🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-06-1444 ᴴ | 20-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-06-1444 ᴴ | 20-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-06-1444 ᴴ | 20-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-06-1444 ᴴ | 20-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍21
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت علامہ شیخ احمد الشمس القادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شیخ احمد الشمس ۔ کنیت: ابو العباس ۔ لقب: المالکی، الشنقیطی ۔

آپ کا سلسلۂ نسب قبیلہ اداوالحاج سے ملتا ہے جن کی خاندانی نسبت قبیلۂ انصار سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1240ھ کو مراکش میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ سیدی محمد مصطفٰی ماء العینین قدس سرہ العزیز کے شاگرد و مرید اور خلیفہ و اماد تھے ۔ 1279ھ میں ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ آ گئے، شیوخ و محدثین مدینہ میں بلند مقام والے تھے، قلیل الکلام اور قناعت پسند تھے، محدث حجاز کے لقب سے معروف تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سیدی محمد مصطفیٰ ماء العینین کے مرید و خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین ،امام المحدثین، شیخ المتقین، محدث اعظم حجاز، حضرت علامہ ابو العباس شیخ احمد الشمس المالکی الشنقیطی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں یادگار اسلاف تھے ۔ خلیفہ اعلی حضرت قطبِ مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے کسبِ فیض کیا، آپ کی شخصیت سے بہت متأثر اور آپ کے بہت بڑے مداح تھے ۔

چنانچہ حضرت قطب مدینہ قدس سرہ فرماتے ہیں:" میں نے زندگی میں دو ایسے محدث دیکھے جو بیضاوی شریف کے حافظ تھے، ایک تو حضرت استاذی شیخ احمد الشمس القادری رضی اللہ عنہ اور دوسرے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رضی اللہ عنہ کےبڑے شہزادے حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ"۔

مولانا عارف قادری فرماتے ہیں:
میں نے فقیہ ہند شارح بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1420ھ سے مدینہ طیبہ میں یہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا:"فقیر نے ایک زمانہ بڑے (حضرت علامہ حامد رضا خان)کی خدمت میں گذاراہے،اور میرا یہ مشاہدہ ہے حضرت قطب مدینہ رضی اللہ عنہ نے بالکل درست فرمایا" ۔ (سیدی ضیاء الدین القادری ص: 648) ـ

حضرت قطب مدینہ علامہ ضیاء الدین احمد قادری قدس سرہٗ نے آپ کی صحبت میں عرصہ دراز گزارا، اخذ علوم وکسب فیض فرماتے رہے ۔ سند حدیث و جمیع سلاسل کی خلافت و اجازت سے 1330ھ میں نوازے گئے ۔

حضرت ابو العباس علامہ شیخ احمد شمس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ضیاء الملت و الدین قدس سرہٗ نے فرمایا:" شیخ احمد الشمس المالکی المغربی ثم المدنی قدس سرہٗ نہایت متدین ،متقی بزرگ تھے، ان کی غذا صرف کھجور کے چند دانے اور بکری کا دودھ تھا، بکری خود پال رکھتے، اسی کا دودھ پیتے افطار کے وقت بکری کا دودھ نچوڑتے وہی ان کا فطور اور وہی ان کا سحور (افطاری و سحری) ہوتا ۔ جب کبھی حج پر جاتے، اونٹ کے شغدف (کجاوے) کے ایک طرف بکری ڈال لیتے اور دوسرے میں خود تشریف فرما ہوتے" ۔ (ایضاً)

غوث الاعظم رضی‌اللہ‌عنہ تک شجرۂ طریقت:
سیدی ضیاء الدین احمد القادری عن سیدی شیخ احمد الشمس القادری المالکی عن سیدی محمد مصطفٰی ماء العینین الحسنی عن سیدی عبد العزیز الحسنی الحبشی عن قطب الآفاق سیدنا السید عبد الرزاق بن سلطان الاولیاءسیدنا السید عبد القادر الحسنی الحسینی الجیلانی رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 جمادی لاخری 1242ھ، مطابق 4 فروری 1924ء کو ہوا ۔ جنت البقیع میں حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے قریب دفن کیے گئے ۔

ماخذ و مراجع:
سیدی ضیاء الدین احمد القادری ۔ نثر الجواهر والدرر فی علماء القرن الرابع عشر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syedi-ahmad-al-shams-al-maliki-al-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مُحِبُّ النبی حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرِ جہاں دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام فخر الدین، لقب محب النبی، برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ آپکی والدہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپکی ولادت 1126ھ / مطابق/ 1717ء اورنگ آباد (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم سے لیکر مختلف علوم کی امہات الکتب تک کی تعلیم والدصاحب سے حاصل کی ۔پھر شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ کے حکم سے وقت کے مشہور اور قابل ترین علماء ،میاں محمد جان اور مولانا عبد الحکیم اوردکن کے مشہور محدث مولانا حافظ اسعد الانصاری المکی (علیہم الرحمہ) سے ان کی تعلیم کی تکمیل کرائی ۔ درسی کتب کے علاوہ شاہ صاحب نے دیگر علوم و فنون میں بھی مہارتِ تامہ حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شاہ نظام الدین سے سولہ سال کی عمر میں خلافت عطا ہوئی تھی ۔

سیرت و خصائص:
آپکی ولادت پر حضرت شاہ کلیم اللہ دہلوی نے بایں الفاظ بشارت دی :" کہ یہ نو مولود مستقبل میں ہدایت وار شاد کی شمع روشن کرےگا، جس سے مخلوق کے سینے منور ہوں گے اور شریعت و طریقت کے میخانے میں پھر سے بہار آجائے گی۔ یہ بچہ دینِ حنیف کے لیے باعثِ فخر و صد افتخار ہوگا، تم اس بچے کا نام فخر الدین رکھو۔"واقعی یہ نومولود مستقبل کا فخر العالم والدین بنا۔آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے۔

درس و تدریس:
دہلی میں شاہ صاحب نے ایک مدرسہ قائم کیا ۔ اس مدرسہ میں بیٹھ کر شاہ صاحب نے صرف درسی کتابیں پڑھانے پر اکتفانہ کیا، بلکہ حقائق و معارف کے وہ دریا بہائے کہ بقول مصنف مناقب فخریہ: حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ علیہ کے دور کی طرح عرفان کاچراغ پھر روشن کر دیا ۔ سینے حقائق کے خزانوں سے معمور ہوگئے ۔ جو سو رہے تھے جاگ اٹھے۔ جو بے ہوش تھے ہوش میں آ گئے ۔ جو بے خبر تھے باخبر ہو گئے ۔ مردہ دل زندہ ہو گئے ۔ زندہ دل بسمل بن گئے ۔ عشق و محبت الہٰی کا بازار گرم ہو گیا ۔ ذوق وشوق کا دریا موجیں مارنے لگا ۔ دل کے میخانے اور آنکھوں سے ساغر آنسوؤں کی شراب سے مزین ہو گئے ۔

شاہ صاحب کی خانقاہ میں جو آتا، وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا ۔ جرائم پیشہ لوگ خانقاہ میں آتے اور ولی کامل بن کر نکلتے ۔ شاہ صاحب خود سنت نبوی ﷺ کا کامل نمونہ تھے ۔ سنت نبوی ﷺ پر بڑا زور دیتے تھے ۔ مریدوں کو ہدایت فرماتے کہ مذہبِ حنفی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور قرآن و حدیث کی طرف کثرت سے رجوع کریں ۔ شاہ صاحب ہر چھوٹے بڑے سے محبت سے پیش آتے ۔ شاہ صاحب کی طبیعت میں انکسار بہت تھا ۔ جب کوئی ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا تو اسے روکتے تھے، خود ہر چھوٹے بڑے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے ۔ لوگوں کی خوشی اور غمی میں ضرور شرکت فرماتے ۔ شاہ صاحب نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے اور مریدوں کو بھی نہایت سختی سے اس کی تلقین کرتے ۔

وصال:
۷۳ سال کی عمر میں 28 جمادی الثانی 1199ھ مطابق ۱۷۸۴ء کو وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار دہلی (انڈیا) میں مرجع خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-fakhruddin-dehlvi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-06-1444 ᴴ | 20-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-06-1444 ᴴ | 21-01-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1