے سامنے پیش کیا سب نے اسے پڑھ کر پسندیدگی کا اظہار کیا جس گھر میں یہ کتاب (جامع ترمذی) موجود ہے یوں سمجھو کہ اس میں خود نبی ﷺ کلام کر رہے ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۲، ص۱۸۸)
اخلاق و کردار:
امام ترمذی جس طرح علم میں امتیازی شان رکھتے تھے عمل و کردار کے سدا بہار پھولوں سے بھی ان کا دامن حیات مالا مال تھا۔ زہد و ورع، عبادت و ریاضت کے ساتھ خوف خدا ان کے رگ وریشے میں سرایت کئے ہوئے تھا۔ خشیت الہی کا اتنا غلبہ تھا کہ روتے روتے بینائی ختم ہوگئی تھی مگر ان کا قلب اور بصیرت تادم مرگ روشن رہا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 13 رجب المرجب 279ء کو بمقام "ترمذ" ہوا ۔ وہیں آپ کو سپرد خاک کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔ تذکرۃ المحدثین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-isa-muhammad-imam-tirmidhi
لیکن امام ترمذی کو جس کتاب نے شہرت دوام عطا کی وہ جامع ترمذی ہے جامع ترمذی، نسائی اور ابو داؤد کے بعد تصنیف کی گئی لیکن اپنی افادیت و جامعیت کے لحاظ سے اس کتاب کاشمار کتب صحاح ستہ میں بخاری و مسلم کے بعد کیا جاتا ہے۔
شیخ ہرات عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں:
میرے نزدیک ابو عیسیٰ ترمذی کی کتاب جامع ترمذی صحیح بخاری اور مسلم سے زیادہ مفید ہے ان کتابوں سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جسے حدیث میں معرفت تامہ حاصل ہو ان کے برعکس امام ترمذی نے اپنی کتاب میں تمام احادیث کی شرح و تفسیر اور مذاہب علماء اس طرح بیان کردئیے ہیں کہ اس سے ہر فقیہ، ہر محدث بآسانی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تذکرۃ المحدثین، ص۲۴۵)
امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں:
"صنفت ھٰذا الکتاب فعر ضتہ علٰی علماء الحجاز والعراق والخر اسان و رضوابہ ومن کان فی بیتہ ھٰذ الکتاب یعنی الجامع فکانمافی بیتہ نبی ﷺ یتکلم" میں نے یہ کتاب تصنیف کی تو اسے حجاز، عراق اور خراسان کے علماء کے سامنے پیش کیا سب نے اسے پڑھ کر پسندیدگی کا اظہار کیا جس گھر میں یہ کتاب (جامع ترمذی) موجود ہے یوں سمجھو کہ اس میں خود نبی ﷺ کلام کر رہے ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۲، ص۱۸۸)
اخلاق و کردار:
امام ترمذی جس طرح علم میں امتیازی شان رکھتے تھے عمل و کردار کے سدا بہار پھولوں سے بھی ان کا دامن حیات مالا مال تھا۔ زہد و ورع، عبادت و ریاضت کے ساتھ خوف خدا ان کے رگ وریشے میں سرایت کئے ہوئے تھا۔ خشیت الہی کا اتنا غلبہ تھا کہ روتے روتے بینائی ختم ہوگئی تھی مگر ان کا قلب اور بصیرت تادم مرگ روشن رہا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 13 رجب المرجب 279ء کو بمقام "ترمذ" ہوا ۔ وہیں آپ کو سپرد خاک کیا گیا ۔
ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔ تذکرۃ المحدثین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-isa-muhammad-imam-tirmidhi
scholars.pk
Hazrat Abu Isa Muhammad Imam Tirmidhi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
خلیفۂ چہارم، دامادِ رسول، امیر المؤمنین، حضرت سیدنا علی المرتضی، شیر خدا، حیدر کرار، رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے ’’حیدر‘‘ رکھا ۔ کنیت: ابو الحسن اور ابو تراب ہے ۔ القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں ۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب:
علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 13 رجب المرجّب بروز جمعۃ المبارک عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17 مارچ 599ء میں پیدا ہوئے ۔
شیرِ خدا کی سب سے پہلی غذا:
آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی، آپ حضور ﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے ۔ (السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص:282) ـ
فضائل و مناقب:
امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں (تاریخ الخلفاء، ص:364) ۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ بچپن سے ہی رحمتِ عالم ﷺ کے زیرِ تربیت رہے ۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے ۔
2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضور ﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا ۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین، خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا ۔
حضور ﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے ۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرم ﷺ کے دست و بازو بنے رہے ۔
حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے ۔
حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا ۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے ۔ زبانِ نبوّت سے آپ کو اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی ۔ فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے ۔ تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے ۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں ۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے ۔ علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی ۔ سب سے پہلے ابو الاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی) ۔
علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے ’’حیدر‘‘ رکھا ۔ کنیت: ابو الحسن اور ابو تراب ہے ۔ القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین، صاحب اللواء، اسداللہ (شیرِ خدا)، کرار، مرتضیٰ، اور مولا مشکل کشا مشہور القاب ہیں ۔
والد کی طرف سے سلسلۂ نسب:
علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب:
فاطمہ بنتِ اسد بن ہاشم بن عبد المطلب الٰی آخرہٖ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 13 رجب المرجّب بروز جمعۃ المبارک عام الفیل کے 30 سال بعد، بمطابق 17 مارچ 599ء میں پیدا ہوئے ۔
شیرِ خدا کی سب سے پہلی غذا:
آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: جب میرے لختِ جگر علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے آپ کے منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور اور اپنی ’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی‘‘ والی زبانِ مبارک چوسنے کے لیے دی، آپ حضور ﷺ کی زبان چوستے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ اقدس کو چوستے رہے اور غذا حاصل کرتے رہے ۔ (السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص:282) ـ
فضائل و مناقب:
امام احمد فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث حضرت مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں وارد نہیں ہوئی ہیں (تاریخ الخلفاء، ص:364) ۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ بچپن سے ہی رحمتِ عالم ﷺ کے زیرِ تربیت رہے ۔ اس بات پر اجماع ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے اور آزمائش میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے ۔
2ھ میں مدینۂ منوّرہ آنے کے بعد حضور ﷺ نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا ۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام غزوات (بدر، اُحد، خندق، بنی قریظہ اور حنین، خیبر وغیرہ) میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔ علاوہ ازیں متعدد سرایا میں آپ کو کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جنھیں آپ نے کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا ۔
حضور ﷺ کے وصال کے بعد ان کے غسل اور تجہیز و تکفین کی سعادت میں بھی آپ شریک تھے ۔ غرض آغازِ بعثت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ حضور نبی اکرم ﷺ کے دست و بازو بنے رہے ۔
حضرت صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ مجلسِ شوریٰ کے رکن تھے ۔
حضرات شیخین کو آپ کے مفید مشوروں پر بڑا اعتماد تھا ۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی آپ آخر تک حمایت کرتے رہے ۔ زبانِ نبوّت سے آپ کو اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعَلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُہَا کی سند ملی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ وہ کس بارے میں اور کہاں اور کس کے متعلق نازل ہوئی ۔ فقہ میں آپ کی ذاتِ گرامی صحابۂ کرام کا مرجع تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خود مجتہد اور فقیہ تھے، لیکن آپ سے بھی استفادہ کرتے تھے حتیٰ کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اختلاف کے باوجود اکثر مواقع پر آپ کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کے فتاوٰی اور مروی اسناد پر فقہِ حنفی کی بنیاد ہے، آپ کے فیض یافتہ تھے ۔ تصوف کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے ۔ صوفیا کے تمام بڑے سلاسل حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے آپ تک پہنچتے ہیں ۔ آپ شاعری کا بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے ۔ علمِ نحو کی بنیاد بھی آپ ہی نے رکھی ۔ سب سے پہلے ابو الاسود دؤلی کو نحو کے اصول سکھائے تھے، جس نے بعد میں ان اصولوں کی روشنی میں نحو کے قواعد مرتّب کیے۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بغض رکھنے والے اور آپ کی تعریف میں غلو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں منافقوں کو بغضِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پہچان لیتا ہوں (ترمذی) ۔
علم کے ساتھ عمل کا یہ حال تھا کہ حضرت زبیر بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ بنی ہاشم میں آپ سے بڑھ کے کوئی عبادت گزار نہ تھا۔ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے ۔
❤1👍1
مختصر سیرتِ مرتضوی:
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے ۔
انھوں نے کہا:
’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے ۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلے کرتے تھے ۔ اُن کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی ۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے ۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے ۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے ۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے ۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے ۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے ۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں ۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے ۔ ہائے ہائے، سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘
دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام (رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ (عیون الحکایات: ص:25) ـ
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام: امیرالمؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر و افضل ابو بکر اور عمرہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابو بکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا ۔ (المعجم الاوسط لطبرانی، ج،۳، حدیث:۳۹۲۰) ـ
وصال:
آپ 4سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے ۔
17 یا 19 رمضان المبارک کو ایک بد بخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور بروزِ اتوار 21 رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۲) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-ul-murtaza-biography
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے ۔
انھوں نے کہا:
’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے ۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلے کرتے تھے ۔ اُن کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی ۔ دنیا اور اس کی دل فربیوں سے و حشت کرتے تھے ۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبّت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کا کھانا پسند کرتے تھے ۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے ۔ دین داروں کی تعظیم کرتے تھے ۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے ۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشک بار کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے، میری مشتاق ہے ۔ افسوس! افسوس! میں نے تجھے تین طلاقیں دیں ۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے ۔ ہائے ہائے، سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔‘‘
دورانِ تقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بھی بڑھ کر شان کے مالک ہیں، اور پھر ان کو انعامات سے نوازا۔ صحابۂ کرام (رضوان اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی آپس میں جو محبّت تھی مذکورہ واقعے سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ (عیون الحکایات: ص:25) ـ
مولا علی کا پیغام، محبین کے نام: امیرالمؤمنین سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر و افضل ابو بکر اور عمرہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لایجتمع حبی وبغض ابی بکر وعمر فی قلب مؤمن۔‘‘ یعنی میری محبّت اور شیخین کریمین ابو بکر و عمر کا بغض کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا ۔ (المعجم الاوسط لطبرانی، ج،۳، حدیث:۳۹۲۰) ـ
وصال:
آپ 4سال 8 ماہ نو دن تک مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے ۔
17 یا 19 رمضان المبارک کو ایک بد بخت کے قاتلانہ حملے سے شدید زخمی ہو گئے اور بروزِ اتوار 21 رمضان، 40ھ بمطابق 27؍ جنوری 661ء کی رات جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۲) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-ul-murtaza-biography
scholars.pk
Muslim Scholar Hazrat Hazrat Ali ,hazrat ali quote in urdu, Aqwal Hazrat Ali ra
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Hazrat Ali-ul-Murtaza Biography
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ چہارم، دامادِ رسول، امیر المؤمنین، حضرت سیدنا علی المرتضی، شیر خدا، حیدر کرار، رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: والد نے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے ’’حیدر‘‘ رکھا ۔ کنیت: ابو الحسن اور ابو تراب ہے ۔ القاب: امیر المؤمنین، امام المتقین،…
مختصر سوانح حیات خلیفۂ چہارم
امیر المؤمنین حضرت علی مرتضٰی
شیر خدا ، فاتح خیبر ، حـیدر کـرار
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ❤️
https://t.me/islaamic_Knowledge/44776
شان و عظمت حضرت علی 📚
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
فتاوے: خانۂ کعبہ میں سوائے حضرت حكيم بن حزام رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کے کسی کی پیدائش نہیں ہوئی ...
https://t.me/islaamic_Knowledge/24814
مولود کعبہ کون ✍ قاری لقمان
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8718
مولود کعبہ کون؟ نامی کتاب پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ ✍قاری محمد لقمان
https://t.me/islaamic_Knowledge/5742
حضرت علی کی پیدائش کہاں ہوئی
✍ علامہ یاسین اختر مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/5725
حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی؟
ٹلیگرام چینل شرعی عدالت Join
https://t.me/islaamic_Knowledge/5727
13 رجب اور ولادتِ علی | کب کیسے؟
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori/6939
🔍 خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
امیر المؤمنین حضرت علی مرتضٰی
شیر خدا ، فاتح خیبر ، حـیدر کـرار
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ❤️
https://t.me/islaamic_Knowledge/44776
شان و عظمت حضرت علی 📚
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8828
فتاوے: خانۂ کعبہ میں سوائے حضرت حكيم بن حزام رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کے کسی کی پیدائش نہیں ہوئی ...
https://t.me/islaamic_Knowledge/24814
مولود کعبہ کون ✍ قاری لقمان
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8718
مولود کعبہ کون؟ نامی کتاب پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ ✍قاری محمد لقمان
https://t.me/islaamic_Knowledge/5742
حضرت علی کی پیدائش کہاں ہوئی
✍ علامہ یاسین اختر مصباحی
https://t.me/islaamic_Knowledge/5725
حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی؟
ٹلیگرام چینل شرعی عدالت Join
https://t.me/islaamic_Knowledge/5727
13 رجب اور ولادتِ علی | کب کیسے؟
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori/6939
🔍 خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
❤2👍1