🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
سمِ گرامی: امام سفیان بن عیینہ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: امام الحرام ۔ محدث الحرم۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محدث حرم امام ابو محمد سفیان بن عیینہ بن ابو عمران میمون ہلالی۔ ابن عیینہ کے دادا ابو میمون عمارہ ضحاک کے بھائی محمد بن مزاحم کے غلام تھے والد عیینہ والیِ کوفہ خالد بن عبداللہ قسری کے عمال میں سے تھے۔ 120ھ میں جب خالد کو معزول کر دیا گیا تو عیینہ والیِ کوفہ یوسف بن عمر ثقفی کے عتاب کاشکار ہوئے گھر بار چھوڑ کر کوفہ سے پورے خاندان کے ساتھ مکہ آگئے اور حرم ہی میں پناہ لی اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 107ھ کوکوفہ میں ہوئی۔جب وہ مکۃ المکرمہ میں ہجرت کرکے پہنچے توان کی عمر تیرہ سال تھی۔
تحصیلِ علم:
اس وقت کوفہ علم کا بڑا مرکز تھا جہاں محدثین و فقہاء اور اہل فن علماء کی کمی نہ تھی آپ کے والد صاحبِ علم، صاحب ثروت شخص تھے۔انہوں نے اپنے ہونہار فرزند کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام کے ساتھ کی پہلے قرآن شریف حفظ کرایا گیا سات سال کی عمر میں حفظ سے فارغ ہوئے تو حدیث کی کتابت شروع کرادی گئی 15 سال کی عمر تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔پھرہجرت کرکےمکہ میں آئےتو مکہ مکرمہ اس وقت ائمہ تابعین کا مرکز تھا امام زہری، عمرو بن دینار، ابن جریج اور بہت سے ائمہ قرآن و سنت کی مجلسیں قائم تھیں۔ یہاں آپ باضابطہ تحصیل علم کے لیے آمادہ ہوئے تو تمام علماء مکہ بالخصوص ابن شہاب زہری اور عمرو بن دینار کی مجلس درس میں شریک ہونے لگے اور جب تک یہاں قیام رہا ان سے الگ نہ ہوئے پھر وہ کوفہ آگئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا۔ آپ نے ستاسی تابعین کی زیارت کی تھی۔ قدرت نے ابن عیینہ کو بلا کا حافظہ اور ذکاوت عطا فرمائی تھی۔حافظہ اور ذکاوت کے بارے میں بیان ہے "ماکتبت شیئا حفظتہ" میں جس چیز کو ضبط تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہوگئی۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۸۲)۔آپ کےشیوخ کثیرتعدادمیں ہیں۔
سیرت و خصائص:
امام الحرم، محدث حرم، شیخ المحدثین، رئیس الاتقیاء حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کے ذوق و شوق ِعلم، سعادت مندی و ذکاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ علم تفسیر و حدیث کے بڑے امام ہوگئے۔ اکابر ائمہ فن نے ان کی عظمت علم کا اعتراف کیا ہے۔امام شافعی فرماتےہیں:"لولا مالک و سفیان لذھب علم الحجاز" امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہوجاتا۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۰۵)
بشر بن مفضل:
"ما بقی علی وجہ الارض احد یشبہ ابن عیینہ" روئے زمین پر کوئی عالم ابن عیینہ جیسا باقی نہیں رہا۔ (ایضاً، ص۱۰۶)ابن وہب:"ما رأیت احدا اعلم بکتاب اللہ من ابن عیینہ" میں نے ابن عیینہ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)امام شافعی:"ما رأیت احداً من الناس فیہ جزالۃ العلم مافی ابن عیینہ وما رأیت احدا آلف عن الفتیا منہ"میں نے علم کی جتنی پختگی امام ابن عیینہ میں دیکھی ہے کسی میں نہیں دیکھی اور میں نے ان سے زیادہ فتویٰ دینے سے گریز کرنے والا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)ابن مہدی: "کان اعلم الناس بحدیث اھل احجاز" وہ اہل حجاز کی حدیثوں کے سب سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً، ص۱۰۷)
ابن حبان:
"کان من الحفاظ المتقین واھل الوراع والدین" ابن عیینہ متقن حفاظ حدیث میں تھے۔ وہ صاحب تقویٰ اور دیندار تھے۔ (ایضاً)
ابن خلکان:
"کان اماما عالما حجۃ زاھداً ورعاً مجمعا علی صحۃ حدیثہ و روایتہ" وہ امام، عالم، ثبت، حجت، زاہد اور پرہیزگار تھے حدیث کی صحت اور روایت میں وہ متفق علیہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)
حافظ ذہبی:
"العلامۃ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔ کان امام حجۃ حافظا واسع العلم کبیر القدر" بہت بڑے عالم، نامور حافظ حدیث، شیخ الاسلام اور محدث حرم ہیں۔۔ آپ امام حجت حافظ حدیث، وسیع العلم اور جلیل القدر انسان تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۲۴۲)
امام احمد بن حنبل:
"ما رأیت اعلم بالسنن منہ" میں نے ان سےزیادہ حدیث کا جاننے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)حافظ ذہبی: "اتفقت الائمۃ علی الاحتجاج بابن عیینہ لحفظہ و امانتہ" ابن عیینہ کے حفظ اور امانت میں قابل حجت ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ (ایضاً)
خدمتِ حدیث:
اقوال بالا سے ابن عیینہ کی علمی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے، کثرت روایت کے لحاظ سے دوسرے بہت سے تابعین پر فوقیت رکھتے ہیں مگر حدیث میں ابن عیینہ کو جو بات ان کے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے وہ حدیث نبوی کا فہم، تفسیر حدیث کا ملکہ اور وثوق واعتماد ہے ان اوصاف میں کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے احمد بن عبداللہ فرماتے ہیں: ان کے شمار حکماء حدیث میں ہوتا تھا گوکہ ان کی روایتیں صرف سات ہزار تھیں اور انہوں نے حدیث کا کوئی مجموعہ بھی نہیں چھوڑا۔ (تہذیب الاسماء، ج۱، ص۲۳۴)اکابر حدیث آپ کی فقاہت پر متفق ہیں ابو حاتم کہتے تھے مسلمانوں کے لیے ان (ابن عیینہ) کا علم حجت ہے عجلی کا بیان ہے کہ ان کی ذات قابل و ثوق اور قابل اعتماد ہے۔ (تہذیب الاسماء، ج۴، ص۱۳)
نام و نسب:
سمِ گرامی: امام سفیان بن عیینہ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: امام الحرام ۔ محدث الحرم۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محدث حرم امام ابو محمد سفیان بن عیینہ بن ابو عمران میمون ہلالی۔ ابن عیینہ کے دادا ابو میمون عمارہ ضحاک کے بھائی محمد بن مزاحم کے غلام تھے والد عیینہ والیِ کوفہ خالد بن عبداللہ قسری کے عمال میں سے تھے۔ 120ھ میں جب خالد کو معزول کر دیا گیا تو عیینہ والیِ کوفہ یوسف بن عمر ثقفی کے عتاب کاشکار ہوئے گھر بار چھوڑ کر کوفہ سے پورے خاندان کے ساتھ مکہ آگئے اور حرم ہی میں پناہ لی اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 107ھ کوکوفہ میں ہوئی۔جب وہ مکۃ المکرمہ میں ہجرت کرکے پہنچے توان کی عمر تیرہ سال تھی۔
تحصیلِ علم:
اس وقت کوفہ علم کا بڑا مرکز تھا جہاں محدثین و فقہاء اور اہل فن علماء کی کمی نہ تھی آپ کے والد صاحبِ علم، صاحب ثروت شخص تھے۔انہوں نے اپنے ہونہار فرزند کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام کے ساتھ کی پہلے قرآن شریف حفظ کرایا گیا سات سال کی عمر میں حفظ سے فارغ ہوئے تو حدیث کی کتابت شروع کرادی گئی 15 سال کی عمر تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔پھرہجرت کرکےمکہ میں آئےتو مکہ مکرمہ اس وقت ائمہ تابعین کا مرکز تھا امام زہری، عمرو بن دینار، ابن جریج اور بہت سے ائمہ قرآن و سنت کی مجلسیں قائم تھیں۔ یہاں آپ باضابطہ تحصیل علم کے لیے آمادہ ہوئے تو تمام علماء مکہ بالخصوص ابن شہاب زہری اور عمرو بن دینار کی مجلس درس میں شریک ہونے لگے اور جب تک یہاں قیام رہا ان سے الگ نہ ہوئے پھر وہ کوفہ آگئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا۔ آپ نے ستاسی تابعین کی زیارت کی تھی۔ قدرت نے ابن عیینہ کو بلا کا حافظہ اور ذکاوت عطا فرمائی تھی۔حافظہ اور ذکاوت کے بارے میں بیان ہے "ماکتبت شیئا حفظتہ" میں جس چیز کو ضبط تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہوگئی۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۸۲)۔آپ کےشیوخ کثیرتعدادمیں ہیں۔
سیرت و خصائص:
امام الحرم، محدث حرم، شیخ المحدثین، رئیس الاتقیاء حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کے ذوق و شوق ِعلم، سعادت مندی و ذکاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ علم تفسیر و حدیث کے بڑے امام ہوگئے۔ اکابر ائمہ فن نے ان کی عظمت علم کا اعتراف کیا ہے۔امام شافعی فرماتےہیں:"لولا مالک و سفیان لذھب علم الحجاز" امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہوجاتا۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۰۵)
بشر بن مفضل:
"ما بقی علی وجہ الارض احد یشبہ ابن عیینہ" روئے زمین پر کوئی عالم ابن عیینہ جیسا باقی نہیں رہا۔ (ایضاً، ص۱۰۶)ابن وہب:"ما رأیت احدا اعلم بکتاب اللہ من ابن عیینہ" میں نے ابن عیینہ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)امام شافعی:"ما رأیت احداً من الناس فیہ جزالۃ العلم مافی ابن عیینہ وما رأیت احدا آلف عن الفتیا منہ"میں نے علم کی جتنی پختگی امام ابن عیینہ میں دیکھی ہے کسی میں نہیں دیکھی اور میں نے ان سے زیادہ فتویٰ دینے سے گریز کرنے والا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)ابن مہدی: "کان اعلم الناس بحدیث اھل احجاز" وہ اہل حجاز کی حدیثوں کے سب سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً، ص۱۰۷)
ابن حبان:
"کان من الحفاظ المتقین واھل الوراع والدین" ابن عیینہ متقن حفاظ حدیث میں تھے۔ وہ صاحب تقویٰ اور دیندار تھے۔ (ایضاً)
ابن خلکان:
"کان اماما عالما حجۃ زاھداً ورعاً مجمعا علی صحۃ حدیثہ و روایتہ" وہ امام، عالم، ثبت، حجت، زاہد اور پرہیزگار تھے حدیث کی صحت اور روایت میں وہ متفق علیہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)
حافظ ذہبی:
"العلامۃ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔ کان امام حجۃ حافظا واسع العلم کبیر القدر" بہت بڑے عالم، نامور حافظ حدیث، شیخ الاسلام اور محدث حرم ہیں۔۔ آپ امام حجت حافظ حدیث، وسیع العلم اور جلیل القدر انسان تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۲۴۲)
امام احمد بن حنبل:
"ما رأیت اعلم بالسنن منہ" میں نے ان سےزیادہ حدیث کا جاننے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)حافظ ذہبی: "اتفقت الائمۃ علی الاحتجاج بابن عیینہ لحفظہ و امانتہ" ابن عیینہ کے حفظ اور امانت میں قابل حجت ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ (ایضاً)
خدمتِ حدیث:
اقوال بالا سے ابن عیینہ کی علمی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے، کثرت روایت کے لحاظ سے دوسرے بہت سے تابعین پر فوقیت رکھتے ہیں مگر حدیث میں ابن عیینہ کو جو بات ان کے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے وہ حدیث نبوی کا فہم، تفسیر حدیث کا ملکہ اور وثوق واعتماد ہے ان اوصاف میں کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے احمد بن عبداللہ فرماتے ہیں: ان کے شمار حکماء حدیث میں ہوتا تھا گوکہ ان کی روایتیں صرف سات ہزار تھیں اور انہوں نے حدیث کا کوئی مجموعہ بھی نہیں چھوڑا۔ (تہذیب الاسماء، ج۱، ص۲۳۴)اکابر حدیث آپ کی فقاہت پر متفق ہیں ابو حاتم کہتے تھے مسلمانوں کے لیے ان (ابن عیینہ) کا علم حجت ہے عجلی کا بیان ہے کہ ان کی ذات قابل و ثوق اور قابل اعتماد ہے۔ (تہذیب الاسماء، ج۴، ص۱۳)
❤1👍1
جب حضرت سفیان ابن عیینہ کوفہ پہنچے تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "جاء کم حافظ علم عمرو بن دینار" تمہارے پاس عمرو بن دینار کی مرویات کا حافظ آگیا ہے۔ چناں چہ لوگ ان کی مرویات سے استفادہ کے لیے آنے لگے ابن عیینہ کا بیان ہے "اول من صیرنی محدثا ابو حنیفۃ" جس نے مجھے سب سے پہلے محدث بنایا وہ امام ابو حنیفہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)
ابن عیینہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا مگر ایام حج میں جب عالم اسلام کے لوگ حرمین شریفین حاضر ہوتے تو ان کے حلقۂ درس میں ازدحام ہوتا تھا۔حضرت امام شافعی، امام عبدالرزاق،امام اعمش،امام وکیع، سفیان ثوری، حمادبن زید،یحیٰ بن قطان وغیرہ آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
ابن عیینہ کی جلالت شان کے معترف صرف عوام اور علماء ہی نہ تھے بلکہ خلفاء اور امراء بھی آپ کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور ان کا نام عزت کے ساتھ لیتے تھے ابو ربیع کہتے ہیں میں ایک بار ہارون رشید سے ملا تو اس نے پہلے ہاشمی عالموں کا حال پوچھا پھر کہنے لگا سید الناس کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین آپ کے سوا سید الناس کون ہے؟ کہا سفیان بن عیینہ سید الناس ہیں۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۷۰)۔(جب علماء ومحدثین کی بادشاہ و امراء قدر کرتے تھے، تو اس وقت مسلمانوں کو عروج حاصل تھا۔کفاران کی ہیبت سے کانپتے تھے، لیکن جب اس امت نے اپنے علماءِ کرام کی قدر کرنا چھوڑدی توذلت و رسوائی اس کامقدربن گئی۔ آج پوری دنیامیں مسلمانوں کی جو حالت ہےوہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے) ۔
زہد و عبادت:
امام ابن عیینہ کا پایہ جس قدر علم میں بلند تھا اسی قدر زہد و عبادت میں اپنے معاصرین پر فائق تھے۔ زندگی بڑی سادہ اور بے تکلف گذارتے تھے۔ ایک بار ان کے شاگرد ابو یوسف غسولی آپ سے ملنے گئے تو دیکھا کہ ان کے پاس جو کی دو ٹکیاں رکھی ہوئی ہیں۔ فرمایا چالیس سال سے یہی میری غذا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 198ھ، مطابق 24 فروری 815ء کو ہوا ۔ کوہِ حجون کے قریب مکۃ المکرمہ میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sufyan-bin-uyaynah
ابن عیینہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا مگر ایام حج میں جب عالم اسلام کے لوگ حرمین شریفین حاضر ہوتے تو ان کے حلقۂ درس میں ازدحام ہوتا تھا۔حضرت امام شافعی، امام عبدالرزاق،امام اعمش،امام وکیع، سفیان ثوری، حمادبن زید،یحیٰ بن قطان وغیرہ آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔
ابن عیینہ کی جلالت شان کے معترف صرف عوام اور علماء ہی نہ تھے بلکہ خلفاء اور امراء بھی آپ کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور ان کا نام عزت کے ساتھ لیتے تھے ابو ربیع کہتے ہیں میں ایک بار ہارون رشید سے ملا تو اس نے پہلے ہاشمی عالموں کا حال پوچھا پھر کہنے لگا سید الناس کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین آپ کے سوا سید الناس کون ہے؟ کہا سفیان بن عیینہ سید الناس ہیں۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۷۰)۔(جب علماء ومحدثین کی بادشاہ و امراء قدر کرتے تھے، تو اس وقت مسلمانوں کو عروج حاصل تھا۔کفاران کی ہیبت سے کانپتے تھے، لیکن جب اس امت نے اپنے علماءِ کرام کی قدر کرنا چھوڑدی توذلت و رسوائی اس کامقدربن گئی۔ آج پوری دنیامیں مسلمانوں کی جو حالت ہےوہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے) ۔
زہد و عبادت:
امام ابن عیینہ کا پایہ جس قدر علم میں بلند تھا اسی قدر زہد و عبادت میں اپنے معاصرین پر فائق تھے۔ زندگی بڑی سادہ اور بے تکلف گذارتے تھے۔ ایک بار ان کے شاگرد ابو یوسف غسولی آپ سے ملنے گئے تو دیکھا کہ ان کے پاس جو کی دو ٹکیاں رکھی ہوئی ہیں۔ فرمایا چالیس سال سے یہی میری غذا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 198ھ، مطابق 24 فروری 815ء کو ہوا ۔ کوہِ حجون کے قریب مکۃ المکرمہ میں مدفون ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sufyan-bin-uyaynah
scholars.pk
Hazrat Sheikh Sufyan Bin Uyaynah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔
خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔
خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔
حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
❤1👍1
مجلس میں آکر یوں بیٹھ گئے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی اہل مجلس میں شور برپا ہوگیا۔ اس مجلس میں دو ہزار لوگ موجود تھے تمام کے تمام آپ کے مرید ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود بعض ضدّی علماء اصرار کرتے رہے کہ ہمیں اس پرواز پر اعتبار نہیں۔ایسا کام تو بعض جوگی بھی کرلیتے ہیں۔ ہم اس وقت مانے گے جب جامع مسجد کے حوض پر پڑا ہوا بڑا پتھر آپ کی ولایت کی گواہی دے ، پھر ہم آپ کے مرید ہوجائیں گے۔ حضرت خواجہ نے انگشت شہادت سے پتھر کی طرف اشارہ کیا وہ پتھر اپنی جگہ سے ہلا اور لیٹے لیٹے حضرت خواجہ کے پاس آکر رک گیا۔ پتھر سے آواز آئی، اے خواجہ مودود آپ کی ولایت پر کوئی شک نہیں، آپ کے اقوال شرع پیغمبر کے مطابق ہیں۔ بلخ کے علماء نے جب یہ کرامت دیکھی تو حضرت خواجہ مودود کے قدموں میں گر پڑے اپنی غلطی کی معافی مانگی۔
یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔
صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ
ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ
انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qutbuddin-maudood-chishti
یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔
صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ
ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ
انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qutbuddin-maudood-chishti
www.scholars.pk
Hazrat Khawaja Qutbuddin Maudood Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)
تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔
جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: قاضی الاسلام ۔ بیہقی وقت، علم الہدیٰ، مفسر قرآن، فقیہ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی بن مولانا محمد حبیب اللہ بن مولانا ہدایت اللہ بن مولانا عبدالہادی،بن سعیدالدین بن شیخ عبدالقدوس بن شیخ خلیل اللہ بن مفتی عبد السمیع بن شیخ حسین بن خواجہ محفوظ بن خواجہ احمد بن خواجہ ابراہیم بن مخدوم خواجہ شیخ جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی۔علیہم الرحمہ۔
آپ کا سلسلہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت کبیر الاولیاء پانی پتی نے اپنے صاحبزادے شیخ ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ تمھاری نسل میں ہمیشہ علماء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں: حضرت کی بشارت کےعین مطابق اب تک یہ سلسلہ اس خاندان میں قائم ہے ۔ حضرت قاضی صاحب کاننھیال پانی پت کاانصارخاندان ہے۔جن کاسلسلہ نسب حضرت میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ خاموش ہے، البتہ قیاس وغیرہ سے 1144ھ، تا 1140ھ کےمابین متعین ہوتاہے۔ پانی پت آپ کی جائے پیدائش ہے۔ (تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی:63)
تحصیلِ علم:
آپ کاخاندان علم وفضل میں مشہورتھا۔ابتدائی تعلیم اپنےگھر پرہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل فرمالیا۔اس کےبعد آپ نےقرآتِ عشرہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی اس فن میں کمال ومہارت کا اندازہ تفسیر مظہری کےمطالعے سےکیا جا سکتا ہے ۔ شاید اس فن میں کوئی تفسیر "تفسیرمظہری" کامقابلہ کرسکے۔ قرأتِ عشرہ کی تکمیل وتحصیل دیگر اساتذہ کے علاوہ شیخ قاری صالح المصری علیہ الرحمہ سےفرمائی ۔ تکمیل قرآن کےبعد قاضی صاحب نےابتدائی کتب اپنے والدِ گرامی مولانا قاضی محمد حبیب اللہ اور برادر اکبر قاضی محمد فضل اللہ سے پڑھیں ۔ ان کےعلاوہ دیگر پانی کے دیگر اساتذہ سےعلمی استفادہ کیا ۔ پانی پت کےمدارس میں تکمیل کرنے کے بعد مزید حصولِ علم کےلئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ اورشیخ المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران دونوں نابغۂ روزگار شخصیات سےتمام علوم اور بالخصوص فن حدیث وتفسیر اور تصوف میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
ابتداً شیخ محمد عابد سنامی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، پھران کے وصال کے بعد شیخ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ انہوں نے آپ کو تمام اسانید و سلاسل کی اجازت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
قاضی الاسلام، مفسر قرآن، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، جامع شریعت و طریقت، فقیہ الاعظم، بیہقیِ عصر،صاحبِ علم الہدیٰ، امام العلماء، شیخ الاتقیاء، صاحبِ معارف اسرار ربانی حضرت قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کےایک عظیم مفسر و محدث اور فقیہ کامل تھے۔ تمام علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل تھی ۔ پانی پت میں قاضی اسلام کے منصب پر فائز تھے ۔ خاتم المحدثین شیخ المحققین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ آپ کےتبحر علمی ،اورفنِ حدیث میں مہارت کےپیشِ نظر آپ کو"بیہقیِ وقت"اور امام الاولیاء رئیس الاتقیاء حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ نےآپ کو "علم الہدیٰ" کا خطاب عطاء فرمایا۔ آپ کی تربیت میں سب سےزیادہ حصہ حضرت مرزاجانِ جاناں علیہ الرحمہ کاہے۔ ان کی تربیت نےآپ کو"مجمع البحرین"بنادیا۔
جب حضرت نےآپ کوسلوک کی تمام منازل طےکرا دیں تو فرمایا تم شیخ محمد اعظم بچھراؤنی خلیفہ اعظم شیخ محمد افضل سیالکوٹی کی خدمت میں جاؤ، جو کمالات مجھ سےحاصل کیےہیں ان کےآئینہ باطن پرپیش کرو،کیونکہ وہ انتہائی متقی اورصاحبِ کشف بزرگ تھے۔جب ا ن کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے فرمایا: "اس شخص کی شان بہت عظیم ہے، اور اس پرکسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا"۔ (ایضاً)۔ اس عبارت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کس قدرروحانی مراتب کےحامل تھے۔یہی وجہ ہے حضرت مرزاجان جاناں علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے: "قیامت کےدن بارگاہِ خداوندی میں اپنےنامۂ اعمال میں حضرت قاضی صاحب کوپیش کردونگا"۔حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک ثقہ اورمتدین عالمِ دین تھے۔آپ اقلیمِ علم کے تاجدار تھے ۔ آپ کی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، درس وتدریس و عظ و نصیحت میں گزاری ۔
❤1👍1
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)
آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔
سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔
فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب شیخ جلا ل الدین کبیر الاولیاء چشتی کی اولاد میں سے تھے جن کا نسب حضرت عثمان غنی کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے ۔ فقیہ، محدث، محقق، مدقق، منصف مزاج، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور فقہ واصول میں مرتبۂ اجتہادپر پہنچے ہوئے تھے۔علم تفسیر وکلام اور تصوف میں ید طولیٰ حاصل تھا،صفائی ذہن وجودت طبع وقوت فکر اور سلامتی عقل زائد الوصف حاصل تھی، اکثر خواب میں شیخ جلال اپنے جد امجد اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے تربیت اور بشارات حاصل کیں۔مرزا صاحب (مظہرجانِ جاناں) آپ کے حق میں فرماتے تھے کہ میرے دل میں آپ کی بہت ہیبت ہے اور بسبب صلاح اور تقویٰ و دیانت کے آپ مروج شریعت اور منور طریقت اور ملکی صفات ہیں فرشتے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں،اگرخدا نے مجھ سے قیامت کو پوچھا کہ ہماری درگاہ میں کیا تحفہ لایا ہے تو میں ثناء اللہ کو پیش کرونگا۔آپ اکثر اوقات طاعت و عبادت میں مشغول رہتے تھے،ہر روز سو رکعت نماز اور ایک منزل قرآن شریف تہجد میں وظیفہ کیا ہوا تھا۔قضاء کا منصب بھی اختیار کیا تھا اور جیسا کہ چاہئے اس کا حق ادا کیا۔(حدائق الحنفیہ:484)
آپ نے بہترین عقائد واعمال پربہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں۔تمام کتب میں جومقام "تفسیرمظہری"کوملاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس تفسیرکوعرب وعجم میں اورتمام مکاتب فکر میں مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔آپ نےاس میں شریعت وطریقت دونوں کوجمع کردیاہے۔دوسرے مکتبۂ فکر کے مدارس بورڈ کے اندران کی فقہی مسائل پرمشتمل کتاب "مالابدمنہ" شامل نصاب ہے۔اس سےمعلوم ہواکہ وہ آپ کی شخصیت کےمعترف ہیں۔کاش!اگروہ تفسیر مظہری کےاندرجوتعلیمات بیان کی گئیں ہیں، ان کو تسلیم کر لیتے توآج امت میں اختلاف ختم ہوجاتے۔صرف تفسیرِ مظہری سےایک اقتباس نقل کرتاہوں۔قارئینِ کرام،حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کےنظریات وتعلیمات سے خوداندازہ لگالیں گےکہ ہمارےاکابرین کےنظریات وعقائدکیاتھے۔
سورت البقرہ آیت نمبر151 میں "یُعلِمُّ" فعل کا تکرار کیوں آیا ہے؟ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر و لعل المرادبہ العلم اللدنی الماخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدرالنبیﷺ الذی لاسبیل الی درکہ الا الاِنعکاس۔الٰی آخرہ۔ترجمہ:یعلم فعل کاتکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم پہلی تعلیم کتاب و حکمت سے الگ نوعیت کی ہے۔ اور شاید اس سے مراد علم لدُنّی ہے جو قرآن کے باطن اور نبی مکرم ﷺکے منور و روشن سینہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کا ذریعہ یہ مروجہ تعلیم و تعلّم نہیں (یعنی یہ تعلیم کسی ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی،اورنہ ہی اس کی کوئی کتب ونصاب ہیں) بلکہ انعکاس ہے یعنی آفتاب قرآن کی کِرنیں اور ماہتابِ نبوت کی شعاعیں دل کے آئینہ پر منعکس ہوتی ہیں۔ اولیائے کاملین جو انوار نبوت کے صحیح وارث ہوتے ہیں وہ بھی اپنے مریدیان باصفا پر اسی قسم کے علوم و معارف کا القاءاور فیضان فرماتے ہیں۔
فاذکرونی اذکرکم ۔ سورۃ البقرہ ،152، کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ترجمہ: جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے، اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضور ﷺکے پُر نور سینہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو۔ کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام فائز کیے جاؤ گے (یعنی سینۂ مصطفیٰﷺ بلاواسطہ فیض حاصل کرسکوگے) جہاں انوار و تجلیات کی بےمحابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر اُلٹ دیئےجاتے ہیں۔ (تفسیرِ مظہری ج:1، تحت الآیۃ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 1225ھ، مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار پانی پت انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔ تفسیرِ مظہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-muhammad-sanaullah-panipati
scholars.pk
Hazrat Qazi Muhammad Sanaullah Panipati
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
اللہ رکھا قادری ضیائی، بانی انجمن ضیائے طیبہ، الحاج سید، مدظلہ العالی
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)
محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن سید عمر میاں بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ کی کوئی باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔
انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
1970ءکو اس کا پہلا جلسہ یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی، اور خطاب حضرت شاہ تراب الحق قادری صاحب اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری نےاس تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔
نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔
پہلا حج:
1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات کا سلسلہ جاری ہے ۔
اسفار:
زیارات ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔
شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔
المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)
محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن سید عمر میاں بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ کی کوئی باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
ابتدائی تعلیم:
قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔
انجمن اشاعت اسلام کا قیام:
اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔
1970ءکو اس کا پہلا جلسہ یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی، اور خطاب حضرت شاہ تراب الحق قادری صاحب اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری نےاس تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘ کےنام سےموسوم ہوئی۔ قبلہ شاہ صاحب تقریباً سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔
نکاح:
آپ کا نکاح، 16 فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی نے پڑھایا تھا۔
پہلا حج:
1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات کا سلسلہ جاری ہے ۔
اسفار:
زیارات ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔
شرفِ بیعت:
1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔
المؤذن حج و عمرہ:
جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کا آغاز (profit no)
❤1👍1
اور (no loss) کی بنیاد پر کیا، اللہ جل شانہ نےآپ کی سچی محنت، اورخلوص، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمانوں کی دعاؤں کی بدولت اس میں خوب برکتیں عطاء فرمائیں،اس وقت یہ منفردخصوصیات کاحامل ’’المؤذن حج وعمرہ سروسز‘‘ کےبابرکت نام سےموسوم ہے۔اس کی بدولت اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت،اور اہل سنت وجماعت کےفروغ واشاعت اور حرمین طیبین میں شعائر اہل سنت ،اورسنی مسلمانوں کےعقائد وایمان کی حفاظت،اس کی اولین ترجیحات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کواعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں سےخوب نوازاہے،یہی وجہ ہےکہ ’’حج آر گنائزیشن‘‘ حکومتِ پاکستان کی کمیٹی میں شامل ہیں،اورصوبہ سندھ کےحج گروپ تنظیم (HOUAP) میں جنرل سیکٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ۔
رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘ کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم کوبےراہ روی سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔
انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔
ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔
اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔
عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔
قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
رفاہِ عامہ:
سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘ کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم کوبےراہ روی سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔
انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:
آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔
ضیائی مدارس:
اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔
اصلاحی دروس:
اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔
عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:
عرسِ اعلیٰ حضرت ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتےہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔
قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول عام عطاء فرمائے، اور آپ کےمدارس اور بالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-allah-rakha-qadri-ziaee
scholars.pk
Syed Allah Rakha Qadri Ziaee
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
والدِ اعلیٰ حضرت ، حضور رئیس الاتقیاء ، علامہ نقی علی خان (علیہم الرحمہ)
ولادت و فراست:
وہ جناب فضائلِ مآب تاج العلما، راس الفضلا، حامیِ سنّت ماحیِ بدعت، بقیۃ السلف، حجت الخلف رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَفِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاہُ سلخ جمادی الآخرَۃ یا غرّۂ رجب ۱۲۴۶ ہجریہ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔ اپنے والدِ ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ وکراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہٗ وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہٗ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمداللہ منصب شریف علم کا پایہ درجۂ علیا کو پہنچایا۔؎
راست میگویم ویزداں نہ پسندد وجزراست
کہ جو دقّتِ انظار، وحدتِ افکار ،وفہمِ صائب ،ورائے ثاقب ،حضرت حق جَلَّ وَعَلَا نے انہیں عطا فرمائی۔ ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملے میں جو کچھ فرمایا، وہی ظہور میں آیا۔ عقلِ معاش ومعاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا، یہاں آنکھوں دیکھا۔ علاوہ بریں۔ سخاوت وشجاعت، وعلوِّہمت وکرم ،ومروّت وصدقاتِ خفیہ، ومبرّات جلیہ ،وبلندیِ اقبال ،ودبدبہ وجلال ،ومولات فقراء ، اور امرِ دینی میں عدمِ مبالات باغنیاء حکام سے عزلتِ رزقِ موروث پر قناعت وغیر ذالک فضائلِ جلیلہ وخصائلِ جمیلہ کا حال وہی کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکتِ صحبت سے شرف پایا ہے
؏ ایں نہ بحریست کہ در کوزۂ تحریر آید
حضور اقدس ﷺکے اعدا پر شدت
مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذاتِ گرامیِ صفات کو خالق عزوجل نے حضرتِ سلطانِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیہ کی غلامی وخدمت اور حضورِ اقدس کے اعدا پر غلظت وشدّت کے لیے بنایا تھا۔ بحمداللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کردیا۔ کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے۔ یہاں تک کہ ۲۶؍شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرۂ دینی کا عام اعلان مسمّٰی بنامِ تاریخی ‘‘اصلاحِ ذات بین’’ طبع کرایا اور سوا مہر ِسکوت ، یا عارِ فرار، و غوغائے جہال ، وعجز و اضطرار، کے کچھ جو اب نہ پایا۔ فتنہ شش مثل کا شعلہ کہ مدّت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اطفا پر عرق ریز گرویدہ اس جناب کی ادنیٰ توجّہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے، خود اس کے نام سے جلتے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺکی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لیے ودیعت تھی، جس کی قدرے تفصیل رسالہ تنبیہہ ‘‘الجہال (۱۳۹۱ھ) بالہام الباسط المتعال ’’میں مطبوع ہوئی۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔
تصانیف:
تصانیف ِشریفہ اس جناب کی سب علومِ دینیہ نافع مسلمین، ودافع مفسدین ، والحمدللہ رب العالمین۔ از اں جملہ: ۱.‘‘اَلْکَلَامُ الْاَوْضَحْ فِیْ تَفْسِیْرِ سُوْرَۃِ اَلَمْ نَشْرَحْ ’’کہ مجلّدِ کبیر ہے، علومِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔
‘‘وسیلۃ النجاۃ’’ جس کا موضوع ذکرِ حالاتِ سیّدِ کائنات ہے، ﷺ، مجلّدِ وسیط۔
3.‘‘سرور القلوب فی ذکر المحبوب ’’کہ مطبع نو لکشور میں چھپی۔
‘‘جواہر البیان فی اسرار الارکان’’ جس کی خوبی دیکھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔
؏ ذوق ایں مے نشناسی بخداتا نہ چشی
فقیر غَفَرَ اللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے صرف اُس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ ‘‘زواہر الجنان من جواہر’’البیان ملقب بنام تاریخی ‘‘سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی’’ تالیف کیا۔
‘‘اصول الرشاد لقمع مباتی الفساد’’ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات فرمائے جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعت نجدیہ کو موتِ حسرت۔
‘‘ہدایۃ البریہ الی الشریعۃ الاحمدیہ ’’ کہ دس فرقوں کا رد ہے۔ یہ کتابیں مطبعِ صبحِ صادق سیتا پور میں طبع ہوئیں۔
‘‘اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولود والقیام’’ کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور انشاء اللہ العزیز عنقریب شائع ہوگی۔
‘‘فَضْلُ الْعِلْم وَالْعُلَمَآء ’’ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا۔
‘‘ازالۃ الاوہام ’’ رد نجدیہ۔
‘‘تزکیۃ ایقان ردّ تقویۃ الایمان’’
کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ میں تبییض پاچکا۔
‘‘الکواکب الزہراء فی فضائل العلم وآداب العلماء’’ جس کی تخریج احادیث میں فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے رسالہ ‘‘النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب لکھا’’۔
‘‘الروایۃ الرویۃ فی الاخلاق النبویۃ’’۔
‘‘النقاوۃ التقویۃ فی الخصائص النبویۃ’’۔
14.‘‘ لمعۃ النبراس فی آداب الاکل واللباس’’۔
‘‘التمکن فی تحقیق مسائل التزین’’۔
‘‘احسن الوعاء لآداب الدعاء’’۔
‘‘خیر المخاطبۃ فی المحاسبۃ والمراقبہ’’۔
‘‘ہدایۃ المشتاق الٰی سیر الانفس ولآفاق’’۔
‘‘ارشاد الاحباب الٰی آداب الاحتساب’’۔
‘‘اجمل الفکر فی مباحث الذکر’’۔
‘‘عین المشاہدۃلحسن المجاہدۃ’’۔
‘‘تشوق الاداۃ الٰی طرق حجۃ اللہ’’۔
23.‘‘ نہایۃ السعادۃ فی تحقیقی الہمۃ والا رادۃ’’۔
ولادت و فراست:
وہ جناب فضائلِ مآب تاج العلما، راس الفضلا، حامیِ سنّت ماحیِ بدعت، بقیۃ السلف، حجت الخلف رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَفِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاہُ سلخ جمادی الآخرَۃ یا غرّۂ رجب ۱۲۴۶ ہجریہ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔ اپنے والدِ ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ وکراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہٗ وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہٗ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمداللہ منصب شریف علم کا پایہ درجۂ علیا کو پہنچایا۔؎
راست میگویم ویزداں نہ پسندد وجزراست
کہ جو دقّتِ انظار، وحدتِ افکار ،وفہمِ صائب ،ورائے ثاقب ،حضرت حق جَلَّ وَعَلَا نے انہیں عطا فرمائی۔ ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملے میں جو کچھ فرمایا، وہی ظہور میں آیا۔ عقلِ معاش ومعاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا، یہاں آنکھوں دیکھا۔ علاوہ بریں۔ سخاوت وشجاعت، وعلوِّہمت وکرم ،ومروّت وصدقاتِ خفیہ، ومبرّات جلیہ ،وبلندیِ اقبال ،ودبدبہ وجلال ،ومولات فقراء ، اور امرِ دینی میں عدمِ مبالات باغنیاء حکام سے عزلتِ رزقِ موروث پر قناعت وغیر ذالک فضائلِ جلیلہ وخصائلِ جمیلہ کا حال وہی کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکتِ صحبت سے شرف پایا ہے
؏ ایں نہ بحریست کہ در کوزۂ تحریر آید
حضور اقدس ﷺکے اعدا پر شدت
مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذاتِ گرامیِ صفات کو خالق عزوجل نے حضرتِ سلطانِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیہ کی غلامی وخدمت اور حضورِ اقدس کے اعدا پر غلظت وشدّت کے لیے بنایا تھا۔ بحمداللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کردیا۔ کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے۔ یہاں تک کہ ۲۶؍شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرۂ دینی کا عام اعلان مسمّٰی بنامِ تاریخی ‘‘اصلاحِ ذات بین’’ طبع کرایا اور سوا مہر ِسکوت ، یا عارِ فرار، و غوغائے جہال ، وعجز و اضطرار، کے کچھ جو اب نہ پایا۔ فتنہ شش مثل کا شعلہ کہ مدّت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اطفا پر عرق ریز گرویدہ اس جناب کی ادنیٰ توجّہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے، خود اس کے نام سے جلتے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺکی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لیے ودیعت تھی، جس کی قدرے تفصیل رسالہ تنبیہہ ‘‘الجہال (۱۳۹۱ھ) بالہام الباسط المتعال ’’میں مطبوع ہوئی۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔
تصانیف:
تصانیف ِشریفہ اس جناب کی سب علومِ دینیہ نافع مسلمین، ودافع مفسدین ، والحمدللہ رب العالمین۔ از اں جملہ: ۱.‘‘اَلْکَلَامُ الْاَوْضَحْ فِیْ تَفْسِیْرِ سُوْرَۃِ اَلَمْ نَشْرَحْ ’’کہ مجلّدِ کبیر ہے، علومِ کثیرہ پر مشتمل ہے۔
‘‘وسیلۃ النجاۃ’’ جس کا موضوع ذکرِ حالاتِ سیّدِ کائنات ہے، ﷺ، مجلّدِ وسیط۔
3.‘‘سرور القلوب فی ذکر المحبوب ’’کہ مطبع نو لکشور میں چھپی۔
‘‘جواہر البیان فی اسرار الارکان’’ جس کی خوبی دیکھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔
؏ ذوق ایں مے نشناسی بخداتا نہ چشی
فقیر غَفَرَ اللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے صرف اُس کے ڈھائی صفحوں کی شرح میں ایک رسالہ مسمّٰی بہ ‘‘زواہر الجنان من جواہر’’البیان ملقب بنام تاریخی ‘‘سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی’’ تالیف کیا۔
‘‘اصول الرشاد لقمع مباتی الفساد’’ جس میں وہ قواعد ایضاح واثبات فرمائے جن کے بعد نہیں مگر سنّت کو قوت اور بدعت نجدیہ کو موتِ حسرت۔
‘‘ہدایۃ البریہ الی الشریعۃ الاحمدیہ ’’ کہ دس فرقوں کا رد ہے۔ یہ کتابیں مطبعِ صبحِ صادق سیتا پور میں طبع ہوئیں۔
‘‘اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولود والقیام’’ کہ اپنی شان میں اپنا نظیر نہیں رکھتی اور انشاء اللہ العزیز عنقریب شائع ہوگی۔
‘‘فَضْلُ الْعِلْم وَالْعُلَمَآء ’’ایک مختصر رسالہ کہ بریلی میں طبع ہوا۔
‘‘ازالۃ الاوہام ’’ رد نجدیہ۔
‘‘تزکیۃ ایقان ردّ تقویۃ الایمان’’
کہ یہ عشرۂ کاملہ زمانۂ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہٗ میں تبییض پاچکا۔
‘‘الکواکب الزہراء فی فضائل العلم وآداب العلماء’’ جس کی تخریج احادیث میں فقیر غَفَرَاللہُ تَعَالیٰ لَہٗ نے رسالہ ‘‘النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب لکھا’’۔
‘‘الروایۃ الرویۃ فی الاخلاق النبویۃ’’۔
‘‘النقاوۃ التقویۃ فی الخصائص النبویۃ’’۔
14.‘‘ لمعۃ النبراس فی آداب الاکل واللباس’’۔
‘‘التمکن فی تحقیق مسائل التزین’’۔
‘‘احسن الوعاء لآداب الدعاء’’۔
‘‘خیر المخاطبۃ فی المحاسبۃ والمراقبہ’’۔
‘‘ہدایۃ المشتاق الٰی سیر الانفس ولآفاق’’۔
‘‘ارشاد الاحباب الٰی آداب الاحتساب’’۔
‘‘اجمل الفکر فی مباحث الذکر’’۔
‘‘عین المشاہدۃلحسن المجاہدۃ’’۔
‘‘تشوق الاداۃ الٰی طرق حجۃ اللہ’’۔
23.‘‘ نہایۃ السعادۃ فی تحقیقی الہمۃ والا رادۃ’’۔
❤1👍1