🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-07-1444 ᴴ | 30-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-07-1444 ᴴ | 30-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-07-1444 ᴴ | 30-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-07-1444 ᴴ | 30-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ـ لقب: قاضی الحاجات، صاحب الروضہ ۔ صاحب الروضہ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ نے ہی حضرت قبلۂ عالم علیہ الرحمہ کے روضۂ مقدسہ کی تعمیر کرائی تھی ۔ فاروقی النسل ہونے کی وجہ سے آپ "فاروقی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی محمد عاقل بن خواجہ مولانا محمد شریف بن محمد یعقوب بن مخدوم نور محمد بن محمد زکریا ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ فاروقی النسل ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ ان کے جد اعلیٰ میں سے شیخ مالک بن یحیٰ ہجرت کرکے سندھ آ گئے تھے ۔ انہیں سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا ۔ سندھ میں قوم کو ریجہ سے رشتے داری ہونے کی وجہ سے "کُورِیجَہ" کہلاتے ہیں ۔ آپ کے جد امجد حضرت مخدوم نور محمد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولی کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ ان کے مدرسے اور خانقاہ کے لئے شاہ جہاں کے وزیر ارادت خان نے پانچ ہزار ایکڑ زمین بطور نذر دی تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1149ھ / مطابق 1736ء کو "کوٹ مٹھن شریف" پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد قراءت میں دِلچسپی لی اس کے حصول کے بعد اپنے والد ماجد مخدوم محمد شریف کے پاس درسی نصاب سے فراغت پائی ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی سے بعض صوفیانہ کتب کا درس لیا اور خواجہ نور محمد مہاروی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بعد فراغت کوٹ مٹھن میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس میں زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ چولستان ریگستان میں جہالت کے خلاف سینہ سپر ہو کر علم کے چراغ اپنے خون پسینہ سے جلاتے رہے ۔ یہ مدرسہ ایک عام مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی، جہاں تمام علوم وفنون کی تعلیم اور طلباء کو ماہانہ وظیفہ، اور اساتذہ کا بہترین قیام و طعام کے ساتھ مناسب مشاہرے کا انتظام بھی تھا ۔ اس مدرسے کے طالب علموں میں سے ایک طالب علم غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی بھی ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبع الحسنات، صاحبِ کمالات، قاضی الحاجات، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، مقتدائے اہل سنت، فخر زمانہ، امام الاولیاء، زبدۃ الاتقیاء، جامع شریعت و طریقت، حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے ۔ آپ کا خاندان علم و عمل، شرافت و دیانت، زہد و تقویٰ، اخلاص و محبت، صبر و رضا، توکل و غناء، سخاوت و عنایت اور دیگر صفاتِ عالیہ سے متصف چلا آ رہا ہے ۔ سب سے بڑھ کراس خاندان کا علمی ذوق اور علمی خدمات ہیں ۔ یہی علمی ذوق کوٹ مٹھن میں ایک بلند پایہ دار العلوم کی صورت میں ظاہر ہوا، جہاں علماء کی ایک کہکشاں افق دار العلوم پر روشن تھی، جس میں روشن ترستارہ خود قاضی محمد عاقل علیہ الرحمہ کی ذاتِ مبارکہ تھی ۔
ایک ایسا دار العلوم جہاں علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ، عبارت کے ساتھ ریاضت، اور قیام و طعام کے ساتھ روحانی غذا کا بھی وافر حصہ ملتا تھا ۔ وہاں کے فاضلین میں ایک نام بحرِ بے کنار، فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔
شریعتِ مطہرہ کی پابندی کایہ عالم تھا، کہ یہ عالم بے بدل، جس قدر وابستۂ علم و حکمت تھا، اس سے بڑھ کر وارفتۂ شریعت تھا ۔ قاضی صاحب کے فیضان سے صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان مستفیض ہوا ۔
جناب خلیق نظامی فرماتے ہیں:
آپ کے تبحر علمی، پابندی شرع، بزرگانہ شفقت، اخلاق و مروت، کا دور دور تک شہرہ تھا ۔ لوگ بڑی عقیدت سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پنجاب کے نہایت دور افتادہ اور غیر معروف علاقوں میں مذہبی اور روحانی تعلیم کا چرچا ہونے لگا، اور ان کے خرمن کمال کے خوشہ چیں دور دور تک پھیل گئے ۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسہ:83) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ـ لقب: قاضی الحاجات، صاحب الروضہ ۔ صاحب الروضہ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے آپ نے ہی حضرت قبلۂ عالم علیہ الرحمہ کے روضۂ مقدسہ کی تعمیر کرائی تھی ۔ فاروقی النسل ہونے کی وجہ سے آپ "فاروقی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاضی محمد عاقل بن خواجہ مولانا محمد شریف بن محمد یعقوب بن مخدوم نور محمد بن محمد زکریا ۔ علیہم الرحمہ ۔ آپ فاروقی النسل ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ ان کے جد اعلیٰ میں سے شیخ مالک بن یحیٰ ہجرت کرکے سندھ آ گئے تھے ۔ انہیں سے پھر یہ سلسلہ آگے چلا ۔ سندھ میں قوم کو ریجہ سے رشتے داری ہونے کی وجہ سے "کُورِیجَہ" کہلاتے ہیں ۔ آپ کے جد امجد حضرت مخدوم نور محمد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولی کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ ان کے مدرسے اور خانقاہ کے لئے شاہ جہاں کے وزیر ارادت خان نے پانچ ہزار ایکڑ زمین بطور نذر دی تھی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1149ھ / مطابق 1736ء کو "کوٹ مٹھن شریف" پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد قراءت میں دِلچسپی لی اس کے حصول کے بعد اپنے والد ماجد مخدوم محمد شریف کے پاس درسی نصاب سے فراغت پائی ۔ حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی سے بعض صوفیانہ کتب کا درس لیا اور خواجہ نور محمد مہاروی سے سند حدیث حاصل کی ۔
بعد فراغت کوٹ مٹھن میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس میں زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ چولستان ریگستان میں جہالت کے خلاف سینہ سپر ہو کر علم کے چراغ اپنے خون پسینہ سے جلاتے رہے ۔ یہ مدرسہ ایک عام مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی، جہاں تمام علوم وفنون کی تعلیم اور طلباء کو ماہانہ وظیفہ، اور اساتذہ کا بہترین قیام و طعام کے ساتھ مناسب مشاہرے کا انتظام بھی تھا ۔ اس مدرسے کے طالب علموں میں سے ایک طالب علم غوث زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی بھی ہے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
منبع الحسنات، صاحبِ کمالات، قاضی الحاجات، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، مقتدائے اہل سنت، فخر زمانہ، امام الاولیاء، زبدۃ الاتقیاء، جامع شریعت و طریقت، حضرت خواجہ قاضی عاقل محمد چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے ۔ آپ کا خاندان علم و عمل، شرافت و دیانت، زہد و تقویٰ، اخلاص و محبت، صبر و رضا، توکل و غناء، سخاوت و عنایت اور دیگر صفاتِ عالیہ سے متصف چلا آ رہا ہے ۔ سب سے بڑھ کراس خاندان کا علمی ذوق اور علمی خدمات ہیں ۔ یہی علمی ذوق کوٹ مٹھن میں ایک بلند پایہ دار العلوم کی صورت میں ظاہر ہوا، جہاں علماء کی ایک کہکشاں افق دار العلوم پر روشن تھی، جس میں روشن ترستارہ خود قاضی محمد عاقل علیہ الرحمہ کی ذاتِ مبارکہ تھی ۔
ایک ایسا دار العلوم جہاں علم کے ساتھ عمل، فتویٰ کے ساتھ تقویٰ، عبارت کے ساتھ ریاضت، اور قیام و طعام کے ساتھ روحانی غذا کا بھی وافر حصہ ملتا تھا ۔ وہاں کے فاضلین میں ایک نام بحرِ بے کنار، فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔
شریعتِ مطہرہ کی پابندی کایہ عالم تھا، کہ یہ عالم بے بدل، جس قدر وابستۂ علم و حکمت تھا، اس سے بڑھ کر وارفتۂ شریعت تھا ۔ قاضی صاحب کے فیضان سے صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان مستفیض ہوا ۔
جناب خلیق نظامی فرماتے ہیں:
آپ کے تبحر علمی، پابندی شرع، بزرگانہ شفقت، اخلاق و مروت، کا دور دور تک شہرہ تھا ۔ لوگ بڑی عقیدت سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہ ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پنجاب کے نہایت دور افتادہ اور غیر معروف علاقوں میں مذہبی اور روحانی تعلیم کا چرچا ہونے لگا، اور ان کے خرمن کمال کے خوشہ چیں دور دور تک پھیل گئے ۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسہ:83) ـ
❤1👍1👌1