حضرت مولانا پیر غلام مجدد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر غلام جان مجددی ۔ لقب: مجددی ، سرہندی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ مولانا پیر غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم بن خواجہ محمد ضیاء الحق بن خواجہ غلام نبی بن خواجہ غلام حسن بن خواجہ غلام محمد بن خواجہ غلام معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 6 رجب المرجب 1300ھ / مطابق 14 مئی 1883ء، بروز پیر بوقتِ صبح صادق علاقہ "مٹیاری" ضلع حیدر آباد میں ہوئی ۔ اب مٹیاری خود ایک ضلع بن چکا ہے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ آپ کے جد امجد خواجہ عبدالرحیم نے کرائی، قرآن پاک آپ نے قاری عبد الرحمن متعلوی سے پڑھا، فارسی کی تعلیم جناب عزیز اللہ خان سلیمان خیل قندھاری سے اور عربی کی تعلیم علامہ محمد حسن اللہ صدیقی پاٹائی سے مٹیاری کی درگاہ شریف میں ہی حاصل کی ، سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ آپ کے والد گرامی نے تین سو علماء کی موجودگی میں آپ کو دستار فضیلت عطا فرمائی۔ اسی (80) علماء کے اجتماع میں آپ نےپہلی بارتقریرفرمائی جس کو سن کرعلماءبھی عش عش کراٹھے۔ مکۃ المکرمہ میں علامہ سید علی بن ظاہروتری اور حضرت مولانا عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی سے بطورِ برکت کتب حدیث پڑھیں اور سند حاصل کی۔عمدہ عمدہ کتابوں کا آپ کو بہت شوق تھا، یہی شوق تھا جس کے باعث آپ نے مدینہ منورہ سے اسی ہزار روپے کی نایاب کتابیں خرید فرمائیں۔ آج بھی آپ کے کتب خانے پرآپ کی خریدی ہوئی نایاب کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے جد امجد خواجہ عبد الرحیم سے شرف بیعت حاصل تھا، اور اجازت و خلافت اپنے والد گرامی خواجہ عبد الحلیم سے حاصل تھی آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب ایک ہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، عالمِ ربانی، عارف اسرار یزدانی، صاحبِ علم و تقویٰ، خانوادۂ مجدد الفِ ثانی کے بطلِ جلیل حضرت علامہ مولانا پیر غلام جان سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی زندگی ایک مومنانہ و مجاہدانہ تھی ۔ سیرت و کردار، علم و عمل، تقویٰ وطہارت، ہمدردی و اخوت تمام معاملات میں یادگارِاسلاف تھے۔جذبۂ حریت وغیرت آپ کی رگ وخون میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نےانگریزوں کےخلاف اورمسلمانوں کی حمایت میں تمام تحریکوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
فرنگیوں سے نفرت:
آپ کو فرنگیوں اور انگریزوں سے اور ان کی حکومت سے سخت نفرت تھی ۔ آپ کو بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں، لیکن آپ نے سب کو ٹھکرا دیا ۔ تحریکِ خلافت کے دوران آپ بذریعہ ریل دورے پر جا رہے تھے کہ راستے میں انگریز کلکٹر مسٹر گپس نے آپ کو دیکھ کر آپ کے لئے شربت منگوایا لیکن آپ نے اس کا منگایا ہوا شربت پینے سےانکار کر دیا اور فرمایا: "کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں ضرور پیتا اس لئے کے تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون پی رہے ہو" یہ سن کر انگریز کلکٹر کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ "شاید ان پر مذہبی جنون غالب آ گیا ہے ۔ "
قید و بند:
ترک موالات کی تحریک میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور سندھ کے چپہ چپہ پر جلسے کرکے انگریزوں کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کیا ۔ کراچی کی عظیم کانفرنس میں انگریزوں کے خلاف جو فتویٰ صاد ر کیا گیا تھا اس میں علی برادران ، مولانا نثار احمد کانپوری کے علاوہ چھٹے نمبر پر آپ کے دستخط بھی تھے۔
اس جرم کی پاداش میں خالق دینا ہال کراچی میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا اور آپ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی سزا سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ قید تو میرا ورثہ ہے کیوں کہ میں غلامِ مجدد اور اولادِ مجدد ہوں جن کو جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کر دیا تھا ۔ پھر ارشاد فرمایا:" کاش! آج مجھ پر یہ مقدمہ ہوتاکہ میں نے وقت کے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوتے"۔آپ نے بڑے تحمل سے یہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزارا اور اس عرصہ میں قرآن پاک پورا حفظ کر لیا۔ آپ نے جیل میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں ، سردی کی راتوں میں آپ کی کوٹھڑی کے اندر ٹھنڈا پانی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ آپ ساری رات کھڑے ہو کر گزاریں اور نماز نہ پڑھ سکیں، بتیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ آپ تلاوت قرآن پاک نہ کر سکیں ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر غلام جان مجددی ۔ لقب: مجددی ، سرہندی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ مولانا پیر غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم بن خواجہ محمد ضیاء الحق بن خواجہ غلام نبی بن خواجہ غلام حسن بن خواجہ غلام محمد بن خواجہ غلام معصوم بن خواجہ محمد اسماعیل بن خواجہ محمد بن خواجہ محمد معصوم بن امام ربانی شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 6 رجب المرجب 1300ھ / مطابق 14 مئی 1883ء، بروز پیر بوقتِ صبح صادق علاقہ "مٹیاری" ضلع حیدر آباد میں ہوئی ۔ اب مٹیاری خود ایک ضلع بن چکا ہے ۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ آپ کے جد امجد خواجہ عبدالرحیم نے کرائی، قرآن پاک آپ نے قاری عبد الرحمن متعلوی سے پڑھا، فارسی کی تعلیم جناب عزیز اللہ خان سلیمان خیل قندھاری سے اور عربی کی تعلیم علامہ محمد حسن اللہ صدیقی پاٹائی سے مٹیاری کی درگاہ شریف میں ہی حاصل کی ، سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ آپ کے والد گرامی نے تین سو علماء کی موجودگی میں آپ کو دستار فضیلت عطا فرمائی۔ اسی (80) علماء کے اجتماع میں آپ نےپہلی بارتقریرفرمائی جس کو سن کرعلماءبھی عش عش کراٹھے۔ مکۃ المکرمہ میں علامہ سید علی بن ظاہروتری اور حضرت مولانا عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی سے بطورِ برکت کتب حدیث پڑھیں اور سند حاصل کی۔عمدہ عمدہ کتابوں کا آپ کو بہت شوق تھا، یہی شوق تھا جس کے باعث آپ نے مدینہ منورہ سے اسی ہزار روپے کی نایاب کتابیں خرید فرمائیں۔ آج بھی آپ کے کتب خانے پرآپ کی خریدی ہوئی نایاب کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے جد امجد خواجہ عبد الرحیم سے شرف بیعت حاصل تھا، اور اجازت و خلافت اپنے والد گرامی خواجہ عبد الحلیم سے حاصل تھی آپ کا سلسلہ طریقت اور سلسلہ نسب ایک ہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
سیرت و خصائص:
شیخ الوقت، عالمِ ربانی، عارف اسرار یزدانی، صاحبِ علم و تقویٰ، خانوادۂ مجدد الفِ ثانی کے بطلِ جلیل حضرت علامہ مولانا پیر غلام جان سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی زندگی ایک مومنانہ و مجاہدانہ تھی ۔ سیرت و کردار، علم و عمل، تقویٰ وطہارت، ہمدردی و اخوت تمام معاملات میں یادگارِاسلاف تھے۔جذبۂ حریت وغیرت آپ کی رگ وخون میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ نےانگریزوں کےخلاف اورمسلمانوں کی حمایت میں تمام تحریکوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
فرنگیوں سے نفرت:
آپ کو فرنگیوں اور انگریزوں سے اور ان کی حکومت سے سخت نفرت تھی ۔ آپ کو بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں، لیکن آپ نے سب کو ٹھکرا دیا ۔ تحریکِ خلافت کے دوران آپ بذریعہ ریل دورے پر جا رہے تھے کہ راستے میں انگریز کلکٹر مسٹر گپس نے آپ کو دیکھ کر آپ کے لئے شربت منگوایا لیکن آپ نے اس کا منگایا ہوا شربت پینے سےانکار کر دیا اور فرمایا: "کہ اگر اس گلاس میں شربت کی جگہ تمہارا خون ہوتا تو میں ضرور پیتا اس لئے کے تم ہمارے ترک بھائیوں کا خون پی رہے ہو" یہ سن کر انگریز کلکٹر کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ "شاید ان پر مذہبی جنون غالب آ گیا ہے ۔ "
قید و بند:
ترک موالات کی تحریک میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور سندھ کے چپہ چپہ پر جلسے کرکے انگریزوں کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کیا ۔ کراچی کی عظیم کانفرنس میں انگریزوں کے خلاف جو فتویٰ صاد ر کیا گیا تھا اس میں علی برادران ، مولانا نثار احمد کانپوری کے علاوہ چھٹے نمبر پر آپ کے دستخط بھی تھے۔
اس جرم کی پاداش میں خالق دینا ہال کراچی میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا اور آپ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی سزا سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ قید تو میرا ورثہ ہے کیوں کہ میں غلامِ مجدد اور اولادِ مجدد ہوں جن کو جہانگیر بادشاہ نے قلعہ گوالیار میں نظر بند کر دیا تھا ۔ پھر ارشاد فرمایا:" کاش! آج مجھ پر یہ مقدمہ ہوتاکہ میں نے وقت کے انگریز بادشاہ جارج پنجم کو قتل کیا ہے اور اس کے خون سے میرے ہاتھ رنگے ہوتے"۔آپ نے بڑے تحمل سے یہ دوسال کا عرصہ جیل میں گزارا اور اس عرصہ میں قرآن پاک پورا حفظ کر لیا۔ آپ نے جیل میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں ، سردی کی راتوں میں آپ کی کوٹھڑی کے اندر ٹھنڈا پانی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ آپ ساری رات کھڑے ہو کر گزاریں اور نماز نہ پڑھ سکیں، بتیاں بند کر دی جاتی تھیں تاکہ آپ تلاوت قرآن پاک نہ کر سکیں ۔
❤1👍1👌1
ملی خدمات:
تحریک ہجرت ہو یا تحریک خلافت ، تحریک انجمن ہلال احمر ہو یا تحریک مسجد منزل گاہ ، تحریک ترک موالات ہویا تحریک پاکستان آپ نے ہر سیاسی اور مذہبی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا۔ انجمن ہلال احمر کے لئے صرف مٹیاری سے بارہ ہزار روپے جمع کروایا۔ انجمن خدام کعبہ کی تحریک کے لئے تمام سندھ سے ہزاروں روپے جمع کرکے بمبئی علی برادران کو بھیجوایا آپ ایک عرصہ تک جمعیت علمائے ہند کے سر کردہ رہنما رہے لیکن جب علماء اہل سنت نے جمعیت سے استعفی دیا تو آپ بھی مستعفی ہو گئے تھے ۔ آپ نے ہندووں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ ہندوو ں کے کچھ قرض آپ کے ذمہ تھے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کانگریس میں شامل ہو جائیں تو ہم تمام قرضہ معاف کر دیں گے ورنہ ڈگری جاری کروادیں گے اس کے جواب میں آپ نے اپنی زمین فروخت کرکے ان کے قرضے اتار دیئے مگر اپنے ایمان کا سودانہ کیا۔
تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی آپ نے ہر طرح سے بھر پور مدد کی اور اس کی ترقی کے لئے بھر چونڈی شریف کے پیرمولاناعبدالرحمن قادری اور عبدالرحیم شہید کے ہمراہ آپ نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی ر شدو ہدایت اور تبلیغ میں گزاری ہر مذہبی تحریک میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ مسجد کانپور کا جھگڑا ہوا تو مولانا محمد علی جوہر نے تار دےکر آپ کو بلایا آپ فورا ً کانپور پہنچے اورفیصلہ ہونے تک وہیں رہے اور ڈٹ کر حکومت وقت کا مقابلہ کیا۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی آمد پر آپ نے اپنا گھر خالی کر دیا اور اس میں ان کو بسایا حتیٰ کے سونے کیلئے بستر اور کھانے پینے کے برتن تک ان کے استعمال کیلئے دے دیئے ۔ ان کے لئے مکانوں کا بندوبست فرمایا ان کو رہائش کے لئے سہولتیں مہیا کیں ۔حیدر آباد میں سب سے پہلے "سلاوٹ پارے سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس "کی ابتدا آپ ہی نے فرمائی ۔ حیدر آباد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد آزاد میدان کی بنیاد بھی حضرت مفتی محمد محمود الوری کے ساتھ مل کر آپ ہی نے رکھی اور اس کی پہلی کمیٹی کے سب سے پہلے صدر بھی آپ ہی تھے۔الغرض آپ کی تمام زندگی ایک مجاہدانہ زندگی تھی۔خطۂ باب الاسلام سندھ آپ کی برکت وروحانیت سےفیض یاب ہوا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز منگل صبح نو بجے 16 جمادی الاخری 1377ھ / مطابق 7 جنوری 1958ء کو حیدر آباد میں ہوا ۔ پھر آپ کو حسبِ وصیت "مٹیاری" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
وفات سے قبل اپنے جد امجد خواجہ ضیاء الحق کے یہ اشعار آپ کے وردِ زبان تھے۔
بصدیقیت خریدارم عمر را دوست میں دارم
چہارم حیدر صفدر کہ باشد ساقی کوثر
فدا سازم دل و جاں را بعثمان یارسول اللہ
اما ماں را شوم چاکر بایقاں یارسول اللہ
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-ghulam-jan-mujaddadi-sirhandi
تحریک ہجرت ہو یا تحریک خلافت ، تحریک انجمن ہلال احمر ہو یا تحریک مسجد منزل گاہ ، تحریک ترک موالات ہویا تحریک پاکستان آپ نے ہر سیاسی اور مذہبی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا۔ انجمن ہلال احمر کے لئے صرف مٹیاری سے بارہ ہزار روپے جمع کروایا۔ انجمن خدام کعبہ کی تحریک کے لئے تمام سندھ سے ہزاروں روپے جمع کرکے بمبئی علی برادران کو بھیجوایا آپ ایک عرصہ تک جمعیت علمائے ہند کے سر کردہ رہنما رہے لیکن جب علماء اہل سنت نے جمعیت سے استعفی دیا تو آپ بھی مستعفی ہو گئے تھے ۔ آپ نے ہندووں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ ہندوو ں کے کچھ قرض آپ کے ذمہ تھے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کانگریس میں شامل ہو جائیں تو ہم تمام قرضہ معاف کر دیں گے ورنہ ڈگری جاری کروادیں گے اس کے جواب میں آپ نے اپنی زمین فروخت کرکے ان کے قرضے اتار دیئے مگر اپنے ایمان کا سودانہ کیا۔
تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی آپ نے ہر طرح سے بھر پور مدد کی اور اس کی ترقی کے لئے بھر چونڈی شریف کے پیرمولاناعبدالرحمن قادری اور عبدالرحیم شہید کے ہمراہ آپ نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی ر شدو ہدایت اور تبلیغ میں گزاری ہر مذہبی تحریک میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ مسجد کانپور کا جھگڑا ہوا تو مولانا محمد علی جوہر نے تار دےکر آپ کو بلایا آپ فورا ً کانپور پہنچے اورفیصلہ ہونے تک وہیں رہے اور ڈٹ کر حکومت وقت کا مقابلہ کیا۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی آمد پر آپ نے اپنا گھر خالی کر دیا اور اس میں ان کو بسایا حتیٰ کے سونے کیلئے بستر اور کھانے پینے کے برتن تک ان کے استعمال کیلئے دے دیئے ۔ ان کے لئے مکانوں کا بندوبست فرمایا ان کو رہائش کے لئے سہولتیں مہیا کیں ۔حیدر آباد میں سب سے پہلے "سلاوٹ پارے سے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس "کی ابتدا آپ ہی نے فرمائی ۔ حیدر آباد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد آزاد میدان کی بنیاد بھی حضرت مفتی محمد محمود الوری کے ساتھ مل کر آپ ہی نے رکھی اور اس کی پہلی کمیٹی کے سب سے پہلے صدر بھی آپ ہی تھے۔الغرض آپ کی تمام زندگی ایک مجاہدانہ زندگی تھی۔خطۂ باب الاسلام سندھ آپ کی برکت وروحانیت سےفیض یاب ہوا۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز منگل صبح نو بجے 16 جمادی الاخری 1377ھ / مطابق 7 جنوری 1958ء کو حیدر آباد میں ہوا ۔ پھر آپ کو حسبِ وصیت "مٹیاری" میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
وفات سے قبل اپنے جد امجد خواجہ ضیاء الحق کے یہ اشعار آپ کے وردِ زبان تھے۔
بصدیقیت خریدارم عمر را دوست میں دارم
چہارم حیدر صفدر کہ باشد ساقی کوثر
فدا سازم دل و جاں را بعثمان یارسول اللہ
اما ماں را شوم چاکر بایقاں یارسول اللہ
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-ghulam-jan-mujaddadi-sirhandi
scholars.pk
Hazrat Peer Ghulam Jan Mujaddadi Sirhandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1👌1
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
scholars.pk
Hazrat Sheikh-ul-Islam Allama Makhdoom Hashim Thathwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1👌1
معین الدین حسن سَنجری یا سِجزی ؟
تحقیق وتحریر ✍ لقمان شاہد
ہندستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کا نامِ پاک حسن ہے ، اور عوام وخواص آپ کو " حسن سنجری " کہتے ، لکھتے ہیں -
آپ کو سنجری کہنا ، لکھنا درست نہیں ؛ اصل لفظ سجز ( سِ جْ ز ) ہے ، جس کے ساتھ یائے نسبتی لگانے سے سِجزی بنا -
اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ کا تعلق علاقہ " سجز " سے تھا ، جو کہ سجستان کامخفف اور سیستان کا معرب ہے -
(دیکھیے: مناقب الحبیب مترجم ، حاجی خواجہ نجم الدین ، م 1287 ھ ، ص 51 ، دارالاسلام لاہور )
{ ایک بات یاد رہے کہ:
مناقب الحبیب کا کچھ ماہ پہلے دارالاسلام سے ترجمہ چھپا ہے ، جس میں لفظ سجز کو کاتب نے سنجر کر دیا ہے ، جوکہ غلط ہے ؛ حضرتِ مصنف قدس سرہ نے با قاعدہ اس کا تلفظ اِن الفاظ میں لکھا ہے : سین مہملہ کی کسرہ ، جیم کے سکون اور رائے معجمہ - ( ص 51 )
مصنف نے راے معجمہ ، نقطے والے ز کو کہا ہے جسے کاتب ر سمجھتا رہا }
اِس علاقے سے منسوب کو " سنجری " کہنا بالکل غلط ہے ، درست سجزی ہے -
حافظ ابوبکر حازمی کہتے ہیں :
سجز ، سجستان کانام ہے ، جس سے منسوب سجزی کہلاتا ہے -
( انظر: تھذیب الاسماء واللغات ، امام نووی ، فصل فی اسماءالمواضع ، ج 3 ، ص 159 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
ثقہ مورخ علامہ یاقوت حموی م 626 ھ ، کہتے ہیں :
سجز کے سین پر زیر ، جیم ساکن اور آخر میں ز ہے...........اس سے منسوب سجزی کہلاتاہے -
( معجم البلدان ، ج 3 ، ص 189 ، دارصادر بیروت )
لہٰذا آپ کا نام پاک ہوا :
حضرت خواجہ معین الدین حسن سِجۡزِیۡ نوراللہ مرقدہ
☀️ خواجہ عثمان ہارونی یا ہرونی؟ ☀️
حضور خواجہ غریب نواز معین الدین اجمیری کے مرشد گرامی ، خواجہ عثمان رحمہ اللہ کے متعلق فیض ملت مفتی فیض احمد اویسی قدس سرہ کہتے ہیں:
حضرت عثمان ہرونی ملک خراسان کے قصبہ ہرون میں پیداہوئے..........ہرونی کو لوگ ہارونی کہتے ہیں جوبالکل غلط ہے -
( حاشیہ: اخبارالاخیارمترجم ، طبقہ اول ، ص 86 ، زاویہ پبلشرز لاہور )
( لقمان شاہد )
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364853
تحقیق وتحریر ✍ لقمان شاہد
ہندستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ کا نامِ پاک حسن ہے ، اور عوام وخواص آپ کو " حسن سنجری " کہتے ، لکھتے ہیں -
آپ کو سنجری کہنا ، لکھنا درست نہیں ؛ اصل لفظ سجز ( سِ جْ ز ) ہے ، جس کے ساتھ یائے نسبتی لگانے سے سِجزی بنا -
اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ کا تعلق علاقہ " سجز " سے تھا ، جو کہ سجستان کامخفف اور سیستان کا معرب ہے -
(دیکھیے: مناقب الحبیب مترجم ، حاجی خواجہ نجم الدین ، م 1287 ھ ، ص 51 ، دارالاسلام لاہور )
{ ایک بات یاد رہے کہ:
مناقب الحبیب کا کچھ ماہ پہلے دارالاسلام سے ترجمہ چھپا ہے ، جس میں لفظ سجز کو کاتب نے سنجر کر دیا ہے ، جوکہ غلط ہے ؛ حضرتِ مصنف قدس سرہ نے با قاعدہ اس کا تلفظ اِن الفاظ میں لکھا ہے : سین مہملہ کی کسرہ ، جیم کے سکون اور رائے معجمہ - ( ص 51 )
مصنف نے راے معجمہ ، نقطے والے ز کو کہا ہے جسے کاتب ر سمجھتا رہا }
اِس علاقے سے منسوب کو " سنجری " کہنا بالکل غلط ہے ، درست سجزی ہے -
حافظ ابوبکر حازمی کہتے ہیں :
سجز ، سجستان کانام ہے ، جس سے منسوب سجزی کہلاتا ہے -
( انظر: تھذیب الاسماء واللغات ، امام نووی ، فصل فی اسماءالمواضع ، ج 3 ، ص 159 ، دارالکتب العلمیہ بیروت )
ثقہ مورخ علامہ یاقوت حموی م 626 ھ ، کہتے ہیں :
سجز کے سین پر زیر ، جیم ساکن اور آخر میں ز ہے...........اس سے منسوب سجزی کہلاتاہے -
( معجم البلدان ، ج 3 ، ص 189 ، دارصادر بیروت )
لہٰذا آپ کا نام پاک ہوا :
حضرت خواجہ معین الدین حسن سِجۡزِیۡ نوراللہ مرقدہ
☀️ خواجہ عثمان ہارونی یا ہرونی؟ ☀️
حضور خواجہ غریب نواز معین الدین اجمیری کے مرشد گرامی ، خواجہ عثمان رحمہ اللہ کے متعلق فیض ملت مفتی فیض احمد اویسی قدس سرہ کہتے ہیں:
حضرت عثمان ہرونی ملک خراسان کے قصبہ ہرون میں پیداہوئے..........ہرونی کو لوگ ہارونی کہتے ہیں جوبالکل غلط ہے -
( حاشیہ: اخبارالاخیارمترجم ، طبقہ اول ، ص 86 ، زاویہ پبلشرز لاہور )
( لقمان شاہد )
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364853
❤1👍1👌1
معین الدین حسن چشتی اجمیری، سلطان الہند، خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبدالعزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صاد بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی۔(علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انار بکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا ر ہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کرسکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔آپ کی کوششوں سے ہندوستان " دار الاسلام " بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب۶۳۳ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،۶۶] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد حسن ـ کنیت: معین الدین، لقب: سلطان الہند ، خواجہ غریب نواز، عطائے رسول، نائب النبی فی الہند معروف ہیں ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ معین الدین بن سید غیاث الدین حسن سنجری بن کمال الدین سید احمد حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبدالعزیز بن سید ابراہیم بن امام علی رضا بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صاد بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی المرتضی۔(علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ 14 رجب ۵۳۰ھ / بمطابق ۱۱۳۵ء میں بمقام "سنجر" (ایران) سید غیاث الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ آپ کی نشو و نما "خراسان" میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔ مزید حصولِ علم کیلئے "سمرقند" اور "بخارا" کی طرف سفر کیا کیونکہ ان ایام میں یہی بلاد علوم و فنون کے مراکز تھے ۔حفظ القرآن، اور چند ابتدائی علوم و فنون کی کتب مولانا شرف الدین علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ جمیع علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تکمیل مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے ۵۵۸ ھ میں بیعت و خلافت حاصل ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت سلطان الہند محسن ہند ہیں ۔ بر صغیر میں اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں۔آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے پر پہنچے، اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا ۔ نورِ ہدایت پھیلتا چلا گیا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا ۔ آپ کی کرامت آثار نگاہِ فیض سے بِالکل پہلی بار دہلی اور اجمیر کے ایوانوں میں مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرایا ۔
سیر الاولیاء کے مصنف سید
کرمانی (م ۷۷۰ھ) رقم طراز ہیں:
اس آفتاب (خواجہ) کے طلوع ہونے سے قبل پورے ہندستان میں کفر و بت پرستی کا رواج تھا اور ہند کا ہر سر کش "انار بکم الاعلٰی" کا دعوی کرتا تھا، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتا تھا، وہ پتھر، ڈھیلے، گھر، درخت، چوپایوں اور گائے اور ان کے گوبر کو سجدہ کرتے تھے ۔ اور کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کے تالے اور بھی مضبوط ہو رہے تھے ۔ اہل یقین کے اس آفتاب کے مبارک قدموں کی برکت سے جو در حقیقت معین الدین تھے، اس ملک کی تاریکی اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی ۔ [سیر الاولیاء ص ۴۷] ـ
آپ کی نگاہِ ولایت جس شخص پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، رہزن آتا ر ہبر بن جاتا ، قاتل آتا محافظ بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان بن جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہوکر عاملِ قرآن بن جاتا۔رسالہ "احوال پیران ِچشت" میں ہے:
‘‘نظر شیخ معین الدین بر فاسق کہ افتادے در زمان تائب شدے ، باز دگر معصیت نہ کردے’’یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہ جس فاسق پر پڑجاتی اسی وقت توبہ کرلیتا اور پھر گناہ کے قریب نہ بھٹکتا ۔
برادرِ اعلی حضرت ، اُستاذ زمن
علامہ حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں:
؎ خفتگانِ شب ِغفلت کوجگا دیتا ہے
سالہا سال وہ راتوں کو نہ سونا تیرا
حضرت سلطان الہند نے ہندوستان میں بلا شبہ کفر شکن تحریک برپا کی تھی ۔ جو کام ہزاروں تلواریں نہیں کرسکیں، وہ ایک عارف باللہ کی خاموش اور اخلاقی تحریک نے کر دِکھایا ۔آپ کی کوششوں سے ہندوستان " دار الاسلام " بن گیا ۔
وصال:
سلطان الہند کا وصال پر ملال 6 رجب المرجب۶۳۳ ھ / بمطابق ۱۲۲۹ء میں ہوا ۔
وقتِ وصال آپ کی مقدس پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔ [اخبارالا خیار، ص،۶۶] ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزارِ مبارک، اجمیر شریف (انڈیا) میں منبع فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-chishti-ajmeri
scholars.pk
Hazrat Khawaja Moinuddin Chishti Ajmeri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-07-1444 ᴴ | 28-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-07-1444 ᴴ | 29-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1👌1