🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-06-1444 ᴴ | 23-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
سمِ گرامی:
امام سفیان بن عیینہ۔ کنیت: ابو محمد ۔ لقب: امام الحرام ۔ محدث الحرم۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محدث حرم امام ابو محمد سفیان بن عیینہ بن ابو عمران میمون ہلالی۔ ابن عیینہ کے دادا ابو میمون عمارہ ضحاک کے بھائی محمد بن مزاحم کے غلام تھے والد عیینہ والیِ کوفہ خالد بن عبداللہ قسری کے عمال میں سے تھے۔ 120ھ میں جب خالد کو معزول کر دیا گیا تو عیینہ والیِ کوفہ یوسف بن عمر ثقفی کے عتاب کاشکار ہوئے گھر بار چھوڑ کر کوفہ سے پورے خاندان کے ساتھ مکہ آگئے اور حرم ہی میں پناہ لی اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 107ھ کوکوفہ میں ہوئی۔جب وہ مکۃ المکرمہ میں ہجرت کرکے پہنچے توان کی عمر تیرہ سال تھی۔

تحصیلِ علم:
اس وقت کوفہ علم کا بڑا مرکز تھا جہاں محدثین و فقہاء اور اہل فن علماء کی کمی نہ تھی آپ کے والد صاحبِ علم، صاحب ثروت شخص تھے۔انہوں نے اپنے ہونہار فرزند کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام کے ساتھ کی پہلے قرآن شریف حفظ کرایا گیا سات سال کی عمر میں حفظ سے فارغ ہوئے تو حدیث کی کتابت شروع کرادی گئی 15 سال کی عمر تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔پھرہجرت کرکےمکہ میں آئےتو مکہ مکرمہ اس وقت ائمہ تابعین کا مرکز تھا امام زہری، عمرو بن دینار، ابن جریج اور بہت سے ائمہ قرآن و سنت کی مجلسیں قائم تھیں۔ یہاں آپ باضابطہ تحصیل علم کے لیے آمادہ ہوئے تو تمام علماء مکہ بالخصوص ابن شہاب زہری اور عمرو بن دینار کی مجلس درس میں شریک ہونے لگے اور جب تک یہاں قیام رہا ان سے الگ نہ ہوئے پھر وہ کوفہ آگئے اور وہاں کے اہل علم سے استفادہ کیا۔ آپ نے ستاسی تابعین کی زیارت کی تھی۔ قدرت نے ابن عیینہ کو بلا کا حافظہ اور ذکاوت عطا فرمائی تھی۔حافظہ اور ذکاوت کے بارے میں بیان ہے "ماکتبت شیئا حفظتہ" میں جس چیز کو ضبط تحریر میں لایا وہ مجھے یاد ہوگئی۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۸۲)۔آپ کےشیوخ کثیرتعدادمیں ہیں۔

سیرت و خصائص:
امام الحرم، محدث حرم، شیخ المحدثین، رئیس الاتقیاء حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کے ذوق و شوق ِعلم، سعادت مندی و ذکاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ علم تفسیر و حدیث کے بڑے امام ہوگئے۔ اکابر ائمہ فن نے ان کی عظمت علم کا اعتراف کیا ہے۔امام شافعی فرماتےہیں:"لولا مالک و سفیان لذھب علم الحجاز" امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہوجاتا۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۰۵)

بشر بن مفضل:
"ما بقی علی وجہ الارض احد یشبہ ابن عیینہ" روئے زمین پر کوئی عالم ابن عیینہ جیسا باقی نہیں رہا۔ (ایضاً، ص۱۰۶)ابن وہب:"ما رأیت احدا اعلم بکتاب اللہ من ابن عیینہ" میں نے ابن عیینہ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)امام شافعی:"ما رأیت احداً من الناس فیہ جزالۃ العلم مافی ابن عیینہ وما رأیت احدا آلف عن الفتیا منہ"میں نے علم کی جتنی پختگی امام ابن عیینہ میں دیکھی ہے کسی میں نہیں دیکھی اور میں نے ان سے زیادہ فتویٰ دینے سے گریز کرنے والا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً)ابن مہدی: "کان اعلم الناس بحدیث اھل احجاز" وہ اہل حجاز کی حدیثوں کے سب سے بڑے عالم تھے۔ (ایضاً، ص۱۰۷)

ابن حبان:
"کان من الحفاظ المتقین واھل الوراع والدین" ابن عیینہ متقن حفاظ حدیث میں تھے۔ وہ صاحب تقویٰ اور دیندار تھے۔ (ایضاً)

ابن خلکان:
"کان اماما عالما حجۃ زاھداً ورعاً مجمعا علی صحۃ حدیثہ و روایتہ" وہ امام، عالم، ثبت، حجت، زاہد اور پرہیزگار تھے حدیث کی صحت اور روایت میں وہ متفق علیہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)

حافظ ذہبی:
"العلامۃ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔ کان امام حجۃ حافظا واسع العلم کبیر القدر" بہت بڑے عالم، نامور حافظ حدیث، شیخ الاسلام اور محدث حرم ہیں۔۔ آپ امام حجت حافظ حدیث، وسیع العلم اور جلیل القدر انسان تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۲۴۲)

امام احمد بن حنبل:
"ما رأیت اعلم بالسنن منہ" میں نے ان سےزیادہ حدیث کا جاننے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)حافظ ذہبی: "اتفقت الائمۃ علی الاحتجاج بابن عیینہ لحفظہ و امانتہ" ابن عیینہ کے حفظ اور امانت میں قابل حجت ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ (ایضاً)

خدمتِ حدیث:
اقوال بالا سے ابن عیینہ کی علمی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے، کثرت روایت کے لحاظ سے دوسرے بہت سے تابعین پر فوقیت رکھتے ہیں مگر حدیث میں ابن عیینہ کو جو بات ان کے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے وہ حدیث نبوی کا فہم، تفسیر حدیث کا ملکہ اور وثوق واعتماد ہے ان اوصاف میں کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے احمد بن عبداللہ فرماتے ہیں: ان کے شمار حکماء حدیث میں ہوتا تھا گوکہ ان کی روایتیں صرف سات ہزار تھیں اور انہوں نے حدیث کا کوئی مجموعہ بھی نہیں چھوڑا۔ (تہذیب الاسماء، ج۱، ص۲۳۴)اکابر حدیث آپ کی فقاہت پر متفق ہیں ابو حاتم کہتے تھے مسلمانوں کے لیے ان (ابن عیینہ) کا علم حجت ہے عجلی کا بیان ہے کہ ان کی ذات قابل و ثوق اور قابل اعتماد ہے۔ (تہذیب الاسماء، ج۴، ص۱۳)
1👍1
جب حضرت سفیان ابن عیینہ کوفہ پہنچے تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "جاء کم حافظ علم عمرو بن دینار" تمہارے پاس عمرو بن دینار کی مرویات کا حافظ آگیا ہے۔ چناں چہ لوگ ان کی مرویات سے استفادہ کے لیے آنے لگے ابن عیینہ کا بیان ہے "اول من صیرنی محدثا ابو حنیفۃ" جس نے مجھے سب سے پہلے محدث بنایا وہ امام ابو حنیفہ ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۷۷)

ابن عیینہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا مگر ایام حج میں جب عالم اسلام کے لوگ حرمین شریفین حاضر ہوتے تو ان کے حلقۂ درس میں ازدحام ہوتا تھا۔حضرت امام شافعی، امام عبدالرزاق،امام اعمش،امام وکیع، سفیان ثوری، حمادبن زید،یحیٰ بن قطان وغیرہ آپ کےتلامذہ میں سےہیں۔

ابن عیینہ کی جلالت شان کے معترف صرف عوام اور علماء ہی نہ تھے بلکہ خلفاء اور امراء بھی آپ کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور ان کا نام عزت کے ساتھ لیتے تھے ابو ربیع کہتے ہیں میں ایک بار ہارون رشید سے ملا تو اس نے پہلے ہاشمی عالموں کا حال پوچھا پھر کہنے لگا سید الناس کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین آپ کے سوا سید الناس کون ہے؟ کہا سفیان بن عیینہ سید الناس ہیں۔ (تاریخ بغداد، ج۹، ص۱۷۰)۔(جب علماء ومحدثین کی بادشاہ و امراء قدر کرتے تھے، تو اس وقت مسلمانوں کو عروج حاصل تھا۔کفاران کی ہیبت سے کانپتے تھے، لیکن جب اس امت نے اپنے علماءِ کرام کی قدر کرنا چھوڑدی توذلت و رسوائی اس کامقدربن گئی۔ آج پوری دنیامیں مسلمانوں کی جو حالت ہےوہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے) ۔

زہد و عبادت:
امام ابن عیینہ کا پایہ جس قدر علم میں بلند تھا اسی قدر زہد و عبادت میں اپنے معاصرین پر فائق تھے۔ زندگی بڑی سادہ اور بے تکلف گذارتے تھے۔ ایک بار ان کے شاگرد ابو یوسف غسولی آپ سے ملنے گئے تو دیکھا کہ ان کے پاس جو کی دو ٹکیاں رکھی ہوئی ہیں۔ فرمایا چالیس سال سے یہی میری غذا ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رجب المرجب 198ھ، مطابق 24 فروری 815ء کو ہوا ۔ کوہِ حجون کے قریب مکۃ المکرمہ میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات و خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sufyan-bin-uyaynah
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔

خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔

ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔

حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور
1👍1