🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔

حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)

تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔

بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔

سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔

جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
1👍1
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
حضرت قاضی  ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان  غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں  مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)

آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔

سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔

فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
اللہ رکھا قادری ضیائی، بانی انجمن ضیائے طیبہ، الحاج سید،  مدظلہ العالی
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)

محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن  سید عمر میاں  بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔﷭۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق  ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی﷫ سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک  حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ  کی کوئی  باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی ﷫ سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ  تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین ﷫ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ ﷫ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔

انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

1970ءکو اس کا پہلا جلسہ  یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی﷫، اور خطاب حضرت  شاہ تراب الحق قادری صاحب﷫ اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد  الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری ﷫ نےاس  تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین ﷫ نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب  کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی  کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً  سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔

نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔

پہلا حج:
  1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات  کا سلسلہ جاری ہے ۔

اسفار:
زیارات  ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔

شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی ﷫ سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔

المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
1👍1
اور (no loss) کی بنیاد پر کیا، اللہ جل شانہ نےآپ کی سچی محنت، اورخلوص، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمانوں کی دعاؤں کی بدولت اس میں خوب برکتیں عطاء فرمائیں،اس وقت یہ منفردخصوصیات کاحامل ’’المؤذن حج وعمرہ سروسز‘‘ کےبابرکت نام سےموسوم ہے۔اس کی بدولت اللہ  تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت،اور اہل سنت وجماعت کےفروغ واشاعت اور حرمین طیبین میں شعائر اہل سنت ،اورسنی مسلمانوں کےعقائد وایمان کی حفاظت،اس کی اولین ترجیحات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کواعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں سےخوب نوازاہے،یہی وجہ ہےکہ ’’حج  آر گنائزیشن‘‘ حکومتِ پاکستان  کی کمیٹی میں شامل ہیں،اورصوبہ سندھ کےحج گروپ تنظیم (HOUAP) میں جنرل سیکٹری  کی حیثیت سے بھی  خدمات انجام دیں ۔

رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ  ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں  میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم  میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی  کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید  جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘  کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت  مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم  کوبےراہ روی  سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات  وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔

انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی ﷫ کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔

ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔

اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ  کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات  پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔

عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی  پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت  ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔

قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ  ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم  ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
والدِ اعلیٰ حضرت ، حضور رئیس الاتقیاء ، علامہ نقی علی خان (علیہم الرحمہ)

ولادت و فراست:
وہ جناب فضائلِ مآب تاج العلما، راس الفضلا، حامیِ سنّت ماحیِ بدعت، بقیۃ السلف، حجت الخلف رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَفِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاہُ سلخ جمادی الآخرَۃ یا غرّۂ رجب ۱۲۴۶ ہجریہ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔ اپنے والدِ ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ وکراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہٗ وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہٗ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمداللہ منصب شریف علم کا پایہ درجۂ علیا کو پہنچایا۔؎

راست میگویم ویزداں نہ پسندد وجزراست

کہ جو دقّتِ انظار، وحدتِ افکار ،وفہمِ صائب ،ورائے ثاقب ،حضرت حق جَلَّ وَعَلَا نے انہیں عطا فرمائی۔ ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملے میں جو کچھ فرمایا، وہی ظہور میں آیا۔ عقلِ معاش ومعاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا، یہاں آنکھوں دیکھا۔ علاوہ بریں۔ سخاوت وشجاعت، وعلوِّہمت وکرم ،ومروّت وصدقاتِ خفیہ، ومبرّات جلیہ ،وبلندیِ اقبال ،ودبدبہ وجلال ،ومولات فقراء ، اور امرِ دینی میں عدمِ مبالات باغنیاء حکام سے عزلتِ رزقِ موروث پر قناعت وغیر ذالک فضائلِ جلیلہ وخصائلِ جمیلہ کا حال وہی کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکتِ صحبت سے شرف پایا ہے

؏ ایں نہ بحریست کہ در کوزۂ تحریر آید
حضور اقدس ﷺکے اعدا پر شدت

مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذاتِ گرامیِ صفات کو خالق عزوجل نے حضرتِ سلطانِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیہ کی غلامی وخدمت اور حضورِ اقدس کے اعدا پر غلظت وشدّت کے لیے بنایا تھا۔ بحمداللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کردیا۔ کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے۔ یہاں تک کہ ۲۶؍شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرۂ دینی کا عام اعلان مسمّٰی بنامِ تاریخی ‘‘اصلاحِ ذات بین’’ طبع کرایا اور سوا مہر ِسکوت ، یا عارِ فرار، و غوغائے جہال ، وعجز و اضطرار، کے کچھ جو اب نہ پایا۔ فتنہ شش مثل کا شعلہ کہ مدّت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اطفا پر عرق ریز گرویدہ اس جناب کی ادنیٰ توجّہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے، خود اس کے نام سے جلتے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺکی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لیے ودیعت تھی، جس کی قدرے تفصیل رسالہ تنبیہہ ‘‘الجہال (۱۳۹۱ھ) بالہام الباسط المتعال ’’میں مطبوع ہوئی۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔

تصانیف:
تصانیف ِشریفہ اس جناب کی سب علومِ دینیہ نافع مسلمین، ودافع مفسدین ، والحمدللہ رب العالمین۔ از اں جملہ: ۱.‘‘اَلْکَلَامُ الْاَوْضَحْ فِیْ تَفْسِیْرِ سُوْرَۃِ اَلَمْ نَشْرَحْ ’’کہ مجلّدِ کبیر ہے، علومِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔

‘‘وسیلۃ النجاۃ’’ جس کا موضوع ذکرِ حالاتِ سیّدِ کائنات ہے، ﷺ، مجلّدِ وسیط۔
3.‘‘سرور القلوب فی ذکر المحبوب ’’کہ مطبع نو لکشور میں چھپی۔

‘‘جواہر البیان فی اسرار الارکان’’ جس کی خوبی دیکھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔
؏ ذوق ایں مے نشناسی بخداتا نہ چشی

فقیر غَفَرَ اللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے صرف اُس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ ‘‘زواہر الجنان من جواہر’’البیان ملقب بنام تاریخی ‘‘سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی’’ تالیف کیا۔

‘‘اصول الرشاد لقمع مباتی الفساد’’ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات فرمائے جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعت نجدیہ کو موتِ حسرت۔

‘‘ہدایۃ البریہ الی الشریعۃ الاحمدیہ ’’ کہ دس فرقوں کا رد ہے۔ یہ کتابیں مطبعِ صبحِ صادق سیتا پور میں طبع ہوئیں۔
‘‘اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولود والقیام’’ کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور انشاء اللہ العزیز عنقریب شائع ہوگی۔
‘‘فَضْلُ الْعِلْم وَالْعُلَمَآء ’’ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا۔

‘‘ازالۃ الاوہام ’’ رد نجدیہ۔
‘‘تزکیۃ ایقان ردّ تقویۃ الایمان’’
کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ میں تبییض پاچکا۔

‘‘الکواکب الزہراء فی فضائل العلم وآداب العلماء’’ جس کی تخریج احادیث میں فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے رسالہ ‘‘النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب لکھا’’۔

‘‘الروایۃ الرویۃ فی الاخلاق النبویۃ’’۔
‘‘النقاوۃ التقویۃ فی الخصائص النبویۃ’’۔
14.‘‘ لمعۃ النبراس فی آداب الاکل واللباس’’۔

‘‘التمکن فی تحقیق مسائل التزین’’۔
‘‘احسن الوعاء لآداب الدعاء’’۔
‘‘خیر المخاطبۃ فی المحاسبۃ والمراقبہ’’۔
‘‘ہدایۃ المشتاق الٰی سیر الانفس ولآفاق’’۔
‘‘ارشاد الاحباب الٰی آداب الاحتساب’’۔
‘‘اجمل الفکر فی مباحث الذکر’’۔
‘‘عین المشاہدۃلحسن المجاہدۃ’’۔
‘‘تشوق الاداۃ الٰی طرق حجۃ اللہ’’۔
23.‘‘ نہایۃ السعادۃ فی تحقیقی الہمۃ والا رادۃ’’۔
1👍1
‘‘اقوی الذریعۃ الٰی تحقیق الطریقۃ والشریعۃ’’۔
‘‘ترویج الارواح فی تفسیر الانشراح’’۔

ان پندرہ رسائل مابین وجیز وسیط کے مسوّدات موجود ہیں، جن کی تبییض کی فرصت حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ نے نہ پائی۔ فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالٰی لَہٗ کا قصد ہے کہ انہیں صاف کر کے ایک مجلّد میں طبع کرائے۔ انشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ

؏کہ حلوابہ تنہا نہ بایست خورد۔

ان کے سوا اور تصانیف شریفہ کے مسوّدے بستوں میں، ملتے ہیں مگر منتشر جن کے اجزا اوّل ،آخر، یا وسط سے گم ہیں۔ ان کے بارے میں حسرت و مجبوری ہے۔

غرض عمر اس جناب کی ترویجِ دین ،وہدایتِ مسلمین ،ونکایتِ اعدا ۔و حمایتِ مصطفیٰ ﷺمیں گزری جَزَاہُ اللہُ مِنَ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمیْنِ خَیْرَ جَزَاءٍ جَزاء(آمین)

بیعت وخلافت:
پنجم (۵) جمادی الاولیٰ ۱۲۹۴ھ کو مارہرۂ مطہرہ میں دستِ حق پرست ،حضرت آقائے نعمت، دریائے رحمت، سید الواصلین، سند الکاملین، قطبِ اوانہ ، و امامِ زمانہ حضورِپر نور سیّدنا ومرشدنا مولانا وماوانا ذخرتی لیومی وغدی حضرت سیدنا شاہ آلِ رسول احمدی تاج دار مسندِ مارہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَاَفَاضَ عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِہٖ وَنْعْمَاہُ پر شرف بیعت حاصل فرمایا۔ حضور پیرو مرشدِ برحق نے مثالِ خلافت واجازتِ جمیعِ سلاسل وسند حدیث عطا فرمائی۔ یہ غلامِ ناکارہ بھی اسی جلسے میں اس جناب کے طفیل ان برکات سے شرف یاب ہوا۔ والحمدللہ ربّ العالمین

سرکار ﷺ کے حکم پر حجِ بیت اللہ

۲۶؍شوال ۱۲۹۵ھ کو باوجود شدّتِ علالت ،وقوّتِ ضعف خود، حضورِ اقدس سیّدِ عالمﷺ کے خاص طور پر بلانے سے کہ ‘‘مَن رَاٰنِیْ فِیْ الْمَنَامِ فَقُدْ رَاٰنِیْ’’ عزمِ زیارت وحجِّ مصمّم کاارادہ فرمایا۔ یہ غلام اور چند اصحاب وخدّام ہم راہ رکاب تھے۔ ہر چند احباب نے عرض کی کہ یہ حالت ہے آیندہ سال پر ملتوی فرمایئے۔ ارشاد فرمایا ! مدینۂ طیبّہ کے قصد سے قدم دروازہ سے باہر رکھ لوں۔ پھر چاہے روح اسی وقت پرواز کرجائے۔ دیکھنے والے جانتے ہیں کہ تمام مشاہد میں تندرستوں سے کسی بات میں کمی نہ فرمائی، بلکہ وہ مرض ہی خود نبی ﷺ کے ایک آب خورے میں دو اعطا فرمانے سے کہ‘‘ مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ’’ حَدِّ منع پر نہ رہا۔ وہاں حضرت اجلّ العلما، اکمل الفضلاء، حضرت مولانا سیّد احمد زین دحلان شیخ الحرم وغیرہ علمائے مکۂ معظمہ سے مکرر سندِ حدیث حاصل فرمائی۔

وصال مبارک:
ذی القعدہ روزِ پنجشنبہ وقتِ ظہر ۱۲۹۷ ہجریہ قدسیہ کو اکیاون ۵۱ برس پانچ مہینے کی عمر میں بعارضۂ اسہالِ دموی شہادت پاکر شب ِجمعہ اپنے حضرت والدِ ماجد قُدِّسَ سِرُّہٗ کے کنار میں جگہ پائی۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!

روزِ وصال نماز صبح پڑھ لی تھی اور ہنوز وقتِ ظہر باقی تھا کہ انتقال فرمایا۔ نزع میں سب حاضرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کیے متواتر سلام فرماتے تھے۔ جب چند انفاس باقی رہے، ہاتھوں کو اعضائے وضو پر یوں پھیرا گویا وضو فرماتے ہیں یہاں تک کہ استنشاق بھی فرمایا۔ سبحان اللہ! وہ اپنےطور پر حالتِ بے ہوشی میں نمازِ ظہر بھی ادا فرماگئے۔ جس وقت روحِ پر فتوح نے جدائی فرمائی۔ فقیر سرہانے حاضر تھا۔ وَاللہ الْعَظِیْم! ایک نورِ ملیح علانیہ نظر آیا کہ سینے سے اٹھ کر برقِ تابندہ کی طرح چہرے پر چمکا، اور جس طرح لمعانِ خورشید آئینے میں جنبش کرتا ہے، یہ حالت ہوکر غائب ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی۔ پچھلا کلمہ، کہ زبانِ فیضِ ترجمان سے نکلا، لفظِ اللہ تھا وبس اور اخیر تحریر کہ دستِ مبارک سے ہوئی ‘‘بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’’ تھی کہ انتقال سے دو روز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی۔ بعدہٗ فقیر نے حضور پیر و مرشدِ برحق رضی اللہ عنہ کو رویا میں دیکھا کہ حضرتِ والدِ قُدِّسَ سِرُّہٗ الماجد کے مرقد پر تشریف لائے۔ غلام نے عرض کی حضور یہاں کہاں؟ اَدْ لَفْظاً ھٰذَا مَعَنَاہُ فرمایا آج سے یا فرمایا اب سے ہم یہیں رہا کریں گے۔ رَحِمَھُمَا اللہُ تَعالٰی رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً۔

ذھب الذین یعاش فی اکنافھم
وبقیت فی ناس کجلد الاجرب

لیھن دعاء الناس ولیفرح الجھل
بعدک لا یرجوالبقا من لہ عقل

اللھم ارحمھما وارض عنھما واکرم نزلھما واقض علینا من برکاتھما اٰمین

برحمتک یا ارحم الراحمین!

وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین۔ اٰمین!

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-naqi-ali-khan-barelvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-07-1444 ᴴ | 24-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آج یکم رجب المرجب ہے 💐
1👍1