🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-07-1444 ᴴ | 03-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-07-1444 ᴴ | 03-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-07-1444 ᴴ | 03-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-07-1444 ᴴ | 03-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1👌1
بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
نام: عبد العلی ـ کنیت: ابو العباس ـ لقب: بحر العلوم ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد العلی لکھنوی بن مولانا نظام الدین سہالوی بن مولانا قطب الدین سہالوی شہید (علیہم الرحمہ) ۔
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری علیہ الرحمہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
1144ھ لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سترہ سال کی عمر میں تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ اور جملہ درسی کتب کی تکمیل اپنے والدِ گرامی سے فرمائی ۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد ان کے تلمیذِ رشید مولانا کمال الدین سہالوی (متوفیّٰ 1175ھ) سے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کا قول ہے کہ مجھے عالمِ رؤیا (خواب) میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی، اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیعت کیا اور تعلیم و ارشادِ طریقت کا حکم دیا ۔ پس میں خاص آپ کا مرید ہوں اور صرف آپ کے واسطے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میرا سلسلۂ طریقت پہنچتا ہے ۔ چنانچہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا تھا، آپ اس کو ایک واسطے سے شجرہ لکھ کر دیتے تھے، اور نیز دیگر سلاسل میں اپنے والد بزرگوار اور شیخ عبد الرزاق ہانسوی سے اجازت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین ، فخر الاسلام والمسلمین ، عالمِ محقق ، فاضلِ مدقق ، جامع المعقول و المنقول ، حاوئ فروع واصول ، صاحبِ طریقت و معرفت بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی علیہ الرحمہ کی ذاتِ والا صفات ہے ۔
آپ اپنے والدِ گرامی بانیِ درسِ نظامی مولانا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ کے سچے جانشین تھے ۔ ساری زندگی اپنے والدِ گرامی کے مشن کے فروغ کیلئے گزار دی ۔ تمام عمر درس و تدریس، تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور امتِ مرحومہ کے لئے بہترین علمی ذخیرہ بطورِ یاد گار چھوڑا ہے ۔ تمام معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو مقدم رکھتے تھے، اپنے تمام تلامذہ، متعلقین، متوسلین اور محبین کو بھی خاص تاکید فرماتے تھے ۔
اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات پر شدت سے عمل پیرا تھے، یہی وجہ ہے کہ "اودھ پور" کی رافضی حکومت نے آپ کو شہر بدر کر دیا تھا ۔ لیکن آپ نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دینِ متین کے کام کو مزید وسعت وقوت اور ایسے منظم طریقے سے کیا کہ اس کے اثرات آج تک زندہ و باقی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گے ۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ) ـ
وصال:
12 رجب المرجب 1235ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ قبرِ انور "مدراس " انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abul-abbas-abdul-ali-muhammad-lakhnavi
نام و نسب:
نام: عبد العلی ـ کنیت: ابو العباس ـ لقب: بحر العلوم ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبد العلی لکھنوی بن مولانا نظام الدین سہالوی بن مولانا قطب الدین سہالوی شہید (علیہم الرحمہ) ۔
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری علیہ الرحمہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
1144ھ لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سترہ سال کی عمر میں تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ اور جملہ درسی کتب کی تکمیل اپنے والدِ گرامی سے فرمائی ۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد ان کے تلمیذِ رشید مولانا کمال الدین سہالوی (متوفیّٰ 1175ھ) سے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کا قول ہے کہ مجھے عالمِ رؤیا (خواب) میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی، اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بیعت کیا اور تعلیم و ارشادِ طریقت کا حکم دیا ۔ پس میں خاص آپ کا مرید ہوں اور صرف آپ کے واسطے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میرا سلسلۂ طریقت پہنچتا ہے ۔ چنانچہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا تھا، آپ اس کو ایک واسطے سے شجرہ لکھ کر دیتے تھے، اور نیز دیگر سلاسل میں اپنے والد بزرگوار اور شیخ عبد الرزاق ہانسوی سے اجازت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین ، فخر الاسلام والمسلمین ، عالمِ محقق ، فاضلِ مدقق ، جامع المعقول و المنقول ، حاوئ فروع واصول ، صاحبِ طریقت و معرفت بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی علیہ الرحمہ کی ذاتِ والا صفات ہے ۔
آپ اپنے والدِ گرامی بانیِ درسِ نظامی مولانا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ کے سچے جانشین تھے ۔ ساری زندگی اپنے والدِ گرامی کے مشن کے فروغ کیلئے گزار دی ۔ تمام عمر درس و تدریس، تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور امتِ مرحومہ کے لئے بہترین علمی ذخیرہ بطورِ یاد گار چھوڑا ہے ۔ تمام معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو مقدم رکھتے تھے، اپنے تمام تلامذہ، متعلقین، متوسلین اور محبین کو بھی خاص تاکید فرماتے تھے ۔
اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات پر شدت سے عمل پیرا تھے، یہی وجہ ہے کہ "اودھ پور" کی رافضی حکومت نے آپ کو شہر بدر کر دیا تھا ۔ لیکن آپ نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دینِ متین کے کام کو مزید وسعت وقوت اور ایسے منظم طریقے سے کیا کہ اس کے اثرات آج تک زندہ و باقی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گے ۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ) ـ
وصال:
12 رجب المرجب 1235ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ قبرِ انور "مدراس " انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abul-abbas-abdul-ali-muhammad-lakhnavi
scholars.pk
Hazrat Molana Abul Abbas Abdul Ali Muhammad Lakhnavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1