🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ یوم وصال: 10 رجب المرجب 33 ھ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مشہور اصحاب میں سے تھے ۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی ۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف…
10-07-1444 ᴴ | 02-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس سلمان فارسی رضی الله عنه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس سلمان فارسی رضی الله عنه
❤1👍1👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-07-1444 ᴴ | 02-02-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عرس سلمان فارسی رضی الله عنه
10-07-1444 ᴴ | 02-02-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس سلمان فارسی رضی الله عنه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس سلمان فارسی رضی الله عنه
❤2👍1👌1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1👌1
شیخ المشائخ شبیہِ غوث الاعظم حضرت مولانا سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔
تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔
لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔
اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔
آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔
حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔
حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔
آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔
ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔
حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :
؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں
وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔
تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔
لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔
اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔
آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔
حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔
حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔
آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔
ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔
حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :
؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں
وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ali Hussain Asharfi Kachochavi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1👌1