’’اخرج ابوالشیخ عن ابن عباس وابن ابی حاتم عن ابن جبیر ومجاھد وابن ابی الدنیا وابن عساکر عن السدی ان المراد ببناتہ علیہ السلام نساء امتہ والاشارۃ بھؤلا لتنزیلھن منزلۃ الحاضر عندہ واضافتھن الیہ لأن کل نبی اب لامتہ وفی قراءۃ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وھو اب لھم وازواجہ امھاتھم) قرأ ابی رضی اللہ عنہ مثل ذالک لکنہ قدم وازواجہ امھاتھم علی وھو اب لھم‘‘ (روح المعانی)
ابوالشیخ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے ابن ابی حاتم نے ابن جبیر سے مجاہد ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے سدی سے بیان کیا ہے کہ یہاں لوط علیہ السلام نے جو بنات کا ذکر کیا ہے اس سے مراد آپ نے اپنی قوم کی عورتیں لی ہیں، ھٰؤلاء سے اشارہ ان کو بمنزل حاضر کے سمجھ کر کیا اور ان کی اضافت اپنی طرف کی اور بناتی کہا، اس سے مراد یہ ہے کہ ہر نبی اپنی امت کے باپ کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرات میں ہے:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَھُوَ اَبٌ لَھُمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُھُمْ
نبی مؤمنوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں؛ کیونکہ وہ ان کے باپ ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی قرات میں بھی ایسے ہی ہے لیکن اس میں وازواجہ امھاتھم پہلے ہے اور وھو اب لھم بعد میں ہے
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ترجمہ کیا ہے، علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے اور اپنے مختار پر دلائل قائم کیے ہیں۔ تفسیر کبیر کی عبارت ملاحظہ ہو ۔
’’قال یقوم ھؤلا بناتی ھن اطھر لکم ففیہ قولان: قال قتادۃ المراد بناتہ لصلبہ وقال مجاہد وسعید بن جبیر المراد نساء امتہ لانھن فی انفسھن بنات ولھن اضافۃ الیہ بالمقاتبعۃ وقبول الدعوۃ قال اھل النحو یکفی فی حسن الاضافۃ ادنی سبب لانہ کان نبیا لھم فکان کالاب لھم قال تالی (وازواجھہ امھاتھم) وھو اب لھم وھذا القول عندی ھو المختار ویدل علیہ وجوہ: الاول ان اقدام الانسان عرض بناتہ عی الاوباش والفجار متبعد لایلیق باھل المروۃ فکیف باکبر الانبیاء، الثانی وھو انتقال ھؤلاء بناتی وھن اطھر لکم فبناتہ اللواتی من صلبہ لاتکفی للجمع العظیم اما نشاء امتہ ففیھن کفایۃ للکن، الثالث انہ صحت الروایۃ انہ کان لہ بنتان وھما ’’زنتا و زعوراء‘‘ واطلاق لفظ البنات علی البنتین لایجوز لما ثبت ان اقل الجمع ثلاثۃ‘‘ (تفسیر کبیر)
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے اس کلام (ھٰؤلا بناتی ھن اطھر لکم) میں دو قول ہیں: حضرت قتادہ نے کہا اس سے مراد آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں ہیں، لیکن حضرت مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کی امت کی عورتیں ہیں؛ اس لیے کہ وہ آپ کی بیٹیاں ہی تھیں ان کی طرف قبول دعوت اور متابعت کی وجہ سے منسوب کیا اس لیے کہ نحویوں کا ضابطہ یہ ہے کہ حسن اضافت میں ادنی مناسبت کافی ہے اس لیے کہ آپ ان کے نبی تھے اور نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک میں آتا ہے وازواجھہ امھاتھم نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں، لہٰذا نبی ان کے باپ ہوئے۔ علامہ رازی فرماتے ہیں یہی قول میرے نزدیک مختار ہے۔ اس کے مختار ہونے پر کئی وجوہ دال ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے:
کہ انسان کا اپنی بیٹیوں کو اوباشوں اور فاسقوں فاجروں پر پیش کرنا بہت بعید ہے اہل مروت کے لائق نہیں اکابر انبیاء یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ۔
دوسری وجہ:
آپ نے فرمایا: (ھؤلاء بناتی ھن اطھر لکم) آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں اتنی عظیم جماعت کو کافی نہیں ہوسکتی تھیں امت کی عورتیں ان تمام کو کافی ہو سکتی تھیں ۔
تیسری وجہ:
صحیح روایت ہے کہ آپ کی دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام زنتا اور دوسری کا نام زعوراء تھا۔ لفظ بنات کا اطلاق (بالحقیقت) دو بیٹیوں پر صحیح نہیں؛ کیونکہ جمع کے کم از کم تین فرد ہوتے ہیں۔
( تذکرۃ الانبیاء )
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
ابوالشیخ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے ابن ابی حاتم نے ابن جبیر سے مجاہد ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے سدی سے بیان کیا ہے کہ یہاں لوط علیہ السلام نے جو بنات کا ذکر کیا ہے اس سے مراد آپ نے اپنی قوم کی عورتیں لی ہیں، ھٰؤلاء سے اشارہ ان کو بمنزل حاضر کے سمجھ کر کیا اور ان کی اضافت اپنی طرف کی اور بناتی کہا، اس سے مراد یہ ہے کہ ہر نبی اپنی امت کے باپ کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرات میں ہے:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَھُوَ اَبٌ لَھُمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُھُمْ
نبی مؤمنوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں؛ کیونکہ وہ ان کے باپ ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی قرات میں بھی ایسے ہی ہے لیکن اس میں وازواجہ امھاتھم پہلے ہے اور وھو اب لھم بعد میں ہے
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ترجمہ کیا ہے، علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے اور اپنے مختار پر دلائل قائم کیے ہیں۔ تفسیر کبیر کی عبارت ملاحظہ ہو ۔
’’قال یقوم ھؤلا بناتی ھن اطھر لکم ففیہ قولان: قال قتادۃ المراد بناتہ لصلبہ وقال مجاہد وسعید بن جبیر المراد نساء امتہ لانھن فی انفسھن بنات ولھن اضافۃ الیہ بالمقاتبعۃ وقبول الدعوۃ قال اھل النحو یکفی فی حسن الاضافۃ ادنی سبب لانہ کان نبیا لھم فکان کالاب لھم قال تالی (وازواجھہ امھاتھم) وھو اب لھم وھذا القول عندی ھو المختار ویدل علیہ وجوہ: الاول ان اقدام الانسان عرض بناتہ عی الاوباش والفجار متبعد لایلیق باھل المروۃ فکیف باکبر الانبیاء، الثانی وھو انتقال ھؤلاء بناتی وھن اطھر لکم فبناتہ اللواتی من صلبہ لاتکفی للجمع العظیم اما نشاء امتہ ففیھن کفایۃ للکن، الثالث انہ صحت الروایۃ انہ کان لہ بنتان وھما ’’زنتا و زعوراء‘‘ واطلاق لفظ البنات علی البنتین لایجوز لما ثبت ان اقل الجمع ثلاثۃ‘‘ (تفسیر کبیر)
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے اس کلام (ھٰؤلا بناتی ھن اطھر لکم) میں دو قول ہیں: حضرت قتادہ نے کہا اس سے مراد آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں ہیں، لیکن حضرت مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کی امت کی عورتیں ہیں؛ اس لیے کہ وہ آپ کی بیٹیاں ہی تھیں ان کی طرف قبول دعوت اور متابعت کی وجہ سے منسوب کیا اس لیے کہ نحویوں کا ضابطہ یہ ہے کہ حسن اضافت میں ادنی مناسبت کافی ہے اس لیے کہ آپ ان کے نبی تھے اور نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک میں آتا ہے وازواجھہ امھاتھم نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں، لہٰذا نبی ان کے باپ ہوئے۔ علامہ رازی فرماتے ہیں یہی قول میرے نزدیک مختار ہے۔ اس کے مختار ہونے پر کئی وجوہ دال ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے:
کہ انسان کا اپنی بیٹیوں کو اوباشوں اور فاسقوں فاجروں پر پیش کرنا بہت بعید ہے اہل مروت کے لائق نہیں اکابر انبیاء یہ کام کیسے کر سکتے ہیں ۔
دوسری وجہ:
آپ نے فرمایا: (ھؤلاء بناتی ھن اطھر لکم) آپ کی اپنی حقیقی بیٹیاں اتنی عظیم جماعت کو کافی نہیں ہوسکتی تھیں امت کی عورتیں ان تمام کو کافی ہو سکتی تھیں ۔
تیسری وجہ:
صحیح روایت ہے کہ آپ کی دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام زنتا اور دوسری کا نام زعوراء تھا۔ لفظ بنات کا اطلاق (بالحقیقت) دو بیٹیوں پر صحیح نہیں؛ کیونکہ جمع کے کم از کم تین فرد ہوتے ہیں۔
( تذکرۃ الانبیاء )
https://scholar.ziaetaiba.com/ur/biography/holy-prophet-hazrat-loot-1
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-06-1444 ᴴ | 21-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-06-1444 ᴴ | 22-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-06-1444 ᴴ | 22-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-06-1444 ᴴ | 22-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1