🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-07-1444 ᴴ | 24-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ آج یکم رجب المرجب ہے 💐
01-07-1444 ᴴ | 24-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آج یکم رجب المرجب ہے 💐
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🗓️ ماہ رجب المرجب کے ایام 🗓️
یوم وصال | یوم وفات | یوم اعراس
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
رفیق ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر میاں نوری مد ظلہ العالی

سجادہ نشین، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ


تاریخ پیدائش:
حضرت سید نجیب حیدر میاں کی پیدائش 2 رجب المرجب 1396ھ بمطابق یکم جولائی 1976ء کو سنیچر کے دن ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور اپنی پھوپھیوں سے جبکہ بی۔اے اور ایم۔اے مارہرہ شریف سے کیا۔

بیعت و خلافت:
حضور رفیقِ ملت کے پیر و مرشد شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ہیں جبکہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء سے خلافت حاصل ہے۔ وارث پنجتن حضرت سید یحییٰ حسن میاں نے بھی آپ کو خلافت عطا فرمائی۔

لقب:
حضور رفیق ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔

گدی:
حضرت نجیب میاں کو وارث پنجتن حضرت یحییٰ میاں نے اپنی حیات میں نوری گدی کا وارث بنا دیا تھا اس لیے آپ سجادۂ نوریہ پر متمکن ہیں۔ نوری گدی ملنے سے پہلے آپ حضور امین ملت کے نائب سجادہ نشین تھے۔

ولی عہد :

فرزند اکبر سید محمد حسن حیدر۔

خلفاء:
(۱)بڑے صاحب زادے سید حسن حیدر(۲)مفتی آفاق احمد صاحب مجددی ، قنوج (۳) مفتی محمد حنیف برکاتی، کانپور (۴)محمد اویس رضا صاحب قادری، پاکستان (۵ ) حاجی عبد الغفار پردیسی (۶) حاجی محمد عارف پردیسی (۷) مولانا مجیب اشرف صاحب (۸) مولانا صغیر احمد جوکھن پوری (۹) مفتی قلندر صاحب، کرناٹک وغیرہم۔

اہم خدمات:
❶ سلسلۂ برکاتیہ کا تبلیغی دوروں کے ذریعہ وسیع پیمانے پر اجراء ❷ ۲۰۰۲ء میںمارہرہ پبلک اسکول کا قیام ❸ ۲۰۱۲ میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام ❹ ہند و بیرون ہند دعوتی و تبلیغی اسفار

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/rafeeq-e-millat-syed-shah-najeeb-haider-miyan-barkati-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
امام الواصلین ، قدوۃ السالکین ، خواجہ پیر ، غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

حضرت علامہ خواجہ پیر غلام یٰسین شاہ جمالی بن حضرت فیض محمد شاہ جمالی بن خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہم

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 صفر المظفر 1336ھ بمطابق 18 نومبر 1917ء بروز اتوار شاہجمال میں ہوئی ۔

تعلیم:
ایک سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا مکمل تربیت والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اورمکمل دینی تعلیم بمع دورۂ حدیث اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ نیز خلافت بھی آپ نے عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
والد گرامی حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ سجا دہ نشین مقرر ہو ئے آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے آپ پر اکثر و بیشتر جذب کی کیفیت طاری رہتی اپنے والد ماجد کی طرح خطاب فرماتے اور عشق حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جام پلاتے ۔آپ کو اپنے نانا حضرت خواجہ نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ (جو کہ حضرت خواجہ خدابخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ کےشاگردو مرید وخلیفہ اور حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ کے استاذ تھے) اور دادا جان حضرت خواجہ نور الدین شاہ جمالی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی فیض ملا ۔

آپ کی زبان لوح محفوظ کی سیاہی تھی جیسا آپ فرماتے ویسا ہو تا ۔آپ کی کرامات شمار سے باہر ہیں جس نے بھی آپ کی زیارت کی وہ ہمیشہ آپ کا دیوانہ ہو گیا ۔آپ کے بارے میں مشہور ہے اور ان چشم دید گو اہوں میں سے بعض اہل علم و عرفان آج بھی زندہ ہیں کہ جنہوں نے حضرت کو بید اری کی حالت میں مدینہ منورہ میں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے اور مکہ مکرمہ میں طواف ِ بیت اللہ شریف کرتے دیکھا ہے،جبکہ بظاہر اپنے آستانے پر بھی موجود ہوتے تھے ۔

احقر کے جد امجد شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خواجہ غلام یٰسین قلندر کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہ تھی واللہ باللہ ثم تاللہ ایسا تارک الدنیا ہم نے نہ دیکھا ،جائز طریقے سے دنیا آتی تھی تو بھی ٹھوکر مارتے تھے ۔ سادگی کایہ عالم تھا کہ ذرہ برابر بھی تصنع اور بناوٹ ونمود نہیں بڑی سادہ اور پیاری طبیعت تھی ۔

(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص37،38)

علم و فضل:
شیخ الحدیث والتفسیر بیہقی وقت امام المناظرین علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خواجہ غلام یٰسین صاحب رحمہ اللہ تعالی چونکہ پیدائشی طور پر مستوار تھے ،بحر مشاہدہ میں غرق رہتے تھے اور علوم وفنون واسرار کے جامع تھے ظاہر طور پر نہ مطالعہ کتب نہ سبق کو دہراتے اگر چہ ظاہری طور پر آپ کے والد خواجہ فیض محمد شاہجمالی نے آپ کو تمام علوم ظاہرہ واسرار باطنہ پڑھائے تھے اور فارغ التحصیل علامہ بنادیا بس والد حضور کے آگے کتاب کھول کر پڑھتے رہتے نہ پہلے مطالعہ نہ پھر کتاب بینی ۔ ایک دن تمام علماء وفضلاء تلمیذان شاہجمالی نے طے کیا کہ استاذ شاہجمالی محقق عالم ہیں آسمان علوم کے نیر اعظم ہیں اور ان کے بیٹے غلام یٰسین کا یہ حال ہے نہ مطالعہ نہ سبق دہرانا ، آج ان سے مناظرہ کریں منقول والے منقول میں خواجہ غلام یٰسین کو پکڑیں اور معقول والے علم معقول میں مواخذے اور سوالات کی بوچھاڑ کردیں چنانچہ علماء وفضلاء ایک طرف سے اور خواجہ غلام یٰسین اکیلے ایک طرف تھے آپ نے سب کو لاجواب کردیا پھر پتہ چلا یہ سب کچھ پڑھے ہوئے اور تمام علوم کے حافظ ہیں ۔

ایک دن فقیر فیضی سے خواجہ غلام یٰسین نے فرمایا میں نے ملاں دوست محمد قریشی دیوبندی سے مناظرہ کیا اور اس کو لاجواب کر دیا ۔

(مرج البحرین فی ذکر غوثین ص 22،23)

اولاد:
اللہ تعالی نے آپ کو تین صاحبزادے اور آٹھ صاحبزادیوں سے نوازا ـ

فرزند اکبر:
پیر طریقت رہبر شریعت خواجہ خواجگان عمدۃ الواصلین حضرت علامہ صاحبزادہ خواجہ پیر محمد عبدالحی شاہجمالی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف ڈیرہ غازی خان آپ کا وصال 17 شعبان المعظم 1433ھ میں ہوا اپنے جد امجد کے پہلو میں آخری آرام گاہ بنی ۔

فرزند اوسط:
پیر طریقت جگر گوشہ قلندر وقت مستوار حافظ خواجہ پیر محمد فیض رسول شاہجمالی دامت برکاتہم موجودہ سجادہ نشین دربار شاہجمالیہ سندیلہ شریف

فرزند اصغر:
قلندر ابن قلندر پیر طریقت نوردیدہ شاہجمالی کریم تارک الدنیا حضرت خواجہ پیر تاج رسول شاہجمالی دامت برکاتہم

وصال:
آپ کا وصال پرملال 2 رجب المرجب 1412ھ سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا اپنے والد گرامی کے پہلو میں آرام فرمارہے ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/ghaus-e-zaman-hazrat-khuwaja-ghulam-yaseen-shah-jamali
1👍1